| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
راولپنڈی جنرل اسپتال کے ڈاکٹروں نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی حکام نے ان ڈاکٹروں پر آخری موقع پر خاموش رہنے کےلئے دبائو ڈالا جو شہید بےنظیر بھٹو کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے، یہ حکام اپنے ساتھ اس کیس سے متعلق اسپتال کا میڈیکل ریکارڈ بھی اپنے ہمراہ لے گئے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے بات چیت کرتے ہوئے ان ڈاکٹروں نے کہا کہ حکام نے ان پر انتہائی شدید دباﺅ ڈالا کہ 27 دسمبر 2007ءکو ہونے والے جان لیوا حملے میں بےنظیر بھٹو کو پہنچنے والی چوٹ اور موت کی وجوہات کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتائیں۔
معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بےنظیر بھٹو کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں میں سے ایک نے بتایا کہ جیسے ہی ہم نے بےنظیر بھٹو کی موت کا وقت جاری کیا اس ہی لمحے حکومتی حکام اس کیس سے متعلق اسپتال کا ریکارڈ لے کر چلے گئے۔ امریکی اخبار کے مطابق جس وقت مذکورہ ڈاکٹر سے اس کیس سے متعلق انٹرویو کیا جا رہا تھا اس وقت وہ پسینے میں شرابور تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ہمیں کہا ہے کہ اس بارے میں بات کرنا بالکل بند کردیں اور ہم (ڈاکٹروں) میں سے بہت سے اسے اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں۔ بےنظیر بھٹو کی شہادت کے بعد یہ ڈاکٹرز سمجھتے ہیں کہ وہ بھی سیاست کے خوفناک طوفان میں پھنس چکے ہیں۔ اخبار کے مطابق، حقیقتاً کیا وقوع پذیر ہوا، اس کے پاکستان میں بہت سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ کسی بندوق بردار کا انتہائی قریب سے بےنظیر بھٹو پر فائر کرنا یہ بتاتا ہے کہ قاتل ایک ایسے شہر میں جہاں پاکستانی فوج کا ہیڈ کوارٹرز ہے، حکومت کی فراہم کردہ سیکیورٹی کو توڑنے کے قابل ہوچکا تھا جس سے بےنظیر کے حامیوں کے اس دعوے کو تقویت ملتی ہے کہ حکومت انہیں مناسب تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی تھی۔ اگر الزام بندوق بردار کو دیا جائے تو اس سے یہ سوال بھی اٹھے گا کہ حکومت اتنے دن تک اس کے برعکس دعوے کیوں کرتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ بےنظیر بھٹو کے حامیوں نے بین الاقوامی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے بار بار اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کچھ امریکی طبی ماہرین سے جب پیر کو بےنظیر بھٹو کے زخموں سے متعلق سرکاری رپورٹ کا جائزہ لینے کےلئے کہا گیا تو انہوں نے اس قیاس کا اظہار کیا کہ گولی کا زخم نہیں بلکہ ان کی کھوپڑی میں ہونے والا فریکچر موت کی وجہ ہوسکتا ہے۔ اس ہی دوران راولپنڈی میں طبی اہلکار اس مسئلے پر زیادہ تر خاموش ہی رہے ہیں۔ راولپنڈی جنرل اسپتال کے سپروائزر ڈاکٹر فیاض احمد خان نے بتایا کہ ہمارے ڈاکٹرز انتہائی جذباتی اور سیاسی مسائل کے درمیان پھنس گئے ہیں، ہم جس مصیبت میں پھنسے ہیں وہ ہمارے طبی پیشے کےلئے ایک بدترین صورتحال ہے۔ 2002ءمیں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے لاپتہ ہونے کے کیس کے مرکزی تفتیش کار جمیل یوسف نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے جائے وقوع کو عام لوگوں کےلئے بند نہ کرکے بدترین غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس سے قبل کہ شواہد جمع کئے جاتے، بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد فائر بریگیڈ نے دھماکے کی جگہ سے خون کے تمام نشانات اور دھبے دھو کر مٹادیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب اس نوعیت کے قتل کے کیس سے نمٹ رہے ہوتے ہیں تو اس میں فارینسک کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ متعدد عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے تاحال ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی۔ دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے 19 سالہ کامران نذیر نے بتایا کہ اسے اس وقت شدید دھچکا پہنچا جب پولیس نے اس سے تفتیش ہی نہیں کی حالانکہ وہ واقعے کا عینی گواہ ہے، کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا کہ آخر ہوا کیا، سچ کا جاننا بہت ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان بابر اعوان نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کوئی تحقیقات ہو ہی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد انہوں نے بےنظیر کی لاش دیکھی تھی اور واضح طور پر گولیوں کے نشانات کی شناخت کی تھی جو داخل ہونے اور نکلنے کے تھے۔ بابر اعوان نے کہا کہ اسپتال میں سرجری کے پرنسپل پروفیسر محمد مصدق خان سخت گھبرائے ہوئے تھے لیکن بالآخر انہوں نے مجھے بتایا کہ بےنظیر بھٹو کی موت گولی کے زخم سے ہوئی ہے۔ آخر وہ اتنے پریشان کیوں تھے۔ انہوں نے مجھے خود بتایا کہ ان پر شدید دبائو ہے کہ میں بےنظیر بھٹو کی موت کی وجہ کے متعلق کوئی بات نہ کروں۔ راولپنڈی جنرل اسپتال کے بورڈ ممبر اطہر من اللہ نے اختتام ہفتہ پر صحافیوں کو بےنظیر بھٹو کی میڈیکل رپورٹ ای میل کی ہے۔ یہ رپورٹ اس دستاویز سے علیحدہ ہے جس کے بارے میں ڈاکٹرز نے انکشاف کیا کہ حکام نے وہ ضبط کرلی ہے۔ اس رپورٹ میں بےنظیر بھٹو کے سر میں ایک گہرا زخم بتایا گیا ہے جس میں سے مغز بہہ کر نکل رہا تھا۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پولیس, پوسٹ, پاکستانی, واشنگٹن, موقع, موت, مسائل, اللہ, الزام, خون, خان, سیاست, شہر, شناخت, صورتحال, صحافی, صحافیوں |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تیونس کے سابق صدرکی حالت نازک ہو گئی، جدہ کے ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا | گلاب خان | خبریں | 0 | 19-02-11 04:33 AM |
| بالوں کے میڈیکل تجزئیے سے دل کے دورے کی پیشن گوئی ممکن ہوگئی! | جاویداسد | خبریں | 0 | 10-09-10 12:08 PM |
| سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی بند | جاویداسد | خبریں | 1 | 25-07-10 11:50 AM |
| علماء کانفرنس میں شریک مفتی منیب اور دیگر کی طبیعت خراب،اسپتال منتقل | فرحان دانش | خبریں | 6 | 17-12-09 11:35 PM |
| سول اسپتال میں میڈیکل آئی سی یو اور پیتھالوجی لیبارٹری کے قیام کا منصوبہ | عبدالقدوس | شعبہ طب | 0 | 15-12-07 09:57 AM |