06-12-07, 10:12 AM
|
#1
|
|
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جوں کی برطرفی: عدلیہ کا ایساقتل عام کبھی اور کہیں نہ ہوا ،عمران خان
جوں کی برطرفی: عدلیہ کا ایساقتل عام کبھی اور کہیں نہ ہوا ،عمران خان
جوں کی برطرفی: عدلیہ کا ایساقتل عام کبھی اور کہیں نہ ہوا ،عمران خان
اسلام آباد (جنگ نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ معطل عدلیہ قانون کی بالادستی کی کوشش کرتے ہوئے قربان ہوگئی لیکن سیاسی پارٹیاں نظریہ ضرورت کے تحت انتخابات لڑ رہی ہیں،ججوں کی برطرفی پر انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا ایساقتل عام کبھی اور کہیں نہ ہوا ۔ یہ بات انہوں نے امریکی ریڈیو سے بات چیت میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اصولوں کی کوئی قیمت نہیں ہوا کرتی اس لئے اصول پر کھڑے ہونے کا تو ان کو نقصان نہیں ہوا اس لئے کہ تین سال کے اندر اندر وہی سیاسی جماعتیں اپنے اصلی ووٹ بنک کے بل بوتے پر انتخاب جیت کر آئی تھیں۔ عمران خان کے مطابق اس الیکشن میں حصہ لینا تو صرف اور صرف ایک ملٹری ڈکٹیٹر کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایسا عمل کرنا چیف جسٹس چوھدری افتخار اور سپریم کورٹ کے ججوں سے غداری ہوگی، اس سوال پر کہ الیکشن میں حصہ لینے پر رضا مند سیاسی جماعتیں یہ کہہ رہی ہیں کہ وہ بائیکاٹ کرکے حکومت کے لئے میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہتیں۔ جس پر عمران خان نے کہا کہ بات اس کے برعکس ہے ایسا کرنے سے صدر مشرف کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کو عوامی ساکھ کے حساب سے بہت نقصان پہنچے گا جبکہ مسلم لیگ ن اس معاملے میں واضح موقف پرقائم ہے اور یہ کہ ہماری پارٹی کی پوزیشن بھی بالکل واضح ہے۔ اس طرح کا عدلیہ کا قتل عام کبھی اور کہیں نہ ہوا ہوگا۔ تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ صدر مشرف نے ایمرجنسی لگا کر ججوں کوگھر بھجوا دیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن لڑنا پاکستان سے غداری ہے اور سپریم کورٹ کے ججوں سے غداری ہے جنہوں نے پہلی دفعہ پاکستان کو روشنی کی کرن دکھائی ہے۔
|
|
|