| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
امریکا کا جنگی طیارہ آبادی پر گر کر تباہ، تین افراد ہلاک
عالمی اخبار۔لندن بیورو امریکا کا ایک ایف اے 18 جنگی طیارہ سوموار کے روزکیلی فورنیا کے ایک گنجان آبادی والے علاقے میں تربیتی پرواز کے دوران گرکرتباہ ہوگیا ہے جس سے تین افراد ہلاک اور ایک لاپتا ہوگیا ہے۔ امریکی حکام نے بتایا ہے کہ طیارہ میرامار میں میرین کے ہوائی اڈے پر اترنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران گر کر تباہ ہوگیا۔ تاہم طیارے کا پائیلٹ حادثے میں محفوظ رہا ہے اور وہ ایک قریبی سکول میں پیراشوٹ کے ذریعے اترنے میں کامیاب ہو گیا۔ جنگی طیارے میں بحرالکاہل میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز سے اڑان بھرنے کے بعد میکنیکل خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ سان ڈیاگو کے مئیرجیری سینڈر نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد اس مکان میں موجود تھے جس کے اوپر طیارہ گر کر تباہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ایک خاتون ،اس کی ساس اور دو بچوں کی مکان میں موجودگی کی اطلاع ملی ہے۔ تاہم انہوں ہلاک ہونے والے افراد کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔ عینی شاہدین کا کہناہے کہ پائیلٹ نے طیارے کو سکول کے بجائے ایک کھلی جگہ پر گرانے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہا اور طیارہ قریبی آبادی پر گرگیا۔ ان کے مطابق حادثے میں دومکان تباہ ہوئے ہیں۔ جبکہ حکام نے بیس گھروں کو خالی کرا لیا ہے اورحادثے کا شکار ہونے والے مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں لاپتہ ہونے والا جنگی طیارہ 65 سال بعد مل گیا دوسری جنگ عظیم کے دوران لاپتہ ہونے والا چلی کا جنگی طیارہ 65 سال بعد کوسٹا ریکا میں مل گیا۔ چلی ائیر فورس کا طیارہ 1943 میں ٹیکساس سے چلی کے درمیان پرواز کے دوران لاپتہ ہو گیا تھا، جو گزشتہ روز کوسٹا ریکا کی پہاڑیوں میں کسانوں کو مل گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے پولیس کو فون پر اطلاع دی کہ بعض لوگ طیارے کے پرزے بیچنے مارکیٹ جارہے ہیں، پوچھ گچھ کے بعد ایک شخص نے بتایا کہ انہوں نے 30 سال قبل طیارے کے کریش کی جگہ کا پتہ چلایا تھا تاہم وہ چوری چپکے پرزے فروخت کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماے لئے راز نہیں رہا ہے۔ پولیس کو مطلوبہ جگہ کا معائنہ کرایا گیا، جہاں وولٹی بی ٹی۔13 ویلینیٹ طیارے کا ملبہ پڑا تھا۔ حکام نے تصدیق کی کہ یہ طیارہ چلی ائیر فورس نے 1943ء میں ٹیکساس سے خریدا تھا اور چلی کیلئے پہلی پرواز پر تھا کہ درمیانی راستہ میں لاپتہ ہو گیا۔ طیارے میں سوار دونوں پائلٹوں کا تاحال معلوم نہ ہو سکا اور نہ ہی ملبے سے انسانی لاشوں کی موجودگی کے کوئی آثار ملے ہیں۔ مقامی شخص نے بتایا کہ طیارے کی موجودگی کے بارے میں یہاں بہت سے لوگوں کو علم تھا جنگی طیارے اڑانے والے پائلٹوں کے شب وروز ایئر فورس میں موت اور زندگی کے بیچ کی دوری کا فرق صرف ایک سیکنڈ ہوتا ہے۔ پائلٹوں کو اپنی جان جوکھم میں ڈال کر جنگی طیاروں کو اڑانا ہوتا ہے، سرعت و تیزی دکھانی ہوتی ہے۔ ٹی ایس آئی کے مینک سنگھ نے جنگجو پائلٹوں کے درمیان رہ کر یہ رپورٹ پیش کی ہے۔ امبالامیں آپ کو سرعت پسندی سے کام لینا ہوگا۔ یہاں تیز رفتار ہونا ضروری ہے۔ امبالا میںآزاد ہندوستان کا پہلا ہوائی اڈہ ہے جہاں جہاز برابر اڑان بھرتے رہتے ہیں۔ جب میں اس ہوائی اڈے پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ یہاں ایک ٹیم آئی ہوئی ہے جو پائلٹوں کی لیاقت و صلاحیت کا اندازہ کرکے ان کے مقامات متعین کرنے والی تھی۔ شوریہ چکر اور وایو سینا میڈل ایوارڈ جیتنے والے ایئر کموڈور راہل دھار کہتے ہیں کہ ”یہاں سرعت اور تیزی صرف الفاظ کے طور پر استعمال نہیں ہوتے بلکہ یہ چیزیں زندگی کا حصہ بن چکی ہیں“۔ راہل دھار ایئر بیس پر ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک پائلٹ کو کافی اونچائی تک اڑان بھرنی چاہئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں بھی اونچی اڑان بھرتا ہوں اور اپنے افسران کو یہ پیغام دیتا رہتا ہوں کہ اونچی سے اونچی اڑان بھرو۔ انہوں نے مجھ سے اپنی عمر پوچھی؟ میں نے قیاس آرائی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ یہی کوئی 42 سال ہوگی۔ پتہ چلا کہ میں 11 سال غلط تھا۔ ان کی عمر 53 سال تھی اور وہ اس عمر میں بھی جوش و ولولہ سے بھرے نظر آرہے تھے۔ ایئر فورس سرکل میں اس بات کو لے کر کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ میڈیا نے ایم آئی جی 21 کو اڑتے ہوئے کفن کا نام دیا ہے۔ راہل نے انتہائی غصہ بھرے انداز میں کہا کہ ”میڈیا ہماری بے عزتی کیوں کر رہی ہے؟ ایم آئی جی 21 کو اڑتا ہوا کفن کیوں کہتے ہیں؟ ہم اسے ہر روز اڑاتے ہیں لیکن جب ہم اس کے بارے میں غلط باتوں کو میڈیا میں دیکھتے ہیں تو ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ہمیشہ سے یہ ایک اچھا جہاز رہا ہے“۔ کوبرا اسکوڈرن کے انٹرٹینمنٹ روم میں کافی خوشی کا ماحول ہے۔ونگ کمانڈر عارف پٹیل جنگی طیارے کے بارے میں ہونے والی بحث میں پیش پیش تھے ۔ اسی کے ساتھ ہی وہ اپنی فیملی، بچوں اور دیگر چیزوں کے بارے میں بھی باتیں کررہے تھے۔ عارف کا تین سالہ بچہ ہوائی اڈے پر آنے کی امید سے خوش ہوتا ہے۔ پٹیل نے انتہائی فخریہ انداز سے کہا کہ ”وہ جب بھی جنگی طیارے کو چھوتا ہے کافی خوش ہوتا ہے اور تالیاں بجانے لگتا ہے“۔ اور کیوں نہ ہو! وہ تو ایک جنگی طیارہ کے پائلٹ کا بیٹا ہے۔ ونگ کمانڈر پٹیل کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ ان کی بیوی کو بھی یہ چیز کافی پسند ہے۔ ”اب مجھے سروس میں 8 سال ہوگئے لیکن میری بیوی کبھی بھی شکایت نہیں کرتی“۔ ایئر فورس سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی بیویاں ان کے کام کے غیر معینہ اوقات پر کس طرح کے ردعمل کا اظہار کرتی ہیں۔ اس کا جواب اسکوڈرن کے کمانڈنگ افسر ایم کے گپتا خود ہی دیتے ہیں۔ ”ہاں وہ بیویاں جو سروسز بیک گراﺅنڈ سے نہیں آتیں، انہیں یہ دیکھ کر دھچکا ضرور لگتا ہے کہ ان کے شوہر وںکو دن کے کسی بھی وقت کام پر بلایا جاسکتا ہے“۔ ان جنگی طیاروں میں کام کرنے کے اوقات کی پابندی بہت ہی مشکل ہے، کیونکہ جب بھی پائلٹ اپنے یونیفارم پہن لیتے ہیں ان کو نہیں معلوم ہوتا ہے کہ آرام کرنے کا موقع کب ملے گا؟ ہم سنتے ہیں کہ ایم آئی جی 21 اپنے رن وے سے اڑا اور تھوڑی ہی دیر میں فضا میں کھو گیا۔ طیاروں کو رن وے کے بالکل قریب لگایا جاتا ہے تاکہ ایمر جنسی کی صورت میں ان کے اڑان بھرنے میں ٹائم نہ لگے۔ میں نے کچھ مخصوص ڈھانچوں کے بارے میں پوچھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ کچھ مخصوص ڈھانچے ہیں جنہیں طیاروں کو رکھنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ پائلٹ اپنا زیادہ تر وقت اسکوڈرن اور بریفنگ روم میں گزارتے ہیں۔ بریفنگ روم کے اندر کا ماحول کافی سنجیدہ ہوتا ہے۔ یہاں پر ہنسی مذاق کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ سی او نے ہمیں بتایا کہ ”ہمارے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو مانیں کیونکہ ہمارے لئے موت اور زندگی کا فاصلہ منٹوں کا نہیں بلکہ سیکنڈوں کا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کی کمیوں کے بارے میں کھلی بحث کرکے ہی ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں“۔ ونگ کمانڈر گپتا کا کہنا ہے کہ ”ہم فضا میں مشق کرتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے پر نشانہ لے کر بندوق بھی چلاتے ہیں ۔ اس مشق کو بہت ہی غور سے دیکھا جاتا ہے۔ مشق کے دوران نشانہ پر مارنا اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا کہ حقیقی جنگ کی صورت میں۔ اس لئے ہم سنجیدگی کے ساتھ اس کو لیتے ہیں۔ ”زندگی اور موت کے درمیان صرف ایک سیکنڈ کا فاصلہ ہوتا ہے“ یہ الفاظ ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں۔ ایم آئی جی اسکوڈروم سے ہم جگوور نامی دوسرے جنگی طیارہ کی طرف بڑھتے ہیں۔ پائلٹ اپنا گریوٹی سوٹ پہن کر جہاز اڑاتے ہیں ۔اس سے ان کے دماغ تک خون کا دوران جاری رہتا ہے۔ پھر بھی دماغ تک خون کے پہنچنے کے عمل میں رکاوٹ آنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور اس وقت پائلٹ کو بچا پانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ جو طیارے یہ لوگ اڑاتے ہیں ان کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اسکواڈرن لیڈر ایس دھنکار کا طیارہ ایم آئی جی 21 ان کی آنکھوں کے سامنے تباہ ہوگیا۔ خوش قسمتی سے وہ بچ گئے ۔جب ہم نے اس حادثہ کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے زیادہ کچھ بتانا مناسب نہ سمجھا۔ ایک انجن والے ایم آئی جی 21 سے 2 انجن والے جگوور جنگی طیاروں تک کا سفر کچھ الگ قسم کے ہی تجربات کاذریعہ رہا۔ جگوور اسکوڈرن 12 کا منظر اس اسکول جیسا تھا جہاں پر لوگ کسی اہم امتحان کے انٹرویو کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ اسکوڈرن 12 کا ایک ٹیسٹ چل رہاتھا۔ انڈر گریجویٹ نوجوان طلبا کی طرح ہی افسران انٹر ویو میں اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کے لئے امتحان بہت اہم ہوتے ہیں۔ تھوڑی دیر میں ایئر کموڈور راہل ڈھار سب کے سامنے آتے ہیں۔ کچھ ہدایات دینے کے بعد وہ اسکوڈرن 12 کے کمانڈنگ افسر رنگ کمانڈر چوہان کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں۔ اب آئیے رفتار کی بات کرتے ہیں۔ ابھی ہم ونگ کمانڈر چوہان سے بات کر ہی رہے تھے کہ ان کو دستخط کے لئے اندربلایا گیا اور وہ یہ وعدہ کرتے ہوئے چلے گئے کہ ”30 سیکنڈ میں واپس آتا ہوں“۔ وہ ٹھیک 30سیکنڈ کے اندر ہی اسی مقام پر آگئے۔ وہ اسی طرح سے سیکنڈ اور منٹ میں بات کرتے ہیں۔ میں نے وہاں پر صحیح معنوں میں ٹیم ورک کا مشاہدہ کیا۔ میں نے اسی ٹیم ورک کے تئیں ان کی رغبت دیکھی ۔ سبھی اسکوڈرون میں افسران یا تو ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے یا پھر اپنی اپنی ذمہ داریوں میں مصروف تھے۔ جب ہم نے دیکھا کہ افسران مصروف ہیں تواس وقت ہم لیفٹننٹ شیلندر اور اسکوڈرن لیڈر راہل اروڑا کے ساتھ بیٹھ گئے۔ ایک جنگی طیارہ کے پائلٹ کے جذبات کیا ہوتے ہیں؟ ”جوں ہی کسی نوخیز کو یہ خبر ملتی ہے کہ ہم جنگی طیارہ کے پائلٹ ہیں تو وہ بہت سے سوالات کرتا ہے اور آخر میں ہمارے نقش قدم پر چلنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ اس سے زیادہ اطمینان بخش چیز اور کیا ہو سکتی ہے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جنگی طیارہ کے پائلٹس میں اتنی دلچسپی دکھا رہے ہیں“۔ ابھی ہم ان کے ساتھ بیٹھے ہی ہوئے تھے کہ یہ خبر ملتی ہے کہ 1 گھنٹے کے اندر رات کو اڑان شروع ہوگی۔ پھر ہم نے دیکھا کہ تھوڑی ہی دیر میں جنگی طیاروں کا ایک جھنڈ آگ اور دھواں اگلتے ہوئے ہمارے سامنے سے گزرا اور ہمارا فوٹو گرافر ان کی تصویر لینے کے لئے کھڑا ہو گیا۔ پھر جب ہم نے کیمرے میں دیکھنے کی کوشش کی تو چمکتی ہوئی روشنی کی ایک دھاری دکھائی دے رہی تھی۔ ایئر کموڈور دھار کا کہنا ہے کہ ”میں اپنے پائلٹوں کو سب سے عمدہ بنانے کا منصوبہ رکھتا ہوں۔ اگر آپ ایک سال کے بعد یہاں پر آئیں گے تو نہ آپ اس جگہ کو پہچان پائیں گے اور نہ ہی میرے پائلٹوں کو“۔ |
|
|
|
| محمد کاشف حبیب کا شکریہ ادا کیا گیا | شاہد جمیل حفیظ (27-01-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
بھارتی بحریہ کا سی ہارئیر جنگی طیارہ گوا میں گر کر تباہ ہوگیا ‘ہواباز محفوظ رہا
نئی دہلی۔ 24 دسمبر (اے پی پی) بھارتی بحریہ کا ایک سی ہارئیر جنگی طیارہ گوا میں گر کر تباہ ہوگیا تاہم ہواباز محفوظ رہا۔ حادثہ گوا کے نیول بیس پر لینڈنگ کے دوران پیش آیا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے پیر کو بتایا کہ حادثے کے بعد نیول ایئربیس کا رن وے بند کردیا گیا تاکہ حادثے کی تحقیقات کی جاسکے۔ حادثے کا شکار ہونے والا سی ہارئیر طیارہ بھارت کے طیارہ بردار جہاز وی این ایس ” ویرات “ پر تعینات تھا۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
کیلیفورنیا:امریکہ کا ایف اے 18 جنگی طیارہ گرکر تباہ
کیلیفورنیا . . . امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے سان ڈیاگو میں امریکی فوج کا ایف اے18جنگی طیارہ گرکر تباہ ہوگیا ۔ فوجی حکام کے مطابق طیارہ کیلے فورنیا کے قریب ایک رہائشی علاقے میں گرا،جس میں دو پائلٹوں سمیت3افراد ہلاک ہوگئے۔ حادثے میں دو گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ ایک مکان کو جزوی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق طیا رہ لینڈنگ کی تیاری کر رہا تھا کہ اس میں آگ بھڑک اٹھی،جس کے بعد وہ گر کر تباہ ہو گیا۔حکام کے مطابق فوری طور پر حادثے کی وجوہات کا علم نہیں ہو سکا،تاہم تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
امریکا، سان ڈیاگو کے رہائشی علاقے میں جنگی طیارہ گرکر تباہ
سان ڈیاگو ... امریکی شہر سان ڈیاگو کے رہائشی علاقے میں جنگی طیارہ گرکر تباہ ہوگیا جس کے باعث ایک مکان کو آگ لگ گئی ہے ۔امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں ایف 18جنگی طیارہ لینڈنگ کے دوران قریبی رہائشی علاقے میں ایک مکان پر گر کر تباہ ہوگیا۔جس کے بعد علاقے میں آگ لگ گئی ہے ۔پولیس حکام کے مطابق علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں تاہم طیارے کے پائلٹ کی حالت کے متعلق تاحال معلوم نہیں ہوسکا۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اس خوف سے کہ طیّارہ گرے گا یا دھماکے سے نقصان کا اندیشہ ہے جنگی مشق تو نہیں چھوڑی جا سکتی۔ یہ واقعات پاکستان میں بھی ہوتے ہیں اور سب سے پُرانے لڑاکا جہاز ایف -6 ، ایف - 7، اے - 5 پاکستان میں ابھی تک اُڑائے جاتےہیں جو نقل شدہ اور قدیم تر ہیں۔ 1964 کے چینی دبّابے اب تک پاکستان میں استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ اگر عزّت سے رہنے کے لئے دشمن کا مقابلہ کرنا ہو تو ہتھیاروںکی مشق کرنی پڑے گی۔ اس طرح تو گھوڑا دوڑانا بھی خطرناک کام ہے جس میں سوار کے گرنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ مغلوںکے زوال کے وقت اور انکےآخری دور میں ہندوستانی فوج کے افسران آرام طلب اور تعیّش پسند ہو گئےتھے اور روایات کے مطابق میدان جنگ کو پالکی میں جاتے تھے۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمد الیاس کا شکریہ ادا کیا | محمد کاشف حبیب (27-01-09), عروج (12-10-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
الیاس بھائی میں آپ سے متفق ہوں اللہ پاک ہمیں بھی اپنے حکم اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر چلنے کی توفیق دیں آمین
|
|
|
|
| محمد کاشف حبیب کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد الیاس (28-01-09) |
![]() |
| Tags |
| فوٹو, فروخت, پہچان, پولیس, پاکستان, پسند, واقعات, قدم, لوگ, نظر, موت, مقابلہ, منصوبہ, آبادی, امتحان, بچوں, تلاش, تصویر, جواب, خون, خبر, رفتار, راستہ, زندگی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|