واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


جنرل پاشا کے نام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-01-10, 01:08 PM   #1
Senior Member
 
رانا امر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 833
کمائي: 18,387
شکریہ: 4,245
514 مراسلہ میں 1,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
رانا امر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں رانا امر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جنرل پاشا کے نام

جنرل پاشا کے نام

عامرہ احسان (سابق رکن قومی اسمبلی)

ایک 16دسمبر 1971ء میں آیا تھا جس نے میری زندگی کا رخ بدلنے میں، کم عمری کے لااْبالی پن کو ملک و ملت کی درد آشنائی دینے میں ایک واضح کردار ادا کیا تھا۔
ایک 16دسمبر 2009ء میں آیا جس کی حیرت جس کا غم میری ذاتی زندگی کیلئے کچھ کم نہ تھا۔ اس لئے نہیں کہ اس غم کی تپش اور حّدت نے میری انفرادی زندگی کو متاثر کیا بلکہ اس واقعے نے مجھے پاکستان کے ایک نئے رخ سے متعارف کروایا جیسے میں نے جب دور سے دیکھا تو یقین نہ کیا تھا اور جب یہ میرے آنگن میں اترا تو 9/11 کے بعد کے پاکستان کا ایک نہایت تاریک باب تھا۔ عقل تو یہی کہتی رہی اور سیانوں نے بھی سمجھایا کہ پی جاؤ… خاموش رہو… جان بچی سو لاکھوں پائے لیکن مصلحت کوشی کی چادر اوڑھ کر اگر سب سو رہے تو دشمن کے پو بارہ ہونگے۔ اس کے ہاں تو ہماری پالیسیوں کے ہاتھوں پہلے ہی گھی کے چراغ جل رہے ہیں پاکستان کے وجود کو جونک بن کر پی جانے والی اور دیمک بن کر چاٹ جانے والی یہ دیوانی پالیسیاں آج ہمیں اجتماعی خود کشی کے دہانے پرکھڑا کر چکی ہیں۔
دو ہفتے جو مجھ پر بیتے وہ قرآن اور سجدوں کی بہم کردہ قوت، بہی خواہوں کی دعاؤں کے تسلسل، خاندان (ذاتی اور دینی) کی بے پایاں محبت سے بحمد اللہ گزر گئے۔ یہاں تک کہ درد مند، فرض شناس قلم اور عدلیہ کے ازخود نوٹس نے زندان کے در کھول دئیے۔ یہ لمحہ لمحہ رب کریم کے حکم اور مرضی کے تابع رہا۔ آزمائش آتی بھی اسی کے اذن سے ہے اورجاتی بھی اسی کے حکم سے ہے۔
اہلِ زمین تو صرف امتحان دے رہے ہوتے ہیں قوت و اقتدار کے استعمال کا، زبان اور قلم سے اظہار کا، صبر کا ثبات کا، صلہ رحمی، اخوت و دلجوئی کا، لہر لمحہ ایک سوال اترتا ہے ہم جواب دیتے ہیں زندگی کے صفحات پلٹتے پلٹتے باب ابواب سب ختم ہو جاتے ہیں۔نامۂ اعمال بند اور بندہ حاضر کر دیا جاتا ہے۔ ہار اور جیت فتح و شکست کامیابی و ناکامی کے حقیقی، دیرپا فیصلے برسر زمین نہیں زیر زمین ہوتے ہیں۔ جب لاد چلے گا بنجارہ…! فکر تو بالآخر صرف اس دن کی کرنی ہے۔
ذرا لوٹیے اس پاکستان کی طرف جس کا ایک نیا رخ میں نے دیکھا۔ اس کے لئے اہل پاکستان سے بڑھ کر میں جنرل پاشا کی توجہ چاہتی ہوں۔ جن کی شہرت ایک درد مند، محب وطن ڈائی ہارڈ پاکستانی کی ہے۔ بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ گھر کا سربراہ نہیں جانتا کہ اس کے بچے اس کی لاعلمی میں کیا کھل کھیل رہے ہیں۔
جناب والا پاکستان کے تحفظ کے لئے اب جو کریک ڈاؤن ہورہا ہے وہ 9/11 کے بعد امریکہ کے پاگل پن کے ساتھ مسلم دنیا پر ٹوٹ پڑنے والے روئیے کا عین چربہ ہے نہتے افغانستان پر اور تباہ کن ہتھیاروں کے جھوٹے پراپیگنڈے کی بنیاد پر امریکہ جس طرح عراق پر بجلی بن کر گرا تھا پریڈ لین کے حادثے کے بعد ملزم، مجرم کا تعین کئے بغیر ہر داڑھی والے، ہر ایمان والے، گھرانے پر شبخون مارنے کا یہ کریک ڈاؤن دیوانگی کی حدوں کو چھو رہا ہے۔ پاکستان کا ہر وہ گھر جس نے حلال کھایا اور اللہ کے آگے سجدہ کیا معزز ہے لیکن اس وقت نہایت عزت دار، شرفاء کے ساتھ جو کھیل کھیلا جارہا ہے خدارا درد مندی اور دلسوزی سے اسے دیکھئے اس کا فوری سدباب کیجئے۔ اپنے اصل دشمن پہچان کر ان کے تعاقب میں اپنی صلاحیتیں اور قومی وسائل کو جھونکئے۔
راجہ احسان عزیز (راقمہ کے شوہر) کا پروفائل اخباروں میں چھپ چکا ہے منگوا کر دیکھ لیجئے کہ آپ کے ادارے نے کسے اٹھایا تھا۔ کیسے اٹھایا تھا کس حال میں رکھا تھا۔ ان سے پہلے لیجائی گئی (قانون سے ماورا) خاتون تادم تحریر رہا نہیں کی گئیں وہ تفصیل بھی آ چکی کہ وہ کتنی معزز نیک نام، پاکباز خاتون ہیں جا کر اہل محلہ سے پوچھ لیجئے۔ اس کے بعد تواتر سے جن نوجوانوں کو یوں اٹھایا گیا جیسے وہ نامی گرامی ڈاکو یا جدی پشتی بدمعاش ہوں ان کا احوال بھی سنیے۔
مولانا عبدالغفار حسن رحمتہ اللہ کے پوتے اور ڈاکٹر سہیل حسن اسلامی یونیورسٹی کے معزز استاد کے 15 سالہ مرگی کے مریض صاحبزادے کو بیس افراد نے گھر کی چار دیواری پامال کر کے جس طرح اٹھایا ہے وہ اس معزز اور مقتدر ادارے کے ہرگز شایان شان نہیں۔ جنرل صاحب آپ کو مخاطب کرنے کی وجہ ہی یہ ہے کہ اداروں کا تقدس اگر یوں نادانوں کے ہاتھوں ایک ایک کر کے روند دیاگیا تو ایک عام انسان حق اور انصاف و تحفظ کے لئے کس کے آگے فریاد کرے گا۔ کس جانب دیکھے گا۔ قبل ازیں انہی کی ہمسائیگی میں اسلام آباد کے چمکتے دمکتے شہر سے ایک اور تاریک صبح جماعت اسلامی کے ایک اور نہایت معزز خاندان کا نوخیز اے لیویز کے طالب علم جو محترم عتیق صاحب کے صاحبزادے ہیں انہیں دندناتے ہوئے اٹھا لیا گیا۔
سیالکوٹ سے محترمہ نیر بانو صاحبہ جو جماعت اسلامی کی حلقہ خواتین کی بانی ارکان میں سے تھیں سابقہ قیّمہ تھیں۔ معروف ادیبہ، نظریۂ پاکستان کی زبردست داعی بے شمار قومی مّلی خدمات کی حامل خاتون کے دو پوتوں کو اسی طرح بلا کی طرح جھپٹ کر غائب کر دیا گیا۔ وہ دونوں نوجوان فجر کی نماز ادا کر کے مسجد سے لوٹ رہے تھے اور اچک لئے گئے۔کسی سیاسی عسکری جماعت، تنظیم سے مذکورہ بالا تمام افراد کا دور پار کا بھی تعلق نہیں۔ قدر مشترک داڑھی، مسجد، ایمان ْحّبِ پاکستان ہے۔ ان دو بچوں کے دو خالہ زاد بھائی بھی اسی طرح راولپنڈی سے اچکے گئے۔ مزید براں تحریکِ اسلامی سے منسلک خواتین کو ہراساں کرنے کے لئے فون کئے جا رہے ہیں۔
آزمائش کے دوران راقمہ سے دلجوئی کرنے پر ایک خاتون کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی گئی۔ جنرل صاحب یہ ایک معزز، مہذب پاکستان یا اس مقتدر ادارے کی شان سے فروتر ہے کہ یہ سلسلہ ہائے دراز (میں نے صرف دیگ کے چند دانے آپ کے سامنے رکھے ہیں) یوں جاری و ساری رہیں۔ بلیک واٹر دندناتی پھرے۔ ملک دشمن را امریکہ کے ایجنٹ پورے ملک میں آگ لگا دیں۔
حالیہ دہشت گردی کی لہر جو پریڈ لین، مون مارکیٹ، پشاور، کراچی، لکی مروت کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے سب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں جان رہے ہیں کہ یہ امریکی مداخلت اور بھارتی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ ہے یہ وحشت و بربریت ان معصوم نوجوانوں، ضعیف معزز پروفیسر، نجمہ ثناء جیسی خاتون یا میرے اس بیٹے کا کیا دھرا نہیں ہے جسے آپ کا ادارہ یوں تلاش کرتا پھر رہا ہے گویا وہ غنڈہ ہو۔ حالانکہ وہ ایک دانشور باپ کا کتابی کیڑا بیٹا ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہاں داڑھی اور نماز کا مجرم وہ بھی ہے۔ اس جیسے کتنے روپوش ہونے پر مجبور ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ مجرم ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ بے گناہ باپ بھائیوں کا حشر دیکھ چکے ہیں۔
میں خاموش رہتی کچھ بھی نہ کہتی لیکن پانی سر سے گزر چکا ہے۔ آپ کے اہلکاروں کی دشمنی مول لے کر یہ سطور تحریر کر رہی ہوں۔ میری تحریروں کی سزا میرے شوہر پا چکے ہیں۔
اب دیکھئے مجھ پر کیا نئی فردِ جرم عائد ہوتی ہے۔ شوہر کے زندان کے ساتھیوں کا یہ قرض مجھ پر تھا سو میں نے ادا کیا۔ ان گنت خاندان جس کرب سے گزر رہے ہیں اس کا اندازہ کیجئے۔ تحریک اسلامی جیسی بے ضرر، مرنجاں مرنج خواتین کے حلقے کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جا رہا ہے کہ جہاں آپ کو اپنے دفاع کے لئے ایک غلیل بھی نہ ملے گی گھر قرآن، حدیث کی کتابوں سے لیس ضرور ملیں گے۔ کیا اب ہم اس کی سزا پائیں گے؟
یقیناً راقمہ کی تحریریں تلخ ترش اور تقریریں درد و غم سے لبریز نوحے ہوتے ہیں لیکن کیا پاکستان ایک عورت کی تحریر و تقریر کی بھینٹ چڑھ گیا اور اس کی سزا اس پیمانے پر ان بچوں کو دی جائے گی جو اس کے ممبر بھی نہیں! الزامات لیکر اگر آپ کا ادارہ پبلک میں آئے گا تو یہ خانوادے اتنے غیر معروف نہیں کہ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے۔ پہلے ہی سب غم و غصے کی لپیٹ میں ہیں۔ پاکستان جن گردابوں کی لپیٹ میں ہے اس وقت سنجیدہ فہمیدہ طبقے کی یکجائی اور اتفاق و اتحاد ضروری ہے۔ اسے حاصل کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہے اس خرابی کو یہیں سے ٹھیک کر لیجئے۔اس معذرت کے ساتھ معروضات پر غور کیجئے:
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم!
آپ کی حب الوطنی، اخلاص اور دیانتداری پر اعتماد کرتے ہوئے یہ جسارت کی ہے!
ایک نکتہ یہ بھی نوٹ فرما لیجئے کہ پاکستان جن پْر آشوب حالات میں گھراہوا ہے۔ اندر ہم نے خود بلیک واٹر اور میرینز کو لا کر آباد کر لیا ہے۔ امریکی فوجی اڈے چھوٹے موٹے ہر جگہ سر اٹھا رہے ہیں کل آپ کو شانہ بشانہ ملک کے دفاع کے لئے نوجوانوں کی جو دوسری ڈیفنس لائن ملے گی وہ انہی نوجوانوں سے بن سکتی تھی جو ماتھے پر سجدے کے نشان اور سینوں میں قرآن لئے ان عقوبت خانوں میں بھر رکھے ہیں۔ ملکی دفاع اور جان کی قربانی تھرکنے والے نوجوانوں کے بس کا روگ نہیں۔ کل مدد کے لئے جب پکارا جائے گا تو عشاق کے قافلے یہیں سے نکل کھڑے ہونے کا جذبہ اور صلاحیت رکھتے ہیں‘ جسے کچلنے کے لئے عاقبت نااندیشوں نے ظلم و ستم کا ہر ہتھکنڈا روا رکھا ہے۔
اب بھی وقت ہے پالیسی سدھارئیے ہم جیسے دیوانے آپ کے اور ان کے درمیان پْل بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں پْل توڑنے میں خیر کتنی ہے یہ آپ سے کب پوشیدہ ہے۔! پْل ہمیشہ دشمن توڑا کرتے ہیں دوست نہیں۔
رانا امر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے رانا امر کا شکریہ ادا کیا
sahj (09-01-10), محمدخلیل (09-01-10), راجہ اکرام (09-01-10), طاھر (09-01-10)
پرانا 09-01-10, 03:29 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
مولانا عبدالغفار حسن رحمتہ اللہ کے پوتے اور ڈاکٹر سہیل حسن اسلامی یونیورسٹی کے معزز استاد کے 15 سالہ مرگی کے مریض صاحبزادے کو بیس افراد نے گھر کی چار دیواری پامال کر کے جس طرح اٹھایا ہے وہ اس معزز اور مقتدر ادارے کے ہرگز شایان شان نہیں۔ جنرل صاحب آپ کو مخاطب کرنے کی وجہ ہی یہ ہے کہ اداروں کا تقدس اگر یوں نادانوں کے ہاتھوں ایک ایک کر کے روند دیاگیا تو ایک عام انسان حق اور انصاف و تحفظ کے لئے کس کے آگے فریاد کرے گا۔ کس جانب دیکھے گا۔ قبل ازیں انہی کی ہمسائیگی میں اسلام آباد کے چمکتے دمکتے شہر سے ایک اور تاریک صبح جماعت اسلامی کے ایک اور نہایت معزز خاندان کا نوخیز اے لیویز کے طالب علم جو محترم عتیق صاحب کے صاحبزادے ہیں انہیں دندناتے ہوئے اٹھا لیا گیا۔
اندازہ کریں اس درندگی کا
15 سالہ مرگی کا دھماکے کر اور کروا رہا ہے، یا ان کا ماسٹر مائنڈ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ہائے افسوس
خود ہی اپنی اداؤں پے ذرا غور کریں
ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (09-01-10)
پرانا 09-01-10, 03:49 PM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ایک نکتہ یہ بھی نوٹ فرما لیجئے کہ پاکستان جن پْر آشوب حالات میں گھراہوا ہے۔ اندر ہم نے خود بلیک واٹر اور میرینز کو لا کر آباد کر لیا ہے۔ امریکی فوجی اڈے چھوٹے موٹے ہر جگہ سر اٹھا رہے ہیں کل آپ کو شانہ بشانہ ملک کے دفاع کے لئے نوجوانوں کی جو دوسری ڈیفنس لائن ملے گی وہ انہی نوجوانوں سے بن سکتی تھی جو ماتھے پر سجدے کے نشان اور سینوں میں قرآن لئے ان عقوبت خانوں میں بھر رکھے ہیں۔ ملکی دفاع اور جان کی قربانی تھرکنے والے نوجوانوں کے بس کا روگ نہیں۔ کل مدد کے لئے جب پکارا جائے گا تو عشاق کے قافلے یہیں سے نکل کھڑے ہونے کا جذبہ اور صلاحیت رکھتے ہیں‘ جسے کچلنے کے لئے عاقبت نااندیشوں نے ظلم و ستم کا ہر ہتھکنڈا روا رکھا ہے۔
محترمہ عامرہ احسان صاحبہ کو اللہ جزائے خیر دے اور ان کے عزم و حوصلے اور صلاحیتوں میں اضافہ فرمائے۔
یہ حقیقت ہے کہ طبلے کی تھاپ پر رقص کرنے والے کبھی بھی ملکی دفاع کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (09-01-10)
پرانا 09-01-10, 04:07 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,183
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماورائے عدالت سزائیں اور لوگوں کو بغیر مقدمات غائب کرنا ریاستی دہشت گردی ہے۔ اس کی ہر جگہ پر مذمت کی جانی چاہیے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (09-01-10)
پرانا 09-01-10, 04:09 PM   #5
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر مراسلہ دیکھیں
عامرہ احسان (سابق رکن قومی اسمبلی)

ایک 16دسمبر 1971ء میں آیا تھا جس نے میری زندگی کا رخ بدلنے میں، کم عمری کے لااْبالی پن کو ملک و ملت کی درد آشنائی دینے میں ایک واضح کردار ادا کیا تھا۔
ایک 16دسمبر 2009ء میں آیا جس کی حیرت جس کا غم میری ذاتی زندگی کیلئے کچھ کم نہ تھا۔ اس لئے نہیں کہ اس غم کی تپش اور حّدت نے میری انفرادی زندگی کو متاثر کیا بلکہ اس واقعے نے مجھے پاکستان کے ایک نئے رخ سے متعارف کروایا جیسے میں نے جب دور سے دیکھا تو یقین نہ کیا تھا اور جب یہ میرے آنگن میں اترا تو 9/11 کے بعد کے پاکستان کا ایک نہایت تاریک باب تھا۔ عقل تو یہی کہتی رہی اور سیانوں نے بھی سمجھایا کہ پی جاؤ… خاموش رہو… جان بچی سو لاکھوں پائے لیکن مصلحت کوشی کی چادر اوڑھ کر اگر سب سو رہے تو دشمن کے پو بارہ ہونگے۔ اس کے ہاں تو ہماری پالیسیوں کے ہاتھوں پہلے ہی گھی کے چراغ جل رہے ہیں پاکستان کے وجود کو جونک بن کر پی جانے والی اور دیمک بن کر چاٹ جانے والی یہ دیوانی پالیسیاں آج ہمیں اجتماعی خود کشی کے دہانے پرکھڑا کر چکی ہیں۔
دو ہفتے جو مجھ پر بیتے وہ قرآن اور سجدوں کی بہم کردہ قوت، بہی خواہوں کی دعاؤں کے تسلسل، خاندان (ذاتی اور دینی) کی بے پایاں محبت سے بحمد اللہ گزر گئے۔ یہاں تک کہ درد مند، فرض شناس قلم اور عدلیہ کے ازخود نوٹس نے زندان کے در کھول دئیے۔ یہ لمحہ لمحہ رب کریم کے حکم اور مرضی کے تابع رہا۔ آزمائش آتی بھی اسی کے اذن سے ہے اورجاتی بھی اسی کے حکم سے ہے۔
اہلِ زمین تو صرف امتحان دے رہے ہوتے ہیں قوت و اقتدار کے استعمال کا، زبان اور قلم سے اظہار کا، صبر کا ثبات کا، صلہ رحمی، اخوت و دلجوئی کا، لہر لمحہ ایک سوال اترتا ہے ہم جواب دیتے ہیں زندگی کے صفحات پلٹتے پلٹتے باب ابواب سب ختم ہو جاتے ہیں۔نامۂ اعمال بند اور بندہ حاضر کر دیا جاتا ہے۔ ہار اور جیت فتح و شکست کامیابی و ناکامی کے حقیقی، دیرپا فیصلے برسر زمین نہیں زیر زمین ہوتے ہیں۔ جب لاد چلے گا بنجارہ…! فکر تو بالآخر صرف اس دن کی کرنی ہے۔
ذرا لوٹیے اس پاکستان کی طرف جس کا ایک نیا رخ میں نے دیکھا۔ اس کے لئے اہل پاکستان سے بڑھ کر میں جنرل پاشا کی توجہ چاہتی ہوں۔ جن کی شہرت ایک درد مند، محب وطن ڈائی ہارڈ پاکستانی کی ہے۔ بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ گھر کا سربراہ نہیں جانتا کہ اس کے بچے اس کی لاعلمی میں کیا کھل کھیل رہے ہیں۔
جناب والا پاکستان کے تحفظ کے لئے اب جو کریک ڈاؤن ہورہا ہے وہ 9/11 کے بعد امریکہ کے پاگل پن کے ساتھ مسلم دنیا پر ٹوٹ پڑنے والے روئیے کا عین چربہ ہے نہتے افغانستان پر اور تباہ کن ہتھیاروں کے جھوٹے پراپیگنڈے کی بنیاد پر امریکہ جس طرح عراق پر بجلی بن کر گرا تھا پریڈ لین کے حادثے کے بعد ملزم، مجرم کا تعین کئے بغیر ہر داڑھی والے، ہر ایمان والے، گھرانے پر شبخون مارنے کا یہ کریک ڈاؤن دیوانگی کی حدوں کو چھو رہا ہے۔ پاکستان کا ہر وہ گھر جس نے حلال کھایا اور اللہ کے آگے سجدہ کیا معزز ہے لیکن اس وقت نہایت عزت دار، شرفاء کے ساتھ جو کھیل کھیلا جارہا ہے خدارا درد مندی اور دلسوزی سے اسے دیکھئے اس کا فوری سدباب کیجئے۔ اپنے اصل دشمن پہچان کر ان کے تعاقب میں اپنی صلاحیتیں اور قومی وسائل کو جھونکئے۔
راجہ احسان عزیز (راقمہ کے شوہر) کا پروفائل اخباروں میں چھپ چکا ہے منگوا کر دیکھ لیجئے کہ آپ کے ادارے نے کسے اٹھایا تھا۔ کیسے اٹھایا تھا کس حال میں رکھا تھا۔ ان سے پہلے لیجائی گئی (قانون سے ماورا) خاتون تادم تحریر رہا نہیں کی گئیں وہ تفصیل بھی آ چکی کہ وہ کتنی معزز نیک نام، پاکباز خاتون ہیں جا کر اہل محلہ سے پوچھ لیجئے۔ اس کے بعد تواتر سے جن نوجوانوں کو یوں اٹھایا گیا جیسے وہ نامی گرامی ڈاکو یا جدی پشتی بدمعاش ہوں ان کا احوال بھی سنیے۔
مولانا عبدالغفار حسن رحمتہ اللہ کے پوتے اور ڈاکٹر سہیل حسن اسلامی یونیورسٹی کے معزز استاد کے 15 سالہ مرگی کے مریض صاحبزادے کو بیس افراد نے گھر کی چار دیواری پامال کر کے جس طرح اٹھایا ہے وہ اس معزز اور مقتدر ادارے کے ہرگز شایان شان نہیں۔ جنرل صاحب آپ کو مخاطب کرنے کی وجہ ہی یہ ہے کہ اداروں کا تقدس اگر یوں نادانوں کے ہاتھوں ایک ایک کر کے روند دیاگیا تو ایک عام انسان حق اور انصاف و تحفظ کے لئے کس کے آگے فریاد کرے گا۔ کس جانب دیکھے گا۔ قبل ازیں انہی کی ہمسائیگی میں اسلام آباد کے چمکتے دمکتے شہر سے ایک اور تاریک صبح جماعت اسلامی کے ایک اور نہایت معزز خاندان کا نوخیز اے لیویز کے طالب علم جو محترم عتیق صاحب کے صاحبزادے ہیں انہیں دندناتے ہوئے اٹھا لیا گیا۔
سیالکوٹ سے محترمہ نیر بانو صاحبہ جو جماعت اسلامی کی حلقہ خواتین کی بانی ارکان میں سے تھیں سابقہ قیّمہ تھیں۔ معروف ادیبہ، نظریۂ پاکستان کی زبردست داعی بے شمار قومی مّلی خدمات کی حامل خاتون کے دو پوتوں کو اسی طرح بلا کی طرح جھپٹ کر غائب کر دیا گیا۔ وہ دونوں نوجوان فجر کی نماز ادا کر کے مسجد سے لوٹ رہے تھے اور اچک لئے گئے۔کسی سیاسی عسکری جماعت، تنظیم سے مذکورہ بالا تمام افراد کا دور پار کا بھی تعلق نہیں۔ قدر مشترک داڑھی، مسجد، ایمان ْحّبِ پاکستان ہے۔ ان دو بچوں کے دو خالہ زاد بھائی بھی اسی طرح راولپنڈی سے اچکے گئے۔ مزید براں تحریکِ اسلامی سے منسلک خواتین کو ہراساں کرنے کے لئے فون کئے جا رہے ہیں۔
آزمائش کے دوران راقمہ سے دلجوئی کرنے پر ایک خاتون کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی گئی۔ جنرل صاحب یہ ایک معزز، مہذب پاکستان یا اس مقتدر ادارے کی شان سے فروتر ہے کہ یہ سلسلہ ہائے دراز (میں نے صرف دیگ کے چند دانے آپ کے سامنے رکھے ہیں) یوں جاری و ساری رہیں۔ بلیک واٹر دندناتی پھرے۔ ملک دشمن را امریکہ کے ایجنٹ پورے ملک میں آگ لگا دیں۔
حالیہ دہشت گردی کی لہر جو پریڈ لین، مون مارکیٹ، پشاور، کراچی، لکی مروت کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے سب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں جان رہے ہیں کہ یہ امریکی مداخلت اور بھارتی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ ہے یہ وحشت و بربریت ان معصوم نوجوانوں، ضعیف معزز پروفیسر، نجمہ ثناء جیسی خاتون یا میرے اس بیٹے کا کیا دھرا نہیں ہے جسے آپ کا ادارہ یوں تلاش کرتا پھر رہا ہے گویا وہ غنڈہ ہو۔ حالانکہ وہ ایک دانشور باپ کا کتابی کیڑا بیٹا ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہاں داڑھی اور نماز کا مجرم وہ بھی ہے۔ اس جیسے کتنے روپوش ہونے پر مجبور ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ مجرم ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ بے گناہ باپ بھائیوں کا حشر دیکھ چکے ہیں۔
میں خاموش رہتی کچھ بھی نہ کہتی لیکن پانی سر سے گزر چکا ہے۔ آپ کے اہلکاروں کی دشمنی مول لے کر یہ سطور تحریر کر رہی ہوں۔ میری تحریروں کی سزا میرے شوہر پا چکے ہیں۔
اب دیکھئے مجھ پر کیا نئی فردِ جرم عائد ہوتی ہے۔ شوہر کے زندان کے ساتھیوں کا یہ قرض مجھ پر تھا سو میں نے ادا کیا۔ ان گنت خاندان جس کرب سے گزر رہے ہیں اس کا اندازہ کیجئے۔ تحریک اسلامی جیسی بے ضرر، مرنجاں مرنج خواتین کے حلقے کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جا رہا ہے کہ جہاں آپ کو اپنے دفاع کے لئے ایک غلیل بھی نہ ملے گی گھر قرآن، حدیث کی کتابوں سے لیس ضرور ملیں گے۔ کیا اب ہم اس کی سزا پائیں گے؟
یقیناً راقمہ کی تحریریں تلخ ترش اور تقریریں درد و غم سے لبریز نوحے ہوتے ہیں لیکن کیا پاکستان ایک عورت کی تحریر و تقریر کی بھینٹ چڑھ گیا اور اس کی سزا اس پیمانے پر ان بچوں کو دی جائے گی جو اس کے ممبر بھی نہیں! الزامات لیکر اگر آپ کا ادارہ پبلک میں آئے گا تو یہ خانوادے اتنے غیر معروف نہیں کہ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے۔ پہلے ہی سب غم و غصے کی لپیٹ میں ہیں۔ پاکستان جن گردابوں کی لپیٹ میں ہے اس وقت سنجیدہ فہمیدہ طبقے کی یکجائی اور اتفاق و اتحاد ضروری ہے۔ اسے حاصل کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہے اس خرابی کو یہیں سے ٹھیک کر لیجئے۔اس معذرت کے ساتھ معروضات پر غور کیجئے:
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم!
آپ کی حب الوطنی، اخلاص اور دیانتداری پر اعتماد کرتے ہوئے یہ جسارت کی ہے!
ایک نکتہ یہ بھی نوٹ فرما لیجئے کہ پاکستان جن پْر آشوب حالات میں گھراہوا ہے۔ اندر ہم نے خود بلیک واٹر اور میرینز کو لا کر آباد کر لیا ہے۔ امریکی فوجی اڈے چھوٹے موٹے ہر جگہ سر اٹھا رہے ہیں کل آپ کو شانہ بشانہ ملک کے دفاع کے لئے نوجوانوں کی جو دوسری ڈیفنس لائن ملے گی وہ انہی نوجوانوں سے بن سکتی تھی جو ماتھے پر سجدے کے نشان اور سینوں میں قرآن لئے ان عقوبت خانوں میں بھر رکھے ہیں۔ ملکی دفاع اور جان کی قربانی تھرکنے والے نوجوانوں کے بس کا روگ نہیں۔ کل مدد کے لئے جب پکارا جائے گا تو عشاق کے قافلے یہیں سے نکل کھڑے ہونے کا جذبہ اور صلاحیت رکھتے ہیں‘ جسے کچلنے کے لئے عاقبت نااندیشوں نے ظلم و ستم کا ہر ہتھکنڈا روا رکھا ہے۔
اب بھی وقت ہے پالیسی سدھارئیے ہم جیسے دیوانے آپ کے اور ان کے درمیان پْل بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں پْل توڑنے میں خیر کتنی ہے یہ آپ سے کب پوشیدہ ہے۔! پْل ہمیشہ دشمن توڑا کرتے ہیں دوست نہیں۔



اللہ سے دعا ھے کہ اللہ ہم مسلمانوں کو ہدایت دے دین پر پورے کا پورا عمل کرنے کی اور آسانی فرمائے،
آمین،
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (09-01-10)
جواب

Tags
9/11, فرض, کتابوں, پہچان, پاکستان, پاکستانی, پاگل, قرآن, نماز, ماورا, متعارف, محبت, مسجد, معذرت, آج, ایمان, امریکہ, بچوں, تلاش, حدیث, خواتین, دوست, داڑھی, عورت, عقل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:09 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger