جمیل الزمان کو وزارت نہ ملنے سے زرداری اور امین فہیم میں اختلافات بڑھ گئے
جمیل الزمان کو وزارت نہ ملنے سے زرداری اور امین فہیم میں اختلافات بڑھ گئے
جمیل الزمان کو وزارت نہ ملنے سے زرداری اور امین فہیم میں اختلافات بڑھ گئے
اسلام آباد (طارق بٹ) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما مخدوم امین فہیم کے بیٹے جمیل الزمان کو سندھ کابینہ میں وزارت نہ ملنے سے آصف زرداری اور امین فہیم کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اگر زرداری نے امین فہیم کی سندھ اسمبلی کی خالی کردہ سیٹ پی ایس 44 کیلئے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کیلئے ان کے بھائی رفیق الزمان کو پارٹی ٹکٹ نہ دیا تو تعلقات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ جمیل الزمان نے فون پر بتایا کہ رفیق الزمان سندھ اسمبلی کی سیٹ پی ایس 44 میں حصہ لینے کے آرزومند ہیں۔ انہوں نے حلف برداری سے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ حلف لینے کیلئے نہ تو اسے کوئی دعوت نامہ بھیجا گیا اور نہ ہی اس سے اس بارے کوئی رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیپلزپارٹی کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں معمول کے مطابق شرکت کررہے ہیں۔ ضلع مٹیاری میں 2 صوبائی اسمبلی اور ایک قومی اسمبلی کی سیٹیں ہیں جن پر مخدوم آف ہالہ کے سرکردہ ارکان یا ان کے اپنے نامزد ارکان ان انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔بہرحال اگر رفیق الزمان کو پیپلزپارٹی کا ٹکٹ نہ دیا گیا اور انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے اس ضمنی انتخابات میں حصہ لے لیا تو زرداری اور مخدوم امین فہیم کے درمیان باقی ماندہ تعلقات معدوم ہو جائیں گے جبکہ ایک پی پی کے رہنما کی اطلاع کے مطابق رفیق الزمان ہر قیمت پر ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گے۔ زرداری نے اپنے قریبی دوستوں ذوالفقار مرزا، آغا سراج دوالی، پیر مظہر الحق اور نادر مگسی کو سندھ اسمبلی میں وزارتیں دیں لیکن مخدوم آف ہالہ کے چشم و چراغ کو وزارتیں نہ دے کر ان کو بہت صدمہ ہوا اگر جمیل الزمان کو سندھ کابینہ کی وزارت دے دی جاتی تو اس سے کچھ حد تک مخدوم امین فہیم کی ناراضگی کم ہو سکتی تھی۔ آصف زرداری نے امین فہیم کو وزیراعظم نامزد نہ کرنے کے بعد اب جمیل الزمان کو وزارت سے محروم رکھ کر یہ پیغام دیدیا کہ مخدوم امین فہیم کواس دفعہ بلکہ ہمیشہ کے لئے نظر انداز کردیا ہے۔ اس طرح کے اقدامات امین فہیم کو پیپلزپارٹی کو الوداع کہنے کی وجہ بن سکتے ہیں۔ زرداری کو امین فہیم کی ناراضگی اورپیپلزپارٹی کو چھوڑنے کا یقین ہے لیکن انہیں اس سے پارٹی پر گرفت اور قبضہ سے متعلق کوئی خوف نہیں ہے۔ مخدوم امین فہیم نے زرداری کے ان کو وزیراعظم نامزد نہ کرنے کے خلاف اعلانیہ ناراضگی کے باوجود انہوں نے مخدوم یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے پر ان کا استقبال کیا بلکہ پورے جوش اور جذبے کے ساتھ ان کا تعاون کیا۔ انہوں نے اس کے بعد کہا کہ وہ ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھائیں گے جس سے ان کی پیپلزپارٹی جس سے انکا تعلق کئی عشروں سے ہے کو نقصان پہنچے۔ تاہم مخدوم امین فہیم کو وزارت عظمیٰ کے لئے نامزد نہ کرنے سے ان کو جو زخم لگا تھا اس کو بھرنے کے لئے کافی وقت درکار ہوگا۔وہ ابھی پہلے صدمہ سے نکل نہیں پائے تھے کہ ان کے بیٹے کو سندھ کابینہ کے وزارت کیلئے منتخب نہ کرکے دوسرا صدمہ پہنچا دیا۔ جمیل الزمان مخدوم آف ہالہ کی تیسری نسل ہیں لیکن انہوں نے 4 دہائیوں کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کیساتھ اپنی وفا داری تبدیل نہیں کی۔ گیلانی کے وزیراعظم بننے کے سید گیلانی نے اپنے آپ کو غیر نمایاں کرلیا وہ ہفتے سے دبئی میں تھے اور گزشتہ اتوار کو کراچی پہنچ گئے۔ اتفاقیہ طور پر زرداری بھی انہی دنوں اسی شہر میں کچھ دنوں کیلئے گئے تھے لیکن وہ ملے نہیں اگرچہ مخدوم امین فہیم اس پیپلز پارٹی پارلیمنیٹرین کے صدر ہیں جس کی ٹکٹ پر صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان 18 فروری کے انتخابات میں منتخب ہوئے تھے۔ لیکن ان سے حکومت بنانے کیلئے دوسری جماعتوں سے اتحاد کیلئے کسی قسم کا مشورہ تک نہیں لیا۔ پیپلز پارٹی کے اکثر ارکان ان کی بہت عزت کرتے ہیں اور ان سے اس قسم کے سلوک سے خفا بھی ہیں لیکن وہ امین فہیم کے پارٹی معاملات میں کردار ادا کرنے کے بارے زرداری کے سامنے معاملہ اٹھانے کیلئے تیار نہیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|