جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کیا تو اسکی نشستوں پر امیدوار کھڑے کردینگے،فضل الرحمن
جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کیا تو اسکی نشستوں پر امیدوار کھڑے کردینگے،فضل الرحمن
اسلام آباد ( جنگ نیوز) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کی طرف سے انتخابات کے بائیکاٹ کی صورت میں جے یو آئی ان کی نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی اور عوام کو خلاء محسوس ہونے نہیں دے گی، امریکی ایجنٹوں کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا۔ پروفیسر خورشید احمد سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ مکمل اتفاق رائے کے بغیر بائیکاٹ کا کوئی فائدہ نہیں ۔ تفصیلات کے مطابق اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم ایم ایم اے کے انتخابی نشان کتاب اور منشور کے ساتھ میدان میں اتریں گے، مجلس عمل کا اتحاد برقرار رہے گا اور جے یو آئی مجلس عمل کے انتخابی نشان اور منشور کے ساتھ انتخابی میدان میں موجود رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ کا فیصلہ اے پی ڈی ایم کا ہے نہ کہ مجلس عمل کا بلکہ مجلس عمل کے گزشتہ اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگر اتحاد کی تمام جماعتیں بائیکاٹ پر متفق نہ ہوں تو پھر بائیکاٹ کا فیصلہ غیرمؤثر رہے گا جس طرح اسمبلیوں سے استعفوں کا فیصلہ غلط تھا اور اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا، اسی طرح انتخابات سے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی غلط ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پچھلے پانچ سالوں کے دوران مذہبی جماعتوں کا اعتدال پر مبنی چہرہ دنیا کے سامنے پیش ہوا ہے، بائیکاٹ کی صورت میں ہم انتہاپسندی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں متحدہ مجلس عمل کے رہنما اور جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر سینیٹر پروفیسر خورشید نے جمعہ کو یہاں پارلیمنٹ لاجز میں ایم ایم اے کے سیکرٹری جنرل اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی جس میں اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی کی طرف سے چارٹر آف ڈیمانڈ کی تیاری کیلئے بنائی گئی 8 رکنی کمیٹی کی سفارشات اور اب تک کی پیشرفت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ اے پی پی کے مطابق پروفیسر خورشید احمد نے مولانا فضل الرحمن کو آگاہ کیا کہ کمیٹی میں بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہے لیکن ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پرکمیٹی میں اختلافات ہیں۔ انہوں نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو کمیٹی میں شامل مختلف جماعتوں کے نمائندوں کی تجاویز اور آراء کے بارے میں بتایا جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر کمیٹی چارٹر آف ڈیمانڈز پر متفق نہیں تو ان حالات میں عام انتخابات کے بائیکاٹ کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہر صورت عام انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہے اور مسلم لیگ (ن) اور ایم ایم اے سمیت دوسری سیاسی جماعتوں کو چارٹر آف ڈیمانڈ میں الجھا دیا گیا ہے اور ان کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے اس لئے ایم ایم اے اور مسلم لیگ (ن) سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو عام انتخابات کی تیاری اور مسلم لیگ(ق) اور پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنا چاہئے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|