واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


جرنیل سیاست' نظریہ ضرورت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-06-08, 06:03 PM   #1
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 16,923
شکریہ: 3,117
983 مراسلہ میں 1,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Exclamation جرنیل سیاست' نظریہ ضرورت

جرنیل سیاست' نظریہ ضرورت

جرنیل سیاست' نظریہ ضرورت
قائداعظم کی تقاریر سے پاکستان میں جمہوریت کے بارے میں یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قائد اعظم ریاست پر سول لیڈروں کی بالا دستی کے قائل تھے اور سول و ملٹری سرکاری ملازمین کو پیشہ وارانہ سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے حامی تھے ۔قائد اعظم کی جمہوری جدوجہد اورقیام پاکستان میں سول اور ملٹری ملازمین کا کوئی کردار نہ تھا ۔ قائداعظم کے ایجنڈے میں پاکستان کو ایک جمہوری فلاحی ریاست بنانا تھا۔ لیکن ان کی وصال کے بعد ہمارے ملک کی سیاسی مذہبی بنیاد پرست آمریت نواز اور بیو کریسی طاقتوں نے مل قائداعظم کے ایجنڈے کو نظر اندازکردیا جس کے نتیجہ میں فوجی جرنیلوں نے اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے ساتھ بیورو کریسی اور'' آئی ایس آئی'' طاقتوں سے مضبوط رشتے قائم رکھے بعد ازاں ان اداروں کے ذریعہ جرنیلوں کا سیاست میں آنے کا راستہ کوئی جمہوری حکومت روک نہ سکی ۔فوجی جرنیلوں کی حکمرانی میں'' آئی ایس آئی ''کی سیاسی انجیرنگ کارفرما نظر آتی ہے ۔ آمر کی مرضی کے الیکشن میں''آئی ایس آئی '' کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ الیکشن میں میں کوئی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کرسکے ۔ اور پاکستان میں غیر مستحکم جمہوری حکوتیں وجود میں آئیں غیر مستحکم جمہوری حکومتوں کے وجود میں آنے سے جر نیلوں کی سول ملٹری سیاست وجود میں آئی۔پاکستان میں غیر مستحکم جمہوری حکومتیں فو جی انقلاب کے زد میں آکر اپنا جمہوری سفر کی منزل کھو دیتی ہیں ۔ہر فوجی آمر جمہوری حکومت پر اپنے ناجائیز قبضہ کو جائیز قانونی شکل دینے کے لئے سپریم کورٹ کا رُخ کرتا ہے اور اعلیٰ عدلیہ ' سے' نظریہ ضرورت ''کی بنیاد پر ہر ڈکٹیٹر کو قانونی جواز عطا ہوا۔ اور بعد ازاں ہرآمر نے اپنی آمریت کو جمہوریت کا چوغہ پہنا کر اپنے اقتدار کے مقاصد پورے کئے ۔ اور جمہوریت کی روح کو کچل کر جمہوریت کے ظاہری ڈھانچے کے خدوخال پر اور علماء کرام کے گٹھ جوڑ سے ''اسلام نافذ کرو ''کے کھوکھلے نعروں سے عوام میں اپنی کسی قدر جگہ بنالی اور بعد ازاں ملک میں عدل و انصاف کی حکومت قائم کرنے اور عوام کی معاشی حالت بہتر بنانے کے وعدے کئے گئے اور عوام کو جمہوریت کے سہانے خواب دکھا دکھا کر ہمیشہ اپنی اقتدار کی بقا کی کوششیں جاری رکھی ۔ لیکن جب عوام کو دکھائے گئے سہانے خوابوں کی انہیں تعبیر نہ مل سکی محروم عوام کی طرف سے آمریت کے خلاف احتجاج کی صدائیں بلند ہوئی ہیں ۔

ہرآمر نے صدائے احتجاج کو سختی سے دبانے کے لئے کوششیں کیں اور میڈیا پر ناروا پابندیوں کے فرمان جاری کئے ۔عوامی طاقت کو یکسر دبانے کے لئے ملک میں ایمر جینسی کا نفاز کیا ۔ایمر جینسی کا اگلاقدم آئین کو معطل کرنا عدلیہ کے اُن ججز معزول کرنا جنہوں نے صدر مشرف کے غیر آئینی اقدام کی توثیق سے انکار کردیا تھا ۔ایسے ساٹھ معزول ججز کی جگہ PCO پر حلف لینے والے ججز کو نوازا گیا۔گویاسپریم کورٹ ہائی کورٹ کی عدلیہ کا ڈحانچہ ہی تبدیل کر کے رکھ دیاگیا ۔ PCO پر حلف لینے والے ججز نے صدر مشرف کے غیر آئینی اقدام کو جائیز قرار دیاگویا ان کے جانبدارانہ فیصلہ نے صدر مشرف کی آمریت کو پاکستان پر مزید پانچ سال کے لئے مسلط کردیا ۔ ماضی میںصدر مشرف نے جب نواز شریف کی جمہوری حکومت پر شب خون مارا تھا تو اُس وقت کی سپریم کورٹ نے اپنی روایت کے مطابق جنرل مشرف کے ناجائز قبضہ کو ''نظریہ ضرورت'' کے تحت جائیز قرار دے دیا تھا ۔ لیکن ماضی کے روا یتی سپریم کورٹ کے فیصلوں کی تقلید کرنی ضروری سمجھی اور نہ ہی آمر کی طاقت کے دبائو کے سامنے افتخار چودھری چیف جسٹس نے اور ان رفقاء ججزکی جیوری نے سر جھکایا اور عدلیہ کے بنچ نے غیر آئینی صدارت کی مزید پانچ سال کی توثیق کرنے سے انکار کردیا۔

سپریم کورٹ نے سب سے پہلے جنرل ایوب خاں کے فوجی قبضہ کو '' نظریہ ضرورت '' کی خلعت پہنا کر اسے جائیز قرار دیا ۔اس کے بعد سپریم کورٹ نے اپنی ''نظریہ ضرورت'' کی روایت کو قائم رکھا ۔ اور جنرل ضیاء الحق کے ناجائیز قبضہ کو سپریم کورٹ نے '' نظریہ ضرورت ''کی آئینی خلعت پہنا ئی۔

'' سٹیفن کوہن'' ضیاء کے بارے میں لکھتے ہیں کہ'' ضیاء نے مارشل لاء نافذ کیا ' آہنی ہاتھوں سے حکومت کی١٩٧٣ کے آئین کو بے ڈھنگے پن سے چلایا ۔ضیاء اور اس کے رفقاء ( ان میں نامور مذہبی جماعتیںکے افراد بھی تھے ) پاکستان کو ''راہ راست'' پر ڈالنا چاہتے تھے یا جیسے ضیاء کہا کرتا تھے کہ وہ سیاست دانوں کا قبلہ درست کرنا چاہتے تھے۔ضیا ء نے اسلامی قدامت کو اپنے پیشرو ئوں کی نسبت نئے رُخ پر ڈال دیا ۔یہ کسی حد تک اس کے پختہ یقین کے مطابق تھا اور اس کا مقصد اسلامی جماعتوں خاص طور پر جماعت اسلامی کا تعاون حاصل کرنا تھا ۔'' ( The idea of Pakistan page 125 )

لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ضیاء نے سیاستدانوں کا قبلہ درست کرنے کی کوشش میں پاکستان کو گمراہیوں کے اندھیروں میں دھکیل دیا ۔ایوب ضیاء کے بعد جنرل مشرف کے طویل دور اقتدار سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کے جرنیل جس قدر سیاست و حکومت میں رہیں گے ملک کے مقدر پر اندھیرے چھائے رہیں گے ۔کیونکہ ڈکٹیٹر کی حکومت سے ملک کو بے بہا سیاسی ' جمہوری ' سماجی اور معاشی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ۔

صدر مشرف اور ان کے رفقاء کار'' قائداعظم لیگ'' کے دعوئوں کے مطابق انہوں نے ملک کی اقتصادیات کو مثالی اقتصادیات میں تبدیل کرکے زبردست کارنامہ انجام دیا ہے اور ملک کے خالی خزانوں کو بھر دیا ہے ۔ لیکن زمینی حقائق ان کے برعکس ہیں عوام ان کے دور حکومت میں انتہائی غربت افلاس مہنگائی کے شکنجہ کی گرفت میں بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔لیکن عوام فوجی حکمران کے سامنے احتجاج کے سوا کچھ کر نہیں سکتے۔

موجودہ کولیشن جمہوری حکومت اور عوام بھی صدر مشرف کی گورنمنٹ کی اقتصادی معاشی تباہی کے ملبے کے نیچے دب کر رہ گئی ہے ۔اور اس کے پاس عوام کے ساتھ ہمدردی کے سوا گو یا موجودہ حکومت کے پاس ہلاکت انگیز مہنگائی کا کوئی علاج نہیں ہے۔ گورنمنٹ مفلسی غربت منہ زور مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بے بس نظر آرہی ہے ۔انتہائی غربت کی چکی میں پسنے والے بعض لوگ بے روزگاری مہنگائی سے تنگ آکر خود کشی جیسے اقدام پر مجبور ہیں ۔ اورخود کشیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔

حالیہ الیکشن میں قوم ق لیگ اور صدر مشرف کومسترد کردیا ہے ۔ لیکن صدر مشرف اپنی کرسی صدارت سے جُدا ہونے کے لئے تیار نہیں ۔مشرف قوم پر پانچ سال تک مزید مسلط رہنیء کا عندیا دے چکے ہیں۔ گویا وہ ہر حالت میں پانچ سالہ اپنا دور اقتدار کے ذریعہ قوم پر خود کو مسلط رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔کیونکہ ان کے باقی ماندہ امریکی ایجنڈا کا بھی تقاضا یہی ہے کہ ملک وقوم کی خدمت کے نام پر مزید پانچ سال عوام کے صبر کو آزمایا جائے ۔

ایک طنزیہ تحریر جس میں پاکستانی سیاست کے مدوجزر اور ڈکٹیٹر کی نفسیات کی عکاسی کی گئی ہے پیش خدمت ہے ۔'' ۔۔لیڈر خود غرض ' علماء مصلحت بِین ' عوام خوف ذدہ اور راضی بر رضا ئے حاکم ' دانش ور خوشامدی اور ادارے کھوکھلے ہو جائیں ۔۔۔تو جمہوریت آہستہ آہستہ آمریت کو راہ دیتی چلی جاتی ہے۔پھر کوئی طالع آزما آ مر ملک کو غضب ناک نگاہوں سے دیکھنے لگتا ہے ۔تیسری دنیا کے کسی بھی ملک کے حالات پر نظر ڈالئے ۔ڈکٹیٹر خود نہیں آتا ۔لایا بلایا جاتا ہے اور جب آجاتا ہے تو قیامت اس کے ہم ر کاب آتی ہے ۔پھر وہ روایتی اُونٹوں کی طرح بدّ وئوں کو خیمہ سے نکال باہر کرتا ہے ۔باہر نکالے جانے کے بعد کھسیانے بدّو ایک دوسرے کا منہ نوچتے لگتے ہیں۔پھر ایک نایاب بلکہ عنقا شے کی جستجو میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔( ماخوز از آبِ گم ' مصنفہ مشتاق یوسفی صفحہ ١٤۔١٥)

ہماری مارشل لائوں کی تاریخ گواہ ہے ہر آمر نے عوام سے اور جمہوریت سے ناروا سلوک جاری رکھا ۔ ہر آمر مذہب کا دعویدار ہوتا ہے ۔لیکن آمر کا حقیقی مذہب اقتدار کے سوا کچھ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے اقتدار کی خاطر ایمان اخلاقیات اپنے قوم سے کئے گئے سب وعدے قربان کرکے اپنی آمریت کو صدابہار بنانے کی سر توڑ کوششیں کرتا رہتا ہے۔ پہلے ریفرینڈم کا آزمودہنسخہ استعمال کرتا ہے (اور ہر آمرکے ''جھرلو نما'' ر یفرنڈم سے کون واقف نہیں ) اور ریفرنڈم میں اپنی نام نہاد کامیابی کے بعد الیکشن منعقد کرواتا ہے لیکن الیکشن میں ''آئی ایس آئی'' کی جھرلو قسم کی سیاسی انجئیرنگ کی وجہ سے کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکتی ۔

ہماری تاریخ گواہ ہے ہر آمر نے الیکشن میں ''آئی ایس آئی'' کی سیاسی انجئیرنگ جھرلو کی بدولت جمہوری حکومتوں کو غیر مستحکم بناکر اپنی آمریت کے لئے رستہ کشادہ رکھا ۔صدر مشر ف نے بھی دور اقتدار میں انہیں اُوچھے ہتھکنڈوں سے اپنے اقتدار کو دوام بخشا اور ملک میں جمہوریت کو پامال کیا اور جمہوریت کے نام پر آمریت کو اور نیکی کے نام بدی کو فروغ دیا ہے ۔خدا کا نام لے کر خدا کے بندوں پر ظلم ہوتا رہا ۔ اور اسی طرح ماضی میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء کاعرصہ فقط ٩٠دن بتایا لیکن ''وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا'' ۔ نوے دن کے وعدے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے اسے گیارہ سالہ جبر کی حکومت میں تبدیل کردیا ۔ صدر مشرف بھی اپنے آمرانہ اقتدار سے الگ ہونے کے لئے تیار نہیں ۔ گویا وہ ڈکٹیٹرکی دور اقتدار کی ریس میں اپنے سب پیشروئوںکو مات دینا چاہتے ہیں
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-06-08, 05:23 PM   #2
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,443
شکریہ: 2
2,016 مراسلہ میں 3,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جرنیل سیاست' نظریہ ضرورت

اچھا لکھاھے اپ نے۔
The Great آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 06-06-08, 08:28 PM   #3
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 16,923
شکریہ: 3,117
983 مراسلہ میں 1,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Smile جواب: جرنیل سیاست' نظریہ ضرورت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : The Great مراسلہ دیکھیں
اچھا لکھاھے اپ نے۔
The Great
برادر تھریڈ پسند کرنے اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ
Real_Light آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
pakistan, کورٹ, پاکستان, پاکستانی, وفا, لوگ, نواز شریف, مہنگائی, ایمان, احتجاج, اسلام, اسلامی, اعلیٰ, جرنیل سیاست' نظریہ ضرورت, خون, خلاف, راستہ, رشتے, زندگی, سفر, سپریم, سیاست, سال, صدائے, صدارت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بارش کی سائنس اور کیچڑ کی سیاست گوہر سیاست 0 30-07-09 10:50 PM
نامور سیاہ ست دان وسیم گپ شپ 6 28-02-09 11:40 AM
سیاست چیف سیاست 0 09-11-07 11:23 AM
ایک سیاست دان کی دعا۔۔۔۔ چاند مزاحیہ شاعری 0 10-09-07 09:55 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger