جج بحال نہ ہوئے تو پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کا جواز نہیں رہتا،ن لیگ لاہور
جج بحال نہ ہوئے تو پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کا جواز نہیں رہتا،ن لیگ لاہور
جج بحال نہ ہوئے تو پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کا جواز نہیں رہتا،ن لیگ
لاہور (نمائندہ جنگ) پاکستان مسلم لیگ ن کی خصوصی اور سنٹرل کمیٹی کا مشترکہ اجلاس گزشتہ روز شریف برادران کی رہائش گاہ رائے ونڈ جاتی عمرہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کی۔ آئینی پیکیج پر مشاورت کے لئے مسلم لیگ ن نے راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد ججوں کی بحالی سے مشروط تھا، اگر ججز بحال نہیں ہوتے تو پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کا جواز نہیں رہتا، آئینی پیکیج کی صرف ان شقوں کی حمایت کی جائے گی جو میثاق جمہوریت کے مطابق ہیں، جن شقوں پر تحفظات ہیں ان کے حوالے سے متبادل تجاویز پیش کی جائیں گی۔ تفصیلات کے مطابق نواز لیگ کی خصوصی اور سینٹرل کمیٹی کا اجلاس تین گھنٹے جاری رہا جس میں پارٹی کے مرکزی چیئرمین راجہ ظفر الحق، مخدوم جاوید ہاشمی، چوہدری نثار علی خان، احسن اقبال، اسحق ڈار، تہمینہ دولتانہ، خواجہ محمد آصف اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ جاوید ہاشمی نے میاں نواز شریف کے فیصلوں کی تائید کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کی حمایت پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے رہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیال ہوا۔ اجلاس میں راجہ ظفر الحق نے آئینی پیکیج پر تیار کی جانے والی متبادل تجاویز کے حوالے سے بھی میاں نواز شریف اور پارٹی رہنماؤں کو آگاہ کیا۔ جاتی عمرہ رائے ونڈ میں میاں نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پارٹی کے قائد نے بجٹ اور فنانس بل میں سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 29 کرنے کی تجویز کے حوالے سے پارٹی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا۔ اجلاس میں لانگ مارچ کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بھرپور شرکت پر میاں نواز شریف نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور اس لانگ مارچ کو کامیاب قرار دیا۔ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا کہ فنانس بل اور سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 29 کرنے کی حمایت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز کو تسلیم کرلیا ہے اور نہ ہی اس کا یہ مقصد ہے کہ اگر تعداد بڑھائی گئی تو اس میں پی سی او ججز کو ہی اکاموڈیٹ کیا جائے گا بلکہ ہمارا بڑا واضح موٴقف ہے کہ ہم کسی بھی صورت پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز کو تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید سمیت پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے سپریم کورٹ کے سامنے ججز کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے نعرے لگائے اور یہ ہمارا نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کا بھی اعلان مری کی صورت میں قوم کے ساتھ وعدہ تھا کہ ہم ججز کو بحال کروائیں گے اور آصف علی زرداری نے بھی ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اعلان مری پر قائم ہیں اور ہر صورت ججز کو بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی پیکیج کی جو شقیں میثاق جمہوریت سے ملتی ہیں‘ ان کی حمایت کی جائے گی جبکہ عدلیہ کے حوالے سے دیگر ایسی شقیں جن پر ہمارے تحفظات ہیں‘ ان کے بارے میں ہم پیپلز پارٹی کو متبادل تجاویز دیں گے جو تیار کی جارہی ہیں اور آج کے اجلاس میں بھی راجہ ظفر الحق نے میاں نواز شریف کو ان تجاویز کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|