بے نظیر کی شہادت،حکومت کے اندر اور باہر موجود قاتلوں کا احتساب کیا جائے، آصف زرداری
بے نظیر کی شہادت،حکومت کے اندر اور باہر موجود قاتلوں کا احتساب کیا جائے، آصف زرداری
کراچی( جنگ نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور شہید بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومت کے اندر اور باہر موجود بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو مضبوط ہونے نہیں دیا جائے گا اور ان کا محاسبہ کیا جائے گا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں سابق سینیٹر آصف علی زرداری نے کہا ہے، ”اقوام متحدہ حالات، حقائق اور واقعات کا مربوط اور تفصیلی جائزہ لے اور ٹھیک اسی طرح سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کی جائے جس طرح رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات کی گئی تھی۔ گزشتہ ہفتے میری اہلیہ کے قتل سے پوری دنیا ہل کر رہ گئی۔ وہ جمہوری، معتدل اور ترقی پسند پاکستان کیلئے جان دینا چاہتی تھیں اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئیں۔ وہ آمروں اور آئین کی خلاف ورزی کرنے والے پاگلوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑی رہیں۔ میرا اور میرے بچوں کے دکھ کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے لیکن مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ دنیا کو محترمہ بینظیر بھٹو کی شکل میں ثقافتوں، مذاہب اور اقدار کے درمیان ایک پل کے بغیر آگے بڑھنا ہوگا۔ میں نے محترمہ سے 1987ء میں شادی کی لیکن ان کے ساتھ صرف پانچ سال گزارے کیونکہ دو بار انکی حکومت فوجی مداخلت کی وجہ سے ختم ہوگئی۔ نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کے قائم کردہ مقدمات اور الزامات کی وجہ سے میں نے 11 سال سے زائد عرصہ پاکستانی جیلوں میں گزارا اور اب یہ سب کو معلوم ہوچکا ہے کہ میرے خلاف سیاسی عزائم کی بنیادوں پر مقدمات قائم کئے گئے۔ جب محترمہ کی پہلی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت سے ہی پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ان کے خلاف کام کرنا شروع کردیا، بیرونی ممالک میں محترمہ کے دوستوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور الزام عائد کیا گیا کہ مذکورہ دوست بھارتی اور یہودی لابی کیلئے کام کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی کسی لابی کا وجود ہی نہیں تھا۔ کردار کشی کی یہ مہم سیاسی حوالے سے قتل کی پہلی سازش تھی جس کا ٹارگٹ بینظیر بھٹو تھیں اور ان کے شوہر اور دوست، وہ طریقے تھے جن کے ذریعے ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا جا رہا تھا، ان سب باتوں کا مقصد جمہوری حکومت کو غیر مستحکم کرنا تھا، اسلئے جمہوریت کا راستہ روکنے کیلئے جمہوری سیاست دانوں کی شہرت کو نقصان پہنچانا ضروری ہے۔ میری اہلیہ کی حکومت کے دنوں میں وہ مخالفانہ رویہ رکھنے والی اسٹیبلشمنٹ، سازشی انٹیلی جنس نیٹ ورک، نازک اتحادی گورنمنٹ اور حکومت ختم کرنے کی صدارتی دھمکی والی تلوار سے گھری ہوئی تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے آزاد میڈیا کو یقینی بنایا، ملک کو دنیا کی 10 ویں ابھرتی ہوئی تجارتی منڈی بنایا، 46 ہزار اسکول قائم کئے اور ملک کے کئی دیہاتوں میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ محترمہ نے ملک میں خواتین کی زندگیاں تبدیل کردیں اور اسلامی دنیا میں عورتوں کی اہمیت اور ان کے حقوق کو اجاگر کیا۔ یہ ایک ایسا ریکارڈ ہے جس پر انہوں نے ہمیشہ فخر محسوس کیا۔ میری اہلیہ، محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل سے ان کے نظریات ختم نہیں ہونگے، ان کے قاتلوں کو مضبوط ہونے نہیں دیا جائے گا اور ان کا محاسبہ کیا جائیگا۔ میں اقوام متحدہ سے اپیل کرتا ہوں کہ تمام حالات، واقعات، حقائق اور ان چیزوں کی تحقیقات کرے جو میری اہلیہ کے قتل کے راز کو چھپانے کیلئے استعمال کی جا رہی ہیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|