05-01-08, 09:34 AM
|
#1
|
|
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بینظیر کے سر کا ایکسرے موجود ہے موت کی وجہ کا پتہ چل سکتا ہے سردار اسحق
بینظیر کے سر کا ایکسرے موجود ہے موت کی وجہ کا پتہ چل سکتا ہے سردار اسحق
بینظیر کے سر کا ایکسرے موجود ہے موت کی وجہ کا پتہ چل سکتا ہے سردار اسحق
اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار) پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل اور پوسٹ مارٹم کے حوالے سے ماہرین قانون اس بات پر متفق ہیں کہ نعش کا پوسٹ مارٹم قانونی تقاضا ہے تاہم بینظیر بھٹو کا گردہ دل اور پتہ نکالنے کی ضرورت ہرگز نہ تھی۔ فوجداری مقدمات کے قانونی ماہر سردار محمداسحق ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ایکسٹرنل پوسٹ مارٹم سے بھی وہی نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں جو پوسٹ مارٹم کی تکمیل سے کئے جاتے ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے سر کا ایکسرے موجود ہے اور فورنزک میڈیسن کے ماہرین اس پر اپنی رائے سے وہ تمام حقائق بیان کر سکتے ہیں جو موت کی وجہ بیان کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورثاء کو جبراً پوسٹ مارٹم کیلئے نہیں کہا جا سکتا۔ نوجوان قانونی ماہر بیرسٹر قاسم چوہان کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے نتیجہ میں میڈیکولیگل رپورٹ بھی تیار کی جاتی ہے۔ راولپنڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مصدق خان نے میڈیکولیگل رپورٹ جاری کر دی ہے۔ پوسٹ مارٹم کی افادیت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے بغیر نعش ورثاء کے حوالے نہیں کی جا سکتی۔ پوسٹ مارٹم کے بغیر نعش لے جانے والے ورثاء کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ پوسٹ مارٹم کے ذریعے موت کی وجہ کا تعین کیا جاتا ہے اور جب گولی کا نشان واضح ہے تو پھر پورا جسم کھولنا ضروری نہیں۔
|
|
|