| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بھوک کا سونامی
ایک عرب نے بصرے کے جوہریوں کو اپنی سرگزشت سنائی کہ، ایک بار وہ جنگل میں ایسے وقت بھٹک گیا کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا تھا اور سامنے موت نظر آرہی تھی ۔اتنے میں اُس کی نظر ایک تھیلی پر نظر پڑی ۔ عربی کا کہنا تھاکہ میں اُس خوشی کو نہیں بھول سکتا جو اس تھیلی کو دیکھ کر مجھے حاصل ہوئی ۔ میں نے سمجھا تھا کہ تھیلی میں بھنے ہوئے چنے ہیں لیکن جب کھول کر دیکھا تو اُس میں چنوں کی جگہ موتی تھے ۔ اُس وقت مجھے جو رنج ہوا وہ زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔ شیخ سعدی کی اس حکایت سے مجھے عالمی ادارہ ئِ صحت کاو ہ الٹی میٹم یاد آیا جو انہوں نے حال ہی میں لندن میں منعقدہ عالمی کانفرنس میں جاری کیا ۔اُن کا کہنا ہے کہ اگر " مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو بھوک کا سونامی آئے گا "۔ سوچاکہ اگر واقعتا ایسا ہوا تو دنیا میں نظر آنے والی یہ چمک دمک ،یہ انسانوں کی روشن روشن بستیاں، یہ سڑکوں کے عجوبے، اینٹوں سے تعمیر شدہ یہ عمارتی جنگل،یہ بڑی بڑی گاڑیاں۔کہیں یہ سب کچھ " موتیوں سے بھری ہوئی تھیلی " ہی ثابت نہ ہو،کہ جن سے نہ پیٹ کی آگ بجھے اور نہ چولہے جلیں بلکہ ہمارے رنج وملال میں اور زیادہ اضافہ ہو اور یہ نمود و نمائش ،یہ ظاہری ترقی ہمارے کسی بھی کام نہ آسکے۔ سابقہ امریکی صدر جان ایف کنیڈی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ بھوک کے خاتمے کے لیے کوشش دراصل انسانوں کی آزادی کی جنگ ہے۔ اسی طرح ایک اور دانشور کا مقولہ ہے کہ بھوکا آدمی کبھی آزاد نہیں ہوتا۔ دنیا میں رونما ہونے والے چند بڑے حادثات اور انسانی اموات کے پیچھے بھوک اور قحط سالی کا بڑا ہاتھ ہے۔ مثلاََ 1876ء میں چین میں پڑنے والے قحظ سے نوے لاکھ سے ایک کروڑ تک اموات واقع ہوئیں تھی ۔اسی طرح 1896ء میں ہندوستان میں رونما ہونے والی خشک سالی ،قحظ اور وبا سے بیاسی لاکھ پچاس ہزار لوگ لقمہ اجل بن گئے۔1921ء اور پھر دوبارہ 1932ء میں یوکرائن میںغلے کی کمی اور قحط کی وجہ سے ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد ایک کروڑبیس لاکھ کے لگ بھگ شمار کی جاتی ہے۔ اورموجودہ دور میں افریقہ میں غربت،بھوک اور قحط سالی کے خطرناک نتائج ہمارے سامنے ہیں۔آج اکیسویں صدی میں ہمیں دوبارہ یہ بات سننے کو مل رہی ہے کہ بھوک کا سونامی آنے والا ہے۔ اور ان تمام حادثات میں ایک بات مشترک ہے کہ820 ملین قحط زدہ لوگوں میں سے 790ملین لوگ تیسری دنیاسے تعلق رکھتے ہیں۔ قحط سالی اور اُس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور ا نسانی غموں کا سرچشمہ جہاں فطرت سے اُس کی لاعلمی ہے وہیں اُس وقت کی حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی اور بروقت اور درست اقدامات نہ اُٹھانا بھی شامل ہے۔ پاکستان میں آٹے اور اشیائے خودونوش میں کمی اور مہنگائی کے حوالے سے موجودہ صورتحال اور عالمی سطح پر مہنگائی کے اعشاریے اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ یہاں بھی قحط سالی جیسی صورتحال پیدا ہونے والی ہے اور اوپر سے بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری سابقہ بشمول موجودہ حکومت نے دیگر مسائل کو اپنی ترجیہی بنیادوں میں سرفہرست رکھا ہوا ہے۔ جبکہ غذائی قلت کے حوالے پاکستان کے مستقبل کا نقشہ انتہائی خوفناک دکھائی دے رہا ہے۔ اگرچہ یہاں پر وہ صورتحال نہیں ہے جو کہ افریقہ یا دیگر قحط زدہ ممالک میں نظر آتی ہے تاہم یہاں پر "منافع خور" اور "ذخیرہ انددوز " مافیہ دن بدن مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ اور انہیں بجا طور پر مقتدر طبقے کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ آج ہمارا کسان غذائی فصلیں اُگانے سے گریزاں ہے۔ہم سب لوگوں نے نجی ٹی وی چینلز پر وہ مناظر سر عام دیکھے ہیںکہ جب پنجاب کے کسانوں نے اپنے گنے کی کھڑی فصل کو احتجاجاََ آگ لگا دی۔ اور اُس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ شوگر ملوں نے غریب کسانوںکو گنااُدھار دینے کو کہا اور انہیں قیمت بھی مناسب ادا نہیں کی جارہی تھی۔ اسی طرح کسانوں نے سابقہ حکومت کی جانب سے گندم کی قیمت کم متعین کرنے کے نتیجے میں اس سال گندم کے مقابلے میں دیگر فصلیں کاشت کرنے کو ترجیح دی۔ جس سے گندم کی پیداوار میں واضح کمی آئے ہے۔ پاکستانی حکومتوں کی کسان دشمن اورناقص پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں 1932ء میں یوکرائن میں پڑنے والے قحط کی جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ لگا رہتا ہے کہ جب کاشتکاروں نے حکومت کے سخت اقدامات کے ردعمل میں اپنی 75فی صدفصل کو ضائع کردیااور وہاں کے خوشحال کسانوں نے اپنے مویشی حکومتی ملکیت میں دینے کی بجائے ہلاک کردئیے۔ اور انہوں نے اپناکام ،اپنا وطن اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں ہجرت کرنے کو ترجیح دی ۔ وہاں کی حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ یوکرائن کو قحط جیسی آفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ جیسا کہ دورانِ قحط ،انسانی تاریخ میں ہوتا چلا آیا ہے کہ "مردم خوری زندہ بچ جانے والوں کا آخری چارہ ہوتی ہے" یوکرائن میں انسانی گوشت فروخت ہونے لگا۔ اناج چھپانے والے لوگوں کو گولی مار دینے کے احکام جاری ہوئے۔ اور قحط اور حکومت کے سخت اقدامات سے ستر لاکھ لوگوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ بڑی مشہور کہاوت ہے کہ " اگر ملک میں ایک انسان سردی یا بھوک سے مرے تو سمجھو کہ حکمران غلطی پر ہیں " پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور اس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی گئی ہے جبکہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر (ر) کا اعلان تھا کہ اگر دجلہ کے ساحل پر ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو اُس کا ذمہ دار میں(عمر ر) ہوں گا۔ اب ذرا اسلامی فلاحی ریاست (پاکستان) کے حکمرانوں کی حکمت عملی کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہاں کتے تو درکنار انسانوں کے مرنے اور مارے جانے پر کسی قسم کی کوئی حرکت نظر نہیں آتی ۔ہاں کسی حادثے کے نتیجے میں ایک کمیٹی ضرور تشکیل دے دی جاتی ہے جس کا بنیادی مقصد غالباََ معاملے کو سرد خانے کی نظر کرنا ہوتاہے۔ سڑک کے حادثے میں ہلاک یازخمی ہونے والے لوگوں کے بارے میں یہ کہہ کر دل کو تسلی دے دی جاتی ہے کہ " بس جی اللہ کی مرضی یہی تھی " ارے یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہر معاملے کو اللہ کی مرضی کہہ کر ٹال دینا ۔ کیا اللہ یہ کہتا ہے کہ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کی جائے ؟ کیا یہ اللہ کی مرضی ہے کہ بے گناہ لوگوں کو مارا جائے؟ اگر کوئی عورت بحالت مجبوری اپنے بچے بیچنے کے لیے سرِ بازار لے آئے تو کیا ان حالات میں اللہ کی مرضی شامل ہوگی؟ نہیں میرا وجدان کہتا ہے کہ ایسا نہیںہے۔" نظریہ جبر" ہمیشہ سے نااہل اورمکار حکمرانوں کا بہترین ہتھیار رہاہے۔ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ براہونے کی بجائے حالات ،قدرت اور آسمان کو اس کا قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ پاکستان میں قحط کی سی صورتحال پیدا کرنے میں کوئی بڑی گہری سازش بھی کارفرما ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ 13نومبر 1970ء کو مشرقی پاکستان میں آنے والے طوفان کے بعد کی صورتحال پیدا کردی گئی تھی۔جس کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہوگیا۔ مشرقی پاکستان میں آنے والے اُس طوفان میں دس لاکھ لوگ ہلاک ہوئے اور ابھی اُس حادثے کی تلخیاںباقی تھیں اور اُسے ایک سال بھی نہیں گذرا تھا کہ پاکستان کو 1971ء کی جنگ کا سامنا کرناپڑا۔ اسی طرح پاکستان میں مہنگائی کابڑھتا ہوا طوفان اورعوام میں پائی جانے والی اضطرابی کیفیت بھی کسی بڑی آفت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتاہے جیساکہ آئرلینڈ میں1845ء اور 1850ء میں آلوئوں کی قحط کے دوران ہوا تھاجس میں دس لاکھ انتیس ہزار پانچ سو باون لوگ ہلاک اور تقریباََ گیارہ لاکھ لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ آئر لینڈ میں اس انسانی بحران کے متعلق لکھا گیا ہے کہ " در حقیقت آئرش لوگ غذا کی کمی کے باعث نہیں بلکہ غذا خریدنے کے اہل نہ ہونے کی وجہ سے فاقہ زدہ تھے " ۔ اور ممکن ہے کہ نا دیدہ قوتیں موجودہ پاکستان میں بھی ویسی ہی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ شاید یہاں بھی بظاہر غذا کی قلت نہ ہومگر اشیائے خودونوش اتنی مہنگی کر دی جائیں اور لوگوں کی قوت خرید اتنی کم ہو کہ جس سے کوئی بڑا انسانی بحران پیدا ہو سکے۔ بھوک کے سونامی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارا مشورہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تو عوام الناس کو ذہنی طورایسی کسی بھی آفت سے نبردآزما ہونے کے لیے تیار کیا جائے۔ پاکستان میں موجود مضبوط پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے لوگوں کے رہن سہن اور بالخصوص کھانے پینے کی عادات کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ جس کے لیے شادی بیاہ اوردیگر تقریبات میں کھانوں کے ضیا ع روکنے سے بات شروع کی جائے اور گھر میں سادہ خوراک کھانے کی اچھی عادات پروان چڑھائی جائیں۔ کاشتکاروں اور کسانوں کے مسائل کا مخلصانہ حل ڈھونڈا جائے۔ اس حوالے سے صنعتکار طبقے کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ بالخصوص پنجاب میں حکمران اتحاد میں شامل مسلم لیگ )ن) پراس حوالے باقاعدہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے دورِ حکومت میں ملک میںزراعت کو فروغ دینے کی بجائے صنعتی ترقی پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ صنعتی فروغ سے ہماری تھیلی موتیوں سے تو بھرسکتی ہے لیکن اگر ہماری ضرورت" چنے " کھانا ہوئی تو ہمارا کیا بنے گا؟ کسان دوست پالیسیوں کے فروغ کے لیے ہمارا مشورہ ہے کہ کسانوں کو آسان قرضے کی فراہمی کے لیے موجودہ نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ کسانوں کو زرعی قرضوں کی مد میں نقد رقم فراہم کرنے کی بجائے انہیں معیاری اور سستی کھادیں ،بیج اور زرعی ادویات وغیرہ خرید کر حکومت یا بینک کی طرف سے فراہم کر دی جائیںکیونکہ اکثر کاشتکار دوست زرعی قرضوں سے اپنے بچے یا بچی کی شادی کرتے ہیں اور فصل کے کاشت کے وقت بازار سے غیرمعیاری زرعی استعمال کی چیزیں ادھار لینے پر مجبور ہوتے ہیں لہذا اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ زرعی قرضہ جس مد میں لیا گیا ہے اُس کاا ستعمال بھی وہی ہو۔ کسانوں کو زرعی قرضوں کی فراہمی کے لیے انڈیا میں رائج طریقہ کار بھی ہمارے لیے قابلِ تقلید ہوسکتاہے۔ پاکستانی کاشتکارسے ہونے والی سب سے بڑی زیادتی جعلی زرعی ادویات اور مختلف کھادیں بنانے اور بیچنے والے ادارے کر رہے ہیں۔ ہمارے کسانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ظلم میں یہ سب سے بڑا اور فوری توجہ طلب مسئلہ ہے۔ جعلی دوا ساز نہ صرف کسانوں کو مالی نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ وہ کمپنیاں اورفیلڈ میں کام کرنے والے اُن کے ایجنٹ ملک میں خوراک اور اجناس کی کمی کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ وہ کسانوں کو جعلی اور غیرمعیاری ادویات بیچتے ہیں۔اُدھار کے لالچ میں آکر ہمارے کسان بھائی بھی ہرطرح کی ناقص کھاد اور زرعی دوائیاں استعمال کرتے چلے جاتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں ملک میں زرعی پیدوار کم ہوتی ہے۔ لہذا کھاد ذخیرہ کرنے والے دوکانداروں ،ڈیلروں اور اسی طرح جعلی ادویات بیچنے والے حضرات کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسی سزائیں دی جائیں جو کہ ہر آنے والے منافع خور اور ذخیرہ اندوز کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ دوسری طرف مہنگائی کے ذمہ داران اور بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کے رویے بدلنے کے لیے ہمیں ان پر سماجی دبائو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ سماجی دبائو بڑھانے کے لیے مذہبی عبادت گاہیں اور مذہبی طبقہ معاون ثابت ہوسکتاہے کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ رمضان المبارک یا پھر عیدین کے موقعوں پر چیزیں مہنگی کردی جاتی ہیں تاہم اگر مولوی صاحبان ممبر سے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بولیں اور انہیں عوام دوستی کی تلقین اور نیک ہدایات جاری فرمائیں تو مہنگائی کے معاملے پر آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ جہاں تک بڑی مچھلیوں اور بڑے تاجروں کی بات ہے تو اُن کو قابو میں لانے کے لیے شاید ایک خ…انقلاب کی ضرورت پیش آئے ورنہ تو یہ لوگ جونکوں کی طرح عوام کا خون پی پی کر اتنے بدمست ہوچکے ہیں کہ ان پر نہ عوامی حکومت کا زور چلتا ہے ،نہ ہی یہ کسی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے رعب اور دبدبے والے ہیں کیونکہ ہر دوصورتوں یہ لوگ کسی نہ کسی طرح حکومت کا حصہ ہوتے ہیں ۔ اور کسی بھی عوام دوست پالیسی کو آسانی سے سبوتاژ کرتے رہتے ہیں۔ کاشتکار بھائیوں سے گذارش ہے کہ وہ اپنے روایتی انداز ِ کاشتکاری چھوڑیں ۔ زراعت کے جدید طریقے اپنائیں ۔ امریکہ میں اگر کاشتکار اپنے کھیتوں کو پانی دینے کے لیے ہیلی کاپٹر پر جا سکتاہے تو آپ کے پاس کم از کم اپنی کار تو ہونی چاہیے۔ اگر ملک میں بال کاٹنے والوں ،جوتی سینے والوں اور بسوں کے ڈرائیوروں کی یونین ہو سکتی ہے توتم اپنے حقوق کے لیے متحد کیوں نہیں ہوتے ؟ تم اپنا مقام کیوں نہیں پہچانتے؟تم کب جاگو گے؟تم اُن جھوٹے فریبیوں کا پردہ فاش کردو جو صدیوں سے تمھارا استحصال کرتے چلے آئے ہیں،جو تمہیں جعلی دوائیں اور کھادیں بیچتے ہیں اورتم اُن اندھوں کی آنکھیں کھول دو جو تمہیں بے وقوف بناتے ہیں اور ہر الیکشن میں تم سے مختلف نعروں کے ذریعے ووٹ لیتے ہیںمگر ایوانوں میں جا کر تمہارے ہی مخالف پالیسیاں بناتے ہیں۔ آنے والے بھوک کے سونامی سے قوم کو بچانے کے لیے تم ہی اُمید کی کرن ہو۔ تم اپنے آپ کو بدلووگرنہ شایدزمانہئِ قحط میںتم پر غلہ ذخیرہ کرنے یا نہ اُگانے کا الزام لگایا جائے ، اور یوکرائنی کسانوں کی طرح تمھیں بھی ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑے۔تمھیں بھی کام نہ کرنے اور فصلیں جلانے پر کوڑوں اور گولیوں کا سامنا کرنا پڑے لہذا اے میرے محنت کش بھائیوں ، اے زمیں سے سونا اُگانے والوں اپنے مقام کو سمجھو،دنیا کے بدلتے حالات کو سمجھو۔ سب سے پہلے اپنے آپ کو بدلو۔ پھر دیکھنا سب کچھ ہی آپ کے حق میں بدل جائے گا۔ آخر میں سب قارئیں کے لیے چین میںپڑنے والے 1876ء کے قحط کی داستان (2کنگز6:28-29)سے لیا گیا ایک اقتباس پیش کرنے اور دعوت ِ فکر دینے کی اجازت چاہوں گا کہ اگر ہم نہ سنبھلے تو واقعتا بھوک کا ایک بڑاسونامی آنے والا ہے اورپھر ہماری حالت بھی شاید ایسی ہو جیسا کہ چین میں ہوا ! " بادشاہ نے اُس سے پوچھا: تجھے کیا بیماری ہے؟ اس نے جواب دیا اس عورت نے مجھے کہا کہ اپنا بیٹا دو تاکہ آج ہم اسے کھا سکیں اور ہم اُس کے بیٹے کو کل کھائیں گے۔ پس ہم نے میرے بیٹے کو اُبالا اور پھر اسے کھا لیا، اور میں نے اگلے دن اسے کہا،اپنا بیٹا دو تاکہ اسے کھا سکیںاور اس نے اپنے بیٹے کو چھپا لیا " بھوکا انسان سب کچھ کھا جاتاہے۔ روس کے 1891-92ء میں قحط کے دوران لوگوں نے واقعتا سب کچھ کھایا۔ پتھر، ریت اور یہاں تک کہ اپنا فضلہ تک کھایا ۔ یہ سب کچھ لکھنے کا مقضد آپ کا ڈرانا نہیں بلکہ اپنے آپ کو اور آپ سب کو جگانا ہے کہ دنیا کے بدلتے حالات کے تیور اچھے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ہمیںاپنے غذائی تحفظ کے حوالے سے ضروری تیاری کرنی چاہیے ۔کہنے کو تو یہ بات "توکل" کرنے کے اُصولوں کے منافی معلوم ہوتی ہے لیکن اپنے خنجر کو تیز کر کے باقی سب توکل پر چھوڑ نا زیادہ دانشمندی کی بات ہو گی۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,443
شکریہ: 2
2,016 مراسلہ میں 3,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھاھے اپ نے۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فروخت, گذارش, ٹریفک, پیاسا, لوگ, لندن, چین, نظر, مہنگائی, موت, مقابلہ, منصوبہ, ممکن, مسائل, معلوم, آدمی, اللہ, الزام, امریکہ, اسلامی, بھائی, رمضان, عورت, عالمی ادارہ صحت قحط, عبادت, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اب کیا سوچیں کیا ھونا ہے | رضی | گانے | 0 | 16-12-10 12:57 AM |
| جھونکے پہ تیرا شک ہو، یہ سوچا نہ تھا کبھی | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 3 | 02-12-10 10:06 PM |
| شعیب سڈل آئی جی پولیس سندھ ،طارق لودھی ڈی جی آئی بی ہو نگے | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 13-04-08 08:37 AM |
| سڈنی ٹیسٹ آسٹریلیا کے نام،تاریخ بدلنے کے بھارتی کے بھارتی دعوے کھوکھلے نعرے ثابت ہوئے | عبدالقدوس | کھیل اور کھلاڑی | 0 | 07-01-08 09:30 AM |
| رسول بخش بروہی کیس: 10 پولیس اہلکاروں کی ضمانت پر رہائی کا حکم | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 09:52 AM |