05-01-08, 09:20 AM
|
#1
|
|
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بجلی ،آٹے اور گیس کا بحران جاری،100 ٹیکسٹائل ملیں بند،محکمہ خوراک کے دفاتر کا گھیراؤ،کاروباری مراکز شام ساڑھے چھ بجے بند کرنے کا فیصلہ
بجلی ،آٹے اور گیس کا بحران جاری،100 ٹیکسٹائل ملیں بند،محکمہ خوراک کے دفاتر کا گھیراؤ،کاروباری مراکز شام ساڑھے چھ بجے بند کرنے کا فیصلہ
بجلی ،آٹے اور گیس کا بحران جاری،100 ٹیکسٹائل ملیں بند،محکمہ خوراک کے دفاتر کا گھیراؤ،کاروباری مراکز شام ساڑھے چھ بجے بند کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد،لاہور،پشاور ( نمائندگان جنگ) ملک بھر میں بجلی، گیس اور آٹے کا بحران جاری ہے ،100سے زائد ٹیکسائل ملیں بند ہوگئیں ،شہریوں نے آٹے کی عدم دستیابی کے باعث محکمہ خوراک و زراعت کے دفاتر کا جلاؤ گھیراؤ کیا جبکہذرائع کے مطابق ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کیلئے کاروباری وتجارتی مراکز شام ساڑھے چھ بجے سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ملک بھر میں گندم ، آٹے اور میدے کی قیمتوں میں اضافہ اورکئی شہروں میں 20گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ،آٹا خریدنے کیلئے لوگوں نییوٹیلٹی اسٹورز پر لمبی لمبی قطاریں لگائیں ،تاجرہنماؤں کا کہنا ہے کہ بجلی کے بحران سے ان کے بر آمدی آرڈر منسوخ ہو رہے ہیں جبکہ اس وجہ سے وہ ڈاؤن سائزنگ پر بھی مجبور ہوجائیں گے جس کے باعث ہزاروں مزدور بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ادھربجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث کئی شہروں میں اسپتالوں میں کئی آپریشن ملتوی ہوگئے جبکہ مشتعل شہریوں نے شاہراہیں بند کرنے کی دھمکیاں بھی دیں جبکہ سوئی نارد رن کے ترجمان نے وضاحت پیش کی ہے کہ ملک کے بعض شہروں کو گیس کی فراہمی کئی لائینیں تباہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہوئی۔تفصیلات کے مطا بق ملک کے کئی شہروں اور دیہاتوں میں جمعہ کولوگوں کو نماز جمعہ کیلئے بھی پانی نہ مل سکااور وہ نماز جمعہ ادا کرنے سے محروم رہے کیونکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ٹیوب ویل نہ چل سکے عوام نے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ گوجرانوالہ، ملتان، فیصل آباد اور دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کئے گئے فیصل آباد میں آٹا نہ ملنے پر شہریوں نے محکمہ خوراک کے دفاتر کا گھیراؤ کرلیا اور سڑک بند کرکے نعرے بازی کی۔ ملک کے کئی علاقوں میں بجلی اور پانی نہ ہونے کے باعث اسکولوں، کالجوں میں جانیوالے بچے اور دفاتر میں جانیوالے افراد پریشان ہیں گیس نہ آنے پر بازاروں میں لوگوں نے مٹی کے تیل کے چولہے خرید نے شروع کردیئے ہیں رش کے باعث ان کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے جبکہ دکانداروں کے پاس بجلی کی بندش سے موم بتیاں بھی ختم ہو گئی ہیں۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں عادل محمود نے بتایا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے برآمدی سیکٹر ٹیکسٹائل سپنگ کی 100ملیں ایک ہفتہ کیلئے بند کر دی ہیں جبکہ ایک وفاقی وزیر کے ٹیکسٹائل یونٹ بھی بند ہوگئے ہیں فلور ملوں میں آٹا تیار کرنے کی صورتحال معمول پر نہیں آسکی ا۔ پاکستان انڈسٹریل ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) کے چیئرمین میاں ابوذر شاد نے لوڈشیڈنگ کو ملک، عوام اور کاروباری برادری کے خلاف سازش قرار دیا اورکہا کوٹ لکھپت انڈسٹریل اسٹیٹ، ٹاؤن شپ انڈسٹریل ایریا، گلبرگ انڈسٹریل ایریا، رائے ونڈ کے صنعتی علاقے، فیروز پور انڈسٹریل اسٹیٹ ، کاہنا کاچھا انڈسٹری کے تحت آنے والے صنعتی اداروں میں سے 600کے لگ بھگ ملیں اور کارخانے بند ہوگئے ہیں جبکہ لاہور ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں صنعتکاروں نے کہا ہے کہ لوڈ شیڈنگ سے پروڈکشن نہیں ہو رہی ، برآمدی آرڈر منسوخ ہو رہے ہیں ان حالات میں وہ لیبر کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات برداشت نہیں کرسکتے اس موقع پر بتایا گیا کہ ٹاؤن شپ انڈسٹریل میں واقع ساڑھے تین سو صنعتی کارخانے بند کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے جس سے خدشہ ہے کہ کم و بیش تیس ہزار مزدور فارغ کرنے سے بے کاری اور امن و امان کا مسئلہ بے قابو ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق بحران پر قابو پانے کیلئے کاروباری وتجارتی مراکز شام ساڑھے 6 بجے سے بند کرنے کافیصلہ کیا گیا ۔ واپڈا کے ذرائع نے بتایا کہ ملک میں بجلی کی ڈیمانڈ 13700 میگا واٹ ہے جبکہ پیداوار 10500بلکہ اس سے بھی قدرے کم ہے اور کم از کم 3200 میگا واٹ کی کمی ہے۔سوئی ناردرن کے ترجمان نے گیس صارفین کو پیدا ہونے والی مشکلات کے بارے میں خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حالیہ موسم سرما میں بعض شرپسند عناصر نے پیرکو سوئی گیس پائپ لائن کو سخت نقصان پہنچایا اور اس کے بعد سندھ میں حالیہ واقعات میں زمزمہ اور بھٹ گیس فیڈرز سے ریفائنریز کو لے جانے والے کینڈیسٹ ٹینکروں کی تباہی سے ان فیڈرز سے کنڈیسٹ کو نہ اٹھایا گیا جس سے گیس کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔ ترجمان نے بتایا کہ صنعتی یونٹوں کے گیس کی فراہمی کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے علاقائی جنرل منیجر دو سے بارہ گھنٹے قبل صنعتی یونٹوں کو گیس کی کمی کے بارے میں مطلع کریں گے۔دوسری طرف ملک بھر میں گندم و آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور یوٹیلٹی اسٹورز پر بھی آٹا نایاب ہو گیا ہے۔ لوگ آٹے کے حصول کیلئے یوٹیلٹی ا سٹورز پر لمبی لمبی قطاریں لگائے ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے نظر آئے۔ بعض مقامات پر آٹا25سے30روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے۔آل پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین محمد نعیم بٹ نے کہا ہے کہ افغانستان کہ آٹے کی برآمد حکومتی ایکسپورٹ پالیسی کے عین مطابق ہو رہی ہے کیونکہ وفاقی حکومت آٹے کی برآمد پر35فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی وصول کر رہی ہے۔فیصل آباد سے نمائندہ جنگ کے مطابق آٹے کی فراہمی میں مزید کمی سے بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور شہریوں کو آٹا 25 روپے کلو میں بھی دستیاب نہیں ہو رہا۔ آٹے کی عدم دستیابی پر مشتعل ہو کر لوگوں نے فیکٹری ایریا میں محکمہ خوراک و زراعت کے دفاتر اور گودام کا گھیراؤ کر لیا اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے دفتر میں داخل ہوگئے اور سخت نعرے بازی کی جس کے دفتر کے سامنے ٹریفک بلاک کر دی اور احتجاج جاری رکھا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ضلعی حکومت آٹے کی بلیک میں فروخت بند کروائے اور آٹے کی فروخت کے لئے لگائے گئے سیل پوائنٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈاکٹر خرم انور خواجہ نے کہا ہے کہ غیر علانیہ لوڈ شیڈنگ اور سوئی گیس کے کم پریشر کی وجہ سے پیداواری ہدف بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں برآمدات کا ٹارگٹ پورا نہیں ہوسکے گا۔ نورکوٹ سے نمائندہ جنگ کے مطابق کئی دنوں کے بجلی کے تسلسل میں تعطل نے لوگوں کو ذہبی مریض بنا دیا، 16، 16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا، ہسپتالوں میں مریض زندگی اور موت سے نبرد آزما ہیں، کئی سنجیدہ آپریشن لوڈ شیڈنگ کی نذر ہو گئے جبکہ طلبہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے پر مجبور ہو گئے، مسجدوں سے وضو کیلئے پانی غائب، نمازی تیمم کرنے لگے ہیں۔
|
|
|