بار بار کی فوجی مداخلت سے حقیقی جمہوریت کا عمل متاثر ہوا،اسحق ڈار
بار بار کی فوجی مداخلت سے حقیقی جمہوریت کا عمل متاثر ہوا،اسحق ڈار
اسلام آباد (ٹی وی رپورٹ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ بار بار کی مداخلت بالخصوص فوجی مداخلت اور آٹھویں ترمیم کے باعث حقیقی جمہوریت کا عمل متاثر ہوا تاہم ہم نے آٹھویں ترمیم کا خاتمہ کیا تھا۔ وہ جیو ٹی وی کے پروگرام ”جوابدہ“ میں مسلم لیگ (ن) کے منشور کے حوالے سے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے حوالے سے جس واقعہ کا آپ ذکر کر رہے ہیں وہ مسلم لیگ (ن)کی کارروائی نہیں تھی بلکہ کچھ انفرادی لوگوں کا کام تھا جو آج ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے حوالے سے ہمارے دور میں خاصی پیشر فت ہوئی تھی اور میثاق جمہوریت میں ملک کی دونوں بڑی جماعتوں نے یہ Identify کیا کہ عدلیہ کو مزید موثربنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ضرورت نہیں اور ترکی کے اسٹائل پر یہ ایک سیاسی ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ اسحق ڈارنے کہاکہہم اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ جتنے ووٹرز ووٹ ڈالنے گئے ،اس کی جو فیصد بھی جس جماعت کو ملے اس کے حساب سے اس پارٹی کو قومی اسمبلی و سینیٹ اور خصوصی سیٹوں پر نمائندگی ملنی چاہئے اور رشتہ داروں کی سیاست اب ختم ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں آٹے کی قلت اس لئے ہے کہ پہلے 200 ڈالر کے حساب سے آٹا برآمد کیا اور اب 400 ڈالر پر درآمد کر رہے ہیں۔مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ اگر کالا باغ ڈیم بنانے سے آپ کی فیڈریشن رسک پر ہے تو آپ کو وہ منصوبہ نہیں کرناچاہئے اس پر اتفاق رائے کی ضرورت ہے، پہلے ہی صوبائی خود مختاری کے حوالے سے کافی مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی دباؤ کے حوالے سے ہماری جماعت کا موقف بہت واضح ہے سب سے پہلے ہم کو اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کے اندر جمہوریت موجود ہے ، خارجہ پالیسی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک غیرت مند قوم ہیں اور خود مختار ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ خارجہ ، خزانہ ، دفاع و کمیونی کیشن جیسے شعبے وفاق کے پاس ہونے چاہئیں اورہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فرد نہیں بلکہ اداروں کو قومی مفاہمت کے ذریعے مضبوط کیا جائے اور یہی پاکستان کیلئے بہتر ہے۔
|