اے این پی کے رہنما اور پی پی آئی کا سابق کارکن قتل،کر اچی میں فائر نگ ہنگامے ،2 شہر ی ہلاک ،12 گاڑیاں جلادی گئیں
اے این پی کے رہنما اور پی پی آئی کا سابق کارکن قتل،کر اچی میں فائر نگ ہنگامے ،2 شہر ی ہلاک ،12 گاڑیاں جلادی گئیں
اے این پی کے رہنما اور پی پی آئی کا سابق کارکن قتل،کر اچی میں فائر نگ ہنگامے ،2 شہر ی ہلاک ،12 گاڑیاں جلادی گئیں
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سہراب گوٹھ اور بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں بدھ کے روز نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اے این پی کے رہنما فضل الرحمن آکا خیل اور پی پی آئی کے سابق کارکن ذاکر خان ہلاک ہوگئے ،جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں ہنگامے ،فائرنگ اور جلاؤ گھیراؤ کی کارروائیاں شروع ہوگئیں،شرپسندوں نے مختلف علاقوں میں 12 گاڑیاں جلادیں،اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام ہوگیا اور لوگ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے، پولیس نے ہنگامہ آرائی اور پولیس پر فائرنگ کرنے کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بدھ کی شام 45 سالہ فضل الرحمن سپرہائی وے پر واقع الآصف اسکوائر کے سامنے اپنی کار میں موجود تھے کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار 2 نامعلوم مسلح افراد وہاں آئے اور اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں فضل الرحمن ہلاک اور وہاں موجود ایک اسٹیٹ ایجنٹ صغیر احمد زخمی ہوگئے متوفی کی لاش اور زخمی کو عباسی شہید اسپتال پہنچایا گیا جہاں زخمی کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے مرحوم فضل الرحمن 30 سال سے کراچی میں قیام پذیر اور 20 سال سے اے این پی سے وابستہ تھے جبکہ 8 سال سے مسلسل صوبائی نائب صدر کے عہدے پر تعینات تھے وہ پختون لویہ جرگہ کے بھی رکن تھے ۔انہوں نے بیوہ کے ساتھ ساتھ 4 بیٹوں اور 4 بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ مرحوم کے قریبی حلقوں کے مطابق ان کی نماز جنازہ جمعرات کو صبح 10 بجے پاور ہاؤس ، مدینہ کالونی ، کوچی کیمپ سپرہائی وے پر واقع ان کی رہائش سے قریب علاقے کی مسجد میں اداکی جائے گی ،دوسرے واقعے میں بلدیہ ٹاوٴن میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے پنجابی پختون اتحاد کے ایک سابق کارکن ذاکر خان ہلاک اور ان کے ساتھ موجود الیاس نامی شخص زخمی ہوگیا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے مقتول کو اپنا کارکن ظاہر کیا ہے۔ پولیس کے مطابق تھانہ سعید آباد کی حدود میں سیکٹر 5-j بلدیہ ٹاوٴن کے مکان نمبر 355 کے رہائشی ذاکر خان بدھ کی شام سیکٹر 5-j اور A-3 کے درمیان واقع شارع وقاص پر پلاٹ نمبر 311 پر قائم بلاکس کے تھلے پر کھڑے تھے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 نامعلوم مسلح افرادنے وہاں آکر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے ذاکر خان اور تھلے پر کام کرنے والا الیاس زخمی ہوکر گرپڑا اورمسلح حملہ آور فرار ہوگئے۔ زخمیوں کو اسپتال لایاجارہا تھا کہ ذاکر خان راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے تاہم زخمی الیاس کو علاج کی غرض سے سول اسپتال پہنچایا گیا۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی صوبہ سندھ کے نائب صدر فضل الرحمن آکاخیل اور پی پی آئی کے سابق کارکن ذاکر خان کی ہلاکت کی اطلاع پھیلتے ہی بدھ کی شام سے شہر کے مختلف علاقوں میں ہونے والے فائرنگ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات شروع ہوگئے، فضل الرحمن کے قتل کی اطلاع شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور سپرہائی وے پر نیو سبزی منڈی اور سہراب گوٹھ ، بنارس ، صدر ، قیوم آباد ، میٹرک بورڈ آفس ، قائد آباد ، ماڑی پور روڈ ، سعید آباد ، بلدیہ ٹاؤن ، شاہ فیصل کالونی ، الفلاح سوسائٹی ، گرین ٹاؤن ، رفاح عام سوسائٹی ، طارق روڈ ، داؤد چورنگی ، لانڈھی اور دیگر علاقوں میں فائرنگ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات ہوئے جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور دکانیں بند ہوگئیں جبکہ افراتفری کے نتیجے میں مختلف مقامات پر ٹریفک جام ہوگیا جو کئی گھنٹے بعد معمول پر آسکا۔ ماڑی پور روڈ پر لیاری اسٹیشن کے سامنے نامعلوم شرپسندوں کی فائرنگ سے جاوید بحریہ ٹاؤن کے رہائشی 25 سالہ امتیاز حسین اور گندا نالہ کے قریب محمدی کالونی کے رہائشی 33 سالہ دلاور خان ہلاک ہوگئے جبکہ جناب علی نامی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی ملی ہے۔ جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں نیو سبزی منڈی ، سپرہائی وے پر ایک کار اور ایک ٹرک ، بنارس پر ایک منی بس ، صدر میں ایک کار ، قیوم آباد میں ایک کار ، قائد آباد میں ایک کار اور ایک موٹر سائیکل میٹرک بورڈ آفس ، نارتھ ناظم آباد کے قریب ایک کار ، ابوالحسن اصفہانی روڈ پر ایک منی بس ، سہراب گوٹھ پر ایک موٹر سائیکل اور 3 موٹر سائیکلیں دیگر مقامات پر جلنے کی اطلاعات ملی ہیں۔بڑے بازار صدر ، بوہری بازار، طارق روڈ، جامع کلاتھ بند ہونا شروع ہوگئے۔ افراتفری کے عالم میں شارع فیصل ،ایم اے جناح روڈ اور متعدد شاہراہوں پر ٹریفک جام ہوگیا، لوگ گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔دریں اثناء پولیس نے جلاؤ گھیراؤ اور سہراب گوٹھ پر پولیس پر فائرنگ میں ملوث تین افراد رحمت اللہ،سردارگلاب اور نورمعین کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 3 ٹی ٹی پستول برآمد کرلئے،پولیس کے مطابق مذکورہ تینوں افراد کا تعلق ایک
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|