ایمر جینسی لگا کر قومی مقاصد حاصل کئے،احتجاجی سیاست بالکل نہیں کر نے دینگے،صدر پر ویز
ایمر جینسی لگا کر قومی مقاصد حاصل کئے،احتجاجی سیاست بالکل نہیں کر نے دینگے،صدر پر ویز
اسلام آباد (جنگ نیوز) صدر مملکت پرویز مشرف نے کہا ہے کہ عام انتخابات شیڈول کے مطابق منصفانہ اور شفاف انداز میں منعقد ہونگے، پوری قوم اور سیاسی جماعتیں احتجاجی سیاست سے گریز کریں، کسی شخص یا سیاسی جماعت کو احتجاجی سیاست بالکل نہیں کرنے دیں گے، انتخابات کے مشاہدے کیلئے بیرون ملک سے مبصرین کا خیر مقدم کیا جائے گا، تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی قواعد کے مطابق برابری کی بنیاد پر انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہوگی، بعض رہنماؤں کی طرف سے دھاندلی کی باتیں بے بنیاد ہیں، انہیں ایسی الزام تراشی سے گریز کرنا چاہئے، سوات میں دہشت گردی اور انتہا پسندوں کی کمر توڑ دی گئی ہے، سوات کے عوام کے مالی نقصان کے ازالہ کیلئے بہت جلد ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے گا، ہم نے ملک و قوم سے کئے گئے تمام وعدے پورے کردیئے ہیں، جمہوری عمل کی تکمیل کا دن میرے لئے خوشی کا دن ہوگا۔ وہ ہفتے کی شام قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ اپنے خطاب میں صدر مملکت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چند جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا، انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں کے پاس انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا قطعی طور پر کوئی جواز نہیں۔ صدر نے اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں امن و امان برقرار رکھیں، انتخابی مہم کو بھرپور طریقہ سے چلائیں اور الزام تراشیوں سے گریز کریں۔ صدر نے تمام پاکستانی قوم سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی احتجاجی سیاست میں حصہ نہ لے اگر کوئی فرد کوئی گروپ یا جماعت کسی کو احتجاج کیلئے اکسا رہا ہے تو وہ اس میں بالکل حصہ نہ لے۔ اس وقت پاکستان بہت نازک دور سے گزر رہا ہے اس لئے ہم کسی صورت ملک میں عدم استحکام پیدا نہیں ہونے دیں گے، اس لئے عوام سے میری اپیل ہے کہ احتجاج پر اکسانے والوں کی پیروی نہ کریں اور بھرپور طریقہ سے انتخابات میں حصہ لیں، ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ووٹ ضرور ڈالیں۔ صدر نے ہنگامی حالت کے نفاذ کے حوالے سے کہا کہ میں نے جو اقدام بھی اٹھایا ”سب سے پہلے پاکستان“ پر عمل کرتے ہوئے اٹھایا۔ صدر نے کہا کہ میں نے اپنی ساکھ اور ذات کو خطرے میں ڈالا کیونکہ میں یہ چیز نہیں دیکھ سکتا تھا کہ پاکستان کو کسی صورت میں نقصان ہو اس لئے مجھے یہ اقدامات اٹھانے پڑے، جو میرے لئے تکلیف دہ تھے، میرے لئے فیصلہ سازی کبھی اتنی مشکل نہیں تھی جتنی اس دفعہ ہوئی ہے لیکن میں نے یہ فیصلے کئے اور بہت سوچ سمجھ کر کئے۔ صدر نے کہا کہ ہم نے تمام ذرائع ابلاغ کو آزادی دی، اظہار رائے کی آزادی دی، بے شمار پرائیویٹ نجی چینلوں کو کھولنے کی اجازت دی، اس کے علاوہ ہر سطح پر وقت پر انتخابات کرائے۔ صدر نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پچھلے 42 دنوں میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے، آج پہلی دفعہ ہے کہ ایمرجنسی صرف 42 دن کے بعد ختم کی جا رہی ہے۔ صدر نے یاد دلایا کہ پچھلی دفعہ ایمرجنسی 1969ء میں لگائی گئی اور 1985ء میں 16 سال بعد ختم کی گئی۔ صدر نے کہا کہ ہماری نیت صاف ہے کہ ہم نے ایک خاص مقصد کے تحت پاکستان میں عدم استحکام کو روکنے کیلئے ایمرجنسی لگائی اس کا کوئی ذاتی مقصد نہیں تھا۔ صدر نے کہا کہ صورتحال میں اتنی بہتری آئی ہے کہ 8 جنوری کو تمام صوبہ سرحد میں بھی عام انتخابات منعقد ہوں گے۔ دوسرے عنصر کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک کے تین ستونوں عدلیہ، انتظامیہ اور مقنّنہ میں اب ہم آہنگی پیدا ہو گئی ہے، ان تینوں میں ایسا تناؤ تھا کہ انتظامیہ اور مقنّنہ کی بالادستی میں دخل اندازی ہو رہی تھی اور انتظامیہ کو بالکل مفلوج کر دیا گیا تھا، اب ایسا نہیں۔ تینوں ستون ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں۔ صدر نے کہا کہ تیسری بات میڈیا کی ہے، ذرائع ابلاغ کے شعبہ میں ایک ضابطہ اخلاق کے مطابق ذمہ داری کا آغاز کیا گیا ہے، یہ بہت اہم تھا لیکن میں اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں میڈیا کی آزادی پر پختہ یقین رکھتا ہوں اور میں ہمیشہ میڈیا کی آزادی کے حوالے سے اس کا حامی رہوں گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتخابات انشاء اللہ 8 جنوری کو منعقد ہوں گے اور اس طرح مکمل جمہوریت کی طرف پیش قدمی کا تیسرا مرحلہ جو پٹری سے اتر گیا تھا، اسے پٹری پر واپس چڑھا دیا گیا ہے۔ صدر نے امید ظاہر کی کہ قوم ان تمام باتوں پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور پاکستان کیلئے ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے گی۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|