| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
روس کے موجودہ صدر پیوٹن نے کہا ہے: ”ایران کو ایٹمی توانائی کے حصول کا حق ہے۔“ پس منظر کے طور پر یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمروچ پیوٹن (Vladimir Vladimirovich Putin) 7 اکتوبر 1952ء کو سینٹ پیٹرزبرگ میں پیدا ہوئے۔ 1975ء میں انٹرنیشنل برانچ آف دی لاء ڈپارٹمنٹ سینٹ پیٹرزبرگ اسٹیٹ یونیورسٹی (Saint Petersburg State University) سے گریجویشن کیا۔ یونیورسٹی ہی میں Communist Party of the Soviet Union کے ممبر بھی رہے۔ اس کے بعد روس کی خفیہ ایجنسی KGB میں شمولیت اختیار کی۔ 1976ء میں KGB کے ٹریننگ کورسز مکمل کیے۔ 1978ء میں ماسکو میں ایک اور فارن انٹیلی جنس ایجنسی میں شامل ہوئے۔ ٹریننگ کورسز مکمل کرنے کے بعد فرسٹ ڈپارٹمنٹ آف دی سینٹ پیٹرزبرگ میں 1983ء تک اپنی خدمات انجام دیں۔ 1984ء میں KGB کے ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کرکے ”میجر“ کے عہدے پر ترقی حاصل کی۔ 1985ء سے 1990ء تک شمالی جرمنی کے علاقے ڈریسینڈ (Dresden) میں KGB تنظیم کے لیے کام کرتے رہے۔ مئی 1990ء میں کو میئر ”سوبچاکس“ (Sobchak) کا انٹرنیشنل افیئرز کے لیے ایڈوائز مقرر کیا۔ 28 جون 1991ء کوسینٹ پیٹرزبرگ کے میئر آفس کمیٹی فار ایکسٹرنل ریلیشنز (Committee for External Relations ) کا ہیڈ مقرر کیا گیا۔ 31 دسمبر 1999ء کو روس کے پہلی مرتبہ صدر بنے۔ 2004ء میں دوسری مرتبہ 2008ء تک کے لیے صدر منتخب ہوئے۔ 16 اکتوبر 2007ء کو پیوٹن تہران پہنچے۔ تہران پہنچنے کے بعد انہوں نے ایران کے روحانی رہنما ”آیت اللہ خامنہ ای“ اور ایرانی صدر احمدی نژاد سے ملاقات کے بعد کہا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول سب ممالک کا بنیادی حق ہے۔ خطے میں کسی بھی ملک کے خلاف حملے کے لیے علاقائی سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ صدر پیوٹن کا اشارہ سابق سوویت ریپبلک آذربائیجان کی طرف تھا۔ روسی صدر نے مزید کہا کہ کیسپین کے پانچوں ممالک کے تعاون سے ہی کیسپین سے گزرنے والی توانائی پائپ لائن منصوبوں پر عملدرآمد ہوسکتا ہے۔ پیوٹن نے ایران کو بھی مشورہ دیا کہ وہ ایٹمی تنازعے سمیت دیگر معاملات پر عالمی برادری سے بھرپور تعاون کرے۔دوسری جانب ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ روس کے صدر پیوٹن نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق کوئی تجویز نہیں دی۔ اس سے قبل ایرانی نیو کلیئر مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ”علی لاریجانی“ نے کہا تھا کہ پیوٹن نے ایران کے سپریم رہنما آیت الله علی خامنہ ای کے ساتھ ملاقات میں ایران کے نیو کلیئر پروگرام میں ڈیڈلاک کے خاتمے کے لیے خصوصی تجویز دی تھی تاہم ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر احمدی نژاد نے علی لاریجانی کے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیوٹن نے ایسی کوئی تجویز نہیں دی۔ انہوں نے صرف دوستی اور تعاون کا پیغام دیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار ”علی لاریجانی“ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ادھر ایران کے ایک انقلابی گارڈز کے کمانڈر جنرل محمود چہار باغی نے اس بات کا انکشاف کیاہے کہ کسی بھی ممکنہ حملہ کی صورت میں فی منٹ 11 ہزار راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران پہلے ہی دشمن کی کمین گاہوں کا پتہ لگاچکا ہے ۔ہمیں جیسے ہی ایران پر کسی حملے کا اشارہ ملے گا اس صلاحیت کا بھرپور استعمال کیا جائے گا اور ایران دشمن کے ٹھکانوں پر ایک منٹ سے کم وقت میں 11 ہزار راکٹ فائر کرے گا تاہم جنرل محمود نے اسرائیل اور امریکا کا نہ نام لیا اور نہ ہی دشمن کے ٹھکانوں کا کوئی واضح اشارہ دیا۔ اس سے چند دن قبل صدر بش نے کہا تھا کہ عالمی برادری ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھے ورنہ تیسری عالمی جنگ چھڑ جانے کا قوی خطرہ ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کو خطرہ صرف ایران کے ایٹمی ہتھیاروں ہی سے ہے؟ اسرائیل کے پاس جو اس وقت بھی 260 ایٹم بم ہیں کیا وہ پُرامن مقاصد کے لیے ہیں؟ امریکا کو ایران کے ایٹمی ہتھیار ہی کیوں کھٹک رہے ہیں؟ وہ اسرائیل جو مشرق وسطیٰ میں ناسور کی حیثیت رکھتا ہے اس کی ہر دہشت گردی پر امریکا کو سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے؟ امریکا کا یہی دوہرا معیار ہے جو امریکا کے خلاف نفرت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ ایران بلاشک و شبہ اس خطے کی اُبھرتی ہوئی سیاسی اور فوجی طاقت ہے لہٰذا اس کی قیادت کو چاہیے کہ وہ پھونک پھونک کے قدم رکھے اور جذباتی بیانات واقدامات سے باز رہے ورنہ خطرہ ہے کہ کہیں ان پر مبینہ شدت پسندی کی آڑ میں یلغار نہ کردی جائے۔ صدر بش تو حملہ کے لیے پرتول رہے ہیں۔ اسی طرح امریکا کی ممکنہ صدارتی امیدوار ”ہیلری کلنٹن“ کا بھی کہنا ہے کہ ایران کے خلاف طاقت کا استعمال خارج از امکان نہیں لیکن بہرحال سفارت کاری مسئلے کا اوّلین حل ہے۔ اس وقت اس خطے کی بڑی قوتیں جس میں روس ،چین شامل ہیں۔ اسی طرح عالمی برادری نے بھی ایران پر حملے کی مخالفت کی ہے۔ اگر ایران جس طرح سمجھ داری سے کام لے رہا ہے اگر اسی پالیسی پر گامزن رہے تو شاید امریکا کا ایران پر حملہ کرنا بوجوہ ممکن نہ ہوسکے۔ قارئین! بات در اصل یہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوگئی تھی ایک روسی بلاک اور دوسرا مغربی سامراجی بلاک۔ امریکا نے محسوس کیا کہ اسے مشرقِ وسطیٰ پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایران اور سعودی عرب دو ملکوں کی ضرورت ہے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| external, قدم, نفرت, مکمل, موجودہ, ایٹم بم, ایران, اللہ, اعلیٰ, تعلیم, جرم, حل, خلاف, خبر, خصوصی, سپریم, صلاحیت, صدارتی, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| بھارت اپنے ایٹمی ہتھیاروںمیں اضافہ کر رہا ہے | رانا امر | خبریں | 0 | 22-11-09 11:40 PM |
| پاکستان کے دشمن ایٹمی ہتھیاروں کے پیچھے پڑے ہیں، رحمن ملک | ابن آدم | سیاست | 6 | 30-07-09 03:58 PM |
| ایران سال2003 میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا منصوبہ تر ک کر چکا ہے | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 26-02-08 03:22 AM |
| پاکستان کے ایٹمی ہتھیار انتہاپسندوں کے ہاتھ لگنے کے امکان پر دنیا کو تشویش ہے ،البرادی | ابن ضیاء | خبریں | 0 | 09-01-08 12:34 PM |
| چیٹنگ بازی | ملک بھائی | گپ شپ | 21 | 02-12-07 12:10 AM |