| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 443
کمائي: 13,856
شکریہ: 339
363 مراسلہ میں 1,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تحریر و تحقیق: محمد الطاف گوہر
mrgohar@yahoo.com جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ،آج تک آپ اس طرح کی معرکہ آراء باتیں قصے کہانیوں میں سنتے آئے ہیں ، مگر یہ ہوشربا مناظر اب آپ کو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ آج کے دور میں ٹیلی ویژن نہ صرف گھریلو تفریح کا اچھا ذریعہ سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کی حیثیت گھر کے ایک فرد جیسی ہو چکی ہے جس کے بغیر گھر نامکمل سا لگتا ہے۔ ایک طرف اگر دنیا جہاں کی معلومات گھر بیٹے ملتی ہیں تو دوسری طرف اس کے تفریحی پروگرام کسی طرح بھی طلسم ہوش ربا سے کم نہیں۔ خاص طور پر مختلف چینلز کے کبھی نہ ختم ہونے والے طلسمی جال نے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کو جکڑ رکھا ہے۔ گھریلو خواتین کیلئے ان کی اہمیت ایک وقت کا کھانا تیار کرنے کے مترادف ہے۔ ان ڈراموں کے موضوعات زیادہ تر گھریلو مسائل، رشتوں کے اقدار، محبت و نفرت کی جنگ اور خواہشوں کے نت نئے انداز کے اردگرد گھومتے ہیں۔ ان کہانیوں میں روایتی ہیرو، ہیروئن کے انجام سے ہٹ کر ایک نئی روش اختیار کر گئی ہے کہ ڈرامہ کی کہانی تمام کرداروں کا باری باری طواف کرتی ہیں اور اس طرح سے ایک لامتناہی سلسلہ سالہا سال سے چلتا آ رہا ہے۔ روز مرہ کے عام موضوعات سے لے کر کٹھن مراحل زندگی کو سلجھانے کی کوشش اور نت نئے موضوعات کی دلفریبی نے ناظرین کو اُلجھا کر رکھ دیا ہے اور اس طرح اس طلسم ہوش ربا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ پروگرام بچوں کے ہوں یا بڑوں کے زمانے کی رنگینی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ آزادی و لذت کے وہ سارے سامان میسر ہیں جو ہر آج کو رنگین بنا رہے ہیں اور ہر کل سے بے خوف کر رہے ہیں۔ اگر اس سراب نظر سے توجہ ہٹائی جائے تو کچھ اہم باتیں توجہ طلب ہیں جہاں یہ ڈرامے اعلیٰ تفریح اور سبق آموز کہانیوں کا مسکن سمجھے جاتے ہیں وہیں ہندوانہ مذہبی شعائر کے اعلیٰ تربیتی مراکز بھی ہیں۔ ان میں نہ صرف ہندو مت کے نظریات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے بلکہ گھر بیٹھے لوگوں کو مفت ہندوانہ مذہبی رسومات کی تربیت دی جا رہی ہے۔ ان ڈراموں کے طلسم میں جکڑے ہوئے لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر نئی قسط میں ایک نیا مذہبی سبق (Course)حاصل کرتے ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سبق کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اس تربیتی پروگرام کو کبھی نہ بھولنے والے خوبصورت مناظر میں قلم بند کیا جاتا ہے۔ ایک بچے کے پیدا ہونے سے لیکر مرنے کے بعد تک کی تمام ہندو مذہبی رسومات کو اعلیٰ ڈرامائی شکل دے کر جو اسباق مرتب کئے گئے ہیں ان کے شاندار نتائج سے رو گردانی نہیں کی جا سکتی۔ اب اگر ایک مسلمان بچے کی تربیت ایسے ماحول میں کی جائے جہاں کا اوڑھنا بچھونا ہندوانہ ہو تو اس سے کس مستقبل کی اُمّید کی جا سکتی ہے؟ ایجادات اور تفریح کے اس دور میں کہیں ہم اپنا وجود تو نہیں کھو چکے؟ آج احساس نام کی کوئی چیز میسر آ جائے تو غنیمت جانئے اور صرف ایک بار تفریح کی عینک اُتار کر حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ کیبل و انٹرنیٹ کے اس جدید دور میں ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ من پسند زندگی گزارے۔ یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں کہ رسل و رسائل کے ذرائع کو کسی معیار کا پابند بنایا جائے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ افراد کی تربیت اس طرح سے کی جائے کہ وہ حقیقت سے شناسا ہوں۔ آج اگر ایک ناپختہ ذہن بچہ ہندوانہ مذہبی رسومات کو معمولات زندگی سمجھ کر سیکھ رہا ہے تو کل کو وہ کس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اپنا ”اسلامی تشخص“ تلاش کرے گا؟ ہم جس بھی رنگ میں رنگے جا رہے ہیں اس کا تو اب احساس بھی ختم ہوتا جا رہا ہے روزمرہ معاملات اب اس تربیت کے باعث ہمیں مختلف دکھائی دیتے ہیں ہمارے رسم و رواج کے اندر جو کچھ ملاوٹ ہو چکی ہے شاید اس کا خمیازہ آئندہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ اس نئے دور کی نئی تہذیب کے جو ثمرات ہمیں مل رہے ہیں اس کا reditC کریڈ ٹ اس ذہن کو دینا چاہیے جس نے کامیابی کے ساتھ اپنا رنگ ہمارے اوپر رنگ دیا ہے اور ہمیں پتا بھی نہیں چلنے دیا۔ اُمید یہ ہے کہ ہم ، جو کہ اس دلدل میں بُری طرح پھنس چکے ہیں اور بچنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، اگلے مرحلے (Stage) پہ اپنا وجود کھو چکے ہوں گے۔ جہاں ہمارے پاس دوسروں کی برائیاں کرنے کیلئے بہت وقت ہے وہاں ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کی جرات نہیں کرتے۔ اپنے آپ کو احساس (Realize) دلانے کا وقت بھی نہیں یہ سلسلہ اگر یونہی چلتا رہا تو نامعلوم کتنی نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا آج اگر ہم کم از کم اتنی ہمت کر لیں کہ اپنی آنکھوں کی پٹی اُتار کر غیر جانبدار ہو کر اپنے ارد گرد بدلتے ہوئے زندگی کے رنگوں کو اپنی ”ذاتی“ آنکھوں سے دیکھ کر فیصلہ کریں کہ آیا ہم سب کچھ صحیح کر رہے ہیں یا کچھ غلط بھی ہو رہا ہے؟ آیا ہم اتنے لاپرواہ ہیں اور کیا ہمارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں؟ ہم کب تک معاملات سے پہلو تہی کرتے رہیں گے۔ آج اگر میں ایک بھی فرد کو اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہو جاؤں گا تو سمجھوں گا کہ میں نے اس قلم کا حق ادا کر دیا ہے جو میرے ذمہ تھا۔ تحریریں لکھنے کا یہ مقصد نہیں کہ کوئی مفاد حاصل کیا جائے بلکہ اپنے اندر سے اٹھنے والی وہ آواز جو کہ نوشتہ دیوار کی طرح وارد ہو رہی ہو سب کے سامنے رکھ دینا چاہیے تا کہ کوئی تو راہ پائے۔ میری قوم کا مجھ پہ فرض ہے کہ میں ہر وہ سچ جو ملاوٹوں (Impurities)سے متاثر ہو رہا ہے اس کو جھوٹ سے علیحدہ کرنے کی کوشش کروں۔ آج ہماری قوم کے نوجوان بچے جس رنگ کو اپنا رہے ہیں کیا وہ ہمارا اپنا رنگ ہے؟ کیا ہمارا یہی ورثہ ہے کہ اگر ایک طرف ہم امپورٹڈ (Imported) اشیائے صرف پسند کرتے ہیں تو کیا دوسری طرف امپورٹڈ لائف اسٹائل کو بھی اپنا لیں جو چاہے ہماری تہذیب کی کمر میں چھرا ہی گھونپ رہا ہو؟ میری گزارش ہے کہ جو کچھ بھی آپ نے اِن تحریروں میں پڑھیں اپنی روز مرہ کی گپ شپ میں کم از کم دو تین دن تو ضرور اس کو شامل کریں، ہو سکتا ہے کسی کا بھلا ہو جائے اور آپ اپنے حصے کی ذمہ داری سے عہدہ برآں ہو سکیں۔ For Feed Back
Altaf Gohar's Blog Last edited by گوہر; 14-09-09 at 06:31 AM. |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی تحریر ہے۔ اور مقام افسوس کہ بالکل درست عکاسی کرتی ہے آج کے ماحول کی۔ مانیکا گاندھی نے اسی لئے تو سر اٹھا کے کہا تھ کہ پاکستان پر حملہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ انکی شکست کیلئے تو ہمارا میڈیا ہی کافی ہے۔ اس نے بالکل صحیح کہا کیونکہ یہ سست زہر آہستہ آہستہ ہماری نسلیں تباہ کر رہا ہے۔ آج پاکستانی بچے شب معراج کے بارے میں انجان ہیں اور ہولی دیوالی کے سارے رسم و رواج پر تفصیلی ٹریننگ سیشن کر سکتے ہیں۔ہم پر اپنے بچوں کی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور کل کو انکے لئے ہمیں ہی جواب دینا ہو گا۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,252
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب گوہر بھائی
اللہ ہمیں اپنی اقدار سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مقام: ہکونا مٹاٹا
مراسلات: 33
کمائي: 776
شکریہ: 26
19 مراسلہ میں 39 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
غیر ملکی میڈیا کا زہر اس طرح ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکا ہے کہ ہم اپنی شناخت کھوتے جا رہے ہیں۔ اور یہ بہ حیثیت قوم ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
آج شہروں میں کتنے ہی ایسے گھر ہیں جہاں ایک وقت کی روٹی پکے یا نہ پکے شام کو سٹار پلس ضرور چلنا چاہیے۔ خدارا جاگو پاکستانیو جاگو۔۔۔۔ابھی وقت ہے سنبھلنے کا اگر آج بھی نصیھت نہ پکڑی تو شاید۔۔۔ تمہاری داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں۔ زرا سوچیے تو سہی کہ آخر ہم اپنے بچوں کک کیا تربیت کر رہے ہیں۔ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ تخلیق کر رہے ہیں جس میں 12 سال کی ایک بچی اپنے بڑوں سے یہ سوال کرے کہ دلہا دلہن نے آگ کے پھیرے تو لیے نہیں پھر شادی کیسے ہو گئی۔ میں نے خود اسکی خوفناکی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اور چشم دید واقعہ اس بلاگ پر اپناپاکستان لکھا ہے جس کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| blog, color, com, course, فرض, کمر, پسند, نفرت, نظر, مفت, ممکن, محبت, مسائل،, انٹرنیٹ, اعلیٰ, بچوں, تلاش, تحریر, جھوٹ, خواتین, زندگی, شاندار, صحیح, صدی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| انیسویں ترمیم منظور | قاسم شاہ | خبریں | 0 | 22-12-10 11:24 PM |
| اردو زبان کے مسائل اور اکیسویں صدی از شہزاد احمد شہزاد | عدنان دانی | اپکے کالم | 7 | 23-01-10 02:30 PM |
| اکیسویں صدی, پہلی دہائی خدا حافظ!!! | گوہر | اپکے کالم | 4 | 20-12-09 05:14 PM |
| بیسویں صدی کی سب سے بڑی قزّاقی | فیصل ناصر | عمومی بحث | 0 | 30-01-09 05:01 AM |
| اکیسویں بین الاقوامی کانفرنس برائے اتحاد مسلم ! | طاھر | دلچسپ اور عجیب | 0 | 22-05-08 12:15 AM |