واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


اکیسویں صدی کا طلسم کدہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-09-09, 06:02 AM   #1
Senior Member
 
گوہر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 443
کمائي: 13,856
شکریہ: 339
363 مراسلہ میں 1,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اکیسویں صدی کا طلسم کدہ

اکیسویں صدی کا طلسم کدہ

تحریر و تحقیق: محمد الطاف گوہر
mrgohar@yahoo.com
جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ،آج تک آپ اس طرح کی معرکہ آراء باتیں قصے کہانیوں میں سنتے آئے ہیں ، مگر یہ ہوشربا مناظر اب آپ کو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ آج کے دور میں ٹیلی ویژن نہ صرف گھریلو تفریح کا اچھا ذریعہ سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کی حیثیت گھر کے ایک فرد جیسی ہو چکی ہے جس کے بغیر گھر نامکمل سا لگتا ہے۔ ایک طرف اگر دنیا جہاں کی معلومات گھر بیٹے ملتی ہیں تو دوسری طرف اس کے تفریحی پروگرام کسی طرح بھی طلسم ہوش ربا سے کم نہیں۔ خاص طور پر مختلف چینلز کے کبھی نہ ختم ہونے والے طلسمی جال نے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کو جکڑ رکھا ہے۔ گھریلو خواتین کیلئے ان کی اہمیت ایک وقت کا کھانا تیار کرنے کے مترادف ہے۔ ان ڈراموں کے موضوعات زیادہ تر گھریلو مسائل، رشتوں کے اقدار، محبت و نفرت کی جنگ اور خواہشوں کے نت نئے انداز کے اردگرد گھومتے ہیں۔ ان کہانیوں میں روایتی ہیرو، ہیروئن کے انجام سے ہٹ کر ایک نئی روش اختیار کر گئی ہے کہ ڈرامہ کی کہانی تمام کرداروں کا باری باری طواف کرتی ہیں اور اس طرح سے ایک لامتناہی سلسلہ سالہا سال سے چلتا آ رہا ہے۔ روز مرہ کے عام موضوعات سے لے کر کٹھن مراحل زندگی کو سلجھانے کی کوشش اور نت نئے موضوعات کی دلفریبی نے ناظرین کو اُلجھا کر رکھ دیا ہے اور اس طرح اس طلسم ہوش ربا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ پروگرام بچوں کے ہوں یا بڑوں کے زمانے کی رنگینی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ آزادی و لذت کے وہ سارے سامان میسر ہیں جو ہر آج کو رنگین بنا رہے ہیں اور ہر کل سے بے خوف کر رہے ہیں۔
اگر اس سراب نظر سے توجہ ہٹائی جائے تو کچھ اہم باتیں توجہ طلب ہیں جہاں یہ ڈرامے اعلیٰ تفریح اور سبق آموز کہانیوں کا مسکن سمجھے جاتے ہیں وہیں ہندوانہ مذہبی شعائر کے اعلیٰ تربیتی مراکز بھی ہیں۔ ان میں نہ صرف ہندو مت کے نظریات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے بلکہ گھر بیٹھے لوگوں کو مفت ہندوانہ مذہبی رسومات کی تربیت دی جا رہی ہے۔ ان ڈراموں کے طلسم میں جکڑے ہوئے لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر نئی قسط میں ایک نیا مذہبی سبق (Course)حاصل کرتے ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سبق کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اس تربیتی پروگرام کو کبھی نہ بھولنے والے خوبصورت مناظر میں قلم بند کیا جاتا ہے۔ ایک بچے کے پیدا ہونے سے لیکر مرنے کے بعد تک کی تمام ہندو مذہبی رسومات کو اعلیٰ ڈرامائی شکل دے کر جو اسباق مرتب کئے گئے ہیں ان کے شاندار نتائج سے رو گردانی نہیں کی جا سکتی۔ اب اگر ایک مسلمان بچے کی تربیت ایسے ماحول میں کی جائے جہاں کا اوڑھنا بچھونا ہندوانہ ہو تو اس سے کس مستقبل کی اُمّید کی جا سکتی ہے؟ ایجادات اور تفریح کے اس دور میں کہیں ہم اپنا وجود تو نہیں کھو چکے؟ آج احساس نام کی کوئی چیز میسر آ جائے تو غنیمت جانئے اور صرف ایک بار تفریح کی عینک اُتار کر حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ کیبل و انٹرنیٹ کے اس جدید دور میں ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ من پسند زندگی گزارے۔ یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں کہ رسل و رسائل کے ذرائع کو کسی معیار کا پابند بنایا جائے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ افراد کی تربیت اس طرح سے کی جائے کہ وہ حقیقت سے شناسا ہوں۔ آج اگر ایک ناپختہ ذہن بچہ ہندوانہ مذہبی رسومات کو معمولات زندگی سمجھ کر سیکھ رہا ہے تو کل کو وہ کس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اپنا ”اسلامی تشخص“ تلاش کرے گا؟
ہم جس بھی رنگ میں رنگے جا رہے ہیں اس کا تو اب احساس بھی ختم ہوتا جا رہا ہے روزمرہ معاملات اب اس تربیت کے باعث ہمیں مختلف دکھائی دیتے ہیں ہمارے رسم و رواج کے اندر جو کچھ ملاوٹ ہو چکی ہے شاید اس کا خمیازہ آئندہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ اس نئے دور کی نئی تہذیب کے جو ثمرات ہمیں مل رہے ہیں اس کا reditC کریڈ ٹ اس ذہن کو دینا چاہیے جس نے کامیابی کے ساتھ اپنا رنگ ہمارے اوپر رنگ دیا ہے اور ہمیں پتا بھی نہیں چلنے دیا۔ اُمید یہ ہے کہ ہم ، جو کہ اس دلدل میں بُری طرح پھنس چکے ہیں اور بچنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، اگلے مرحلے (Stage) پہ اپنا وجود کھو چکے ہوں گے۔
جہاں ہمارے پاس دوسروں کی برائیاں کرنے کیلئے بہت وقت ہے وہاں ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کی جرات نہیں کرتے۔ اپنے آپ کو احساس (Realize) دلانے کا وقت بھی نہیں یہ سلسلہ اگر یونہی چلتا رہا تو نامعلوم کتنی نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا آج اگر ہم کم از کم اتنی ہمت کر لیں کہ اپنی آنکھوں کی پٹی اُتار کر غیر جانبدار ہو کر اپنے ارد گرد بدلتے ہوئے زندگی کے رنگوں کو اپنی ”ذاتی“ آنکھوں سے دیکھ کر فیصلہ کریں کہ آیا ہم سب کچھ صحیح کر رہے ہیں یا کچھ غلط بھی ہو رہا ہے؟ آیا ہم اتنے لاپرواہ ہیں اور کیا ہمارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں؟ ہم کب تک معاملات سے پہلو تہی کرتے رہیں گے۔
آج اگر میں ایک بھی فرد کو اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہو جاؤں گا تو سمجھوں گا کہ میں نے اس قلم کا حق ادا کر دیا ہے جو میرے ذمہ تھا۔ تحریریں لکھنے کا یہ مقصد نہیں کہ کوئی مفاد حاصل کیا جائے بلکہ اپنے اندر سے اٹھنے والی وہ آواز جو کہ نوشتہ دیوار کی طرح وارد ہو رہی ہو سب کے سامنے رکھ دینا چاہیے تا کہ کوئی تو راہ پائے۔ میری قوم کا مجھ پہ فرض ہے کہ میں ہر وہ سچ جو ملاوٹوں (Impurities)سے متاثر ہو رہا ہے اس کو جھوٹ سے علیحدہ کرنے کی کوشش کروں۔ آج ہماری قوم کے نوجوان بچے جس رنگ کو اپنا رہے ہیں کیا وہ ہمارا اپنا رنگ ہے؟ کیا ہمارا یہی ورثہ ہے کہ اگر ایک طرف ہم امپورٹڈ (Imported) اشیائے صرف پسند کرتے ہیں تو کیا دوسری طرف امپورٹڈ لائف اسٹائل کو بھی اپنا لیں جو چاہے ہماری تہذیب کی کمر میں چھرا ہی گھونپ رہا ہو؟ میری گزارش ہے کہ جو کچھ بھی آپ نے اِن تحریروں میں پڑھیں اپنی روز مرہ کی گپ شپ میں کم از کم دو تین دن تو ضرور اس کو شامل کریں، ہو سکتا ہے کسی کا بھلا ہو جائے اور آپ اپنے حصے کی ذمہ داری سے عہدہ برآں ہو سکیں۔
For Feed Back
Altaf Gohar's Blog

Last edited by گوہر; 14-09-09 at 06:31 AM.
گوہر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے گوہر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-01-10), محمدخلیل (15-09-09), ام طلحہ (16-09-09), باسط (24-09-09)
پرانا 14-09-09, 08:52 AM   #2
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب گو ہر صاحب۔۔
بہت شاند ار لکھا ہے
ڈاکٹرنور آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا
گوہر (16-09-09)
پرانا 15-09-09, 06:53 AM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,585
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,025 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بقول اقبال "یہ سینما ہے یا صنعت آزری ہے"
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
گوہر (16-09-09)
پرانا 15-09-09, 12:07 PM   #4
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,444
شکریہ: 2
2,016 مراسلہ میں 3,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت عمدہ جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
The Great آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
The Great کا شکریہ ادا کیا گیا
گوہر (16-09-09)
پرانا 15-09-09, 02:26 PM   #5
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں ۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-01-10), گوہر (16-09-09), ام طلحہ (16-09-09)
پرانا 15-09-09, 02:58 PM   #6
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی تحریر ہے
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
گوہر (16-09-09)
پرانا 16-09-09, 12:37 PM   #7
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی تحریر ہے۔ اور مقام افسوس کہ بالکل درست عکاسی کرتی ہے آج کے ماحول کی۔ مانیکا گاندھی نے اسی لئے تو سر اٹھا کے کہا تھ کہ پاکستان پر حملہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ انکی شکست کیلئے تو ہمارا میڈیا ہی کافی ہے۔ اس نے بالکل صحیح کہا کیونکہ یہ سست زہر آہستہ آہستہ ہماری نسلیں تباہ کر رہا ہے۔ آج پاکستانی بچے شب معراج کے بارے میں انجان ہیں اور ہولی دیوالی کے سارے رسم و رواج پر تفصیلی ٹریننگ سیشن کر سکتے ہیں۔ہم پر اپنے بچوں کی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور کل کو انکے لئے ہمیں ہی جواب دینا ہو گا۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
گوہر (16-09-09), ڈاکٹرنور (17-09-09), باسط (24-09-09)
پرانا 16-09-09, 01:16 PM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,252
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب گوہر بھائی
اللہ ہمیں اپنی اقدار سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-01-10, 08:59 PM   #9
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مقام: ہکونا مٹاٹا
مراسلات: 33
کمائي: 776
شکریہ: 26
19 مراسلہ میں 39 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

غیر ملکی میڈیا کا زہر اس طرح ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکا ہے کہ ہم اپنی شناخت کھوتے جا رہے ہیں۔ اور یہ بہ حیثیت قوم ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
آج شہروں میں کتنے ہی ایسے گھر ہیں جہاں ایک وقت کی روٹی پکے یا نہ پکے شام کو سٹار پلس ضرور چلنا چاہیے۔
خدارا جاگو پاکستانیو جاگو۔۔۔۔ابھی وقت ہے سنبھلنے کا اگر آج بھی نصیھت نہ پکڑی تو شاید۔۔۔
تمہاری داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں۔

زرا سوچیے تو سہی کہ آخر ہم اپنے بچوں کک کیا تربیت کر رہے ہیں۔ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ تخلیق کر رہے ہیں جس میں 12 سال کی ایک بچی اپنے بڑوں سے یہ سوال کرے کہ دلہا دلہن نے آگ کے پھیرے تو لیے نہیں پھر شادی کیسے ہو گئی۔
میں نے خود اسکی خوفناکی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اور چشم دید واقعہ اس بلاگ پر اپناپاکستان لکھا ہے جس کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔
ندیم رزاق کھوہارا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
blog, color, com, course, فرض, کمر, پسند, نفرت, نظر, مفت, ممکن, محبت, مسائل،, انٹرنیٹ, اعلیٰ, بچوں, تلاش, تحریر, جھوٹ, خواتین, زندگی, شاندار, صحیح, صدی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انیسویں ترمیم منظور قاسم شاہ خبریں 0 22-12-10 11:24 PM
اردو زبان کے مسائل اور اکیسویں صدی از شہزاد احمد شہزاد عدنان دانی اپکے کالم 7 23-01-10 02:30 PM
اکیسویں صدی, پہلی دہائی خدا حافظ!!! گوہر اپکے کالم 4 20-12-09 05:14 PM
بیسویں صدی کی سب سے بڑی قزّاقی فیصل ناصر عمومی بحث 0 30-01-09 05:01 AM
اکیسویں بین الاقوامی کانفرنس برائے اتحاد مسلم ! طاھر دلچسپ اور عجیب 0 22-05-08 12:15 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:57 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger