امریکی سفیر کا جنگ، دی نیوز اور جیو کے دفاتر کا دورہ
امریکی سفیر کا جنگ، دی نیوز اور جیو کے دفاتر کا دورہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں متعین امریکی سفیر مس این ڈبلیو پیٹرسن نے پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو پر ہونے والے خود کش حملے کی تحقیقات میں مدد کیلئے ایف بی آئی کی خدمات دینے کی پیشکش کی ہے۔ مس این ڈبلیو پیٹر سن، جو اِن دنوں کراچی کی تجارتی کمیونٹی اور میڈیا کی شخصیات سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں، نے ان خیالات کا اظہار دی نیوز، جنگ اور جیو ٹی وی کے دفاتر کے دورے کے موقع پر ادارتی بورڈ کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ کراچی میں تعینات قونصل جنرل مس کے ایل اینسکے بھی ساتھ تھیں۔ امریکی سفیر مس این ڈبلیو پیٹر سن نے اس موقع پر واضح کیا کہ کراچی میں ہونے والے دھماکے میں امریکا اور پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان تعاون بعد کے مرحلے پر ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں مختلف سیاسی معاملات پر امریکی نکتہ نظر بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی لوگوں کے لئے پاکستان میں مارشل لاء یا ایمرجینسی میں تفریق کرنا مشکل ہے اس لئے امریکی حکومت ایمرجینسی یا مارشل کے نفاذ کے خلاف ہے اور اس حوالے سے امریکی تحفظات سے اسلام آباد کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ ایک تاثر یہ ہے کہ امریکا میں ڈیموکریٹک حکومت بننے کے بعد کیپیٹول ہل کا رویہ مزید سخت ہوجائیگا لیکن مس این ڈبلیو پیٹرسن کا خیال تھا کہ ڈیموکریٹک امریکی حکومت سے پاکستان کو نسبتاً زیادہ فائدے حاصل ہوسکیں گے۔ عام خیال یہ ہے کہ پاکستان میں انتہا پسندی کے رخ کو موڑا جا سکتا ہے اور امریکا پر مزید کوئی تباہ کن حملہ نہ ہوا تو اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان مستحکم تعلقات کے قیام کا امکان ہے۔ وزیرستان کی صورتحال کے حوالے سے تبادلہ خیال کے دوران اس سوال پر کہ آیا کہ وہاں صورتحال میں بہتری آ رہی ہے، کے جواب میں این ڈبلیو پیٹرسن نے تسلیم کیا کہ وزیرستان میں صورتحال بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ جب اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ عام تاثر یہ ہے کہ وزیرستان میں طاقت کا بھرپور استعمال امریکی دباؤ کا نتیجہ ہے، مس این ڈبلیو پیٹر سن نے کہا کہ امریکا اِس علاقے میں طاقت کے بے پناہ استعمال کی حمایت نہیں کرتا، ہم جرگوں کے ذریعے قبائلی کے درمیان مذاکرات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دی جانی چاہئے تاکہ لوگوں کو اچھے اسکولوں اور مراکز صحت تک رسائی اور بہتر انفرا اسٹرکچر کی سہولیات میسر ہوں۔ اکثر و بیشتر پیش کی جانے والی اس رائے کے حوالے سے کہ امریکا جمہوریت میں مخصوص مفادات رکھتا ہے، امریکی سفیر نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں۔ امریکا سیاسی پیش رفت میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے گا اور بڑی تعداد میں غیر جانبدار غیر ملکی مبصرین کی موجودگی میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کی حمایت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو شہر کے مڈل کلاس لوگوں کے ساتھ اپنے تعلق کو بڑھانے کا احساس ہے اور اس لئے پاکستان کے بڑے شہروں میں امریکی لائبریریوں کو دوبارہ کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|