الیکشن کا بائیکاٹ نہ کرنے کیلئے سخت دباؤ ہے،آج بے نظیر سے ملاقات کے بعد ملکی مفاد میں فیصلہ کروں گا،نوازشریف
الیکشن کا بائیکاٹ نہ کرنے کیلئے سخت دباؤ ہے،آج بے نظیر سے ملاقات کے بعد ملکی مفاد میں فیصلہ کروں گا،نوازشریف
لاہور (نمائندگان جنگ) مسلم لیگ (ن) کے میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم بننے کیلئے نہیں ملک بچانے کیلئے میدان میں نکلا ہوں، انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنے کیلئے پارٹی کارکنوں کا سخت دباؤ ہے۔ آج بینظیر بھٹو سے ملاقات کے بعد ملک وقوم کے مفاد میں بہتر فیصلہ ہی کروں گا۔ گزشتہ روز پھولنگر میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ملک کا مستقبل مخدوش اور خطرے میں ہے کوئی قانون کی حکمرانی نہیں، ایک شخص نے قانون کو اپنی ذات کے گرد گھما رکھا ہے۔جلسہ میں ہزاروں افراد نے وزیراعظم نوازشریف کے نعرے لگائے۔ نوازشریف نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے وزیراعظم کا ووٹ مانگنے نہیں آیا بلکہ آپ لوگوں کے ساتھ ملک کو بچانے کیلئے میدان میں نکلا ہوں میں آپ سے کہتا ہوں کہ جو لوگ آپ سے وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کا ووٹ مانگنے آئیں ان کو ڈنڈے مار کر بھگادیں۔ اس وقت سب سے زیادہ اہم میری ذات نہیں بلکہ پاکستان کا مستقبل ہے۔ بعد ازاں میاں نوازشریف نے صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنے کیلئے امیدوار کارکن عہدیدار اور پارٹی سخت دباؤ ڈال رہی ہے اس سلسلے میں آج بے نظیر بھٹو سے میری ملاقات ہوگی۔ ملاقات کے بعد جو بھی فیصلہ ملک وقوم کے بہتر مفاد میں ہوگا وہ میں کروں گا۔انہوں نے کہا کہ صدر رفیق تارڑ آج بھی پاکستان کے آئینی صدر ہیں۔ فرد واحد کے دو مارشل لاؤں کی وجہ سے ملک پاکستان پیچھے کی طرف جارہا ہے ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے بھی ڈکٹیٹر شپ سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا چاہئے تاکہ پاکستان ناکام ریاست بننے سے بچ سکے۔ مجھے آج تک یہ معلوم نہ ہوسکا ہے کہ میری حکومت کیوں برطرف کی گئی عوام بتائیں کہ میں نے ایٹم بم چلا کر پاکستان کا نام روشن کرکے اچھا کیا یا برا؟ میرے دور میں اشیاء ضرورت کی قیمتوں اور آج کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ق لیگ کی سرکردہ قیادت بدترین قسم کے لوٹے ہیں جنہیں عوام نے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے فروغ، آمریت کے خاتمے، عدلیہ و میڈیا کی بحالی، انسانی حقوق کے تحفظ، آئین و قانون کی بالادستی کیلئے آئندہ عام انتخابات کے بائیکاٹ کی غرض سے بینظیر بھٹو اور فضل الرحمن کے پاس جائیں گے اور انہیں اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں وسیع تر ملکی و قومی مفادات کی خاطر کئے گئے اصولی فیصلوں پر آمادہ کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ووٹ مانگنے کی بجائے ملک میں جمہوریت کے فروغ کیلئے شروع کی جانیوالی جنگ کا حصہ بننے کو ترجیح دوں گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں اب امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی، ساری امیدیں صرف عوام سے ہی وابستہ ہیں۔مانگا منڈی سے نامہ نگار کے مطابق میاں نوازشریف کا پھولنگر جاتے ہوئے ملتان روڈ پر جگہ جگہ والہانہ استقبال کیا گیا۔ شامکی بھٹیاں میں سابق ایم این اے وزیر علی بھٹی کے بھتیجے سابق یونین کونسل ناظم میجر (ر) محمد اعجاز بھٹی نے ہزاروں لیگی کارکنوں اور افراد کے ہمراہ میاں نوازشریف کا استقبال کیا اور قافلے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔اے پی پی کے مطابق امریکی خبررساں ادارے ” اے پی “ کو اتوار کو خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کی طرف سے ان ریمارکس پر کہ وہ انتہا پسندوں کے زیادہ قریب ہیں ‘ نواز شریف نے کہا کہ یہ ریمارکس ماضی میں ہمارے تعاون کو نظرانداز کرتے ہوئے دیئے گئے ہیں یہ بلاجواز ہیں اور ان سے مجھے مایوسی ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ میں انتہا پسند نہیں ‘ میں ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا رہا ہوں خواہ یہ پاکستان میں ہو یا پاکستان سے باہر۔ میں انتہا پسندی کی مذمت کرتا ہوں ‘ ہم اعتدال پسند ہیں اور اعتدال پسندی کے سوا ہمارا کوئی راستہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی ڈکٹیشن نہیں لی اور پاکستان کو جوہری قوت بنایا۔ انہوں نے بغیر وردی صدر کے ساتھ کسی ڈیل کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی صدارت ہی غیر قانونی ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|