اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس،ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی منظوری ،آٹے کے بحران پر غور
اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس،ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی منظوری ،آٹے کے بحران پر غور
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے عوام کو آٹے کی فراہمی میں درپیش مشکلات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گندم اور آٹا ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کریں۔ کمیٹی نے پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کی قیمتوں کی منظوری بھی دے دی اور بھارت پر زور دیاگیا کہ وہ بھی اس منصوبے میں شامل ہو۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو نگران وزیراعظم ایم میاں سومرو کی زیر صدارت ہوا جس میں ملک میں مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا جائزہ لیاگیا۔ اس کے علاوہ ملک میں گندم اور آٹے کے بحران‘ گیس اور بجلی کی قلت اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیاگیا۔ نگران وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو آٹے کی فراہمی میں عوام کو درپیش مشکلات پر سخت تشویش ہے اور ہم صورتحال میں بہتری کیلئے اقدامات اٹھارہے ہیں،یوٹیلٹی اسٹورز کا گندم کا کوٹہ بڑھا دیاگیا ہے، صوبوں کو گندم جاری کی جارہی ہے جبکہ گندم کی اسمگلنگ روکنے کیلئے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے متعلقہ صوبائی و وفاقی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ گندم اور آٹا ذخیرہ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں ان سے کسی قسم کی کوئی رعایت نہ برتی جائے چاہے وہ کتنے ہی با اثر کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال آئندہ چند دنوں میں بہتر ہوجائیگی جبکہ گندم کی درآمد کا کوٹہ بھی بڑھایاگیاہے۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر وزیراعظم نے کہاکہ آئی پی پیز کی طرف سے بجلی کی پیداوار میں کمی اور پانی سے بجلی کم پیدا ہونے کی وجہ سے بحران پیدا ہوا مرحلہ وار لوڈ شیڈنگ کم کی جارہی ہے تاکہ عوام کے مسائل حل ہوں تاہم انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ توانائی کی بچت کے سلسلے میں ہر ممکن تعاون کریں۔ اجلاس میں پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کی قیمتوں کی منظوری بھی دی گئی۔ اس منصوبے میں بھارت ابھی شامل نہیں ہواکمیٹی نے بھارت سے کہاکہ وہ کسی بھی مرحلے پر شامل ہونا چاہے تو اس کا خیر مقدم کیا جائیگا۔ نگران وزیراعظم نے قیمتوں کی منظوری کے معاہدے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنایا جائیگا جبکہ پاکستان اورایران کے درمیان گیس کی خریدو فروخت سے متعلق معاہدے پر آئندہ ہفتے دستخط ہونگے اور دونوں ممالک نے قیمتوں کا تعین عالمی فارمولے جاپان کروڈ کاکٹیل کے تحت کیا ہے اس معاہدے کے بعد گیس کی قیمت فرنس آئل کی قیمتوں سے چالیس فیصد کم ہوگی اور اس معاہدے کے بعد پاکستان کو فرنس آئل کی درآمد پر اٹھنے والے ایک ارب ڈالر کی بچت بھی ہوگی۔
|