افغانستان کے صوبے ہلمند میں برطانوی فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر مارک کارلٹن سمتھ نے کہا ہے کہ برطانیہ کو افغانستان میں فیصلہ کن جیت کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔بریگیڈیئر مارک کارلٹن سمتھ نے برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں اس مشن کا مقصد افغان فوج کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ اپنے طور پر ملک کا انتظام سنبھال سکے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں طالبان سے بات چیت بھی کی جا سکتی تھی۔انہوں نے کہا کہ جب بین الاقوامی فوج افغانستان سے واپس جائے گئی اس وقت بھی ملک میں شورش کی چنگاری سلگتی رہے گئی۔کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ بریگیڈیئر مارک کارلٹن نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس طرح کی باتیں افغانستان میں موجود برطانوی سفارت کار اور دیگر فوجی اہلکار بھی کرتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ بہت سے طالبان عناصر جائز طور پر افغان عوام کے ایک حصے کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کو مستقبل میں ملک کا حصہ دار ہونا چاہیے۔بریگیڈیئر کارلٹن سولہ ایئر اسلاٹ بریگیڈ کی کمانڈ کر رہے ہیں جس نے افغانستان میں اپنی تعیناتی کاو دوسرا دور مکمل کیا ہے۔انہوں نے اپنی فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سن دوہزار آٹھ میں انہوں نے طالبان کا زہر نکال دیا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا ’ہم یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔‘بریگیڈیئر کارلٹن سمتھ نے کہا کہ مقصد یہ تھا کہ ملک کے اندرونی مسائل کے حل کے لیےبحث کے طریقے کو فروغ دیا جا سکے تاکہ تشدد ہی صرف واحد راستہ نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ اگر طالبان سیاسی حل کے لیے میز کی دوسرے طرف بیٹھنے کے لیے تیار ہو جائیں تو یہی وہ طریقہ ہے جس سے اس طرح کی شورش ختم ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے لوگ کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔افغانستان پر سن دو ہزار ایک میں اتحادی فوج کے حملے کے بعد سے اب تک ایک سو بیس برطانوی فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
بی بی سی پر پڑھیے