| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دفتر جانے کے لیے گھر سے نکلے گاڑی ابھی مرکزی شاہراہ پر آئی ہی تھی کہ کہیں پیچھے سے ہوٹر کی آواز آنے لگی۔ ہوٹر مسلسل بج رہا تھا۔ پوری بلند آواز سے چیخ رہا تھا کبھی کبھی ہوٹر کی ٹون بدل جاتی۔ سڑک پر تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ کاریں اسکوٹریں بسیں‘ منی بسیں غرض ہر قسم کے ٹریفک نے سڑک کو پوری طرح گھیر رکھا تھا۔ لوگ پیچھے مڑمڑ کر دیکھ رہے تھے۔ مجھ سمیت غالباً سب آگے والوں کے ذہن میں یہی خدشہ وخوف تھا کہ پیچھے کوئی ایمبولینس پھنسی ہوئی ہے جس کا ڈرائیور مریض کو جلدازجلد طبی امداد کے لیے اسپتال پہنچانا چاہتا ہے۔ تمام گاڑی والوں نے یہاں تک کہ اسکوٹر سواروں نے بھی ازراہ ہمدردی بھرپور کوشش کرکے پیچھے سے آنے والی ایمبولینس کے لیے راستہ کھول دیا اور جب ہوٹر بجاتی پولیس موبائل اپنے پیچھے تیزی سے آتی جھنڈا بردار کار کے لیے راستہ بناتی گزری تو مجھ سمیت تقریباً ان سب کو شدید جھٹکا لگا جنہوں نے ہوٹر کی آواز کو ایمبولینس سمجھ کر راستہ دینے کے لیے اپنی راہ کھوٹی کی تھی وہ جھنڈے والی کار سے آگے بھاگتی ہوٹر بجاتی پولیس موبائل کے پیچھے سوار محافظ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آدھے سے زیادہ گاڑی پر لٹک کر دونوں اطراف سے ہاتھوں کے اشارے سے راستہ صاف کرنے اور چلتی گاڑیوں کو روکنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ اگر کہیں پولیس موبائل کے ڈرائیور کو کسی وجہ سے اچانک بریک لگانا پڑجائے تو یقیناً وہ دونوں جاں نثار محافظ پوری قوت سے سڑک پر گر جاتے کیونکہ انہوں نے کسی حفاظتی بیلٹ کا قطعی تکلف نہیں برتا تھا۔ جھنڈے بردار کار میں یقیناً کوئی عوامی نمائندہ برا جمان ہوگا جو حکومت میں اپنا حصہ بٹانے جلداز جلد تختِ حکمرانی کی طرف رواں دواں تھا۔ کار کے تمام شیشے کو تاریک کر کے خود کو پردے کے پیچھے چھپا رکھا تھا۔ میں حیرانی سے سوچتا رہا کہ اگر اب کوئی ایمبولینس آ گئی تو کیا یہ لوگ جنہوں نے صرف ہوٹر کی آواز سن کر جلدی جلدی راستہ کلیئر کر دیا کیا اب پھر ایسا کر سکیں گے اور اگر خدانخواستہ ایسا نہ کیا اپنے کسی ردعمل کے طور پر یہ سمجھتے ہوئے کہ کوئی پولیس موبائل ہو گی راستہ نہ دیا اور کسی معصوم و بے گناہ کی جان پر بن جائے گی۔ میں سوچتا رہا کہ یہ عوامی نمائندے کس طرح کے ہیں جو عوام سے نا صرف پردہ کرتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ہمقدم ہو کر چلنا بھی پسند نہیں کرتے۔ انہیں عوام کے تحفظ سے کہیں زیادہ اپنی ذات کے تحفظ کی فکر رہتی ہے جو انہیں عوام جس کی نمائندگی کے دعویدار ہوتے ہیں ان سے ہی دور کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے لیے اپنا نمائندہ انسان کو بنایا ہے اللہ اپنے نمائندے کی بھرپور دیکھ ریکھ ہی نہیں کرتا بلکہ ہر دم ہر لمحہ اس کے ساتھ رہتا بھی ہے اور اس کا ساتھ بھی دیتا ہے اور خود اللہ کا ارشاد ہے کہ میں تمہاری شہ رگ سے بھی قریب ہوں اور یہ بھی کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار سنتا ہوں لیکن اس اللہ کے نمائندے کو جب اللہ کے بہت سارے نمائندے جنہیں عرف عام میں عوام کہتے ہیں اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں چاہے کسی بھی سطح پر منتخب ہو رہا ہو‘ نمائندہ خود کو ان سے دور کر لیتا ہے جنہوں نے اسے منتخب کیا ہوتا ہے یا جن کی نمائندگی وہ کر رہا ہوتا ہے پھر منتخب نمائندہ سیکیورٹی کے حصار میں اپنے آپ کو قید کر لیتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جن لوگوں نے اسے اپنی نمائندگی کا حق دیا ہوتا ہے وہ ان کے اس احسان کے بدلے میں ان سے اور قریب بلکہ قریب تر ہو ان کے مسائل‘ ان کے دکھ درد میں شریک ہو لیکن وہ بتدریج دور اور دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ کل تک جو ووٹ مانگنے کے لیے دربدر پھرتا رہا گلی گلی محلہ محلہ گھومتا رہا۔ اب اُنہی لوگوں سے اسے اپنی زندگی کے لالے پڑتے نظر آنے لگتے ہیں اور وہ ان ہی ووٹروں سے دوری اختیار کر لیتا ہے جن کی نمائندگی کا وہ دعویٰ کر رہا ہوتا ہے۔عوامی نمائندگی کے یہ دعویدار چاہے کسی بھی سطح کے ہوں انہیں تو سیکیورٹی اور حفاظتی حصار کی ضرورت پڑتی ہی رہتی ہے۔ اسے کیا کہبے کہ خود سیکیورٹی فراہم کرنے والے ادارے کے اعلیٰ ارکان کو بھی اپنی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ قومی وصوبائی اسمبلیوں کے ارکان تو اپنی جگہ لیکن پولیس اور دیگر ایسے ہی اداروں کے عہدیداروں کے لیے بھی حفاظت کا شدید اور بھرپور اہتمام وانتظام ہوتا ہے جنہیں خود حفاظت کی ضرورت ہو وہ کیا کسی کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ سرکاری اہلکار خصوصاً پولیس جو عوام کی حفاظت وچوکیداری کے لیے وجود میں آتی ہے ان سے ہی ڈر کر حفاظتی خول میں بند ہوجاتی ہے۔ ایسے ہی وہ تمام نام نہاد عوامی نمائندے جو عوامی نمائندگی کے ذریعے حکومت میں شامل ہوتے ہیں اور جس عوامی نمائندگی کے باعث وزارت کے عہدئہ جلیلہ پر فائز ہوتے ہیں انہی عوام سے خوف زدہ ہو کر اپنے آپ کو ان سے دور کر لیتے ہیں۔ پھر کس طرح اور کیونکر وہ اپنے آپ کو عوام کا نمائندہ کہہ سکتے ہیں۔ تمام عوامی نمائندگی کے دعویدار تب ہی صحیح معنوں میں اپنا فرض عوامی نمائندگی کا حق ادا کر سکتے ہیں جب وہ پوری طرح ان کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ ہوتا یہ ہے کہ عوامی نمائندگی کا حق ملتے ہی انہیں چھوت کا مرض لاحق ہوجاتا ہے اور خود کو عوام سے دور کر لیتے ہیں کہ کہیں انہیں عوامی چھوت نہ لگ جائے۔ اب الیکشن کی آمد آمد ہے اگر مملکتِ خداداد میں واقعی الیکشن ہوں گے تو کیا یہ عوام کی نمائندگی کرنے والے عوام کے پاس جائیں گے یا اپنے محلوں میں ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر الیکشن جیت لیں گے۔ 18 اکتوبر کے سانحہ کراچی نے انتخابی سیاست کا رنگ بدل کر رکھ دیا ہے اب عوامی جلسوں کی سیاست پر حکومت کی جانب سے کسی نہ کسی طرح کی قدغن لگائی جا سکتی ہے اور وہ بھی سیکیورٹی کے نام پر عوامی نمائندگی کے دعویدار لیڈر کیا اب عوام کے قریب آ سکیں گے؟ یا صرف الیکشن جیتنے کے بعد حسب سابق‘ حسب روایت اپنا اُلو سیدھا ہوتے ہی آنکھیں ہی نہیں رخ بھی پھیر لیں گے۔ بے چارے ایک شاعر کے بقول اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ اگر دیکھا اور سوچا جائے تو اٹھارہ اکتوبر کی شب کارساز پر ہونے والے دھماکے یا حادثے نے بہت سے عوامی اعتراضات پر پانی ہی نہیں بلکہ خون پھیر دیا ہے۔ اب عوام اور حزب اختلاف کی ساری قیادت مفاہمتی آرڈیننس کو بھول بیٹھے ہیں بلکہ مٹی ڈال دی گئی ہے۔ آخر کو اتنا شدید اور بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے اس پر صرف تعزیت ہی کی جا سکتی ہے۔ اعتراضات کا موقع نہیں ہے یہ اور بات کہ متاثرین کارساز کی قیادت کے لیے یہ سانحہ بڑا ہی کارساز رہا۔ عالمی سطح پر ان کا وقار‘ ان کی اہمیت بلند ہوئی۔ دنیا بھر سے اظہار ہمدردی کیا جا رہا ہے۔ اب کہیں سے کسی طرف سے نہ کسی ڈیل کی کوئی آواز سنائی دے رہی ہے اس حادثے کا شکار ہونے والے معصوم لوگ تو بے چارے اپنی جان سے گئے اور ایک بڑی تعداد زخموں سے چور تاریک مستقبل لیے اسپتالوں میں ڈھیر پڑی ہے دو میٹھے بول ان کی عیادت اور شفا یابی کے لیے کافی ہیں ۔ ہاں پارٹی زندہ ہوگئی سانحہ کارساز کے بعد۔ سانحہ کارساز گو کہ ناقابلِ فراموش ہے ۔ قیامت کا منظر تھا۔ ہر طرف آگ وخون ہی خون نظر آ رہا تھا۔ انسانی اعضا چاروں طرف بکھرے اپنی قیادت کو اپنے لیڈروں کو پکار رہے تھے اور لیڈر جان ہے تو جہان ہے کے مقولے پر عمل پیرا اپنی جان بچا کر وہاں سے کب کے نکل چکے تھے۔ یہ تھا عوامی نمائندگی کا حشر جو ٹی وی کیمروں نے پوری طرح نشر کر دیا وہ مناظر جو حقیقت پر مبنی اور حقیقت کے عکاس ہی نہیں بلکہ سولہ آنے حقیقت تھے اس سے عوام کو سبق حاصل کر لینا چاہیے کہ وہ جن کے لیے اپنی جانیں نثار کرتے آئے ہیں اور کر رہے ہیں انہیں ان کی کتنی اور کس قدر پرواہ ہے۔ اللہ ہمیں تمام اہل وطن کو عنقریب ایک بڑا ہی اہم اور عظیم موقع دینے والا ہے اور دیکھا جائے تو یہ اللہ کی طرف سے اہل وطن کی آزمائش بھی ہو گی کہ وہ کن لوگوں کو اپنی نمائندگی کا حق دیتے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ تمام اہل وطن سوچ سمجھ کر دیکھ بھال کر فیصلہ کریں۔ کسی قسم کی جذباتی کیفیت سے د وچار ہو کر خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کی حماقت کرنے کا وقت نہیں ہے کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ کر دہ را علاج نیست۔ اگر ہمیں کوئی بھی شخص اپنے وطن کے معیار کے مطابق نظر نہ آتا ہو تو بے جھجک ہمیں کسی کو بھی ووٹ نہیں دینا چاہیے اور اگر اس ہجوم عاشقان سیاست میں کچھ اچھے لوگ نظر آتے ہوں تو ان کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے اور برے لوگوں کا راستہ روکنا ہی حب الوطنی کا اہم تقاضہ ہے۔ اللہ ہمیں اور تمام اہل وطن کو اپنی عوامی نمائندگی کے انتخاب میں عقل سلیم عطا فرمائے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | م۔م۔مغل (04-07-08) |
![]() |
| Tags |
| فرض, کراچی, ٹریفک, پولیس, پسند, قید, لوگ, چور, نثار, نظر, موقع, موبائل, اللہ, انسان, اعلیٰ, جیت, خون, راستہ, زندگی, سیاست, شخص, عقل, علاج, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| وکی لیکس: اقتدار پر قبضہ نہیں کروں گا ایسا ارادہ ہوتا تو لانگ مارچ کے دوران کرلیتا، آرمی چیف | گلاب خان | خبریں | 1 | 03-12-10 02:49 PM |
| اس طرح تو ہوتا ہے اُس طرح کے کاموں میں۔۔۔ | جاویداسد | خبریں | 0 | 24-09-10 04:29 PM |
| لہو نہ ہو تو قلم ترجمان نہیں ہوتا | عائشہ | شعر و شاعری | 5 | 06-02-10 03:53 PM |
| نہ تھا کچھ تو خدا ہوتا، کچھ نا ہوتا تو خدا ہوتا | The Great | شعر و شاعری | 1 | 14-09-09 03:43 PM |
| اس طرح تو ہوتاہے اس طرح کے کاموں میں | فرحان دانش | دلچسپ اور عجیب | 5 | 11-07-09 12:17 PM |