اسلام آباد میں عالمی وکلا کنونشن منعقد کیا جائے گا ،جج بحال نہ ہوئے توجسٹس
اسلام آباد میں عالمی وکلا کنونشن منعقد کیا جائے گا ،جج بحال نہ ہوئے توجسٹس
اسلام آباد میں عالمی وکلا کنونشن منعقد کیا جائے گا ،جج بحال نہ ہوئے توجسٹس افتخار وکلاتحر یک کی قیاد ت سنبھال سکتے ہیں،اعتزازاحسن
اسلام آباد (جنگ نیوز) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ وکلاء تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے اسلام آباد میں وکلاء کا بین الاقوامی کنونشن منعقد کیا جائے گا جس میں امریکا، برطانیہ اور یورپی بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کے علاوہ معزول چیف جسٹس اور دیگر جج اور وکلاء شرکت کریں گے، ججز بحال نہ ہوئے تو معزول چیف جسٹس دیگر ججوں کے ہمراہ وکلاء تحریک کی قیادت سنبھال سکتے ہیں، ججوں کا مسئلہ جلد حل ہونا چاہئے، ایسا نہ ہوکہ پُرامن قیادت کے ہاتھوں سے معاملات نکل جائیں، لانگ مارچ میں کچھ لوگوں نے پارلیمان پر ہلہ بولنے کا منصوبہ بنایا تھا، ایسا ایڈونچر ہوجاتا تو میڈیا ہمیں ہی خوار خراب کرتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں انتظامی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی نے بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور ان کے تمام فیصلوں کی تائید کی۔ دریں اثناء سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن کی قیادت میں وکلاء کے وفد نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات کی۔ اس موقع پر جسٹس افتخار نے کہا کہ وکلاء نے دھرنا نہ دیکر ثابت کردیا کہ وہ منظم قوت ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بار ایسوسی ایشن کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس کے بعد بار کے سیکریٹری امین جاوید نے انتظامی کمیٹی کی جانب سے بتایا کہ اعتزاز احسن کے فیصلوں کی توثیق اور تائید کی گئی اور اس بارے میں قرارداد بھی منظور کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعتزاز احسن کے بغیر وکلاء تحریک ہدف حاصل نہیں کر سکے گی، وہ وکلاء تحریک کے قائد ہیں جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور وکلاء تحریک کو اس منزل تک پہنچانے کا اعزاز حاصل کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں جو فیصلے کئے ہیں انہیں تجاویز کی صورت میں وکلاء کی قومی ایکشن کمیٹی کو بھجوا رہے ہیں، فی الحال ان تجاویز کو منظر عام پر نہیں لائیں گے، وکلاء کی تحریک کو مزید تیز کرنے کیلئے ان مختلف تجاویز کا نیشنل ایکشن کمیٹی جائزہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دھرنا دینے کا فیصلہ کیا اور نہ ہی ہم نے کسی کو بھی کسی عمارت میں گھسنے کی اجازت دی تھی، مارچ کے مرکزی جلسے میں بعض لوگوں نے پارلیمان پر ہلہ بولنے کی منصوبہ بندی کی تھی، اگر خدانخواستہ عمارت میں لوگ گھستے اور ایسا ایڈونچر ہوتا تو میڈیا نے سب سے زیادہ ہمیں خوار اور خراب کرنا تھا جس کی ہم نے اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ججوں کو کندھوں پر بٹھا کر عدالتوں میں لے جانے کا بعض لوگوں کا مطالبہ مانتے اور وہاں خدانخواستہ کوئی دروازہ اور شیشہ ٹوٹتا تو ذرائع ابلاغ نے ہی ہمارا سب سے زیادہ محاسبہ کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء مہذب اور باوقار طبقہ ہیں، وکلاء نے ڈاکٹر شیر افگن نیازی کو بچایا، بعد کے اندیشوں سے یہ پتہ چلا کہ شیر افگن کو آگ لگانے کا منصوبہ تھا تاکہ 9 مارچ کو وکلاء کو جلانے کے جو واقعات ہوئے ان کا جواز بنایا جاسکے لیکن وکلاء نے یہ سازش ناکام بنادی۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ لانگ مارچ سے قبل کالم نگار مجھ پر ملک میں مارشل لاء لگوانے کے حوالے سے الزام لگا رہے تھے اور لانگ مارچ کے بعد اب ان کا اعتراض ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوا‘ جو درست بات نہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل لائیرز کنونشن کے افتتاحی اجلاس کی صدارت معزول چیف جسٹس کریں گے لیکن اس کیلئے تاریخ کا اعلان مشاورت کے بعد کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی شکاگو، لاس اینجلس، واشنگٹن اور نیو یارک کی بار کونسلز بھی شرکت کریں گی۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی جانب سے لانگ مارچ فلاپ ہونے کے بیان پر انہوں نے کہا کہ وقت وقت کی بات ہے‘ ایک وقت تھا کہ میں قومی اور وہ صوبائی اسمبلی کی نشست پر ایک حلقہ سے تھے، اب وہ مجھے اوور ٹیک کر گئے ہیں۔ ایک اور سوال پر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ ”ڈی فیکٹو“ صدر ہونے کے نظریہ کے تحت مواخذہ ضروری ہے‘ ہم ”ڈی جورے“ نہیں مانتے، اس لحاظ سے مواخذے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ اس موقع پر سپریم کورٹ بار کے نائب صدر غلام نبی بھٹی نے کہا کہ چوہدری اعزاز احسن کی قیادت پر مکمل اعتماد اور ان کے فیصلوں کی توثیق کرتے ہیں۔ بعد ازاں سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن کی سربراہی میں وکلاء کے وفد نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران معزول چیف جسٹس نے لانگ مارچ کے اختتام پر دھرنا نہ دینے کے فیصلہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء برادری نے ثابت کردیا کہ وہ پُرامن اور منظم قوت ہیں۔ معزول چیف جسٹس کی رہائشگاہ پر ہونیوالی ملاقات کے بعد سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سیکرٹری امین جاوید نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بیرسٹر اعتزاز احسن نے پاکستان بار کونسل کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں سے معزول چیف جسٹس کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ لانگ مارچ کے اختتام پر دھرنا نہ دینے کا فیصلہ وکلاء تحریک کے وسیع تر مفاد میں کیاگیا جبکہ معزول چیف جسٹس نے اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اس اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران معزول چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء نے پُرامن لانگ مارچ کا انعقاد کر کے ثابت کردیا ہے کہ وہ امن پسند اورمنظم قوت ہیں جو ملک کی بقا کیلئے ہر قربانی دینے سے دریغ نہیں کرینگے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملاقات کے دوران معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو انٹرنیشنل کنونشن کی سربراہی کرنے کی پیشکش بھی کی گئی جس پر انہوں نے جلد فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|