اسلام آباد ، پولیس نے ججز کا لونی کا محاصر ہ کر لیا،جسٹس افتخار کو سپر یم کورٹ جانے سے روک دیا گیا
اسلام آباد ، پولیس نے ججز کا لونی کا محاصر ہ کر لیا،جسٹس افتخار کو سپر یم کورٹ جانے سے روک دیا گیا
اسلام آباد (نمائندہ جنگ،ایجنسیاں) پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، رانا بھگوان داس اور دیگر ججز کے بدھ کو سپریم کورٹ جانے کے اعلان پر سیکورٹی فورسز اور پولیس نے سابق ججز کی رہائشگاہ ججز کالونی کا محاصرہ کر لیا اور جسٹس افتخار چوہدری کو سپریم کورٹ جانے سے روک دیا گیا ۔پولیس نے ججوں کی رہائش گاہ کے ارد گرد خار دار تار لگادیئے اور ججز کالونی کو آنے جانے والے تمام راستے بند کر دیئے اور میڈیا سمیت کسی بھی شخص کو ججز کالونی جانے سے روک دیا۔دوسری جانب جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات کے خوائش مند سابق صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کو وکلاء سمیت مقامی ہوٹل کے سامنے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق حساس اداروں کے اہلکاروں کو اطلاعات ملی تھیں کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری‘ جسٹس رانا بھگوان داس سمیت دیگر پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججز سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔ جس پر اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری ججز کالونی کی طرف تمام اطراف سے جانے والے راستوں پر تعینات کر دی گئی اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر کے اندر بھی پولیس تعینات کر دی گئی تاکہ وہ باہر نہ نکل سکیں۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وزارت داخلہ کے ترجمان جاوید اقبال چیمہ کی طرف سے منگل کو پریس کانفرنس میں اس اعلان کے بعد گھر سے نکلنے کی کوشش کی کہ سابق ججز کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں مگر جیسے ہی سابق چیف جسٹس نے گھر سے نکلنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں زبردستی روک دیا اور ان کے ساتھ گھر کے اندر پولیس اہلکاروں کی تلخ کلامی بھی ہوئی۔ سینئر جج جسٹس رانا بھگوان داس نے بھی اپنی رہائشگاہ سے نکل کر چیف جسٹس کے گھر جانے کی کوشش کی مگر انہیں بھی زبردستی روک دیا گیا اور جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملنے کی اجازت نہ دی گئی بلکہ بھاری تعداد میں ججز کالونی کے باہر پولیس تعینات کی گئی ہے۔این این آئی کے مطابق معزول چیف جسٹس آف پاکستان کی رہائش گاہ کے ارد گرد خاردار تار لگا دیئے گئے، ججز کالونی میں رہائش پزیر دیگر ججوں کی سیکورٹی بھی انتہائی سخت کردی گئی سیکورٹی اہلکاروں نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر کے مرکزی دروازے کو تالا لگادیا میڈیا اور کسی بھی دوسرے شخص کو ججز کالونی کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔دوسری جانب سابق صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد اور اطہرمن اللہ ایڈووکیٹ سمیت کئی وکلاء کو مقامی ہوٹل کے سامنے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ قبل ازیں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف وکلاء نے جسٹس وجیہہ الدین احمد کی قیادت میں مظاہرہ کیا اور ریلی نکالی۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے موجودہ ججز کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ، مارشل لاء یا ایمر جنسی لگا کر آزاد عدلیہ کو ختم کرنا موجودہ حکمرانوں کا اصل ہدف تھا آئندہ عام انتخابات صرف ایک مخصوص ٹولے کو آگے لانے کے لئے منعقد کئے جارہے ہیں صدر مشرف اہلیت کیس پر جو فیصلہ آئے گا، وہ سپریم کورٹ کا نہیں بلکہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا فیصلہ ہو گا ۔ گرفتاری سے قبل ججز کالونی کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ان ججوں سے ملنا چاہتے ہیں جنہوں نے 3نومبر کو عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری آج بھی بدستور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں، پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججز ہمارے ہیرو ہیں۔جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کو ججز کالونی جانے سے روکنے پر وکلاء نے زبردست نعرے بازی کی ۔ بعد ازاں وکلاء جلوس کی شکل میں حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ججز کالونی سے با ہر آ گئے ۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|