| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
![]() پاکستان کی طرف سے کئے جانے والے احتجاج اوربارہا دی جانے والی وارننگز کے باوجود امریکی طیاروں نے پاکستان کی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، بے گناہ اور معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا، کتنے گھر تباہ ہوئے کتنے لوگ اجڑے ، کتنی عورتیں بیوہ ہوئیں، کتنے بچے یتیم ہوئے، کتنے لوگ بے گھر ہوئے، اس بارے میں نام نہاد فواد (جو کے ڈیجیٹل آوٹ ریچ اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعدادو شمار گنواتا رہتا ہے) نے ابھی تک کوئی اعدادوشمار نہیں بتائے نا ہی امریکیوں اور اتحادی فوجیوں کی نئی پاکستان دوست پالیسی کے بارے میں کوئی تقریر کی ہے، یہاںپر مجھے اٹل بہاری واجپائی کا ایک جملہ یاد آتاہےجو اس نے پاکستان میں آنیوالے زلزلے کے بعد کہاتھا کہ : "جب کوئی خود مرتا ہے تو ہمیں افسوس ہوتا ہے، اور جب ہم خود مارتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے" بلکل اسی طرح امریکہ نے بھی خود مارنے کی قسم کھائی ہوئی ہے، ہمارے چیف کے بیان کے بعدابھی امریکی دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ صرف ایک بیان ہے یا ابھی کہیں پاکستانیوں میں غیرت کی کوئی رمق باقی ہے، کیا امریکی امداد اور قرضاجات نے پاکستانیوں کی غیرت کو مکمل ختم نہیں کیا اور ابھی کہیں کوئی چنگاری باقی ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمارے ہاں اکثر فوج سیاست کرتی ہے اور سیاست دان فوجی حکمت عملی سے کام کرتے ہیں، تو اللہ نا کرے کہ کہیں چیف صاحب کا بیان صرف ایک بیان ہی ثابت نا ہو، اس میں کچھ عمل کی لہر بھی ہو، کم از کم پاکستان کسی بھی سوپر پاور کو یہ بات تو باور کراسکے کہ ہماری فوج میں اپنی سرحدوں، اپنی بقا، اپنی حرمت کی حفاظت کرنےکی صلاحیت باقی ہے۔ دعاگو: وجدان |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,745
شکریہ: 1,293
978 مراسلہ میں 1,848 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اب کچھ بہتری آئی ہے حالات میں۔
اللہ پاکستان کو اپنی خفاظت میں رکھے۔آمین |
|
|
|
| تفسیر حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | وجدان (18-09-08) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 625
کمائي: 11,648
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کچھ عرصہ پہلے ميرا يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ ميں ايک سينير ملٹری آفيسر کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ ميں درپيش مشکلات اور چيلنجز، بے گناہ شہريوں کی ہلاکت اور شہری آباديوں ميں روپوش دہشت گردوں کے حوالے سے ايک تفصيلی مکالمہ ہوا۔
جن ملٹری آفيسر کا ميں ذکر کر رہا ہوں وہ اس يو – ايس ايڈ ٹيم کا حصہ تھے جس نے اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد پاکستان کا دورہ کيا تھا۔ وہ اپريل 2006 تک پاکستان ميں رہے تھے اور اس دوران وہ ادويات اور خوراک کی ترسيل کی مہم ميں پاکستان آرمی اور کئ نجی تنظيموں کے ساتھ کئ ماہ پاکستان کے شمالی علاقوں ميں سنگلاخ پہاڑوں اور موسموں کی سختی کے باوجود مقامی لوگوں کی مدد کرتے رہے۔ پاکستان ميں قيام کے دوران انھوں نے بے شمار دوست بناۓ اور پاکستان کی ثقافت اور لوگوں کے جذبات کو قريب سے ديکھا اور سمجھا۔ ميں نے ان سے دريافت کيا کہ کيا دہشت گردی کے خلاف جنگ ميں قوت کا استعمال ايک موزوں سياسی يا عسکری حکمت عملی گردانی جا سکتی ہے کيونکہ قوت کے استعمال اور اس کے نتيجے ميں بے گناہ شہريوں کی ہلاکت سے دہشت گردوں کو يہ موقع ملتا ہے کہ وہ جذبات کو بھڑکا کر اپنے خونی ايجنڈے کی تکميل کے ليے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہيں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سےقبائلی علاقوں کے موجودہ حالات کے تناظر ميں ان ملٹری آفيسر کا جواب پيش ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ميں سب سے بڑا چيلنج يہ ہے کہ دہشت گرد کسی مخصوص يونيفارم ميں اپنے عام کو منظر عام پر لے کر نہيں آتے اور نہ ہی وہ کسی عسکری معرکے ميں طے شدہ اصول و ضوابط کی پيروی کرتے ہيں۔ اس معرکے کے ليے کوئ ميدان جنگ بھی مخصوص نہيں ہے۔ دہشت گرد ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو نہ صرف عام شہريوں کی صف ميں شامل رکھيں بلکہ ضرورت پڑنے پر انھيں بطور ڈھال بھی استعمال کريں۔ اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ کسی بھی معرکے اور جنگ ميں بے گناہ شہريوں کی ہلاکت قابل مذمت ہے۔ حکمت عملی کے اعتبار سے امريکہ کو بے گناہ شہريوں کی ہلاکت سے کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا بلکہ اس کے برعکس سفارتی لحاظ سے بے شمار مشکلات پيدا ہوتی ہيں۔ يہ بات ياد رہنی چاہيے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مقصد ابتدا ميں بھی اور اس وقت بھی بے گناہ شہريوں کی جان کی حفاظت ہے۔ اس ميں مسلمان اور غير مسلم دونوں شامل ہيں۔ يہ بھی ايک حقيقت ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے واقعے ميں کئ مسلمان بھی ہلاک ہوۓ تھے۔ اس کے برعکس دہشت گرد دانستہ بے گناہ شہريوں کو حکمت عملی کے تحت نشانہ بناتے ہيں اور اس کے بعد بے گناہ شہريوں کی ہلاکت کو اپنی کاروائيوں کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے ليے آپ ان تنظيموں کے پوسٹرز، بينرز، ويب سائٹس اور ديگر اشتہاری مواد کا جائزہ ليں جو وہ جذبات کو بھڑکانے کے ليے استعمال کرتے ہيں۔ دہشت گردی کينسر کی مانند ايک بيماری ہے اور کينسر کی طرح اس بيماری کا علاج بھی نہ تو طے شدہ ہے اور نہ ہی مکمل۔ اگر آپ اس بيماری کا علاج روک ديں تو اس صورت ميں اس بيماری کی روک تھام ممکن نہيں اور يہ پورے جسم کو اثر انداز کرے گی۔ اس تناظر ميں آپ اس بيماری کے علاج کو ترک نہيں کر سکتے تا کہ کاميابی کا امکان برقرار رہے بصورت ديگر دہشت گردی کا کينسر يقينی طور پر پھيلے گا اور سارے سماج پر اثرانداز ہو گا۔ گيارہ ستمبر 2001 کا واقعہ ايک دہائ تک دہشت گردی کی حقيقت کو تسليم نہ کرنے کا نتيجہ تھا۔ القائدہ کی جانب سے 90 کی دہائ ميں امريکہ کے خلاف جنگ کا باقاعدہ اعلان کيا جا چکا تھا اور اس ضمن ميں دنيا بھر ميں امريکی املاک پر باقاعدہ حملے کيے جا رہے تھے۔ مذاکرات، سفارتی اثرورسوخ اور دہشت گردوں تک مالی امداد کی فراہمی کی روک تھام سميت بہت سے متبادل طريقے اختيار کيے گۓ ليکن يہ تمام حکمت عملی اور حربے القائدہ کے خلاف زيادہ کامياب نہيں ہو سکے کيونکہ يہ تنظيم ايک رياست کی طرز پر کام نہيں کرتی۔ يہ بات دستاويزات سے ثابت ہے کہ امريکی حکام کے پاکستان اور افغانستان کے ساتھ ہر سطح پر بے شمار روابط رہے ہيں جن ميں مستقبل ميں دہشت گردی کے حوالے سے خطرات اور خدشات کا کئ بار اظہار کيا گيا ليکن 11 ستمبر 2001 کے بعد امريکی حکومت کے پاس دہشت گردی کے خلاف عسکری قوت کے استعمال کے سوا کوئ چارہ نہيں تھا۔ افغانستان ميں القائدہ کے خلاف قوت کے استعمال کا فيصلہ کئ ممالک کا مشترکہ فيصلہ ہے جس کی توثيق اقوام متحدہ نے بھی کی ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لو وجدان صاحب پھر لمبی چوڑی تقریر سنادی
فواد صاحب آپ میرے اس سوال کا جواب دے ۔۔۔ جیسا کہ آپ کو بھی علم ہوگا کل 17ستمبر2008ء کو امریکی میزائل حملے سے کچھ ہی گھنٹے پہلے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیف سٹاف کمیٹی ایڈمرل مائیکل مولن نے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کے دوران یہ یقین دہانئی کرائی کہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام کیا جائے گا ۔۔۔۔ جیسا کہ وزیر خزانہ شاہ محمد قریشی نے بھی کہا کہ اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی اداروں کے مابین رابطوں کا فقدان ہے یا پھر امریکی جنرل کا بیان صرف اخباری بیان تھا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ |
|
|
|
| ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا | وجدان (20-09-08) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اور فواد صاحب آپ اس خبر کے بارے میں کیا کہیں گے۔
سی آئی اے قبائلی علاقوں کے حوالے سے پنٹا گون کو غلط معلومات فراہم کر رہی ہے، جاوید اشرف قاضی افغانستان پاکستان کیخلاف سازشوں کے حوالے سے بیس کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، آئی ایس آئی امریکی سی آئی اے سے کام کے حوالے سے کئی گنا بہتر ہے، آئی ایس آئی یا خفیہ اداروں کے کسی اہلکار کے طالبان کے ساتھ روابط کی باتیں من گھڑت ہیں، آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو اسلام آباد ( پاک ڈاٹ نیٹ نیوز ) آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ر) لیفٹیننٹ جنرل جاوید اشرف قاضی نے کہا ہے کہ سی آئی اے قبائلی علاقوں کے حوالے سے پنٹا گون کو غلط معلومات فراہم کر رہی ہے، آئی ایس آئی امریکی سی آئی اے سے کام کے حوالے سے کئی گنا بہتر ہے، افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو ہمارے لئے حالات خراب کرنے کے حوالے سے بیس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ، پاکستان دشمن ممالک کی ایجنسیاں افغانستان سے اٹھ کر افغانستان میں حالات خراب کر رہی ہیں، آئی ایس آئی یا خفیہ اداروں کے کسی اہلکار کے طالبان کے ساتھ روابط کی باتیں من گھڑت ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سی آئی اے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کے حوالے سے تین مہینوں سے پنٹا گون کو غلط معلومات فراہم کر رہی ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں کی طرف سے دی گئی معلومات آئوٹ ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہمیں صحیح ٹارگٹ ملنا مشکل ہو جاتا ہے جبکہ اس سلسلے میں ہمیں اپنی طرف سے کارروائی کرنی چاہیے۔ جاوید اشرف قاضی نے کہا کہ اس حوالے سے امریکی سی آئی اے نے پاکستانی آئی ایس آئی پر شک کر کے قبائلی علاقوں میں اپنی من مانی سے غلط کارروائیاں کی ہیں جس کی واضح مثال انگور اڈہ کی بمباری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی امریکی سی آئی اے سے کام کے حوالے سے کئی گنا بہتر ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے اور سی آئی اے ہر مشکل مسئلے کو پیسوں کے زور سے حل کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی جو کام کر سکتی ہے اس کو سی آئی اے والے سوچ ہی نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ آئی ایس آئی کے کسی آفیسر کے تعلقات نہیں ہیں اور نہ ان کے تعلقات رہ سکتے ہیں کیونکہ ہر اعلیٰ آفیسر کو اس عہدے پر تین سال کےلئے تعینات کیا جاتا ہے اور تین سال کے بعد اسے تبدیل کر دیا جاتا ہے اس لئے آئی ایس آئی یا خفیہ اداروں کے کسی اہلکار کے طالبان کے ساتھ روابط کی باتیں من گھڑت ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں جاوید اشرف قاضی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ امریکہ ان باتوں کو مانے گا جو ہم ان کےلئے تجویز کرتے ہیں بشرطیکہ ہمارے حکمران اپنے موقف پر ڈٹے رہیں۔ انہو ں نے کہا کہ افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو ہمارے لئے حالات خراب کرنے کے حوالے سے بیس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں پر دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں متحرک ہیں اور پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں جن کی واضح مثالیں بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں مختلف کارروائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دشمن ممالک کی ایجنسیاں افغانستان سے اٹھ کر افغانستان میں حالات خراب کر رہی ہیں۔ |
|
|
|
| ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا | وجدان (20-09-08) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
ارے جو چاہے آپ لوگ ان خبروں سے سمجھ لیں - میرے حساب میں تو حکومت اور افواج پاکستان ابھی تک مشرف پالیسیز پر کارفرما ہے۔ امریکہ کو اتنا منع کرنے کے بعد بھی اگر وہ نہیں مان رہے اور حملے جاری ہیں تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ ادھر سے جواب نہیں آئے گا اور آئے گا بھی کیسے ؟ ان حملوں کے بدلے تو ہمیں ڈالر ملتے ہیں۔ پچھلے سال ایک سینیئر پاکستانی سفیر سے ملاقات ہوئ ان کے بقول شمالی علاقہ جات تو ہمارے لیئے ڈالر کمانے کا ذریعہ ہیں۔اگر روز دس پندرہ بندے ادھر مر جاتے ہیں اور ایک آدھ بم دھماکہ ہو جاتا ہے تو کیا ہوا ہماری معیشت تو اسی کے سہارے چل رہی ہے۔ حکومت اور فوج دونوں عوام کو بے وقوف بنانے میںمصروف ہیں - خواہ مخواہ دل جلانے کا کوئ فائدہ نہیں
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سچ کہا آپ نے طاہر صاحب ،حکومت اور فوج دونوں عوام کو بے وقوف بنانے میںمصروف ہیں خواہ مخواہ دل جلانے کا کوئ فائدہ نہیں
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
مجھے آپ حضرات سے سو فیصد اتفاق ہے، اب دیکھیں نا فواد صاحب 11/9 کے علاوہ کوئی بات کرتےہی نہیں ہیں انکی دھشت گردی صرف ایک اسی واقعہ سے شروع ہوتے ہی اور اسی پر ختم ہوتی ہے۔ امریکہ میں کچھ ہو تو زمہ دار القاعدہ اور دوسرے لفظوںمیں پاکستان،
اوراگر پاکستان میں بم دھماکے ہوں بے گناہ لوگ مارے جائیں تو ہم کس کو جا کے پکڑیں، کیا ایسا نہیں ہو رہا کہ "موساد"، "ایف بی آئ"ی، اور "را" سب ملکر پاکستان میں دہشت گردی کی پریکٹس کر رہے ہیں؟ میرا تو خیال ہے کہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ کچھ دنوں پہلے میری کسی حوالے سے ایک فوجی افسر سے بات ہوئی جو سوات آپریشن کے بارے میں بہت سے حقائق سے واقف ہیں تو انہوںنے ایک بہت اہم بات بتائی کہ سوات میں ایک آپریشن کے دوران چھے طالبان گرفتار کئے گئے جب انکا میڈیکل کیا گیا تو پتہ چلا کے ان میں سے دو کے ختنے نہیں تھے (معذرت کے ساتھ، یہ بات اسطرح ہی لکھنی پڑ رہی ہے)، جب باقیوں سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے یہ کونسی مخلوق ہیں تو انہوں نے جواب دیا " ہمیں کیا معلوم یہ لوگ تو تین سال سے ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں"۔ یہ بات سن کر دل دھاڑیں مار مار کر رونے کو چاہتا ہے کہ ہم لوگوں کو "انہوں" نے دانستہ طور پر گھسیٹ کر دھشت گردی کی فہرست میں شامل کیا ہے اور اب خود ہی دھشت گرد کو مجاہد بنا بنا کر ہماری صفوں میں بھیج رہے ہیں، کل کو آخر امریکہ نے اور بل خصوص فواد جیسے حقیقت پسندوںنے دنیا کو کچھ تو "اعدادو شمار" دینے ہوں گے پاکستان پر حملہ کرنے کے۔ 11/9 الیون میں مرنے والے سب انسان تھے اور پاکستان میں مرنے والے کیا ہیں؟ کسی نے خوب کہا ہے کہ "11/9 الیون بہانہ، افغانستان ٹھکانہ اور پاکستان نشانہ" |
|
|
|
| وجدان کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن جلال (20-09-08) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وجدان صاحب آپ نے بالکل ٹھیک کہا ۔ گزشتہ روز نوشہرہ بھی پکڑے جانے والے خودکش حملہ آور کا بھی ختنہ نہیں ہوا تھا
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, پاکستان, پاکستانی, لوگ, نماز, مکمل, معلوم, معذرت, آپریشن, اقوام متحدہ, اللہ, انسان, امریکہ, احتجاج, جواب, حضرات, خلاف, دھماکہ, دوست, دل, سیاست, سال, طالبان, صلاحیت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| چین کے بغیر نئے عالمی نظام کاتصور بھی نیا کیا جاسکتا صدرزرادی | جاویداسد | خبریں | 0 | 10-07-10 09:37 PM |
| مطالبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بغیر ڈیزائیننگ کے مقابلہ شعر و شاعری بھی ہو | راجہ اکرام | شاعری اور مصوری | 22 | 30-09-09 03:48 PM |
| آئی پی ایل کرکٹ شائقین کو شرابی بننے کی ترغیب دینے کا الزام | محمدعدنان | کرکٹ | 0 | 30-04-08 08:31 AM |
| پی پی اور ن لیگ کے اعلان کا غیرمشروط خیرمقدم کرتے ہیں، الطاف حسین | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 22-02-08 03:36 AM |
| صارفین کی اجازت کے بغیر پی ٹی سی ایل کوئی پیکج نافذ نہ کرے، پی ٹی اے | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 08-12-07 12:18 PM |