| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,523
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پاکستان آئے اور چلے بھی گئے، لیکن ان کی آمد نے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اکثر لوگ حیران ہیں کہ نواز شریف کے استقبال کے لیے دس لاکھ لوگوں کو لانے کا دعویٰ کرنے والے ’آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ‘ یعنی ’اے پی ڈی ایم‘ کے رہنما زیادہ افراد جمع نہیں کر سکے۔ مولانا فضل الرحمٰن اور قاضی حسین احمد کو نظر بند کردیا گیا اور ظاہر ہے کہ وہ جلوس میں شریک نہیں ہوئے لیکن ان کی جماعتوں کا کوئی کارکن اسلام آباد کے مرکزی استقبالی جلوس میں کیوں شریک نہیں ہوسکا؟ اس بارے میں قاصی حسین احمد نے کہا کہ وہ مار دھاڑ نہیں چاہتے تھے اور پرامن استقبال کرنا چاہتے تھے۔ اسلام آباد سے نکالے گئے مرکزی استقبالی جلوس میں جو سات آٹھ گاڑیاں اور بیس پچیس افراد نظر آئے وہ سب مسلم لیگ نواز کے تھے۔ ان میں بھی لیڈر زیادہ اور کارکن کم تھے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ان کی جماعت کے تین ہزار کارکن گرفتار کیے گئے جبکہ مسلم لیگ وکلا ونگ کے نصیر بھٹہ کا کہنا ہے کہ پندرہ سو لوگ جیلوں میں قید ہیں، ان کے مطابق ساڑھے تین سو کارکن لاہور میں گرفتار ہوئے۔ جبکہ وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ کہتے ہیں کہ حکومت نے ایک ہزار مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کو گرفتار کیا۔ اکثر تجزیہ کار جو کہہ رہے تھے کہ میاں نواز شریف کے لیے لوگوں کا سمندر امنڈ آئے گا اب وہ خود بھی پریشان ہیں کہ آخر مسلم لیگ نواز کے ساتھ ہوا کیا ہے؟ اگر احسن اقبال کے دعوے کو درست بھی مان لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آٹھ کروڑ کی آبادی والے پنجاب میں مسلم لیگ کے تین ہزار کارکن ہیں؟ حکومت کی پابندیاں اور گرفتاریاں اپنی جگہ۔ ظاہر ہے کہ ہر حکومت ایسا کرتی ہے اور اپریل سن دو ہزار پانچ کو جب آصف علی زرداری دبئی سے لاہور آئے تھے تو اس وقت بھی ایسا ہوا تھا لیکن اُس وقت پھر بھی صورتحال مختلف تھی۔ دس ستمبر کو نواز شریف کے استقبال کے روز مسلم لیگ نواز کے ایک کارکن بلال احمد سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کو اسلام آباد آنے کا غلط مشورہ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ لاہور میں اترتے تو صورتحال بہتر ہوتی۔ ایک اور مسلم لیگی متوالے نے کہا کہ ’ہمارے لیڈر پہلے دن سے ہی کہتے رہے کہ میاں صاحب کو ایک گھنٹے میں واپس بھیج دیں گے وہ ایئر پورٹ سے باہر ہی نہیں آئیں گے تو استقبال کے لیے لوگوں کو لانے کا کیا فائدہ‘۔ میاں نواز شریف کے وطن پہنچنے کے فیصلے پر بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انہوں نے عجلت سے کام لیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب سعودی عرب میں میاں نواز شریف پر پابندیاں ہوں گی اور ذرائع ابلاغ سے رابطہ بھی نہیں کر پائیں گے۔ یہ بات تو مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف سمیت دیگر رہنما بھی مانتے ہیں کہ آئندہ انتخابات کے موقع پر اگر میاں نواز شریف وطن نہ بھی آتے اور لندن سے بیٹھ کر معاملات چلاتے تو پھر بھی پارٹی کو سیاسی طور پر زیادہ فائدہ پہنچتا۔ لیکن ساتھ میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے شریف خاندان کی جلاوطنی کو غیر آئینی قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں میاں نواز شریف کا وطن جانے کا فیصلہ ٹھیک ہی تھا۔ نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کے بعد اب معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور اب لگتا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کے سیاسی منظر میں عدلیہ کا کردار بھی اہم بنتا دکھائی دیتا ہے۔ بی بی سی |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,125
شکریہ: 3,011
1,427 مراسلہ میں 3,188 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب ٹینکر کھڑے کر کے سڑکوں کو بند کر دیا جائے، پولیس اور دیگر فورسز کو استقبالیوں کی گرفتاری پر معمور کر دیا جائے اور پورے پاکستان میں غیر اعلانیہ کرفیو کا سا سماں پیدا کر دیا جائے تو لوگ کہاں سے آتے۔ حکومت کسی کی بھی ہو اُنہیں اپوزیشن کا سامنا کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی۔ خود نواز شریف کی حکومت بھی کئی بار ایسی صورتحال سے دو چار ہوئی تھی۔ اور ایکبار نواز شریف کی حکومت میں سپریم کورٹ پر چڑھائی بھی کی گئی تھی۔ اُس وقت بھی نواز شریف کی حکومت میں قافی لیگ کے موجودہ وزرا ہی تھے۔ نونی لیگ ہو یا قافی لیگ یہ سب ایک ہی دوکان کے چٹے بٹے ہیں۔ اور ہمیشہ ہوا کا رُخ دیکھ کر چلتے ہیں۔ آمریت اور مارشل لائ حکومتوں کے لئے پُل کا کردار ادا کرتے ہیں اور بھر پور سہارا فراہم کر کے اقتدار کے مزے لُوٹتے ہیں۔ اور عوام کو جمہوریت کے راگ سُنا سُنا کر مدہوش کیا ہوتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جنرل ایوب سے لے کر جنرل مشرف تک ہر آمر کے لئے پُل کا کردار ادا کرنے والے، پھر آمریت کی چھتری تلے اقتدار کے مزے لُوٹنے والے مسل لیگی ہیں۔ کوئی قافی ہے، کوئی نونی ہے، کوئی جیمی ہے، بلکہ "الف" سے لیکر "ی" تک کے اکثر الفاط میں بٹےہوئے لیگی دھڑے اپنی اپنی بساط میں آمریت کو ہی سہارا اور طول دیتے رہے ہیں اور جمہوریت کی پٹڑی کو اکھاڑ دیتے ہیں۔ اگر آج قافی لیگ کے وزیر اعظم اور وزراء اور قافی لیگیوں کے لئے باوردی صدر کا انتخاب زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے تو اس کے پیچھے کیا جمہوریت کا جذبہ کار فرما ہے!!!!! یہ آمریت کا جذبہ ہے اور آمریت کو طول دینے اور خود اقتدار کے مزے لُوٹنے کا بحرِ بیکران ہے جو یہ کہلواتا ہے کہ ہم مشرف کو وردی میں ایک سو ایک بار صدر منتخب کریں گے۔
ہمارے ملک میں جمہوری کلچر کو پروان چڑھنے میں شاید صدیاں گزر جائیں کیونکہ وڈیرہ ازم، جاگیر داری و سرادری نظام، چودھراہٹ کا کلچر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور ایسے ماحول میں جمہوریت کی چڑیا پنجرے میں ہی بند رہے گی۔
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny. Last edited by Zullu230; 13-09-07 at 07:21 AM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کورٹ, پولیس, پاکستان, وزیر, وزیراعظم, قید, لوگ, لندن, نواز شریف, نظر, موقع, موت, موجودہ, آبادی, آج, اسلام, جاوید اقبال, دبئی, زندگی, زرداری, سپریم, علی, صورتحال, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| وزیراعظم کے دورہ لاہور کے دوران وی آئی پی گاڑیوں پر لگے جیمر نہ چلنے کی شکایت | گلاب خان | خبریں | 0 | 28-02-11 05:37 AM |
| پھر مشکل پڑ گئی ،کھلاڑیوں نے پیسوں کا اعتراف کرلیا:پی سی بی ، برطانوی اخبار بھی مزید انکشاف کرے گا | جاویداسد | خبریں | 0 | 04-09-10 02:35 PM |
| انٹرنیٹ ویڈیوز جلد ہی ٹی وی پر بھی دیکھی جا سکیں گی | وجدان | خبریں | 0 | 28-01-08 09:39 AM |
| میڈیا پر پابندیوں کیخلاف راولپنڈی اسلام آبادمیں صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 07-12-07 09:25 AM |
| ایمرجنسی کے خلاف مختلف شہروں میں اے پی ڈی ایم،پیپلز پارٹی اور اے این پی کے مظاہرے | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 14-11-07 03:05 PM |