| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
|
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
درندگی,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی
ہلے صوبہ سرحد کے سینئر وزیر، بشیر بلور نے راگ الاپا اور پھر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے تان اٹھائی کہ ”دہشت گردی پھیلانے والے انسان نہیں درندے ہیں اور درندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی“۔ حاکمانہ جلال اور حکیمانہ جمال کے حامل اس اعلان سے کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔ بلا شبہ وہ لوگ انسانیت کے زمرے سے خارج ہیں جو معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں، انسانی لہو سے اپنی پیاس بجھاتے اور غارت گری سے آسودگی حاصل کرتے ہیں۔ ہم تو اس دین کے پیروکار ہیں جس نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ سو دہشت گردی بہرحال درندگی ہے اور اسے اس نام سے پکارا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن بشیر بلور کی بے کراں دانش اور یوسف رضا گیلانی کی لامحدود حکمت و بصیرت کے تمام تر احترام کے باوجود، جان کی امان پاؤں تو ایک چھوٹا سا سوال پوچھ لوں، یہ جو کچھ سات سمندر پار سے آیا ایک سفید فام عفریت کررہا ہے، انسانیت کی لغت میں اسے کیا کہتے ہیں؟ آٹھ سال پہلے انہی دنوں امریکہ کے خونخوار طیارے ہمارے ہی ہوائی اڈوں سے اڑے اور لگا تار ایک ہفتہ تک افغانستان پر کارپٹ بمباری کرتے رہے۔ لاتعداد بستیاں زمین کا پیوند ہوگئیں۔ ان گنت انسانوں کے پرخچے اڑ گئے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر ڈھلوانوں، گھاٹیوں، وادیوں اور میدانوں میں چار سو لہو کے جھرنے پھوٹنے لگے۔ کسی نے کوئی گوشوارہ مرتب نہیں کیا کہ ان آٹھ برسوں کے دوران کتنے معصوم، امریکی قہر کا نشانہ بن گئے۔ کیا یہ سب کچھ درندگی نہیں؟ مسجدیں محفوظ رہیں نہ اسپتال، باراتیں میزائلوں کا لقمہ ہوگئیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں گیت گاتی بچیاں آن واحد میں بھسم کردی گئیں۔ بلور صاحب اور گیلانی صاحب کو شاید یاد نہ ہو کہ قلعہ جنگی میں کیا ہوا تھا؟ کس طرح زنداں میں پڑے افغانوں کو امریکی فوجیوں نے یوں تاک تاک کر نشانہ بنایا جیسے کوئی منچلا پنجروں میں بند پرندوں کو شکار کرتا ہے، قندوز سے گرفتار کئے جانے والوں کو رسیوں سے باہم جکڑ کر فولاد کے ہوا بند کنٹینروں میں یوں ٹھونس دیا گیا کہ وہ تڑپ تڑپ کر مرگئے۔ ان کی مڑی تڑی بے کفن لاشوں کو لمبے گڑھے کھود کر دشت لیلیٰ کی ریت میں دبا دیا گیا۔ کابل و قندھار کی کم نصیب سرزمین گزشتہ آٹھ برس سے بہیمانہ درندگی کی آندھیوں میں گھری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 2002ء کے اواخر میں بتایا تھا کہ ایک سال کے دوران امریکی بمبار طیاروں نے پاکستان کے ہوائی اڈوں سے ستاون ہزار آٹھ سو اڑانیں بھریں۔ تصور کیجئے، آٹھ برس کے دوران کتنے حملے ہوچکے ہوں گے؟ کیا یہ طیارے افغان عوام پر گلاب اور موتئے کی کلیاں برساتے ہیں؟ اب تو کئی مسلمہ بین الاقوامی ادارے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ثابت کرچکے ہیں کہ افغانستان میں انتہائی بے دردی کے ساتھ کیمیائی ہتھیار استعمال کئے گئے اور کئے جا رہے ہیں۔ فاسفورس اور دوسرے کیمیائی مواد کے استعمال سے بچے خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں لیکن کون ہے جو ان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھے؟ کسے فرصت ہے کہ وہ یتیم ہوجانے اور روٹی کے دونوالوں کے لئے ٹھوکریں کھانے والے بچوں کو شمار کرے۔ کس کے پاس وقت ہے کہ بیوہ ہوجانے والی ان بے یار و مددگار خواتین کے اعداد و شمار مرتب کرلے جن کی زندگیاں، نوحے بن کر رہ گئیں؟ کون ان ماؤں کے آنسو پونچھے جو اپنے جوان بیٹوں کی قبروں کا تعویز ہو کے رہ گئیں؟ آٹھ برس سے ہمارے گھر سے جڑے گھر میں یہ حشر بپا ہے۔ بشیر بلور اور یوسف رضا کو امریکہ اور نیٹو کی افواج قاہرہ دکھائی نہیں دے رہیں۔ وہ سات سمندر پار سے آئے سفاکوں سے پوچھنے کا یارا نہیں رکھتے کہ دور دیس سے آنے والے غارت گرو! اس اجڑی بستی کو مزید کیوں اجاڑ رہے ہو؟ ان آفت زدہ افتادگان خاک پر مزید آفتیں کیوں ڈھا رہے ہو؟ انہوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ نائن الیون کے نام نہاد ملزموں میں تو ایک بھی افغانی نہیں؟ تم نے غربت کے مارے ان تہی داماں لوگوں کا عرصہ حیات کیوں تنگ کردیا ہے؟ بلور اور گیلانی اقتدار کے دسترخوان پہ بیٹھے ہیں اور وہ اس اقتدار کو امریکی پشت پناہی کا ثمر خیال کرتے ہیں۔ کل تک اے این پی پختونوں کے حقوق کی پرچم بردار تھی۔ پاکستان ان کے لئے سامراج کا ایجنٹ تھا۔ باچا خان نے اپنی قبر کے لئے بھی ڈیورنڈ لائن سے اس پار کی خاک کو پسند کیا۔ اے این پی ان کی میت افغانستان دفنا آئی۔ تیس سال قبل روس نے اپنے درندوں کے غول افغانیوں پر چھوڑ دیئے تو اے این پی افغانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بھلا کر روسیوں کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ اس کے کرتے دھرتے ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے کہ کب افغانستان روسیوں کے قبضے میں جاتا اور کب سرخ سویرے کا کارواں انقلاب کے ترانے گاتا، پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ تب وہ اٹھتے بیٹھتے امریکی سامراج، کو گالیاں دیتے اور روسی یلغار کے خلاف افغانوں کی جنگ حریت کو ”امریکہ کی جنگ“ قرار دیتے تھے۔ آج وہی امریکی سامراج کروسیڈ کے جھنڈے لہراتا افغانوں کے گلے کاٹ رہا ہے، ان کی بستیاں کھنڈر کررہا ہے، ان کی آنے والی نسلوں کے لہو میں مہلک کیمیائی مواد بو رہا ہے اور افغان حقوق کے یہ چیمپئن، اسی امریکی سامراج کے کندھے سے کندھا ملائے افغانوں کے سینے چھلنی کررہے ہیں۔ انہیں اپنے آس پاس کے ”دہشت گردوں“ کی درندگی نظر آ رہی ہے اور وہ ان درندوں“ سے بات تک کرنے کے روا دار نہیں، لیکن صبح شام رنگا رنگ ٹی وی مائیکس کے سامنے کھڑے ہو کر ”انسانیت“ کے خطبے دیتے ان پیران امن کو ان گورے لشکروں کی درندگی نظر نہیں آتی جو پندرہ لاکھ عراقیوں کا لہو پینے کے بعد افغانستان کو اپنے ہلاکت آفریں ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں۔ جن کے ڈرون ہر روز ہماری بستیوں پر میزائل برساتے اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے ہیں۔ ان سفید فام درندوں سے ہاتھ ملانا ان کے لئے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز و اکرام ہے، ان درندوں کے خون آلود پنجوں پہ بوسے دینا وہ سعادت خیال کرتے ہیں، ان درندوں کے پاؤں پہ سر رکھنا ان کے لئے دنیوی اور اخروی نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ نہ صرف اس کی درندگی کو درندگی نہیں کہتے بلکہ اس کی غلامی کو ماتھے کا جھومر بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ مل کر افغانوں کا ہانکا لگاتے اور شکار گاہ کی طرف لے کے آتے ہیں تاکہ گورے آقا نشانہ بازی کا ہنر آزماسکیں۔ انہیں ابو غریب، بگرام اور گوانتا نامو کی کوئی کہانی یاد نہیں۔ ”انسانیت“ کے ان پرچم برداروں اور ”درندوں“کے خلاف علم جہاد بلند کرنے والوں کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ ان کی ایک بیٹی پر کیا گزر رہی ہے جس کا نام عافیہ ہے اور جسے تلاشی کے نام پر روز برہنہ ہونے اور قرآن کریم پر پاؤں رکھ کر دہلیز تک جانے کا حکم ملتا ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کسی درندگی کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ بشیر بلور صاحب اور یوسف رضا صاحب! بجا کہ معصوم انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے انسان نہیں درندے ہیں۔ تسلیم کہ درندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی لیکن کیا انسانیت اور درندگی کے معیار بدلتے رہتے ہیں؟سوات اور وزیر ستان کے درندوں کے نامہ اعمال کی تیرگی، واشنگٹن اور لندن کے درندوں کی زلف میں پہنچ کر حسن کیوں بن جاتی ہے؟ درندگی,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی |
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (18-11-09), shafresha (22-01-10), نیلم خان (23-11-09), محمدعدنان (20-11-09), مزمل فاروق (19-11-09), مسافر (26-11-09), اخترحسین (20-11-09), بلال الراعی (24-09-11), حیدر (27-11-09), حسنین ایوب (27-11-09), راجہ اکرام (19-11-09), سحر (19-11-09), عامرشہزاد (19-11-09), عادل سہیل (24-11-09) |
|
|
#106 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,039
کمائي: 75,196
شکریہ: 50,005
10,105 مراسلہ میں 31,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر تو آپ لوگ ایک دوسرے کو تعلیم دینے کی یعنی کچھ سیکھنے اور کچھ سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں تو بہت خوشی کی بات ہے۔ لیکن اگر ایک دوسرے کو ہدایت دینے کی یا نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں تو افسوس کی بات ہے۔ جتنے دلائل ہر کوئی دے چُکا اس کے بعد کسی بھی سلیم فطرت صاحب کو چاہیے کہ ایک دوسرے کے لیے اللہ سے ہدایت کی دعا کر کے اس مباحثے سے رخصت چاہے۔ امید ہے اختتام کو آپ لوگ اپنی یا دوسرے کی شکست نہیں سمجھیں گے۔ کیونکہ تعلیم میں نہ کوئی فاتح ہوتا ہے نا کوئی شکست خوردہ۔
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (22-01-10), فاروق سرورخان (25-12-09), منتظمین (25-12-09), راجہ اکرام (25-12-09), عادل سہیل (22-01-10), عبداللہ حیدر (25-12-09) |
|
|
#107 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ، بدر بھائی بہت اچھی باتیں لکھی ہیں ، ہدایت تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے ، ہم اپنے اور دوسروں کے لیے حصول ہدایت کی کوشش کر سکتے ہیں ، اور الحمد للہ وہی کر رہے ہیں ، فتح و شکست کی بات اسی حصول ہدایت تک ہونا چاہیے نہ کہ شخصی طور پر ، جزاک اللہ خیرا ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو وہ ہدایت عطاء فرمائے جو اس کے رضا تک لے جائے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| com, search, پاکستان, پسند, واشنگٹن, قرآن, لوگ, لندن, نظر, آج, انسان, امریکہ, بچوں, حسن, خواتین, خلاف, خان, دیس, سال, شام, غلامی, غربت, صوبہ, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|