| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
|
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
درندگی,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی
ہلے صوبہ سرحد کے سینئر وزیر، بشیر بلور نے راگ الاپا اور پھر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے تان اٹھائی کہ ”دہشت گردی پھیلانے والے انسان نہیں درندے ہیں اور درندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی“۔ حاکمانہ جلال اور حکیمانہ جمال کے حامل اس اعلان سے کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔ بلا شبہ وہ لوگ انسانیت کے زمرے سے خارج ہیں جو معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں، انسانی لہو سے اپنی پیاس بجھاتے اور غارت گری سے آسودگی حاصل کرتے ہیں۔ ہم تو اس دین کے پیروکار ہیں جس نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ سو دہشت گردی بہرحال درندگی ہے اور اسے اس نام سے پکارا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن بشیر بلور کی بے کراں دانش اور یوسف رضا گیلانی کی لامحدود حکمت و بصیرت کے تمام تر احترام کے باوجود، جان کی امان پاؤں تو ایک چھوٹا سا سوال پوچھ لوں، یہ جو کچھ سات سمندر پار سے آیا ایک سفید فام عفریت کررہا ہے، انسانیت کی لغت میں اسے کیا کہتے ہیں؟ آٹھ سال پہلے انہی دنوں امریکہ کے خونخوار طیارے ہمارے ہی ہوائی اڈوں سے اڑے اور لگا تار ایک ہفتہ تک افغانستان پر کارپٹ بمباری کرتے رہے۔ لاتعداد بستیاں زمین کا پیوند ہوگئیں۔ ان گنت انسانوں کے پرخچے اڑ گئے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر ڈھلوانوں، گھاٹیوں، وادیوں اور میدانوں میں چار سو لہو کے جھرنے پھوٹنے لگے۔ کسی نے کوئی گوشوارہ مرتب نہیں کیا کہ ان آٹھ برسوں کے دوران کتنے معصوم، امریکی قہر کا نشانہ بن گئے۔ کیا یہ سب کچھ درندگی نہیں؟ مسجدیں محفوظ رہیں نہ اسپتال، باراتیں میزائلوں کا لقمہ ہوگئیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں گیت گاتی بچیاں آن واحد میں بھسم کردی گئیں۔ بلور صاحب اور گیلانی صاحب کو شاید یاد نہ ہو کہ قلعہ جنگی میں کیا ہوا تھا؟ کس طرح زنداں میں پڑے افغانوں کو امریکی فوجیوں نے یوں تاک تاک کر نشانہ بنایا جیسے کوئی منچلا پنجروں میں بند پرندوں کو شکار کرتا ہے، قندوز سے گرفتار کئے جانے والوں کو رسیوں سے باہم جکڑ کر فولاد کے ہوا بند کنٹینروں میں یوں ٹھونس دیا گیا کہ وہ تڑپ تڑپ کر مرگئے۔ ان کی مڑی تڑی بے کفن لاشوں کو لمبے گڑھے کھود کر دشت لیلیٰ کی ریت میں دبا دیا گیا۔ کابل و قندھار کی کم نصیب سرزمین گزشتہ آٹھ برس سے بہیمانہ درندگی کی آندھیوں میں گھری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 2002ء کے اواخر میں بتایا تھا کہ ایک سال کے دوران امریکی بمبار طیاروں نے پاکستان کے ہوائی اڈوں سے ستاون ہزار آٹھ سو اڑانیں بھریں۔ تصور کیجئے، آٹھ برس کے دوران کتنے حملے ہوچکے ہوں گے؟ کیا یہ طیارے افغان عوام پر گلاب اور موتئے کی کلیاں برساتے ہیں؟ اب تو کئی مسلمہ بین الاقوامی ادارے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ثابت کرچکے ہیں کہ افغانستان میں انتہائی بے دردی کے ساتھ کیمیائی ہتھیار استعمال کئے گئے اور کئے جا رہے ہیں۔ فاسفورس اور دوسرے کیمیائی مواد کے استعمال سے بچے خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں لیکن کون ہے جو ان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھے؟ کسے فرصت ہے کہ وہ یتیم ہوجانے اور روٹی کے دونوالوں کے لئے ٹھوکریں کھانے والے بچوں کو شمار کرے۔ کس کے پاس وقت ہے کہ بیوہ ہوجانے والی ان بے یار و مددگار خواتین کے اعداد و شمار مرتب کرلے جن کی زندگیاں، نوحے بن کر رہ گئیں؟ کون ان ماؤں کے آنسو پونچھے جو اپنے جوان بیٹوں کی قبروں کا تعویز ہو کے رہ گئیں؟ آٹھ برس سے ہمارے گھر سے جڑے گھر میں یہ حشر بپا ہے۔ بشیر بلور اور یوسف رضا کو امریکہ اور نیٹو کی افواج قاہرہ دکھائی نہیں دے رہیں۔ وہ سات سمندر پار سے آئے سفاکوں سے پوچھنے کا یارا نہیں رکھتے کہ دور دیس سے آنے والے غارت گرو! اس اجڑی بستی کو مزید کیوں اجاڑ رہے ہو؟ ان آفت زدہ افتادگان خاک پر مزید آفتیں کیوں ڈھا رہے ہو؟ انہوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ نائن الیون کے نام نہاد ملزموں میں تو ایک بھی افغانی نہیں؟ تم نے غربت کے مارے ان تہی داماں لوگوں کا عرصہ حیات کیوں تنگ کردیا ہے؟ بلور اور گیلانی اقتدار کے دسترخوان پہ بیٹھے ہیں اور وہ اس اقتدار کو امریکی پشت پناہی کا ثمر خیال کرتے ہیں۔ کل تک اے این پی پختونوں کے حقوق کی پرچم بردار تھی۔ پاکستان ان کے لئے سامراج کا ایجنٹ تھا۔ باچا خان نے اپنی قبر کے لئے بھی ڈیورنڈ لائن سے اس پار کی خاک کو پسند کیا۔ اے این پی ان کی میت افغانستان دفنا آئی۔ تیس سال قبل روس نے اپنے درندوں کے غول افغانیوں پر چھوڑ دیئے تو اے این پی افغانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بھلا کر روسیوں کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ اس کے کرتے دھرتے ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے کہ کب افغانستان روسیوں کے قبضے میں جاتا اور کب سرخ سویرے کا کارواں انقلاب کے ترانے گاتا، پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ تب وہ اٹھتے بیٹھتے امریکی سامراج، کو گالیاں دیتے اور روسی یلغار کے خلاف افغانوں کی جنگ حریت کو ”امریکہ کی جنگ“ قرار دیتے تھے۔ آج وہی امریکی سامراج کروسیڈ کے جھنڈے لہراتا افغانوں کے گلے کاٹ رہا ہے، ان کی بستیاں کھنڈر کررہا ہے، ان کی آنے والی نسلوں کے لہو میں مہلک کیمیائی مواد بو رہا ہے اور افغان حقوق کے یہ چیمپئن، اسی امریکی سامراج کے کندھے سے کندھا ملائے افغانوں کے سینے چھلنی کررہے ہیں۔ انہیں اپنے آس پاس کے ”دہشت گردوں“ کی درندگی نظر آ رہی ہے اور وہ ان درندوں“ سے بات تک کرنے کے روا دار نہیں، لیکن صبح شام رنگا رنگ ٹی وی مائیکس کے سامنے کھڑے ہو کر ”انسانیت“ کے خطبے دیتے ان پیران امن کو ان گورے لشکروں کی درندگی نظر نہیں آتی جو پندرہ لاکھ عراقیوں کا لہو پینے کے بعد افغانستان کو اپنے ہلاکت آفریں ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں۔ جن کے ڈرون ہر روز ہماری بستیوں پر میزائل برساتے اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے ہیں۔ ان سفید فام درندوں سے ہاتھ ملانا ان کے لئے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز و اکرام ہے، ان درندوں کے خون آلود پنجوں پہ بوسے دینا وہ سعادت خیال کرتے ہیں، ان درندوں کے پاؤں پہ سر رکھنا ان کے لئے دنیوی اور اخروی نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ نہ صرف اس کی درندگی کو درندگی نہیں کہتے بلکہ اس کی غلامی کو ماتھے کا جھومر بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ مل کر افغانوں کا ہانکا لگاتے اور شکار گاہ کی طرف لے کے آتے ہیں تاکہ گورے آقا نشانہ بازی کا ہنر آزماسکیں۔ انہیں ابو غریب، بگرام اور گوانتا نامو کی کوئی کہانی یاد نہیں۔ ”انسانیت“ کے ان پرچم برداروں اور ”درندوں“کے خلاف علم جہاد بلند کرنے والوں کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ ان کی ایک بیٹی پر کیا گزر رہی ہے جس کا نام عافیہ ہے اور جسے تلاشی کے نام پر روز برہنہ ہونے اور قرآن کریم پر پاؤں رکھ کر دہلیز تک جانے کا حکم ملتا ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کسی درندگی کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ بشیر بلور صاحب اور یوسف رضا صاحب! بجا کہ معصوم انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے انسان نہیں درندے ہیں۔ تسلیم کہ درندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی لیکن کیا انسانیت اور درندگی کے معیار بدلتے رہتے ہیں؟سوات اور وزیر ستان کے درندوں کے نامہ اعمال کی تیرگی، واشنگٹن اور لندن کے درندوں کی زلف میں پہنچ کر حسن کیوں بن جاتی ہے؟ درندگی,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی |
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (18-11-09), shafresha (22-01-10), نیلم خان (23-11-09), محمدعدنان (20-11-09), مزمل فاروق (19-11-09), مسافر (26-11-09), اخترحسین (20-11-09), بلال الراعی (24-09-11), حیدر (27-11-09), حسنین ایوب (27-11-09), راجہ اکرام (19-11-09), سحر (19-11-09), عامرشہزاد (19-11-09), عادل سہیل (24-11-09) |
|
|
#61 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ مجھ پر توجہ دینے کا۔ یہ یہودی وطیرہ ہے کہ انسانوں میں خدا آج بھی ڈھونڈتے ہیں مسلمان ہوتے تو ایک اللہ ، اس کے رسول اور اس کی کتاب پر ایمان لا کر اس چکر سے نکل چکے ہوتے۔
بہر حال پھر ایک بار شکریہ کہ آپ نے آئینہ دیکھنے کے بجائے آئینہ دکھانے والے پر توجہ کی ۔۔۔ میں اب بھی انتظار میں ہو کہ مجھے کوئی بتائے کہ قرآن کے بعد کس کس کتاب کے مکمل متن پر ایمان رکھنا ہے ،۔ کہانیاں اتی بڑی بڑی اور کام کی بات ایک بھی نہیں۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#62 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بے شرمی اور ڈھٹائی کی ایسی مثال مت بنیے کہ اپنے مسلمانوں کو مجرم کہیے اور کافروں کو دوست بنایے یہ کن کا کام ہے اللہ کے فرامین کے ذریعے بتایا جا چکا ہے ، جناب کیا ہم آپ کو بھی آج کے مسلمانوں میں ہی سمجھے ہوئے ہیں !!! کہیں ہم غلطی پر تو نہیں ؟؟؟؟؟؟
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
|
|
#63 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور حسب عادت چند ہی سطور کے بعد اپنی ہی بات کی خود عملی تردید کر دی ، الحمد للہ ، |
|
|
|
|
|
|
#64 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فاروق صاحب کیا قران کی پرستش کی جانا چاہیے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ بہت خوب حسب عادت ، اپنے دستور کے مطابق لوگوں کے دلوں کے حال جاننے کا خلاف قران عمل پھر ظاہر فرمایا ، جناب کیا آپ پر وحی نازل ہوتی ہے کہ کون منافقت سے قران کو مان رہا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟ کیا قران کی باطل تاویلات کرنے والا کوئی آپ کو اس آئینے میں نظر نہیں آتا جو آپ دوسروں کو دکھانے کا زعم رکھے ہوئے ہیں ۔ |
|
|
|
|
|
|
#65 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور وہ کون سا امریکہ ہے جہاں یہ نظام قائم ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کیا آپ ہر ایک کو ایسا سمجھتے ہیں کہ امریکی وحی پر ایمان لے آئیں گے ، اور جھوٹ بول بول کر اللہ کی کتاب کی باطل تاویلات کرنے لگیں گے یا ایسی تاویلات کو ماننے لگے گے ۔ |
|
|
|
|
|
|
#66 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق صاحب ، کبھی اس آئینے کا رخ اپنی طرف بھی فرما لیجیے ، پشت اپنی طرف رکھیں گے تو کبھی حقیقت نظر نہ آ سکے گی ۔
Last edited by عادل سہیل; 26-11-09 at 03:19 AM. |
|
|
|
|
|
#67 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ کو اپنے بارے میں یہ غلط فہمی بھی ہمیشہ پیش رہتی ہے کہ لوگ آپ پر توجہ دیتے ہیں ، جناب آپ تو خود بھی ابھی تک """ خدا """ کو تھامے بیھٹے ہیں یہودیوں کا شکوہ کیوں کرتے ہیں ، افسوس بہت جلد آپ اپنی انتہا تک آن پہنچے ، دین میں اپنی جہالت اور کافروں سے اپنی دوستی ، اور مسلمان سے اپنی دشمنی کے واضح ہونے پر ہم سب کو مسلمانوں میں سے ہی خارج قرار دے دیا ، جناب ابھی ابھی کہا تھا ، پھر کہتا ہوں ، آئینے کی پشت اپنی طرف رکھیں گے تو نہ اپنی حقیقت جان سکیں گے اور نہ دوسرے کی ، اس آئینے کا رخ اپنی طرف فرما لیجیے تو زیادہ بہتر ہوگا ، جناب آپ کے اس سوال کا جواب دینے سے پہلے میں یہ جاننے کی درخواست کروں گا کہ جناب عالی """ ایمان """ کسے کہتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اور قران کی کون سی موافقت کے مطابق کہتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ آئینے کا رخ اپنی طرف کر کے بتایے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
|
#68 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور وہ کون سا امریکہ ہے جہاں یہ نظام قائم ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کیا آپ ہر ایک کو ایسا سمجھتے ہیں کہ امریکی وحی پر ایمان لے آئیں گے ، اور جھوٹ بول بول کر اللہ کی کتاب کی باطل تاویلات کرنے لگیں گے یا ایسی تاویلات کو ماننے لگے گے ۔ ان معلومات کے بارے میں کیا خیال ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ """ امریکہ میں جرائم کی مقدار """" ، اور یہ بھی دیکھیے :::: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور ،،،،،،،،،،،،، """ یہ """" بھی ملاحظہ فرمایے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ """ ادھر """" بھی توجہ فرمایے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ اس کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں گے ::: Rape in America: Justice Denied ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس:
|
||
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (27-11-09) |
|
|
#69 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
والسلام علیکم |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (13-12-09), عادل سہیل (15-12-09) |
|
|
#70 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جناب فاروق صاحب --- کیا آپ یہی کہنا چاہ رہے ہیں کہ امریکہ میں سونا اچھالتے جاتی عورت کو کوئی خطرہ نہیں ؟؟ باقی باتیں اس کی تصیح کے بعد۔ والسلام طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#71 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,040
کمائي: 75,197
شکریہ: 50,005
10,105 مراسلہ میں 31,951 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے خیال میں صفحوں پر صفحے بھرنے کی ضرورت تبھی پیش آتی اگر صدیقی صاحب کے مضمون میں سے کوئی ایک حوالہ بھی پیش کر دیا جاتا کہ کہاں وہ ان خود کش بمباروں ، معصوم لوگوں کو ہلاک کرنے والوں کو درست ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نہ جانے اس ٹاپک کو نہ ختم ہونے والی بحث کی طرف لے جانے والے اس مضمون میں سے یہ مطالب کہاں سے نکال بیٹھے۔ اس مضمون کا منشا تو صرف یہ ہے کہ ان خود کش بمباروں، اسلام کے نام پر معصوم لوگوں کا قتل عام کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ان عفریتوں کی بھی مذمت فرما دی جائے جو اب تک عراق اور افغانستان میں "صرف کئی لاکھ" افراد کا خون بہا چکے ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ خود کش حملوں کی عفریتیں ہمارا خؤن چوسنے آ گئیں ۔ورنہ 2001 سے قبل پاکستان میں صرف ایک خؤد کش حملہ ہوا تھا وہ بھی 1995 میں۔
آئیے فاروق بھائی میری اس بات کو پڑھیے اور بتائیے کیا میں غلط کہہ رہاہوں " ہم ہر بلا کی پر زور مذمت کرتے ہیں جو معصوم لوگوں کی ہلاک کر رہی ہے۔ ہم ہر اس خؤن آشام کے دشمن ہیں اور اسکو نیست و نابود کرنے کے خواہش مند ہیں جو نسل انسانی کی نقصان پہنچا رہی ہے۔ خواہ یہ بلا اور خون آشام داڑھی رکھ کر مسلمان/طالبان کے بھیس میں ہو یا سوٹ پہن کر کسی امریکن کی شکل میں۔ خواہ یہ بدر ہو یا عادل ہو یا فاروق سرور خآن" اگر اپ اس بات کی حمایت میں ہیں تو پھر یہی بات اس مضمون میں بھی کہی گئی ہے کہ اگر ظالمان/طالبان معصوم لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور اس وجہ سے قابل مذمت ہیں تو ایسا ہی ایک فقرہ امریکہ کے بارے میں فرما دیا جائے جس کے ریکارڈ پر بھی کروڑوں نہیں تو لاکھوں افراد کے اجتماعی قتل عام کا دھبہ ضرور موجود ہے،۔ تاہم آپ کہیں یا نہ کہیں مجھے امریکی جنرل ٹومی فرینک کا وہ فقرہ نہیں بھولتا کہ جب عراق جنگ کے چند ماہ بعد ایک اخبار نویس نے اس سے پوچھا کہ اب تک عراق جنگ میں کتنی ہلاکتیں ہو چکی ہیں تو اس نے تاریخی فقرہ کہا تھا "ہم جسم نہیں گنا کرتے"۔ تب تک پہلے چند ماہ میں ایک رپورٹ کے مطابق 20000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں غالب سویلین کی تھی۔ ہم چاہتے ہیں کہ انصاف سے کام لیا جائے۔ برا جو بھی ہو اسکو برا کہا جائے۔یہ نہ ہو کہ ایک کی برائی پر اسکو واجب القتل اور دوسرے کی برائی کو نظریہ ضرورت کا پھندنا لگا دیا جائے۔ اور فاروق بھائی آپ تو قران سمجھتے ہیں تو یہ بھی خؤب جانتے ہوں گے کہ اللہ انصاف کی بات کو کتنا پسند کرتا ہے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (14-12-09), منتظمین (27-11-09), راجہ اکرام (13-12-09), عادل سہیل (27-11-09), عبداللہ حیدر (27-11-09) |
|
|
#72 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
، بھائی بدر الزمان ، الحمد للہ علی سلامۃ ، یعنی ، اللہ کی ہی تعریف کہ وہ سلامتی سے آپ کو واپس لایا ، اور ماشا اللہ آتے ہی بہترین تجزیہ پیش کر دیا ، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو مزید خیر کی توفیق عطا فرمائے ، و السلام علیکم |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | حیدر (27-11-09), راجہ اکرام (13-12-09) |
|
|
#73 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اجی فاروق صاحب کہاں ہیں ؟ بہت سے سوالات کے جواب کا منتظر ہوں ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
#74 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم،
برادر من حاضر ہوں۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#75 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
علمی اور نیم علمی لوگوں کی اس مجلس میں کافی عرصہ بعد حاضر ہوا ہوں
باقی تو ٹھیک ہی چل رہا ہے لیکن کچھ قلابازیاں حیران کن ہیں، لیکن شاید یہ مقدر بن جاتی ہیں جب ’’کوا ہنس کی چال‘‘ چلنے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالی ہمیں نقل صحیح پر عمل کرنے اور عقل صحیح کو استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, search, پاکستان, پسند, واشنگٹن, قرآن, لوگ, لندن, نظر, آج, انسان, امریکہ, بچوں, حسن, خواتین, خلاف, خان, دیس, سال, شام, غلامی, غربت, صوبہ, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|