واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


صومالیہ:شریعت عدالت کے حکم پر48سالہ شخص کو سنگسار کردیا گیا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-12-09, 04:19 AM  
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,904
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,609 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default صومالیہ:شریعت عدالت کے حکم پر48سالہ شخص کو سنگسار کردیا گیا

موغا دیشو (جنگ نیوز) صومالیہ میں انتہاپسند تنظیم حزب الاسلام کے مزاحمت کاروں نے 48 سالہ ایک شخص کو سنگسار کردیا۔ اے پی کے مطابق اف گوئے شہر میں قائم مقامی شریعت عدالت نے شادی شدہ ہونے کے باجود زنا کے الزام میں محمد ابراھیم کو سنگسار کرنے کی سزا دی تھی۔ عدالتی حکم کے بعد حزب الاسلامی کے مسلح افراد نے محمد ابوکر ابراہیم کے بدن کا نچلا دھڑ زمین میں دبادیا جس کے بعد اسے ماسک پہنے ہوئے لوگوں سمیت دیگر افراد نے پتھر مار مار کر ہلاک کردیا۔

تصاویر یہاں ہیں

نوٹ: موت بذریعہ سنگساری قرآن حکیم سے قطعاً ثابت نہیں ۔۔ لیکن یہ اسرائیلیاتی سزا یہودی کتب میں قبل از اسلام ثابت ہے ۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by shafresha; 19-12-09 at 09:12 AM. وجہ: نام کی تصیح
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
Nasiwise (10-10-10), shafresha (16-12-09), گوندل (17-12-09), محمدخلیل (15-12-09), مرزا عامر (10-10-10), احمد بلال (16-12-09)
پرانا 17-12-09, 10:21 AM   #46
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,904
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,609 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ بات میں بہت پہلے لکھ چکا ہوں سحج۔

ہمارا ایمان رسول اکرم پر ہے ، اس ناطہ ہمارا ایمان رسول اللہ کے ہر فرمان پر ہے۔ رسول اکرم صلعم کا فرمان ہے کہ جب بھی ان سے منسوب کرکے کوئی حدیث پیش کی جائے تو اس کو قرآن پر پرکھئے۔ جی؟

انہی کتب روایات میں ایسی احادیث موجود ہیں ہو موافق و مطابق القرآن ہیں۔
اور انہی کتب میں ایسی احادیث موجود ہیں جو خلاف قرآن ہیں۔

ہمارا ایمان کتب پر نہیں بلکہ ان فرامین مبارکہ پر ہے جو قرآن کے موافق ہیں۔ یہ موافق القرآن روایات اسناد کے ساتھ صحیح، مرسل، ضعیف وغیرہ کے زمروں میں بٹی ہوئی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ میں پوچھتا ہوں کہ آیا کسی کا ایمان اس مکمل کتب روایات پر ہے جس میں خلاف قرآن روایات بھی موجود ہیں۔

امید ہے یہ بات واضح ہوگئی ہوگی۔ اگر نہیں تو جب تک آپ کی تشفی نہیں‌ہوجاتی ، آپ ہر طرح سے پوچھئیے۔ میں جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔

البتہ اگر آپ کا اس سے مقصد یہ ہے کہ اس طرح گھما پھرا کر میں --- خلاف قرآن روایات --- بھی مان لوں‌ گا تو بھائی یہ ایک وقت کا ضیاع ہوگا۔

خلاف قرآن روایت کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ یہ قرآن کی کسی نہ کسی آیت کی تکفیر کرتی ہے۔ جیسا کہ آپ اس سلسلے میں دیکھ رہے ہیں۔

ان ہی کتب روایات میں جو روایات قرآن کی آیات کے موافق و مطابق ہوتی ہیں ۔ ان پر میرا مکمل ایمان ہے کیونکہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا کہ روایات یعنی احادیث کو قرآن پر پیش کرو۔

آپ مجھے بتائیے کہ موافق القرآن روایات کو ماننے میں آپ کو کوئی دشواری ہے؟

اور اگر آپ کو واضح نظر آجائے کہ یہ رو ایت قرآن کی کسی آیت کی تکفیر کرتی ہے تو پھر کیا آپ مشورہ دیں گے کہ اس روایت کو مانا جائے؟

بہت ہی شکریہ۔
والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-10-10)
پرانا 17-12-09, 10:44 AM   #47
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
یہ بات میں بہت پہلے لکھ چکا ہوں سحج۔

ہمارا ایمان رسول اکرم پر ہے ، اس ناطہ ہمارا ایمان رسول اللہ کے ہر فرمان پر ہے۔ رسول اکرم صلعم کا فرمان ہے کہ جب بھی ان سے منسوب کرکے کوئی حدیث پیش کی جائے تو اس کو قرآن پر پرکھئے۔ جی؟

انہی کتب روایات میں ایسی احادیث موجود ہیں ہو موافق و مطابق القرآن ہیں۔
اور انہی کتب میں ایسی احادیث موجود ہیں جو خلاف قرآن ہیں۔

ہمارا ایمان کتب پر نہیں بلکہ ان فرامین مبارکہ پر ہے جو قرآن کے موافق ہیں۔ یہ موافق القرآن روایات اسناد کے ساتھ صحیح، مرسل، ضعیف وغیرہ کے زمروں میں بٹی ہوئی ہیں۔والسلام
شکریہ فاروق صاحب

اگلا سوال بھی پیش کرتا ھوں انشاء اللہ
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
پرانا 17-12-09, 10:49 AM   #48
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں

ان ہی کتب روایات میں جو روایات قرآن کی آیات کے موافق و مطابق ہوتی ہیں ۔ ان پر میرا مکمل ایمان ہے کیونکہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا کہ روایات یعنی احادیث کو قرآن پر پیش کرو۔


والسلام
جناب فاروق صاحب کی آپ اس حدیث"روایات یعنی احادیث کو قرآن پر پیش کرو" کا مکمل حوالہ پیش کرسکتے ہیں ؟

اس کے علاوہ بھی کافی سوالات ہیں جو میں بعد میں ایک ایک کرکے پوچھوں گا
شکریہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (17-12-09), مرزا عامر (10-10-10), عادل سہیل (18-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10)
پرانا 17-12-09, 11:14 AM   #49
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اتنی لمبی تفاسیر ، اللہ تعالی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے؟ نعوذ باللہ۔

اللہ تعالی قرآن حکیم کی حفاظت نہیں کرپایا ۔۔ قانون رجم کی آیت موجود تھی۔ لیکن کہیں ضائع ہوگئی ؟ کھو گئی؟
اللہ تعالی پر ایسا بہتان عظیم باندھنے والوں کو ئی توہین الہی کا مجرم نہیں کہتا؟ کیسی دوغلی پالیسی ہے؟
فاروق صاحب
ایسی فائق و دقیق علمی نکات آپ نے کن باتوں سے کشید کئے ہیں کم از کم میری سمجھ سے بالا تر ہے۔
میں بحیثیت مسلمان کسی صحیح حدیث کے انکار کا بھی تصور نہیں کر سکتا چہ جائیکہ رب العالمین کی شان میں اس طرح کی گستاخانہ بات کا تصور کر سکوں۔

در اصل یہ آپ کے دل کی بات ہے جو آپ کسی نہ کسی بہانے سے دہرانہ چاہتے ہیں، اس لئے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ لگے رہو منا بھائی خوشبو لگا کے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (10-10-10), عادل سہیل (18-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10)
پرانا 17-12-09, 11:17 AM   #50
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,904
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,609 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
جناب فاروق صاحب کی آپ اس حدیث"روایات یعنی احادیث کو قرآن پر پیش کرو" کا مکمل حوالہ پیش کرسکتے ہیں ؟
اس کے علاوہ بھی کافی سوالات ہیں جو میں بعد میں ایک ایک کرکے پوچھوں گا
شکریہ
سھج سلام ،

بہت شکریہ کہ آپ کو یہ سمجھ میں آگیا کہ معاملہ نہ محدثین کا ہے اور نہ ہی کتب کا۔ معاملہ صرف اور صرف خلاف قرآن اور موافق القرآن روایات کا ہے۔

اگر ہم ان کتب پر کامل ایمان لے آئیں تو پھر وہ روایات جو قران حکیم کی تکفیر کرتی ہیں وہ بھی درست ہوجائٰیں گی۔۔۔ لہذا یہ کہنا کہ ایک روایت ، جاہے و ہ قرآن کی تکفیر کرتی ہے، اگر کسی کتاب میں پائی جاتی ہے تو صحیح‌ہے۔ ایسا کرنا کیا درست ہے؟

اس سوال کا جواب ضرور دیجئے ، کسی مزید سوال کرنے سے پیشتر۔

آپ کی خواہش کے مطابق ، یہ ہیں حوالہ جات۔ اس میں ہر مسلک کے علماء کے حوالہ جات ہیں۔ یہ ایک اور صاحب کے مراسلہ سے حوالہ دیا گیا ہے۔ ان حوالہ جات میں نمبر الٹے لکھے ہوئے ہیں۔

والسلام
-----------------------------------------------------------------------------------------
احادیث کے لئے قرآن ہی معیار ہے
ریحان عمر
احادیث کے لئے قرآن ہی معیار ہے
احادیث کے پرکھنے کے لئے سب سے پہلا اصول اور سب سے اہم معیار خود قرآن ہی ہے۔
جو حدیث قرآن کے خلاف یا معارض ہوگی وہ رد کردی جائے گی۔جیسا کہ ضمناً ان عبارتوں سے جو پہلے گزریں ،سے ثابت ہوا کہ قرآن جو قطعی اور یقینی ہے ،اسکے خلاف یا معارض حدیث نہیں ہوسکتی ،جو کہ ظنّی ہے۔اب ہم احادیث اور اقوالِ علماءکو نقل کرتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوگا کہ قرآن ہی اصلِ معیاراور پہلا اصول ہے احادیث کے قبول و رد کا ۔

(ا) امام علی بن محمدالبزدوی الحنفی متوفی٢٨٤ھ
” فاذا روی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی، فما وافق کتاب اللہ تعالٰی فاقبلوہ وما خالفوہ فردوہ۔“
( اگر تم سے کوئی حدیث روایت کی جائے مجھ سے تو اسے کتاب اللہ تعالٰی پر پیش کروتواگر وہ کتاب اللہ کے موافق ہو تو اسے قبول کرلو اور جو مخالف ہو تو رد کردو۔“
( فقہِ حنفی کی مشہور کتاب ’اصولِ بزدوی‘،باب بیان قسم الانقطاع ص٥٧١،میرمحمد کتب خانہ کراچی۔)

(٢) علامہ عبیداللہ بن مسعود المحبوبی الحنفی متوفی ٨٤٧ھ
٭” فقولہ علیہ السلام تکثر لکم احادیث من بعدی فاذاروی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی فما وافق کتاب اللہ تعالٰی فاقبلوہ وما خالفوہ فردوہ۔“
( تو آپ علیہ السلام کا قول کہ میرے بعد تمہارے لئے احادیث کی کثرت ہوجائے گی تو جب اگر تم سے کوئی حدیث روایت کی جائے مجھ سے تو اسے کتاب اللہ تعالٰی پر پیش کروتواگر وہ کتاب اللہ کے موافق ہو تو اسے قبول کرلو اور جو مخالف ہو تو رد کردو۔“
( التوضیح والتلویح،بحثِ سنت،ص٠٨٤)
اس کتاب کے ماتِن صدرالشریعہ عبیداللہ بن مسعود المحبوبی الحنفی ہیں اور ان کا متن ’التوضیح‘ کہلاتا ہے۔اور اسکی تشریح دوسرے مشہور و معروف عالم و متکلم علامہ سعدالدین تفتازانی شافعی متوفی ٢٩٧ھ نے’ التلویح‘ کے نام سے لکھی اور یہ دونوں ’التوضیح والتلویح‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد صدرالشریعہ لکھتے ہیں کہ:
٭” فدلّ ھذا الحدیث علی ان کل حدیث یخالف کتاب اللہ (تعالٰی) فانہ لیس بحدیث الرسول وانما ھو مفتری وکذلک کل حدیث یعارض دلیلاً اقوٰی منہ فانہ منقطع عنہ علیہ السلام لان الادلة الشریعة لا یناقض بعضھا بعضاً وانما التناقض من الجھل المحض۔“
( تو یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ حدیث جو کتاب اللہ کی مخالف ہو ہرگز رسول (اللہ ) کی حدیث نہیں ہے اور وہ افتراءہے اور اسی طرح ہر وہ حدیث جو کسی زیادہ قوی دلیل کے معارض و مخالف ہو وہ بھی آپ علیہ السلام سے منقطع ہے( یعنی صحیح نہیں ) کیونکہ شریعت کے دلائل آپس میں ایک دوسرے کے معارض و مخالف و مناقض نہیں ہوسکتے کیونکہ تناقض تو محض جہل ہے۔)( التوضیح والتلویح ص٠٨٤)

(٣) علامہ حافظ جلال الدین سیُوطی متوفی ١١٩ھ
” بما روی ان النبی قال: ما جاءکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ،فما وافقہ فاَنا قلتہ وما خالفہ فلم اقلہ۔“
” روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ جو حدیث تمہارے پاس آئے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو،اگر اس ( قرآن) کے موافق ہو تو (سمجھوکہ) میں نے ہی کہی ہے اور اگر مخالف ہو تو (سمجھوکہ) میں نے نہیں کہی ۔“
(مفتاح الجنة فی الاحتجاج بالسنة ص١٢)

(٤) ملا علی قاری حنفی متوفی
” (فصل) ومنھا مخالفة الحدیث لصریح القرآن کحدیث مقدارالدنیا وانھا سبعة اٰلاف سنة ونحن فی الالف السابعة وھذامن ابین الکذب۔“
( اور اس(اصولِ حدیثِ موضوع) میں سے ہے کہ حدیث صریحاً قرآن ہی کے مخالف ہو(تووہ موضوع ہوگی) جیسے حدیث ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے اور ہم ساتویں ہزار سال میں ہیں ( اور ابھی تک دنیا بھی ہے لھذا یہ صریحاً غلط ثابت ہوگئی) اور یہ انتہائی کھلا ہوا جھوٹ ہے۔)(موضوعات الکبیر ص٢٦١)
(٥) محمد نظام الدین الشاشی المعروف بہ ملا جیون متوفی
” بقولہ اذا روی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی فما وافقہ فاقبلوہ والا فردوہ۔“
( اور آپ کا قول کہ جب تم سے میری کوئی حدیث بیان کی جائے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو تو جو اسکے موافق ہو قبول کر لو اور جو مخالف ہو اسے رد کردو۔)
( فقہِ اصول حنفی کی مشہور کتاب جو مدارس میں بھی پڑھائی جاتی ہے ’ نورالانوار ص ٥١٢،اور اسکے مصنف ملا جیون مغل بادشاہ عالمگیر کے استادتھے! )
٭ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
” اذا بلغکم منی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ فان وافقہ فاقبلوہ والا فردوہ۔“
( مفہوم وہی جو اوپر گزرا)( مقدمہ تفسیر احمدیہ ص٤، بحوالہ جاءالحق از مفتی احمد یار خان گجراتی ص٤٣)

( ٦) حافظ ابن کثیر متوفی
” وقال ابن جریر حدثنا محمد بن اسماعیل الَحمسی اَخبرنی جعفر بن عون عن عبدالرحمان بن المخارق عن ابیہ المخارق بن سلیم قال قال لنا عبداللہ ھوابن مسعود اذا حدثناکم بحدیث اتیناکم بتصدیق ذلک من الکتاب اللہ تعالٰی۔“
(عبداللہ ابن مسعود نے کہا کہ جب ہم تم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو کتاب اللہ سے اس کی تصدیق بھی لا تے ہیں ۔)( تفسیر ابن کثیر ج٤ ص٩٤٥ ،سورہ فاطر)

(٧) عنایت اللہ سبحانی
٭” اور جو حدیث قرآن کے خلاف ہو وہ کبھی بھی قرآن کی شرح نہیں بن سکتی ۔“(حقیقت رجم ص٦١)
٭” حدیث قرآن کی تشریح ہے لیکن قرآن بھی حدیث کی صحت کےلئے بہترین کسوٹی ہے۔آپ کا ارشاد ہے کہ : تکثر لکم الاحادیث بعدی فاذا روی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ فما وافق فاقبلوہ وما خالف فردوہ ۔“(مفہوم وہی جو کئی بار گزرا)
٭ اسی سے ملتی جلتی ایک حدیث آتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :
’ ما اتاکم عنی فاعرضوہ علی کتاب اللہ فان وافق کتاب اللہ اَنا اقلتہ وان خالف کتاب اللہ فلم اقلہ وکیف اخالف کتاب اللہ وبہ ھدانی اللہ؟۔“( یعنی تمہارے پاس جو کچھ بھی میرے پاس سے آئے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو اگر کتاب اللہ کے موافق ہو تو ہو میں نے ہی کہا ہوگا اور اگر مخالف ہو کتاب اللہ کے تو اسے میں نے نہیں کہا ،اور میں کیسے کتاب اللہ کی مخالفت کرسکتاہوںجبکہ اللہ نے مجھے اسی کے ذریعے ہدایت دی ۔“( امام شاطبی ،الموافقات ج٤ص٣١)
امام شاطبی اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ” اس حدیث کی سند صحیح ہو یا نہ ہو لیکن اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ اپنی جگہ بالکل صحیح ہے۔“( ایضاً ص٠٥١)
٭ حضرت عیسٰی بن ابان (م ٩٤٢ھ) جو ایک بلند پایہ محدث اور ایک بالغ نظر فقیہ تھے اور جو کئی سال تک بصرہ کے قاضی رہے ،انہوں نے بھی اس روایت کی توثیق کی ہے اور اسکی اساس پر انکا مسلک یہ تھا کہ ’ خبر واحد جس کے اندر صحتِ سند کی تمام سندیں اور شرطیں موجود ہوں اسے کتاب ( اللہ) کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہوگا اور اس کی صحت کا آخری فیصلہ اسی کی بنیاد پر ہوگا‘۔“ [المحصول فی علم اصول فقہ از امام رازی] ( بحوالہ حقیقت رجم ص٥١)

(٨) مولانا عبدالماجد دریا آبادی
” خود خبر واحد کے قبول کا معیار یہی ہے کہ وہ کسی نص قرآنی کے مخالف نہ ہو۔“
(تفسیر ماجدی ص٤٢٣ ،سورہ اعراف حاشیہ ٣)
امام ابوبکر جصاص اور امام قرطبی کا حوالہ بھی مولانا نے نقل کیا ہے جسے ہم بھی پہلے نقل کرچکے ہیں لھذا وہاں دیکھ لیا جائے ۔
ّّ
(٩) مولانامفتی محمدشفیع عثمانی دیوبندی
” اور صحیح مسلم میں ایک حدیث ابو ھریرہ کی روایت سے آئی ہے جس میں تخلیق عالم کی ابتداءیوم سبت یعنی ہفتہ کے روز سے بتائی گئی ہے اس کے حساب سے آسمان و زمین کی تخلیق کا سات دن میں ہونا معلوم ہوتا ہے مگر عام نصوص قرآنی میں یہ تخلیق چھہ روز ہونا صراحاً مذکور ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ تخلیق ارض و سماءکے واقعات اور دن اور ان میں ترتیب جن روایات حدیث میں آتی ہے ان میں کوئی روایت ایسی نہیں جس کو قرآن کی طرح قطعی، یقینی کہا جاسکے بلکہ یہ احتمال غالب ہے کہ یہ اسرائیلی روایات ہوں ،مرفوع احادیث نہ ہوں جیسا کہ ابن کثیر نے مسلم اور نسائی کی حدیث کے متعلق اس کی صراحت فرمائی ہے۔اس لئے آیات قرآنی ہی کو اصل قرار دے کر مقصود متعین کرنا چاہیے۔“( معارف القرآن ،ج٧ص٦٣٦ سورہ حٰم) (یعنی اگر کوئی روایت قرآن کے خلاف ہو تو وہ رد کیے جانے کے قابل ہے چاہے صحیح مسلم کی ہی کیوں نہ ہو ۔)

(٠١) مولانا عبدالسلام رستم مردانی
” واعلم قبل جواب ھذا الحدیث ان مسلک ابی حنیفہ اسلم ،فانہ یقدم العمل بالآیة من العمل بالحدیث اذا لم یمکن التوفیق بینھما ویتاول فی الحدیث دون الآیة۔“
( اور جان لے اس حدیث کے جواب سے قبل کہ ابو حنیفہ کا مسلک سلامتی والا ہے کیونکہ وہ آیت پر عمل کو مقدم رکھتے ہیں حدیث کے مقابلے پر جب ان دونوں(قرآن و حدیث)میں توفیق اور تطبیق ممکن نہ ہو، اور آپ حدیث میں تاویل کرتے ہیں بجائے آیت کے ۔)(التبیان فی تفسیر امّ قرآن ص٧٣١)
٭” وایضاًکان ھذاالحدیث مخالفاًعن ظاھرالقرآن الدال علی فوقیتہ تعالٰی علی العرش فلذا اول فی الجامع الترمذی۔“( اور اسی طرح یہ حدیث ظاہرقرآن کے مخالف ہے لھذا جمع ترمذی میں ہی تاویل کی جائے۔)

(١١) امام نسفی متوفی ٠١٧ھ
٭” بقولہ علیہ السلام اذا روی لکم عنی الحدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی فما وافقہ فاقبلوہ والا فردوہ۔“( آپ کا قول کہ،جب تم سے کوئی حدیث بیان کرے میری طرف سے تو اسے کتاب اللہ تعالٰی پر پیش کرو ،اگر موافق ہے تو قبول کرلواوراگرنہیں تو رد کردو۔)( کشف الاسرار علی المنار،ج٢ص٥٨)

(٢١)امام ابوبکر السرخسی
٭” ان کل حدیث ھو مخالف الکتاب اللہ تعالٰی فھو مردود ۔“
( ہر حدیث جو کتاب اللہ کے مخالف ہو مردود ہے)(اصول سرخسی ج١ص٥٦٣)
٭” وما روی من قولہ علیہ السلام فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی۔“
( اورجوقول مروی ہے آپ کا کہ (حدیث کو ) کتاب اللہ پر پیش کرو)(ایضاًج٢ص٦٧)
٭” وبہ نقول ان الخبر الواحد لا یثبت نسخ الکتاب ،لانہ لا یثبت کونہ مسموعاًمن رسول اللہ قطعاًوالھذالایثبت بہ العلم الیقین ،علی ان المرادبقولہ(وما خالفہ فردوہ)۔“
(اور اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ خبر واحد سے کتاب اللہ منسوخ ثابت نہیں ہوتی،کیونکہ یہ بات کہ وہ رسول سے ہی سے سنی گئی ہے ،قطعی نہیں ،لھذا اس سے علم یقین پیدا نہیں ہوتا، آپ کے قول مراد یہی ہےکہ جو مخالف قرآن ہو اسے رد کردو(ایضاً)٭” ولا یجوز ترک ما ھو ثابت فی کتاب اللہ نصاًعندالتعارض۔“
(نص،کتاب اللہ میں جو ثابت ہے اس کو ترک کرنا جائز نہیں ( جب اس کا حدیث سے) تعارض ہو۔)( ایضاً)

(٣١) مولانا حسن بن عمار بن علی حنفی
” قالت (عائشة) کیف یقول رسول اللہ ذلک رد علی الراوی واللہ تعالٰی یقول وما انت بمسمع من فی القبور ،ای فلم یقلہ۔“( حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ’ رسول اللہ کیسے یہ بات کہہ سکتے ہیں‘( کہ مُردوں نے سنا)اور آپ نے یہ راوی پرپر رد کیا ،’ جبکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ آپ مُردوںکو نہیں سنا سکتے‘یعنی آپ نے یہ بات ہی نہیں کی ( کہ مخالفِ قرآن ہوتی)
( مراقی الفلاح شرح النورالایضاح ص٧٠٣)

(٤١)
” کیونکہ فقہ حنفی کے اصول میں ہے کہ استخراج واستنباطِ مسائل کے سلسلے میں قرآن حدیث پر مقدم ہے ،حدیث کا نمبر قرآن کے بعد ہے نہ کہ قرآن سے پہلے ۔لیکن اگر اس کے متعلق کوئی آیت موجود نہیں تو ظاھر ہے کہ اب حدیثِ صحیح کو ہی مستدل بنایا جائے گا اور اگر کسی مسئلے میں احادیث متعارض ہوں تو دین کے ناقلینِ اول صحابہ کرام کے اقوال و افعال کسی ایک کے لئے وجہءترجیح بنیں گے۔“
( رسول اکرم کا طریقہءنماز ص١١)

(٥١)امام ابن ھمام متوفی ١٨٦ھ
”قولہ علیہ السلام فی اھل القلیب ما انتم باسمع بما اقول منھم واجابوا تارة بانہ مردود من عائشة قالت کیف یقول ذلک واللہ یقول وما انت بمسمع من فی القبور ،انک لا تسمع الموتٰی ۔“
( اور آپ کا قول قلیبِ بدر کے متعلق کہ’ تم ان(مُردوں) سے زیادہ نہیں سنتے ہو جو میں ان سے کہتا ہوں ‘اور انہوں نے ایک مرتبہ جواب بھی دیا ،تو یہ رد شدہ ہے حضرت عائشہ سے کیونکہ آپنے فرمایا کہ آپ کیسے یہ قول کہہ سکتے تھے جبکہ اللہ کہتا ہے کہ آپ ان کو(اپنی بات) نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں اور آپ مُردوں کو(اپنی بات) نہیںسنا سکتے۔ )( فتح القدیر ،ج٢ص٩٦)

(٦١) مولانا قاسم نانوتوی بانیءدارالعلوم دیوبند
” واقعی مخالف کلام نہ کہ محدث کا قول معتبر ہے اور نہ ہی کسی منکر کا بلکہ خود حدیث اگر مخالف کلام اللہ ہو تو موضوع سمھجی جائے گی ۔“( تصفیة العقائد ص ٠٢)

(٧١)علامہ ابن قیّم جوزی
” ومنھا مخالفة الحدیث لصریح القرآن کحدیث مقدارالدنیا وانھا سبعة اٰلاف سنة۔“
( اور ( حدیث کے موضوع ہونے کی ایک دلیل)قرآن کی صراحت کے حدیث کا مخالف ہونا ہے جیسے مقدارِ دنیا والی حدیث کہ دنیا کی کل عمرسات ھزار سال ہے۔)( حالانکہ یہ حس و مشاھدہ کے بھی خلاف ہے چہ جائیکہ قرآن)۔( رسالہ المنار ص١٣، نیز موضوعات الکبیر ص٢٦١)

(٨١)یعقوب بن اسحاق کُلینی رازی (اثنا عشری شیعہ)
٭” عن ابوعبداللہ علیہ السلام قال:قال رسول اللہ ان علی کل حق حقیقة وعلی کل صواب نورا فماوافق کتاب اللہ فخذہ وما خالف کتاب اللہ فدعوہ ۔“
(ابوعبداللہ علیہ السلام نے کہا کہ کہا رسول اللہ ہر ایک حق پر ایک حقیقت اور ہر ایک صحیح و صواب پر ایک نور ہوتا ہے تو جو کتاب اللہ سے موافق ہو تو اسے پکڑ لو اورجوکتاب اللہ کے مخالف ہواسے ردکردو۔“( اصولِ کافی،باب الاخذ بالسنةوھواھدالکتاب،ج١ص٨٨)
٭” عن ایوب بن الحر قال: سمعت اباعبداللہ یقول کل شیءمردود الی الکتاب والسنةوکل حدیث لایوافق کتاب اللہ فھو زخرف۔“(اصولِ کافی،ج١ص٩٨)
( ایوب بن حر نے کہا کہ میں نے ابوعبداللہ کوکہتے سنا کہ فرماتے ہں کہ ہرشیءکتاب اورسنت کی طرف پھیری جاےگی اور ہر وہ حدیث جو کتاب اللہ کے موافق نہیں وہ بیکار چیز ہے۔)
٭” عن ابوعبداللہ قال:خطب النبی بمنٰی وقال:ایھاالناس ماجاءکم عنی یوافق کتاب اللہ فانہ قلتہ وماجاءکم یخالف کتاب اللہ فلم اقلہ۔“(ایضاً)
( ابوعبداللہ نے کہا کہ نبی نے منٰی میں خطبہ دیا اورفرمایاکہ اے لوگوں!میری طرف سے تم تک جو بھی (حدیث) آئے جوکتاب اللہ کے موافق ہوتوسمجھوکہ میں نے ہی کہا ہوگااوراگرکوئی (حدیث)کتاب اللہ کے مخالف ائے تو سمجھنا کہ میں نے نہیں کہا ۔)

(٩١)سیدظفرالحسن امروہوی(شیعہ)
” حدیث کی صحت کا معیار یہ ہے کہ وہ اول تو قرآن کے خلاف نہ ہو۔“
( فروعِ کافی کا دیباچہ ،ج١ص٤)

(٠٢)امام دارمی محدث سمرقندی
’باب تاویل حدیث رسول اللہ‘۔عن ابی ہریرةفکان ابن عباس اذاحدث قال:اذاسمعتمونی احدث عن رسول اللہ فلم تجدوہ فی کتاب اللہ اوحسناعندالناس فاعلمواا
¿نی قدکذبت علیہ۔“ (سنن دارمی ج١ص٤٥١،قدیمی کتب خانہ کراچی)
(یعنی امام دارمی نے باب قائم کیا ہے’حدیث رسول اللہمیں تاویل‘اس کے تحت لکھتے ہیں کہ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس جب حدیث بیان کرتے توکہتے :جب تم مجھ سے کوئی حدیث سنواور تم اسے کتاب اللہ میں نہ پاو یا وہ لوگوں کے نزدیک وہ اچھی چیزنہ ہو(یعنی معروف نہ ہو)توسمجھوکہ میں نے آپ پر جھوٹ باندھا۔)(یعنی میں نے غلط کہاکیونکہ اس کا امکان نہیں کہ آپ پر آپ جھوٹ باندھیں مگر اس پر تنبیہ کے لیے ایسا فرمایا)

(١٢)امام سخاوی
ملاعلی قاری اپنی ’موضوعات الکبیر‘میں امام سخاوی کا قول بھی یہی قول کرتے ہیں کہ ’ہمارے شیخوں کے شیخ شمس الدین نے ’مقاصد الحسنة فی بیان الاحادیث المشتھرة علی الالسنة‘کے خاتمہ میں کہاکہ(موضوع حدیث ہونے کی علامت )میں سے یہ بھی ہے کہ حدیث صریح قرآن کے مخالف ہو ۔‘(موضوعات الکبیر،فصل ٣١ص٦٢٣۔قدیمی کتب خانہ کراچی)
(ختم شد معیار حدیث، قرآن)


-------------------------------------------
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-10-10)
پرانا 17-12-09, 11:38 AM   #51
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سھج سلام ،

بہت شکریہ کہ آپ کو یہ سمجھ میں آگیا کہ معاملہ نہ محدثین کا ہے اور نہ ہی کتب کا۔ معاملہ صرف اور صرف خلاف قرآن اور موافق القرآن روایات کا ہے۔

اگر ہم ان کتب پر کامل ایمان لے آئیں تو پھر وہ روایات جو قران حکیم کی تکفیر کرتی ہیں وہ بھی درست ہوجائٰیں گی۔۔۔ لہذا یہ کہنا کہ ایک روایت ، جاہے و ہ قرآن کی تکفیر کرتی ہے، اگر کسی کتاب میں پائی جاتی ہے تو صحیح‌ہے۔ ایسا کرنا کیا درست ہے؟

اس سوال کا جواب ضرور دیجئے ، کسی مزید سوال کرنے سے پیشتر۔




-------------------------------------------
آپ کے سوال کا مختصر جواب حاضر ھے میرا ایمان ھے کتاب اللہ پر اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام احادیث پر ،
قرآن کے علاوہ جب کسی اور کتاب کا نام لیا جاتا ھے یا حوالہ دیا جاتا ھے تو صرف اس لئے کہ معلوم ھو سکے کہ حدیث کس کتاب میں لکھی ہے تاکہ اگر تحقیق کرنا مقصود ھو تو کر سکیں،

اب میں نیا سوال کرنے لگا ھوں ،
برائے مہربانی مختصر جواب دیجئے گا
شکریہ
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
عادل سہیل (18-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10)
پرانا 17-12-09, 11:52 AM   #52
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,904
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,609 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ جواب گول کرگئے بھائی سھج۔

سوال یہ ہے کہ کیا خلاف قرآن روایات پر بھی ایمان رکھنا ہے، صرف اس لئے کہ وہ ان میں سے کسی کتاب میں پائی جاتی ہیں؟

واضح جواب دیجئے۔
والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-10-10)
پرانا 17-12-09, 11:54 AM   #53
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قرآن میں مردہ، خون، سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور حرام قرار دیا گیا ہے
اور بہیمۃ الانعام حلال کیا گیا ہے۔
بہیمۃ الانعام کی تفسیر قرآن میں ان جانوروں سے کی گئی ہے۔
اونٹنی، اونٹ، گائے، بیل، بکری، بکرا، بھیڑ اور مینڈھا، لغت میں بھی بہیمۃ الانعام کی فہرست میں یہی جانور بتائے گئے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ان کے علاوہ دنیا کے بقیہ جانور حلال ہیں یا حرام؟
مثلا،بھینس کتا، بلی، گیدڑ، بھیڑیا، چیتا، شیر، تیندوا، بندر، ریچھ، ہرن، چیتل، سانبھر، بارہ سنگھا، بھینسا، خرگوش، کوا، چیل، باز، شکرہ، کبوتر، مینا، فاختہ وغیرہ وغیرہ۔
یہ سارے جانور حلال ہیں یا حرام؟
یا ان میں سے کچھ حلال ہیں اور کچھ حرام؟

آپ جو جواب بھی دیں اس کا ثبوت قرآن سے پیش کریں۔ آپ کی عقلی تک بندیاں نہیں مانی جائیں گی،
یعنی آپ چونکہ دعویدار ہیں کہ ہر مسئلہ قرآن میں موجود ہے،اور احادیث بھی قرآن سے پرکھی جائیں تو ایسا تو ھو نہیں سکتا کہ کسی مردار اور حرام کا واضع زکر قرآن میں نہ ھو اور جس کو ہم حدیث سے پرکھ نہ سکیں یا حدیث کو قرآن سے، اب کچھ جانور ایسے ہیں جو حدیث کی رو سے حرام ہیں لیکن قرآن میں ان کی حرمت نہیں ملتی، اس لئے ان جانوروں میں سے جس کو حلال مانیں اس کے حلال ہونے کا ثبوت قرآن سے دیں۔ اور جس کو حرام مانیں اس کے حرام ہونے کا ثبوت قرآن سے دیں۔ اور اگر قرآن سے نہ دے سکیں ( اور یقینا نہیں دے سکیں گے ) تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن میں ہر مسئلہ بیان نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ ساتھ حدیث کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ان جانوروں کے حلال و حرام ہونے کا قاعدہ حدیث میں بیان کر دیا گیا ہے جس سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ کون سا جانور حلال ہے اور کون سا حرام۔
اور آپ کہتے ہیں کہ حدیث کو قرآن سے پرکھنا ضروری ہے تو جب قرآن میں کسی حکم کا ذکر ہی نہ ہو تو اس حکم سے متعلق حدیث کو کیسے پرکھیں گے؟؟؟
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
پرانا 17-12-09, 12:02 PM   #54
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
آپ جواب گول کرگئے بھائی سھج۔

سوال یہ ہے کہ کیا خلاف قرآن روایات پر بھی ایمان رکھنا ہے، صرف اس لئے کہ وہ ان میں سے کسی کتاب میں پائی جاتی ہیں؟

واضح جواب دیجئے۔
والسلام
حدیث اگر سہی ہے اور اس کو صاحب علم حضرات صحیح قرار دیتے ہیں تو میرا اس حدیث پر ایمان ھے، (، نہ کہ کتاب پر، )
چاھے وہ حدیث بقول آپ کے "خلاف قرآن" ہی کیوں نہ ھو، کیوں کہ میرا ایمان ھے کہ قرآن میں ھر ھر مسئلے کا بیان نہیں ، تو جس مسئلے کا بیان قرآن میں نہیں اس کے بارے میں رہنمائی حدیث سے لی جاتی ھے،
امید ہے تشفی ھو گئی ھو گی،
شکریہ

Last edited by sahj; 17-12-09 at 12:04 PM.
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (18-12-09)
پرانا 17-12-09, 12:06 PM   #55
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
راجا بھائی اگرچہ آپ کی تحریر سے میری مکمل تشفی نہیں ہوسکی مگر میں‌آپ کی تحریر کے بعض مندرجات سے اتفاق کرتا ہوں۔
فقہ اسلامی کئی مسائل مثلاً "سزائے رجم" یتیم پوتے کی وراثت، حلالہ اور تین طلاق کا ایک ہی وقت میں‌موثر ہونا وغیرہ علماء کی ایک جماعت کے نزدیک متنازعہ فیہ ہیں۔
یہ بحث شاید اس فورم پر نئی ہو مگر علماء کی محافل میں‌شرکت کرنے کی برکت سے میں بقلم خود ایسی کئی محافل میں‌شرکت کرچکا ہوں اور بڑے بڑے فاضل علماء کے ان مسائل کی تائید اور تردید میں‌ دلائل سُنے ہیں۔
آپ سزائے رجم کا انکار کرنے والوں پر کسی قسم کا حکم نا لگائیں!
برادرم اس موضوع پر تشفی تو علماء کرام کی تفصیلی آراء ہی سے ہو گی، جنہیں اسلامی علوم میں ید طولی حاصل ہے،
میں تو ایک طالب علم ہوں بس کوشش ہوتی ہے اپنی محدود معلومات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک انداز فکر اور زاویہ نگاہ دے کر سوچنے اور فکر کرنے کی دعوت دوں۔ حکم لگانا تو میرا کام ہی نہیں اورنہ میں‌اس کا اہل ہوں۔

ہدایت رب کے ہاتھ میں‌ہے جسے چاہے عطا کرے
اللہ تبارک و تعالی سے میرے لئے ہدایت اور شرح صدر کی دعا مانگا کیجئے

محتاج اصلاح و دعا
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-09), عادل سہیل (18-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10)
پرانا 17-12-09, 12:22 PM   #56
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 464
کمائي: 15,915
شکریہ: 282
372 مراسلہ میں 1,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
ما شا اللہ۔ تمام دوست بہت بہترین طریقے سے قیمتی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔قرآن مجید اوردین کی شرح و وضاحت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض نبوت میں سے ایک فرض تھا۔ یہ با ت یقینا واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کچھ نہ کچھ تو سکھایا ہی ہوگا۔ نبوت ملنے کے بعد آپ تقریبا 23 سال زندہ رہے۔ ان سالوں کے ہر ہر لمحے میں آپ نے کچھ کیا،کچھ الفاظ ارشادفرمائے۔ اور ان سب چیزوں کو انھی صحابہ کرام نے آگے روایت کیا جنھوں نے قرآن مجید کو ہم تک پہنچایا۔ اگر ہم ان کے تواتر سے ہم تک پہنچنے والے قرآن کو مانتے ہیں تو یہ بات بھی تسلیم کر لینی چاہیے کہ ان کے ذریعے سے نبی کریم کی زندگی کے کچھ احوال بھی ہم تک پہنچے ہیں۔ اس لیے سارے کے سارے ذخیرہ حدیث کو یک قلم مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ ہم حدیث کا انکار کر کے ایک طرح سے ان صحابہ کی عدالت اور صداقت کا بھی انکار کررہے ہیں۔
البتہ فاروق بھائی کی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ احادیث کی کتب میں بہت سی موضوع روایات بھی شامل ہو چکی ہیں۔ اسلام نے ہمیں تحقیق اور تفتیش کا اصول دیا ہے۔ لہٰذا کسی بھی چیز کو بغیر سوچے سمجھے حٍضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کردینا بھی درست نہیں ہے۔کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ جو مجھ سےجان بوجھ کرجھوٹ منسوب کرتا ہے اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس فرقان ، قرآن حکیم ہی ہے۔ جو روایت قرآن کے مطابق ہے اسے تسلیم کرنا چاہیے اور جو قرآن مجید کے مطابق نہیں ہے اسے تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ کسی ایسی چیز کو حضور سے منسوب کردینا جسے عقل عام بھی قبول نہ کرتی ہو، ایک بہت بڑی جسارت ہے اور گناہ عظیم ہے۔
__________________
عابد
گوندل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-09), فاروق سرورخان (17-12-09), عادل سہیل (18-12-09)
پرانا 17-12-09, 02:41 PM   #57
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گوندل مراسلہ دیکھیں
جو روایت قرآن کے مطابق ہے اسے تسلیم کرنا چاہیے اور جو قرآن مجید کے مطابق نہیں ہے اسے تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ کسی ایسی چیز کو حضور سے منسوب کردینا جسے عقل عام بھی قبول نہ کرتی ہو، ایک بہت بڑی جسارت ہے اور گناہ عظیم ہے۔
السلام علیکم
گوندل صاحب معزرت کے ساتھ ، کیا کبھی غور کیا ھے آپ نے کہ گدھا کیوں حرام ھے؟(نہ اس بے چارے کے پنجے ہیں، نہ اسکے لمبے لمبے دانت ہیں، نہ وہ شکار کرتا ھے،خون بھی نہیں پیتا بلکہ گوشت بھی نہیں کھاتا) قرآن میں تو نہیں لکھا ھوا ہاں حدیث موجود ھے،
اور قرآن پاک سے بقول شخصے " متصادم" ھے یہ حدیث؟
اب کوئی مجھے بتا دے کہ گدھا کیوں نہیں کھاتے وہ لوگ ؟
یا تو اعلانیہ لکھ دیں کہ وہ گدھا کھاتے ہیں ، اور اس حدیث کو نہیں مانتے،
باقی رہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام جھوٹی حدیث منسوب کرنا تو جناب جھوٹی حدیث بنانے والا ماننے والا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کو جھوٹ کہنے والا بھی عظیم گناہ کا مرتکب ھے،ظالم ھے ،

فاروق صاحب سے آج صبح 11:54 اے ایم پر ایک سوال پوچھا تھا اور اب 2:40 پی ایم ھوچکے ہیں ،
جواب کا انتظار ھے
شکریہ

Last edited by sahj; 17-12-09 at 03:16 PM.
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (17-12-09), گوندل (17-12-09), راجہ اکرام (17-12-09), عادل سہیل (18-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10)
پرانا 17-12-09, 03:28 PM   #58
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,110
شکریہ: 12,550
4,513 مراسلہ میں 15,385 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کنعان سلام،

قرآن حکیم صرف دو ہی جرائم کی سزا موت کا حکم دیتا ہے۔ ایک قتل اور دوسرا فساد فی الارض اللہ۔ آپ نے فساد فی الارض اللہ کی آیت پوسٹ کی ۔ بہت شکریہ۔ یہ اس موضوع سے قطعاً تعلق نہیں رکھتی۔ جو کچھ آج طالابن اور القاعدہ ، مرکزی حکومت کے خلاف پاکستان میں کررہے ہیں وہ ہے فساد فی الارض اللہ۔

یہ موضوع ہے زنا کا جس کے بارے میں بہت ہی واضح احکام اللہ تعالی نے دئے ہیں۔ حوالہ سحج فراہم کرچکے ہیں۔ بہر صورت۔ آپ کا شکریہ۔

والسلام

السلام علیکم جناب من


پوری آیت کو پڑھیں

""بیشک جو لوگ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں""

جناب من آپ جو بھی غلط کام کرتے ہیں تو یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ ہی ھے۔ آپ کی نظر میں زنا کرنا زمین میں فساد نہیں ھے، ہر برا کام جس کی قرآن اور حدیث میں ممانعت فرمائی ھے وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ ہی ھے اور زمین میں فساد ہی ھے۔
اب آپ فساد کو صرف لڑائی جھگڑا کہتے ہیں تو اس پر کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔

اور جو عبارت بریکٹ میں ھے جس پر آپ فساد کو ہی اہمیت دے رہے ہیں تو اس میں فساد پر پوری ڈکٹشنری تو نہیں لکھی جا سکتی تھی اس میں وغیرہ کا لفط جب لگ جاتا ھے تو اس میں ہر عیب جو یہاں نہیں لکھا گیا اسے ڈکٹشنری میں دیکھا جا سکتا ھے۔
""(یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں)""

باقی اس پوری آیت میں تمام بڑی سزائیں اور شہر و ملک بدر تک کا بھی حکم ھے
میرا کام تھا آپ کو قرآن سے آیت دکھانا ھدایت دینا اللہ کا کام ھے

والسلام


انما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الارض فسادا ان يقتلوا او يصلبوا او تقطع ايديهم وارجلهم من خلاف او ينفوا من الارض ذلك لهم خزي في الدنيا ولهم في الاخرة عذاب عظيم إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُواْ أَوْ يُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلاَفٍ أَوْ يُنفَوْاْ مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

بیشک جو لوگ ﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں
اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں
(یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں)
ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں
یا پھانسی دیئے جائیں
یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں
یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیئے جائیں۔
یہ (تو) ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے
اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے

سورۃ المائدہ 5 ، آیت نمبر 33
__________________


کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
sahj (17-12-09), ضِرار Derar (11-10-10), عادل سہیل (18-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10)
پرانا 17-12-09, 07:45 PM   #59
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,904
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,609 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
قرآن میں مردہ، خون، سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور حرام قرار دیا گیا ہے
اور بہیمۃ الانعام حلال کیا گیا ہے۔
بہیمۃ الانعام کی تفسیر قرآن میں ان جانوروں سے کی گئی ہے۔
اونٹنی، اونٹ، گائے، بیل، بکری، بکرا، بھیڑ اور مینڈھا، لغت میں بھی بہیمۃ الانعام کی فہرست میں یہی جانور بتائے گئے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ان کے علاوہ دنیا کے بقیہ جانور حلال ہیں یا حرام؟
مثلا،بھینس کتا، بلی، گیدڑ، بھیڑیا، چیتا، شیر، تیندوا، بندر، ریچھ، ہرن، چیتل، سانبھر، بارہ سنگھا، بھینسا، خرگوش، کوا، چیل، باز، شکرہ، کبوتر، مینا، فاختہ وغیرہ وغیرہ۔
یہ سارے جانور حلال ہیں یا حرام؟
یا ان میں سے کچھ حلال ہیں اور کچھ حرام؟

آپ جو جواب بھی دیں اس کا ثبوت قرآن سے پیش کریں۔ آپ کی عقلی تک بندیاں نہیں مانی جائیں گی،
یعنی آپ چونکہ دعویدار ہیں کہ ہر مسئلہ قرآن میں موجود ہے،اور احادیث بھی قرآن سے پرکھی جائیں تو ایسا تو ھو نہیں سکتا کہ کسی مردار اور حرام کا واضع زکر قرآن میں نہ ھو اور جس کو ہم حدیث سے پرکھ نہ سکیں یا حدیث کو قرآن سے، اب کچھ جانور ایسے ہیں جو حدیث کی رو سے حرام ہیں لیکن قرآن میں ان کی حرمت نہیں ملتی، اس لئے ان جانوروں میں سے جس کو حلال مانیں اس کے حلال ہونے کا ثبوت قرآن سے دیں۔ اور جس کو حرام مانیں اس کے حرام ہونے کا ثبوت قرآن سے دیں۔ اور اگر قرآن سے نہ دے سکیں ( اور یقینا نہیں دے سکیں گے ) تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن میں ہر مسئلہ بیان نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ ساتھ حدیث کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ان جانوروں کے حلال و حرام ہونے کا قاعدہ حدیث میں بیان کر دیا گیا ہے جس سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ کون سا جانور حلال ہے اور کون سا حرام۔
اور آپ کہتے ہیں کہ حدیث کو قرآن سے پرکھنا ضروری ہے تو جب قرآن میں کسی حکم کا ذکر ہی نہ ہو تو اس حکم سے متعلق حدیث کو کیسے پرکھیں گے؟؟؟
آپ جواب گول کرگئے بھائی سھج۔ بلکہ ان تاویلات کی روشنی میں آپ نے ایک مسلمہ اصول کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔
مجھے تاویلات نہیں دیجئے۔ مجھے صرف یہ بتائیے کہ یہ اصول درست ہے یا نہیں۔ خاص طور پر جب آپ دیکھ رہے ہیں‌کہ یہاں ایک ایسی روایت موجود ہے جو قرآن کی آیت کو جھٹلاتی ہے۔


سوال یہ ہے کہ کیا خلاف قرآن روایات پر بھی ایمان رکھنا ہے، صرف اس لئے کہ وہ ان میں سے کسی کتاب میں پائی جاتی ہیں؟

واضح جواب دیجئے۔ مجھے تاویلات نہ دیجئے ۔ پلیز ذہن میں رکھئے کہ آپ کے اس سوال کے جواب کے بعد ہی میں آپ کے گدھا کوا وغیرہ کے حلال یا حرام کے بارے میں جواب دوں گا۔ وعدہ ہے کہ مدلل جواب دوں گا جس سے آپ کی تشفی ہوجائے گی۔


والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 17-12-09 at 07:58 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-10-10)
پرانا 17-12-09, 07:53 PM   #60
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,904
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,609 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم جناب من
جناب من آپ جو بھی غلط کام کرتے ہیں تو یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ ہی ھے۔ آپ کی نظر میں زنا کرنا زمین میں فساد نہیں ھے، ہر برا کام جس کی قرآن اور حدیث میں ممانعت فرمائی ھے وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ ہی ھے اور زمین میں فساد ہی ھے۔
اب آپ فساد کو صرف لڑائی جھگڑا کہتے ہیں تو اس پر کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔
ہر غلط کام کو آپ نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ قرار دے دیا؟

بھائی جنگ جنگ ہوتی ہے۔ زنا نہیں۔
بھائی اسی کو انتہا پسندی کہتے ہیں کہ جب بھی کسی نے کوئی بھی غلط کام کیا تو اس کو سزائے موت دی دی۔ یہی "اختلاف کی سزا موت" کے فلسفے کی بنیاد ہے۔ فساد فی الارض اللہ کی بہت صاف اور واضح تعریف موجود ہے۔ مسلم مرکزی حکومت کے خلاف غداری اور اس سے جنگ فساد فی الارض اللہ ہے۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالی زنا پر سو دروں کی سزا کا حکم نہ دیتے۔ کہاں کی کہاں ملانا ایک درست عمل کس طرح قرار پاسکتا ہے۔ اللہ تعالی کی کتاب کی پیروی کیجئے، اپنی خواہشات کی پیروی نہ کیجئے۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
ہونے, کردیا, پتھر, یہودی, قائم, قرآن, قرآن حکیم, نیوز, موت, محمد, مطابق, افراد, الزام, از, اسے, بذریعہ, ثابت, جنگ, حکم, شہر, شادی, شخص, عدالت, عدالتی, صومالیہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
رسمِ نکاح اور شریعت کی مخالفت Hina4malik کتاب گھر 1 30-12-10 05:26 PM
شریعت اور طریقت۔۔۔ معارض یا معاون راجہ اکرام اسلامی نظریہ حیات 45 21-12-10 01:42 PM
رسم نکاح اور شریعت کی مخالفت ابن آدم شادی / منگنی کی تقریبات اور انتظامات 13 01-12-10 06:14 PM
ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارا کوئی اصول نہیں فیصل ناصر عمومی بحث 36 08-10-09 04:03 AM
احکام شریعت ۔۔۔۔۔ مجاہد حسین اسلامی عقیدہ 1 11-03-08 06:10 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger