| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
|
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
درندگی,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی
ہلے صوبہ سرحد کے سینئر وزیر، بشیر بلور نے راگ الاپا اور پھر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے تان اٹھائی کہ ”دہشت گردی پھیلانے والے انسان نہیں درندے ہیں اور درندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی“۔ حاکمانہ جلال اور حکیمانہ جمال کے حامل اس اعلان سے کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔ بلا شبہ وہ لوگ انسانیت کے زمرے سے خارج ہیں جو معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں، انسانی لہو سے اپنی پیاس بجھاتے اور غارت گری سے آسودگی حاصل کرتے ہیں۔ ہم تو اس دین کے پیروکار ہیں جس نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ سو دہشت گردی بہرحال درندگی ہے اور اسے اس نام سے پکارا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن بشیر بلور کی بے کراں دانش اور یوسف رضا گیلانی کی لامحدود حکمت و بصیرت کے تمام تر احترام کے باوجود، جان کی امان پاؤں تو ایک چھوٹا سا سوال پوچھ لوں، یہ جو کچھ سات سمندر پار سے آیا ایک سفید فام عفریت کررہا ہے، انسانیت کی لغت میں اسے کیا کہتے ہیں؟ آٹھ سال پہلے انہی دنوں امریکہ کے خونخوار طیارے ہمارے ہی ہوائی اڈوں سے اڑے اور لگا تار ایک ہفتہ تک افغانستان پر کارپٹ بمباری کرتے رہے۔ لاتعداد بستیاں زمین کا پیوند ہوگئیں۔ ان گنت انسانوں کے پرخچے اڑ گئے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر ڈھلوانوں، گھاٹیوں، وادیوں اور میدانوں میں چار سو لہو کے جھرنے پھوٹنے لگے۔ کسی نے کوئی گوشوارہ مرتب نہیں کیا کہ ان آٹھ برسوں کے دوران کتنے معصوم، امریکی قہر کا نشانہ بن گئے۔ کیا یہ سب کچھ درندگی نہیں؟ مسجدیں محفوظ رہیں نہ اسپتال، باراتیں میزائلوں کا لقمہ ہوگئیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں گیت گاتی بچیاں آن واحد میں بھسم کردی گئیں۔ بلور صاحب اور گیلانی صاحب کو شاید یاد نہ ہو کہ قلعہ جنگی میں کیا ہوا تھا؟ کس طرح زنداں میں پڑے افغانوں کو امریکی فوجیوں نے یوں تاک تاک کر نشانہ بنایا جیسے کوئی منچلا پنجروں میں بند پرندوں کو شکار کرتا ہے، قندوز سے گرفتار کئے جانے والوں کو رسیوں سے باہم جکڑ کر فولاد کے ہوا بند کنٹینروں میں یوں ٹھونس دیا گیا کہ وہ تڑپ تڑپ کر مرگئے۔ ان کی مڑی تڑی بے کفن لاشوں کو لمبے گڑھے کھود کر دشت لیلیٰ کی ریت میں دبا دیا گیا۔ کابل و قندھار کی کم نصیب سرزمین گزشتہ آٹھ برس سے بہیمانہ درندگی کی آندھیوں میں گھری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 2002ء کے اواخر میں بتایا تھا کہ ایک سال کے دوران امریکی بمبار طیاروں نے پاکستان کے ہوائی اڈوں سے ستاون ہزار آٹھ سو اڑانیں بھریں۔ تصور کیجئے، آٹھ برس کے دوران کتنے حملے ہوچکے ہوں گے؟ کیا یہ طیارے افغان عوام پر گلاب اور موتئے کی کلیاں برساتے ہیں؟ اب تو کئی مسلمہ بین الاقوامی ادارے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ثابت کرچکے ہیں کہ افغانستان میں انتہائی بے دردی کے ساتھ کیمیائی ہتھیار استعمال کئے گئے اور کئے جا رہے ہیں۔ فاسفورس اور دوسرے کیمیائی مواد کے استعمال سے بچے خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں لیکن کون ہے جو ان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھے؟ کسے فرصت ہے کہ وہ یتیم ہوجانے اور روٹی کے دونوالوں کے لئے ٹھوکریں کھانے والے بچوں کو شمار کرے۔ کس کے پاس وقت ہے کہ بیوہ ہوجانے والی ان بے یار و مددگار خواتین کے اعداد و شمار مرتب کرلے جن کی زندگیاں، نوحے بن کر رہ گئیں؟ کون ان ماؤں کے آنسو پونچھے جو اپنے جوان بیٹوں کی قبروں کا تعویز ہو کے رہ گئیں؟ آٹھ برس سے ہمارے گھر سے جڑے گھر میں یہ حشر بپا ہے۔ بشیر بلور اور یوسف رضا کو امریکہ اور نیٹو کی افواج قاہرہ دکھائی نہیں دے رہیں۔ وہ سات سمندر پار سے آئے سفاکوں سے پوچھنے کا یارا نہیں رکھتے کہ دور دیس سے آنے والے غارت گرو! اس اجڑی بستی کو مزید کیوں اجاڑ رہے ہو؟ ان آفت زدہ افتادگان خاک پر مزید آفتیں کیوں ڈھا رہے ہو؟ انہوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ نائن الیون کے نام نہاد ملزموں میں تو ایک بھی افغانی نہیں؟ تم نے غربت کے مارے ان تہی داماں لوگوں کا عرصہ حیات کیوں تنگ کردیا ہے؟ بلور اور گیلانی اقتدار کے دسترخوان پہ بیٹھے ہیں اور وہ اس اقتدار کو امریکی پشت پناہی کا ثمر خیال کرتے ہیں۔ کل تک اے این پی پختونوں کے حقوق کی پرچم بردار تھی۔ پاکستان ان کے لئے سامراج کا ایجنٹ تھا۔ باچا خان نے اپنی قبر کے لئے بھی ڈیورنڈ لائن سے اس پار کی خاک کو پسند کیا۔ اے این پی ان کی میت افغانستان دفنا آئی۔ تیس سال قبل روس نے اپنے درندوں کے غول افغانیوں پر چھوڑ دیئے تو اے این پی افغانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بھلا کر روسیوں کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ اس کے کرتے دھرتے ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے کہ کب افغانستان روسیوں کے قبضے میں جاتا اور کب سرخ سویرے کا کارواں انقلاب کے ترانے گاتا، پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ تب وہ اٹھتے بیٹھتے امریکی سامراج، کو گالیاں دیتے اور روسی یلغار کے خلاف افغانوں کی جنگ حریت کو ”امریکہ کی جنگ“ قرار دیتے تھے۔ آج وہی امریکی سامراج کروسیڈ کے جھنڈے لہراتا افغانوں کے گلے کاٹ رہا ہے، ان کی بستیاں کھنڈر کررہا ہے، ان کی آنے والی نسلوں کے لہو میں مہلک کیمیائی مواد بو رہا ہے اور افغان حقوق کے یہ چیمپئن، اسی امریکی سامراج کے کندھے سے کندھا ملائے افغانوں کے سینے چھلنی کررہے ہیں۔ انہیں اپنے آس پاس کے ”دہشت گردوں“ کی درندگی نظر آ رہی ہے اور وہ ان درندوں“ سے بات تک کرنے کے روا دار نہیں، لیکن صبح شام رنگا رنگ ٹی وی مائیکس کے سامنے کھڑے ہو کر ”انسانیت“ کے خطبے دیتے ان پیران امن کو ان گورے لشکروں کی درندگی نظر نہیں آتی جو پندرہ لاکھ عراقیوں کا لہو پینے کے بعد افغانستان کو اپنے ہلاکت آفریں ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں۔ جن کے ڈرون ہر روز ہماری بستیوں پر میزائل برساتے اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے ہیں۔ ان سفید فام درندوں سے ہاتھ ملانا ان کے لئے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز و اکرام ہے، ان درندوں کے خون آلود پنجوں پہ بوسے دینا وہ سعادت خیال کرتے ہیں، ان درندوں کے پاؤں پہ سر رکھنا ان کے لئے دنیوی اور اخروی نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ نہ صرف اس کی درندگی کو درندگی نہیں کہتے بلکہ اس کی غلامی کو ماتھے کا جھومر بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ مل کر افغانوں کا ہانکا لگاتے اور شکار گاہ کی طرف لے کے آتے ہیں تاکہ گورے آقا نشانہ بازی کا ہنر آزماسکیں۔ انہیں ابو غریب، بگرام اور گوانتا نامو کی کوئی کہانی یاد نہیں۔ ”انسانیت“ کے ان پرچم برداروں اور ”درندوں“کے خلاف علم جہاد بلند کرنے والوں کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ ان کی ایک بیٹی پر کیا گزر رہی ہے جس کا نام عافیہ ہے اور جسے تلاشی کے نام پر روز برہنہ ہونے اور قرآن کریم پر پاؤں رکھ کر دہلیز تک جانے کا حکم ملتا ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کسی درندگی کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ بشیر بلور صاحب اور یوسف رضا صاحب! بجا کہ معصوم انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے انسان نہیں درندے ہیں۔ تسلیم کہ درندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی لیکن کیا انسانیت اور درندگی کے معیار بدلتے رہتے ہیں؟سوات اور وزیر ستان کے درندوں کے نامہ اعمال کی تیرگی، واشنگٹن اور لندن کے درندوں کی زلف میں پہنچ کر حسن کیوں بن جاتی ہے؟ درندگی,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی |
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (18-11-09), shafresha (22-01-10), نیلم خان (23-11-09), محمدعدنان (20-11-09), مزمل فاروق (19-11-09), مسافر (26-11-09), اخترحسین (20-11-09), بلال الراعی (24-09-11), حیدر (27-11-09), حسنین ایوب (27-11-09), راجہ اکرام (19-11-09), سحر (19-11-09), عامرشہزاد (19-11-09), عادل سہیل (24-11-09) |
|
|
#46 | ||
|
Senior Member
مقبول
|
اقتباس:
پہلے آپ بھی یہ حقائق پیش کریں کہ ملک میں ہونے والی ہر دہشت گردی کے پیچھے طالبان کا ہاتھ ہے امریکہ کی سپریم کورٹ میں کیا لکھا ہے اور کیا نہیں یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے افغانی عراقی اور پاکستانی عوام کے خون کی جو ہولی امریکی ایما پر کھیلی جارہی ہے ہماری مذمت اس پر ہے پالیسی بیان اور عمل کی تضادیت آپ کو نظر آئے نا آئے ہمیں تو دکھتی ہے آسمان سے اترے ہوئے فرشتہ صفت امریکی فوج کا کردار تو گوانتاناموبے اور ابو غریب جیل نے ہی بڑی حد تک سمجھا دیا ہے اقتباس:
فلسفہ بھگارنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے آخر آپ بھی خوب بھگارتے ہیں ہاں حقیقت کسی کے کہنے سے یا پالیسی بیان دینے سے تبدیل نا ہوگی یہ بات میں مانتا ہوں Last edited by شاہ; 22-11-09 at 06:35 PM. |
||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شاہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#47 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
امریکی سپریم کورٹ میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مزعومہ تصویر/مجسمہ نصب ہونا ارب ہا مسلمانوں کے لیے فخر نہیں شرم کا باعث ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو قانون دان تسلیم کر لینا مطلوب نہیں بلکہ ان پر صدق دل سے ایمان مطلوب ہے۔ آپ سے پہلے بھی گزارش کی تھی کہ ہمیںقرآن کی وہ آیتیںفراہم کریں جن میں یہود و نصاریٰ کی اسلام دشمنی کے تذکرے ہیںلیکن معلوم نہیںآپ کیوں اس سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (23-11-09), فاروق سرورخان (25-11-09), راجہ اکرام (13-12-09), طاھر (25-11-09), عادل سہیل (24-11-09) |
|
|
#48 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ وہ حقائق جوآپ کے محبوب امریکیوں نے آپ کو دکھائے ہیں وہ حقائق آپ یہاں دکھا کر ان لوگوں کے لیے کچھ نرم گوشے حاصل کرنا چاہتے ہیں ،
ان شا اللہ اس میں آپ کو کامیابی ہونے والی نہیں ، آپ اُن کے پڑھائے ہوئے حقائق رٹیے اور لوگوں کو ان کے ذریعے دھوکہ دینے کی کوشش کرتے رہیے ، ہمیں اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے فرماین مبارکہ ، اور اللہ تعالیٰ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین مبارکہ بہت ہیں ، جن پر آپ کا ایمان نہیں ہے ، ((((( لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّهِ فِي شَيْءٍ إِلاَّ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّهِ الْمَصِيرُ ::: ایمان والے ، ایمان والوں کی بجائے کافروں کو دوست مت بنائیں اور جس نے ایسا کیا تو وہ اللہ کی طرف سے کسی بھی چیز میں نہیں ہے (یعنی اللہ کے ہاں اس کی کوئی قدر و حیثیت نہیں ہے ) سوائے اس کے کہ تم لوگ ان سے محفوظ رہنے کے لیے کچھ ڈھال بناو اور اللہ تُم لوگوں کو اللہ ہی (کی گرفت ) کے بارے میں تنبیہہ کرتا ہے اور اللہ کی طرف ہی جانا ہے ))))) سورت آل عمران / آیت 28 اور ((((( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ::: اے ایمان لانے والو یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست مت بناؤ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں (تمہارے نہیں ) اور تُم لوگوں میں سے جو کوئی ان کو دوست بنائے گا تو بے شک وہ انہی میں سے ہے ، بے شک اللہ ظالم کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا ))))) سورت المائدة/ آیت51 ، فاروق صاحب آپ اپنی دوستی اور ولایت نبھایے ہم اپنے اللہ کی بات مانتے ہیں ، کسی خود ساختہ جھوٹی قران فہمی کا شکار ہوئے بغیر ، وللہ الحمد ، فاروق صاحب بھتیجے عبداللہ کے کہنے پرآپ نے یہود و نصاریٰ کی اسلام اور مسلمان دشمنی کی آیات تو پیش نہیں کی اور نہ ہی کر سکتے ہیں ، کیونکہ آپ میں اتبی ہمت ہی نہیں ، کہ آپ ایسی آیات مبارکہ کا ذکر کر سکیں اور نہ ہی اس کی ہمت رکھتے ہیں کہ اپنے کسی سرچ انجن کو استعمال کر کے ہمیں وہ آیات اکٹھی کر دیجیے جو کافروں سے دوستی ، لگاو محبت وغیرہ سے منع کرنے والی ہیں اور اس کا انجام بتانے والی ہیں ، آپ کومسلمانوں کو یہدیوں کے ساتھ میل جول بڑھانے والوں پر اعتماد ہے اور ظاہر ہے ایسے لوگ جن کے پروردہ ہیں آپ نے ان کی ہی راہ ہموار کرنا ہے ، """ قران فہمی """ کے آڑ میں ، چلیے آگے چلتے ہیں ،،،،،،،
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (13-12-09) |
|
|
#49 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یوں بھی اس کی ہر گز ضرورت ہی نہیں ہوتی ، آپ خود ہی اپنے کردار کو اتنا واضح طور پر سامنے لاتے ہیں کہ کسی بھی بنیادی معلومات رکھنے والے مسلمان کو اُس کی کسی مزید """ کُشی """ کی حاجت محسوس نہیں ہوتی ، جی واقعتا حقیقت تبدیل نہیں ہو گی ، ان شا اللہ ، آپ امریکہ کی کتنی بھی صفائی پیش کریں یا اس کے قوانین کو اسلامی یا قرانی کہتے رہیں حقیقت کبھی تبدیل نہیں ہو گی ، اور حقیقت یہ کہ ::: ((((( وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ::: اور جو اس کے ذریعے فیصلہ نہیں کرتے جو اللہ نے نازل کیا وہ لوگ ہی کافر ہیں ))))) سورت المائدة/ آیت44 ، اگر """ احکام خداواندی """ سے آپ کی مراد """ اللہ کے احکام """ ہیں تو ، آپ ذرا اپنے کسی سرچ انجن کو متحرک کیجیے اور بتایے کہ زانی اور زانیہ کی سزا اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیا رکھی ہے ، اور بتایے کہ آپ کے ولی امریکہ کے قانون میں زانی اور زانیہ کی کیا سزا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے چور کی سزا ہاتھ کاٹنا مقرر فرمائی ہے ، آپ کے امریکہ کے قوانین میں چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اب اگر کوئی ان کاموں کی کوئی بھی سزا رکھ لے وہ اللہ کے احکام کے خلاف ہی قرار پائے گی ![]() ![]() ، الحمد للہ ، جو آپ کی حقیقت آپ کے ہی اقوال کے ذریعے آشکار فرما رہا ہے ، الحمد للہ سب کو سمجھ آ رہا ہے کہ آپ کی قران فہمی کیا ہے ، اور آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت سے چڑ کیوں ہے ، اورآپ مسلمانوں کے ائمہ اور علماء کی بے عزتی اور کافروں کی عزت کیوں کرتے ہیں، ((((( بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَاباً أَلِيماً ::: (اے محمد) منافقوں کو خوشخبری سنا دیجیے کہ اں کے لیے دردناک عذاب ہے ))))) سورت النساء / آیت 138 ، اے اللہ پاک یہ منافق کون ہیں ؟ ((((( الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ للَّهِ جَمِيعاً ::: وہ جو ایمان والوں کی بجائے کافروں کو دوست (سرہرست ، سربراہ وغیرہ) اپناتے ہیں کیا یہ منافق ان کافروں کے پاس عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں (ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ) بے شک تمام کی تمام عزت اللہ کے لیے ہے ))))) سورت النساء / آیت 139 ، اگر اعتراف حقیقت کی ہمت ہے اور انصاف کرنا جاتے ہیں تو فاروق صاحب اپنے عقائد اپنی دوستیوں اپنے اقوال کے ساتھ اللہ کے ان فرامین کے مطابق انصاف کیجیے اور کافروں کی دوستی اور ان کی حمایت سے تائب ہو جایے ، و السلام علی من یتبع الھُدیٰ ، و خیر الھُدیٰ ھُدیٰ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے اور سب سے زیادہ خیر والی ہدایت وہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہے ۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (25-11-09) |
|
|
#50 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ایران کے خون کی ہولی کھیلی عراق نے، عراق کے خون کی ہولی کھیلی ایران نے۔ کوئی شبہ ہے آپ کو۔۔ پھر کویت کی حکومت کوپامال کیا عراق نے۔ افغانستان پر حملہ کئے پاکستان نے۔ پاکستان پر حملہ کیا افغانستان نے۔ کتنے معصوم پاکستانیوں کے خون سے پاکستان کی زمین لال کردی ۔ پھر پاکستان میں اس خون کی ہولی کھیلنے کے لئے پیسہ دیا ایران نے۔ عراق پر حملہ ہوتا رہا سعودی عرب کی سرزمین سے۔ کویت کی زمین سے۔ آپ سب تو کعبہ کو ہاتھ لگا کر آئے ہیں صاحب۔ یہ گناہ نظر نہیں آتے۔ اتنے مسلمان مسلمانوںنے کاٹدئے اور کاٹ رہے ہیں۔ امریکہ افغانستان میںکیوں گیا، اس کے پیچھے نمبر ایک امریکی قانوں کہ امریکہ پر افغانستان سے حملہ ہوا، نمبر 2، تمام ممالک نے ، جس میں اسلامی ممالک بھی شامل ہیں، اس کی منظوری اقوام متحدہ میں دی۔ یہ ایک جائز قانونی کاروائی ہے۔ امریکہ نے ایسا کچھ نہیں کیا جو دوسرے مسلم ملکوں نے نہیںکیا۔ نظریاتی ریاست کا دفاع ہر ریاست پر فرضہے۔ ادھر حال یہ ہے کہ اپنے آپ کو مسلماں کہنے والے یہ بھی نہیںدیکھتے کہ کتنے مشرک ہوگئے ہیں۔ 1۔ ان کتابوںپر ایمان رکھ کر بیٹھے ہیں جن پر ایمان رکھنے کی کوئی دلیل نہیں ، کوئی ثبوت نہیں 2۔ نہ اللہ تعالی نے حکم دیا اور نہ ہی اس کے رسول نے کے بعد میں آنے والی کسی کتاب پر یقین رکھنا ہے 3۔ اور حال یہ ہے کہ ان کتب پر ایمان رکھ کر بیٹھے ہیں۔ جب ثبوت اور دلیل نہیں تو ان کتب پر ایمان نہیںتو کیا ہے؟ نت نئے نبی ہیں ، ان نبیوں کی کتابیںہیں۔ کیاکیا یلے اور بہانے ہیںشرک کے توبہ استغفار۔۔ اگر نہیںتو صرف ایک اللہ ، ایک نبی اور ایک قرآن پر ایمان نہیں۔ اس قرآن کی تکفیر میںان تمام کتب کے ساتھ مصروف ہیں پھر یہ دعوی کہ "ہم مسلمان ہیں اور امریکہ کافر" ۔۔۔ یہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ وہ شرک معاف نہیںکرے گا۔ جب ک شرک ختم نہیں ، لگتا یہ ہے سزا جاری رہے گی۔ کبھی انسانوں کے ہاتھوں اور کبھی آفات الہی سے۔۔۔۔ صرف اللہ پر ، اس کے نبی پر اور صرف اس کے قرآن پر ایمان ان آفات کو ختم کرے گا۔ لگتا یہ ہے کہ کہ صرف اللہ ، صرف رسول اکرم صلعم اور صرف قرآن پر ایمان مسلماںلائیں گے نہیں۔ اس میں ملاوٹکرکے شرک کرتے رہیں گے۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
|
#51 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
امریکہ کوئی اٹھارہ سال کا نوجوان نہیں کہ صدق دل سے ایمان لے آئے۔ ایک ریاست یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام کرتی ہے یا نہیں کرتی۔ امریکہ نہ یہودی ہے اور نہ ہی کرسچین۔ امریکہ کا کوئی مذہب نہیں۔ یہ بات امریکہ کی بنیاد رکھنے والے امریکیوں نے کہی اور اس بات کا اعادہ جناب صدر اوبامہ نے اپنی ایک تازہ ترین تقریر میں کیا۔ حکومت کے قوانیں بنانا اور اس کو چلانا ایک الگ کام ہے اور مذہب کی آزادی ہونا ایک الگ کام۔ آج جب تقریباً سب نام نہاد اسلامی ممالک میں ایک کافرانہ نظام حکومت قائم ہے۔ امریکہ کا کوئی قانون قرآن کے مخالف نہیں۔ آپ کے نزدیک اسلام کا معیار یہ ہے کہ ---- چونکہ یہ بات روایات صحیح مسلم و صحیح بخاری میں لکھی ہے لہذا درست ہے ------ گویا صحیح مسلم و بخاری کی کتب روایات پر آپ کا ایمان ہے۔ جبکہ نہ اللہ تعالی نے حکم دیا اور نہ ہی اس کے رسول اکرم صلعم نے کہ ان کتب پر ایمان رکھنا ہے اور نہ ہی آپ کے پاس کوئی ثبوت اور دلیل ہے کہ ان کتب میں سنت نبوی موجود بھی ہے کہ نہیں۔ ان بعد میں آنے والی کتب پر کامل ایمان ایک عظیم شرک ہے ، اس کو آپ اسلام گردانتے ہیں اور اس کو آپ رسول اکرم صلعم پر ایمان کہتے ہیں ۔ جبکہ قرآن کے علاوہ ، بعد کی کسی بھی کتاب پر ایمان ایک خالصشرک ہے۔ تو اس شرک کی توقع مسلمانوں سے نہ رکھئے۔ قرآن اور سنت رسول اکرم پر ایمان ہی رسول اکرم اور اللہ تعالی پر ایمان ہے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#52 | ||||||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
لیکن آج ، مسلمان کا ایمان --- جو اللہ نے نازل کیا ہے نہیں ہے -------- آج تو مسلمان پجاری ہے ان کتب کا جو بندوں نے لکھی ہیں ---- جو قران حکیم کی تکفیر یا اس میں اضافہ کرنےوالی ہیں۔ آج تمام نام نہاد تمام مسلمان ملکوں کا یہی حال ہے کہ ان کا نہ قانون قرآن کے مطابق ہے اور نہ ہی اس قانون کا نفاذ، آج مسلم قانون بنتا ہے اس حدیث کی روشنی میں جس کا حکم نہ اللہ نے دیا اور نہ ہی اس کے رسول نے۔ جس کی کوئی دلیل کوئی ثبوت اللہ کی طرف سے ہونے کی نہیں ۔ اقتباس:
جن لوگوں کی تاریخ زنا سے بھری پڑی ہے وہ سوال کرتے ہیں کہ امریکہ میں زنا کی کیا سزا ہے۔ قرآن کی ممانعت کے باوجود کہ ہر عورت سے نکاح ہوگا یا نکا ح کیا جائے گا آج بھی بھائی عادل سہیل ، بحث کرتے ہیں کہ " جنگ کرنے کی ٹرافی تو -- زنا -- ہے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جییییییییییییییییییییعععع عععععععععع؟؟؟؟؟؟ زنا اور "جنگ کی ٹرافی " ۔ اللہ کا پیغام پھیلانے کی ٹرافی یہ کہ "زنا معاف " ؟؟؟؟؟؟ لاحول ولا قوۃ۔۔ بحث اس نکتے پر ہے کہ زنا جائز ہے۔ جنگ میں ہاتھ آئی عورت ۔۔۔۔ بانٹ لو۔۔۔۔ ملازمت کرتی ہے تو حلال ہے۔۔۔۔ لاحول ولاقوۃ۔۔۔۔ امریکہ کا قانون کیا ہے یہ بعد میںپوچھئیے گا۔ اسلام کا قانون کیا ہے "زنا" کے بارے میں ۔۔۔ اس میں قرآن کا کونسا فیصلہ آج مسلمان کو قبول ہے؟ 1۔ کنیز یعنی ملازمت کرنے والی عورت حلال؟ یعنی "ملازمت دینے والے کو گویا زنا کی ٹرافی مل گئی؟" 2۔ جنگ میں ہاتھ آئی عورت حلال؟ یعنی " جنگ کرنے کی گویا ٹرافی --- زنا --- کی شکل میں مل گئی ؟" 3۔ زنا کی سزا سو کوڑے یا سنگ ساری؟ " اللہ ، اس کے رسول صلعم اور اس کی کتاب سے مذاق" 4۔ چار گواہوں کی شرط کتنی بھاری؟ ---- مسلمان نے تو ایک زمانے سے " زنا" حلال کیا ہوا ہے۔۔ کتب روایات اٹھا کر پڑھ لیجئے۔ کبھی کنیز کی صورت مین اور کبھی جنگ میں ہاتھ آئی ہوئی عورت کی صورت میں۔ قرآن کا حکم مسلمان نے کبھی مانا؟ کہ شادی کرو ، گھر بساؤ، چاہے کنیز ہو ملازمہ ہو یا جنگ میں ہاتھ آئی عورت؟ کسی یکجائی سے اب عہد غلامی کرلو امت احمد مرسل کو مقامی کرلو اللہ تعالی صرف قتل اور فساد فی الارض اللہ کی سزا موت کا حکم فرماتے ہیں۔ زنا کی سزا امریکہ میں 1977 تک کیا رہی ہے۔ تفصیل آپ خود ڈھونڈھ لیجئے۔ اگر زنا سے جناب کا مطلب معاشرتی برائی ہے تو اس کا نفوذ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں امریکہ سے زیادہ ہے۔ اور اگر اس کا مطلب "ریپ" ہے تو اس کی سزا امریکہ میں پاکستان یا کسی بھی اسلامی ملک سے ہولناک ہے۔ اقتباس:
آپ کے پاس ہے چور کے ہاتھ کاٹنے کا یہ نظام؟ آج مسلمان کے پاس کوئی قانون کوئی طریقہ ایسا نہیں کے یہ دیکھ سکے کہ ایک شخص نے چوری کی تھی۔ کسی اسلامی ملک نے ایساکوئی نظام نہیں بنایا۔۔۔ لیکن آج امریکہ میںیہ نظام پایا جاتا ہے کہ چور اپن ہاتھ کٹے ہوئے محسوس کرتا ہے۔ مسلمان کے پاس ہے ایسا نطام؟ مسلمان کے پاس تو شنخت کرنے کا نظام تک موجود نہیں کہ یہ بندہ کون ہے۔۔۔۔ زرداری نے کتنا قرض لیا اور چوری کرگیا اور شریفوں نے کتنا قرض لیا اور چوری کرگئے۔ امریکہ کا قانون کیا ہے زنا کے بارے میں پڑھ لیجئے۔ 1977 تک تو زنا کی سزا قتل رہی اب اس سزا میں ترامیم ہوتی رہی ہیں۔ جو مختلف النوع زنا کے لئے الگ الگ ہیں۔ اس جرم کی معافی نہیں ہے امریکہ میں ۔ بلکہ بعض صورتوں میں تو لڑکی کے اغواء کی صورت میں تو پولیس والے ہی اڑا دیتے ہیں۔ کہ قصہ کوتاہ ، جہان پاک ![]() http://earthops.org/law_104-305.html اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
3:4 مِن قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِآيَاتِ اللّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَاللّهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ (جیسے) اس سے قبل لوگوں کی رہنمائی کے لئے (کتابیں اتاری گئیں) اور (اب اسی طرح) اس نے حق اور باطل میں امتیاز کرنے والا (قرآن) نازل فرمایا ہے، بیشک جو لوگ اﷲ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے سنگین عذاب ہے، اور اﷲ بڑا غالب انتقام لینے والا ہے آج یہ حال ہے کہ لوگ قرآن کے علاوہ دیگر کتب کے نشہء خود فہمی میں اس قدر گرفتار ہیں کہ یہ کہہ کر کہ ---- دونوں "صحیح مسلم و بخاری " میں لکھا ہوا ہے اس لئے درست ہے ----- قران کی صاف صاف تردید و تکفیر کردیتے ہیں اور شرماتے بھی نہیں۔ ان سے اللہ بہت زبردست انتقام لے گا۔ اور بہت ہی شدید المناک عذاب میں ڈالے گا۔ قوانین صرف یہ نہیں کہ جرم کی کیا سزا ہوگی۔ قانون تو یہ ہے کہ "اسلام" یعنی سلامتی کی حالت میں جینے کا ، حکومت کرنے کا، عدل کرنے کا ، حقوق مآپنے کا کیا طریقہ ہوگا۔ اللہ تعالی نے فرمایا 1۔ اے لوگو ۔۔۔۔ جواب دیا آپ لوگوں نے؟ 2۔ متحد رہو، اتحاد ہے آپ میں؟ 3۔ لوگوںسے مساوات کرو۔۔۔۔ مساوات ہے آپ میں؟ 4۔ غلامی ختم کرو ۔۔۔۔ ختم کردی آپ نے؟ 5۔ فلاحی مملکت قائم کرو ۔۔۔۔ قائم کرلی آپ نے؟ 6۔ عدل کیا کرو ۔۔۔۔ نطام عدل قائم کرلیا آپ نے؟ 7۔ ٹیکس دیا کرو تاکہ معیژیت فروغ پائے۔۔۔۔۔ نظام زکواۃ قائم کردیا آپ نے۔ 8۔ مل کر مشاورت سے باہمی فیصلہ کرو۔۔۔۔ مشاورتی نظام قائم کرلیا آپ نے۔ 9۔ ملکیت کی حفاظت کرو۔۔۔۔ حفاظتی نطام ہے آپ کے پاس؟ سارے عالم اسلام کی پولیس دیکھ لو۔ 10۔ ایک دوسرے کی عزت کی حفاظت کرو ۔۔۔۔۔ اپنی ہی عورتوں کی آبرو نہیں رکھی تو دوسروں کی کیا رکھئے گا؟ 11 نکات سے 99 تک تو لکھ ہی نہیں رہا۔ ان دس کو ہی نمٹا لیجئے تو جانیں ![]() اب " امریکا دی کافر " نے ان شعبونمیں کیا کیا ہے۔ پہلے تو ان قرآن اصولوں پر قوانیںبنائے اور پھر کیا ان کا نفاذ ۔۔ مسلمان نے کیا ایسا؟ کیا امن کا وہ عالمی نظام قائم کیا جس میںایک نوجوان عورت ریاست کی ایک سرحد سے دوسری سرحد تک سونا اچھالتی چلی جائے اور اس کو کوئی کچھ نہ کہے؟ ----- ہے کوئی ایسی مسلم ریاست جو اس قسم کے امن کا دعوی کرسکے؟ ------ امریکہ ایسا دعوی کرسکتا ہے۔۔۔۔۔ یہ ہے امریکہ کا کفر ----- مسلمان ملکوں کا کفر کیا ہے؟ انگلی اٹھانے سے پہلے گریباں میں جھانک لیںتو کیا ہی اچھا ہو۔۔۔۔۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 25-11-09 at 10:31 AM. |
||||||
|
|
|
|
|
#53 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
چلو بھئی بات ہی ختم ھو گئی ، خان صاحب نے آج ثابت کرہی دیا کہ قرآن کو سہی معنوں میں نافض کیا ہی امریکہ بہادر نے ہے، بھئی واہ، قرآن کی سمجھ آئی بھی تو امریکہ کو، اور قرآن نافض کیا بھی تو امریکہ نے،،؟؟؟( شاید اسی لئے امریکہ یہ برداشت ہی نہیں کرتا کہ کوئی اور ملک قرآن کو نافض کرے؟؟اسی لئے امریکہ نے 9/11 کا بہانہ بناکر افغانستان کی اسلامی حکومت کو گرا کر کرزئی حکومت قائم فرمادی، اور قرآن کے نظام کو نافض کرنے والوں کو دھشتگرد اور انسانیت کے دشمن قرار دے دیا؟؟؟) اور خان صاحب سے معزرت کے ساتھ قرآن کی سمجھ کسی مومن کو آئی ہی نہیں ؟؟؟؟ یہاں تک کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نعوذبااللہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ، حسن رضی اللہ عنہ، حسین رضی اللہ عنہ، سمیت تقریبن سوا لاکھ صحابہ ، پھر تابعین، پھر تبعتابعین، سے لے کر ساڑھے چودہ سو سال کے تمام امت کے علماء،امام، نعوذبااللہ جاہل رہے؟؟؟اسلام کو قرآن کو، سمجھ ہی نہیں سکے؟؟؟؟؟نافذ کرنا تو دور کی بات؟؟؟اور امت کے علماء نے جوکچ کتابوب میں لکھا وہ سب جھوٹ ھے؟؟؟؟اور حرام خور کافر سچے ہیں ؟؟؟؟حرام خور سور کھانے والے لعنتی لوگ قرآن کے مطابق امریکی قانون مرتب کرتے ہیں؟؟؟؟؟ اور ڈھیٹائی کی حدیں توڑ کر خان صاحب فرمارہے ہیںکہ قرآن کو نافض کرنے کا کام صرف امریکہ کا ھے؟؟؟ اسکا مطلب تو یہ ھوا کہ خان صاحب کی مطابق قرآن کا وارث ھے امریکہ؟؟؟؟ اور ساری امت مومنین جھوٹی ھے کزاب ھے؟؟؟؟؟ شکریہ خان صاحب اسے کہتے ہیں حق ادا کرنا، شاباش،شاباش،شاباش،شاباش، شاباش،شاباش،شاباش،شاباش،ش اباش،شاباش،شاباش،شاباش،شا باش،شاباش،شاباش،شاباش،شاب اش،شاباش،شاباش،شاباش،شابا ش،شاباش،شاباش،شاباش،
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (13-12-09), عادل سہیل (26-11-09) |
|
|
#54 |
|
Senior Member
![]() |
سہج ،
کیا عیاری ہے ، اپنے جرائم ، خلفاء راشدین اور علماء کے سر تھوپ دئے۔ بھائی آج کی بات کرو، اپنےجرائم ، جو گذر گئے ان پر کیوں تھوپتے ہو۔ پاکستان سے افغانستان پر حملہ خلفاء نے کیا تھا؟ عراق و ایران جنگ خلفاء نے لڑی تھی؟ پاکستان پر افغانی حملہ خلفاء نے کیا تھا؟ سعودی عرب سے عراق پرحملہ خلفاء نے کیا تھا؟ کراچی سے پشاور تک کیا خلفاء کے حکم پر خود کش حملے ہورہے ہیں؟ مذہبی عناصر کی یہی عیارہی رہی ہے کہ جونہی کوئی تم پر الزام لگائے اس کو الزام کا رخکردو علماء اور خلفاء پر۔ ان سے تو خدا بھی راضی تھا، آج کے مسلمان سے کون راضی ہے ؟ قرآن سے دوری جب سے بھی شروع ہوئی، آج عروج پر ہے ، درجہ اتم ہے۔ اور عیاری کی انتہا ہے کہ اپنے جرائم تھوپتے ہیں خلفاء اور علماء کے سر۔ کچھ اپنے گریباں میں جھانک لیجئے۔ اگر آپ ان جیسے خلفاء اور علماء کے پیرو کار ہوتے تو آج یہ نہ ہوتا۔ جو کچھ جرم ہے آج کا مسلمان اس کا مجرم ہے۔ جن جرائم کی فہرست آج آپ کی خدمت میں پیش کی ہے۔ یا تو ان جرائم کو مان لو ورنہ بقول شاعر مشرق کے ---- تمہاری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں ----- آنکھ کھول کر دیکھئے کہ جن کو --- کافر کافر کہا جاتا ہے --- کیا آج کے مسلمان کا نظام ان کے نظام سے بہتر ہے ۔۔۔۔۔ آج کی بات کرو صاحب ۔۔۔۔۔ بے شرمی اور ڈھٹائی کی ایسی مثال نا بنئے کہ اپنا جرم علماء ، فقہاء اور خلفاء پر تھوپ دیجئے۔ یہ تو شیطان کے پیرو کاروں کا طریقہ ہے کہ اپنے جرم رسولوں اور انبیاء یعنی معصوموں پر تھوپتے تھے۔ مجرم آج کا مسلماں ہے۔ وہ تو خطا پوش و رحیم تھے۔ آپ آج کی ریاست آپ نے ہی بنانی ہے وہ صرف اس وقت ممکن ہے جب صرف قرآن پر ایمان رکھ ک مسلمان بنیں گے۔ یہ ریاست بنانے کوئی خلیفہ ، کوئی امام ، کوئی عالم ، دوبارہ زندہ نہیں ہوگا قیامت تک۔ اس لئے ان خلفاء ، علماء اور انبیاء کو رہنے ہی دیجئے ، ان کو کیوں الزام دیتے ہیں جبکہ انہوں نے ایسا کوئی حکم نہیدیا جو آج کے کرتوت ہیں۔ بلکہ آج کی حرکتیں تمام کی تمام انبیاء ، رسولوں ، خلفاء اور امام حضرات کی ہدایات کے برعکس ہیں۔ امریکہ بنانے والے حرام خور نہیں تھے۔ یہ لوگ عیسائی بھی نہیں تھے۔ یہ ایک اللہ پر ایمان رکھنے والی عیسی علیہ السلام کی امت کے لوگ تھے۔ ان کو "یونیٹیرین کرسچین" کہا جاتا ہے۔ آپ ایک بھی اسلامی ملک لے آئیے جس کے قوانین آج قرآن سے مطابقت رکھتے ہیں۔ بھائی اس فورم پر ہی دیکھ لیجئے، کوئی بھی قرآن پرست مسلمان نہیں ۔ صرف منافقت سے مان لیتے ہیں ۔ پھر کہتے ہیں کہ کچھ مزید کتب بھی ہم شامل کریں گے۔ میںنے 10 نکات لکھے ہیں ۔ آپ کے پاس ایک بھی اسلامی ملک ہے جس میں قرآن کے ان احکامات پر عمل درآمد ہوتا ہے؟ فرد جرم تو آپ پر عائد کردی گئی ہے۔ اپنے دل کو ٹٹولئے کہ آپ نے اپنی ریاست میں ان احکامات پر عمل کیا ہے؟ اگر آپ اللہ کے فرمان قرآن کے کافر ہیں ---- درندگی سے مسلمان کو قتل کررہے ہیں ---- تو پھر کسی دوسرے کو کس منہہ سے کہتے ہیں کہ وہ کافر ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا 1۔ اے لوگو ۔۔۔۔ جواب دیا آپ لوگوں نے؟ 2۔ متحد رہو، اتحاد ہے آپ میں؟ 3۔ لوگوںسے مساوات کرو۔۔۔۔ مساوات ہے آپ میں؟ 4۔ غلامی ختم کرو ۔۔۔۔ ختم کردی آپ نے؟ 5۔ فلاحی مملکت قائم کرو ۔۔۔۔ قائم کرلی آپ نے؟ 6۔ عدل کیا کرو ۔۔۔۔ نطام عدل قائم کرلیا آپ نے؟ 7۔ ٹیکس دیا کرو تاکہ معیژیت فروغ پائے۔۔۔۔۔ نظام زکواۃ قائم کردیا آپ نے۔ 8۔ مل کر مشاورت سے باہمی فیصلہ کرو۔۔۔۔ مشاورتی نظام قائم کرلیا آپ نے۔ 9۔ ملکیت کی حفاظت کرو۔۔۔۔ حفاظتی نطام ہے آپ کے پاس؟ سارے عالم اسلام کی پولیس دیکھ لو۔ 10۔ ایک دوسرے کی عزت کی حفاظت کرو ۔۔۔۔۔ اپنی ہی عورتوں کی آبرو نہیں رکھی تو دوسروں کی کیا رکھئے گا؟ 11 نکات سے 99 تک تو لکھ ہی نہیں رہا۔ ان دس کو ہی نمٹا لیجئے تو جانیں اب " امریکا دی کافر " نے ان شعبونمیں کیا کیا ہے۔ پہلے تو ان قرآن اصولوں پر قوانیںبنائے اور پھر کیا ان کا نفاذ ۔۔ مسلمان نے کیا ایسا؟ کیا امن کا وہ عالمی نظام قائم کیا جس میںایک نوجوان عورت ریاست کی ایک سرحد سے دوسری سرحد تک سونا اچھالتی چلی جائے اور اس کو کوئی کچھ نہ کہے؟ ----- ہے کوئی ایسی مسلم ریاست جو اس قسم کے امن کا دعوی کرسکے؟ ------ امریکہ ایسا دعوی کرسکتا ہے۔۔۔۔۔ کتنا بھی رو لیا جائے، چلا لیا جائے، شور و غوغا کیا جائے ۔۔۔ یہ سچ ہے کہ مسلم ممالک نے آج کوئی اسلامی نظام قایم نہیں کیا ہوا ہے ۔ یہ ایک سچی حقیقت ہے کہ امریکہ ان سے بازی لے گیا ہے۔ امریکہ میں کچھ لوگ تو شائد سور کھاتے ہیں ، لیکن مسلمان اپنے ہی بھائی کی غیبت کرکے اپنے بھائی کی کچی لاش کھاتا ہے۔ کرتوت تو آپ کے اپنے ہیں ۔ میںتو صرف آئینہ دکھا رہا ہوں ۔۔۔۔ مجھ سے ناراضگی کیسی؟ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 25-11-09 at 11:45 AM. |
|
|
|
|
|
#55 | |
|
Senior Member
مقبول
|
اقتباس:
ہم نے تو پوچھا تھا کے اس بات کا ثبوت دیں کے ملک میں ہونے والی ہر دہشت گردی کے پیچھے طالبان کا ہاتھ ہے ؟ آپ نے تو مسلمانوں کو ہی تننا شروع کردیا لگتا ہے آپ بھی مسلکی تعصب میں مبتلا اپنے علاوہ سب کو کافر کہنے والے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں بابا مشرک تو واقعی قابل تعزیز ہے لیکن تعصب پر جنگ کرنے والے کو بھی کوئی تاج نہیں پہنایا جائے گا ارے بابا دو الگ الگ بات کو ایک جگہ سمیٹنے کی کوشش میں آپ اصل بات ہی گول کرگئے ہم تو پھر یہی پوچھ رہے ہیں دہشت گردی کی وادات کرنے والے طالبان ہیں - کیا ثبوت ہے ؟ |
|
|
|
|
| شاہ کا شکریہ ادا کیا گیا | عادل سہیل (26-11-09) |
|
|
#56 |
|
Senior Member
![]() |
طالبان اور القاعدہ اپنا جرم خود قبول کرتے ہیں۔ مزید ثبوت کیا فراہم کیا جائے؟
|
|
|
|
|
|
#58 |
|
Senior Member
مقبول
|
|
|
|
|
|
|
#59 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
الحمد للہ ، ثم الحمد للہ ، ثم الحمد للہ ، امریکہ کا حق ڈالر ادا کرنے میں فاروق سرور صاحب مزید آشکار ہو رہے ہیں ، جو صاحب اپنے مسلمانوں میں ، اپنے پاکستان میں ہر برائی پاتے ہیں ، اور امریکہ میں ہر اچھائی پاتے ہیں ، جو صاحب اپنے امریکی فہم کے مطابق اللہ کے کلام کی خود ساختہ من گھڑت تاویلات کرتے ہیں ، ایسی تاویلات جن کے لیے ان کا مبلغ علم چند ترجمے ہیں ، جو صاحب یہ بھی نہیں جانتے کہ کونسی سورت کب نازل ہوئی ، اور کون سی کب ، اپنے فلسفوں کو درست ثابت کرنے کے لیے خود ہی کسی کو پہلے اور کسی کو بعد میں قرار دیتے ہیں ، جو صاحب آیات کے شان نزول کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ، جو صاحب امریکی نصاب کے مطابق پوری امت میں مسلسل مانی جانی والی تفاسیر اور احادیث مبارکہ کو رد کرتے ہیں ، جن کو احادیث کے بارے میں الف ب کا علم بھی نہیں ، ایسے ترجموں پر انحصار کیے ہوئے ہیں جو امریکہ بہادر کے مال پر چلنے والی ایسی ویب سائٹس پر ہیں جہاں مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ میل جول بڑھانے کی تلقین کی جاتی ہے ، انہیں یہ کیسے سمجھ آ سکتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ جو کہ اللہ کے دین کا ایک لازمی اور تفسیری جز ہے ،کی حفاظت کے لیے کیسے کیسے لوگ مہیا فرمائے ، اللہ تبارک و تعالیٰ اُن سب کو اپنی رحمت سے مالا مال رکھے ، دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، ایسے لوگوں کی حقیقت اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتا رکھی ہے ((((( وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نِبِيٍّ عَدُوّاً شَيَاطِينَ الإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً وَلَوْ شَاء رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ ::: اور اسی طرح ہم نے بنائے ہر نبی کے دُشمن جنوں اور انسانوں کے شیطان (لوگ)جو ایک دوسری کی طرف وحی کرتے ہیں باتوں کو سجا سنوار کر دھوکہ دہی کرتے ہیں اور اگر (اے محمد) آپ کا رب چاہتا تو وہ لوگ ایسا نہ کر پاتے ، پس آپ انہیں اور جو جھوٹ وہ باندھتے ہیں (اُن سب کو اللہ کی طرف سے فیصلے ہونے تک )چھوڑ دیجیے ))))) سورت الأنعام/ آیت112 ، اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے یا ان کے شر سے ہر مسلمان کو محفوظ رکھے ، جو اپنی جہالت کی وجہ سے سنت رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور اس کو جمع کرنے اور اس کی حفاظت کرنے والوں کے بارے میں دھوکہ دہی کرتے ہیں اور اپنی باتوں کو بڑا سجا سنوار کر پیش کرتے ہیں گویا کہ وہ بڑے عالم ہیں اور اسلام کے بڑے محب ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بڑے چاہنے والے ہیں لیکن اللہ نے ان کی حقیقت اس مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں پہلے ہی بیان فرما رکھی ہے ، انہیں بس یہ ہی ھدف دیا گیا ہے کہ جس طرح بھی ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت کے بارے میں لوگوں کو مشکوک کرو ، اور جتنا بھی کر سکو قران کی باطل تاویلات کرو ، لفظی تحریف تو نا ممکن ہے معنوی تحریف میں کوئی کسر مت اٹھا رکھو ، و لا حول ولا قوۃ الا باللہ ، بے چارے فاروق سرور خان صاحب ، اپنے ایمان کی کچھ خبر نہیں رکھتے اور دوسروں کے ایمان پر حکم لگانے سے فرصت نہیں پاتے ، اچھی بات ہے فاروق صاحب لگے رہیے ، اگر کہیں کوئی چند نیکیاں آپ کے حساب میں ہوں گی ان الزامات کے بدلے میں وہ لوگ لے لیں گے ان شا اللہ جن کے ایمان پر آپ حکم لگاتے رہتے ہیں ، جناب ، اللہ کا یہ فرمان آپ پر پورا اترتا ہے ((((( الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ للَّهِ جَمِيعاً ::: وہ جو ایمان والوں کی بجائے کافروں کو دوست (سرہرست ، سربراہ وغیرہ) اپناتے ہیں کیا یہ منافق ان کافروں کے پاس عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں (ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ) بے شک تمام کی تمام عزت اللہ کے لیے ہے ))))) سورت النساء / آیت 139 ، آپ اپنے دستور کے مطابق اس کی بھی جھوٹی تاویل کر چکے ، لیکن کسی عقل کے اندھے کو ہی یہ نہ سوجھے گا کہ کسی کی دوستی اور محبت کافروں کے لیے امنڈتی ہی جا رہی ہے ، فاروق صاحب اللہ کے سامنے امریکہ کام نہیں آئے گا ، اللہ سے بچنے کی کوشش کیجیے نہ کہ خود پر اللہ کے لیے عذاب کی حجت تمام کرنے کی ((((( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُواْ للَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَاناً مُّبِيناً ::: اے ایمان لانے والو ، ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بناو کیا تُم لوگ یہ چاہتے ہو کہ اللہ کے لیے تُم لوگوں صاف صریح حجت تمام ہو جائے (اور تُم لوگ اس کے عذاب کے مستحق ہو جاو) o إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيراً ::: بے شک (ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے والے ) منافقین جہنم کے نچلے حصے میں ہوں گے اور (اے محمد ) آپ ان کے لیے (وہاں اللہ کے عذاب سے بچانے والا ) کوئی مدد گار نہ پائیں گے o إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَاعْتَصَمُواْ بِاللَّهِ وَأَخْلَصُواْ دِينَهُمْ للَّهِ فَأُوْلَـئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْراً عَظِيماً ::: سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور (اپنے ایمان اور اعمال کی ) درستگی کی اور اللہ (کے احکام ) کو مضبوطی سے تھام لیا اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر دیا تو وہ ہوں گے ایمان والوں کے ساتھ اور جلد ہی اللہ ایمان والوں کو عظیم اجر عطاء فرمائے گا ))))) سورت النساء / آیات 144 تا 146 ، فاروق صاحب کافروں کی محبت اور دوستی سے توبہ کر لیجیے اور اپنے مسلمانوں میں واپس آ جایے ، اور اللہ کے احکام کو مضبوطی سے تھام لیجیے ، اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر لیجیے ، ابھی وقت ہے ، و السلام علی من یتبع الھُدیٰ ، و خیر الھُدیٰ ھُدیٰ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے اور سب سے زیادہ خیر والی ہدایت وہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہے ، اور جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہدایت سے رو گردانی کرتا ہے وہ بلا شک و شبہہ گمراہ ہے خواہ کتنے ہی فلسفے بناتا رہے ، خواہ دھکہ دہی کے لیے اپنے الفاظ کو کتنا ہی سجاتا سنوارتا رہے ۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-11-09), کنعان (26-11-09) |
|
|
#60 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور جناب وہ کون کون سی سنت رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہے جو قران کے بعد کسی اور کتاب کے توسط کے بغیر ثابت ہوتی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, search, پاکستان, پسند, واشنگٹن, قرآن, لوگ, لندن, نظر, آج, انسان, امریکہ, بچوں, حسن, خواتین, خلاف, خان, دیس, سال, شام, غلامی, غربت, صوبہ, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|