| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
|
|
Senior Member
![]() |
موغا دیشو (جنگ نیوز) صومالیہ میں انتہاپسند تنظیم حزب الاسلام کے مزاحمت کاروں نے 48 سالہ ایک شخص کو سنگسار کردیا۔ اے پی کے مطابق اف گوئے شہر میں قائم مقامی شریعت عدالت نے شادی شدہ ہونے کے باجود زنا کے الزام میں محمد ابراھیم کو سنگسار کرنے کی سزا دی تھی۔ عدالتی حکم کے بعد حزب الاسلامی کے مسلح افراد نے محمد ابوکر ابراہیم کے بدن کا نچلا دھڑ زمین میں دبادیا جس کے بعد اسے ماسک پہنے ہوئے لوگوں سمیت دیگر افراد نے پتھر مار مار کر ہلاک کردیا۔
تصاویر یہاں ہیں نوٹ: موت بذریعہ سنگساری قرآن حکیم سے قطعاً ثابت نہیں ۔۔ لیکن یہ اسرائیلیاتی سزا یہودی کتب میں قبل از اسلام ثابت ہے ۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by shafresha; 19-12-09 at 09:12 AM. وجہ: نام کی تصیح |
|
|
|
|
|
#31 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کسی بھی انسان کے ساتھ ان دلائل کی بنیاد پر بات کرنا جن پر وہ یقین نہیں رکھتا بے وقوفی ہے۔ اسے لاکھ دلائل دے لیں جب وہ یقین ہی نہیں رکھتا تو مانے گا کیسے۔ اس لئے تمام وہ مسائل جن کی بنیاد حدیث پر ہے ان کے متعلق آپ سے بات کرنا یا بحث کرنا اپنا اور آپ کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے اسی لئے میں نے سہج بھائی کو بھی ابتدا ہی میں مشورہ دے دیا تھا کہ اس کا فائدہ نہیں ہوگا۔ دوسری بات جو آپ نے یہاں پوچھی ہے تو اس کے متعلق صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ زاویہ نظر اور انداز فکر کے ساتھ ساتھ بنیادی مآخذ میں جن دو اشخاص کا اختلاف ہو وہ کبھی بھی کسی بات پر متفق نہیں ہو سکتے۔ اور یہی مسئلہ ہمارے ساتھ درپیش ہے، اس لئے میری ناقص رائے میں یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ آپ اپنی رائے پر ڈٹے رہیئے اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے۔۔ لیکن میری ہدایت کے لئے مسلسل دعا کرتے رہیئے۔ باقی باتیں بعد میں ہوں گی اللھم اہدنا الی الصراط المستقیم ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا
Last edited by راجہ اکرام; 16-12-09 at 02:08 PM. |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | عادل سہیل (18-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#32 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا بھائی راجہ اکرام |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (26-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#33 |
|
Senior Member
![]() |
فاروق سرور صاحب آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جن احادیث کو آپ درست مانتے ہیں وہ کہاں تحریر ہیں ؟
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
Last edited by sahj; 17-12-09 at 09:32 AM. |
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | عادل سہیل (18-12-09) |
|
|
#34 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
السلام علیکم،
میرا ناقص علم اس بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے کے کہ جو دین جانور کو بھی ذبحکرتے ہوئے چُھری کی دھار کو تیز رکھنے، اور ایک ہی مسلسل کوشش میںذبحکا عمل مکمل کرنے کا حکم دے وہ کس طرح "فطری" انسانی کمزوری کا شکار شخص (مرد و زن) کو اس بہیمانہ عمل سے ہلاک کرنے کا حکم دے سکتا ہے؟؟؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (10-10-10), بلال الراعی (24-09-11) |
|
|
#35 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہد بھائی آپ کا طرز فکر اگرچہ ٹھیک ہے لیکن آپ کی رائے سے مجھے اختلاف ہے۔
اس میں کوئی دو آراء نہیں ہو سکتیں کہ اسلام ایک جانور کو بھی تیز چھری سے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، اس کے سامنے چھری تیز کرنے سے منع کرتا ہے۔ اگر اس چیز کو مد نظر رکھ ہم رجم جیسی سزاؤں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں واقعی عجیب لگتا ہے کہ اسلام کس طرح اس چیز کی اجازت دے سکتا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ مد نظر رکھنی چاہیئے کہ چھری تیز کرنا اور رجم کرنا یہ دونوں احکامات ایک ہی مصدر سے آئے ہیں، رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے جو کہ صحیح اسناد کے ساتھ ثابت ہے ، اس لئے جس طرح چھری کو تیز کرنے والا حکم قابل عمل اور ضروری ہے اسی طرح رجم والا بھی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسلام جو ایک طرف چھری تیز کرنے کا حکم دیتا ہے تا کہ ایک جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو وہی اسلام اشرف المخلوقات انسان کو اور پھر محبوب خدا کے امتی کو اتنی سخت سزا دینے کا حکم کس طرح دے سکتا ہے۔ یہاں ایک لطیف سا نکتہ ہے جسے اگر مد نظر رکھا جائے تو میرے خیال میں یہ اشکال رفع ہو سکتا ہے لیکن اخلاص نیت شرط ہے۔ اللہ تبارک وتعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات اور احسن التقویم بنایا ہے، لیکن یہ شرف صرف اس وقت تک ہے جب تک ایک انسان اپنا یہ شرف برقرار رکھے۔ اگر یہ شرف برقرار ہے تو ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا جاتا ہے، ایک انگلی کاٹنے پر بھی قصاص یا دیت کا حکم ہوگا۔ اور ان تمام اسباب کو روکنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے جس سے کسی بھی انسان کو معمولی سابھی نقصان ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ’’مقاصد الشریعۃ‘‘ کا تفصیلی مطالعہ مفید ہوگا۔ اور جانور نے بھی چونکہ نہ تو کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور نہ ہی وہ مکلف ہے اس لئے ذی روح ہونے کے ناطے اس کو تکلیف سے بچانے کا پورا اہتمام کیا گیا ہے۔ لیکن جب ایک انسان اپنے احسن االتقویم ہونے کا لحاظ نہیں کرتا، اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا بھرم نہیں رکھتا تو پھر وہ ’اسفل السافلین‘ میں چلا جاتا ہے، اور ’’کالانعام بل ھم اضل‘‘ کی تفسیر بن جاتے ہیں۔ پھر جرائم میں سے جو جرائم اپنے ساتھ حقوق العباد کو نقصان پہنچاتے ہوں، مقاصد الشریعۃ کے خلاف ہوں ان کی سزائیں اتنی ہی سخت ہوتی ہیں۔ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے تو ڈاکہ یعنی فساد فی الارض کی سزا اس سے زیادہ سخت ہے۔ اس کی وجہ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ چوری کرنے والا اگرچہ کسی کا حق مارتا ہے لیکن ڈاکہ ڈالنے والا نہ صرف حق مارتا ہے بلکہ بندگان خدا کا چین خراب کرتا ہے، معاشرے کے ماحول میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ دیگر سزاؤں کے بارے میں بھی ہم سوچ سکتے ہیں اسی طرح اگر آپ زنا کی سزا کو مد نظر رکھیں اور اسی تناظر میں سوچیں تو شاید بات کسی حد تک واضح ہو جائے۔ ایک غیر شادی شدہ انسان مرد یا عورت ایک گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ان کی سزا 100 کوڑے مقررر ہے۔۔ اور اس میں بھی عبرت کا پہلو سامنے رکھا گیا ہے کہ لوگوں کی اک تعداد اس سزا کے نفاذ کا منظر دیکھے۔ لیکن ایک شادی شدہ جب یہی کام کرتا ہے تو اس کے اس کا یہ کام صرف احکام خدا وندی کی حکم عدولی اور معاشرے کے فساد کی ایک بڑی کوشش نہیں رہتی بلکہ حقوق العباد کا قتل عام ہے۔ صرف اپنی حدود سے تجاوز ہی نہیں بلکہ دوسرے کی حدود میں دخل اندازی ہے۔۔ لہذا اس کی سزا بھی اتنی ہی سخت اور اتنی ہی عبرت ناک ہونی چاہیے۔ تا کہ کوئی اس کا تصور بھی نہ کرے چہ جائیکہ ارتکاب کرے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس سزا کا تعین کون کرے گا تو ہمارے پاس دو ذرائع ہیں قرآن کریم اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کے یہ دو بنیادی مآخذ ہمیں ان تمام جرائم کی سزائیں بتاتے ہیں جو معاشرے کے فساد کا سبب بنتے ہیں۔ قرآن میں بعض احکامات تو مفصل ذکر ہیں، البتہ بعض احکامات اجمالی ہیں جن کی تفصیل حدیث نبوی علی صاحبھا افضل التسلیمات نے ہیں بتائی ہیں۔ زنا کی سزا قرآن کریم میں مطلق ذکر ہوئی ہے سو کوڑے۔ اس میں شادی شدہ یا غیرشادی شدہ کی تخصیص یا تفصل ذکر نہیں۔ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے اپنے عہد میں قرآن کریم کے احکامات کا عملی نمونہ پیش کیا انہوں نے اپنے عمل سے اس حکم کی تخصیص کر دی۔ یعنی یہ ثابت کر دیا کہ قرآن کریم میں کوڑوں کی سزا کا حکم غیر شدہ افراد کے لئے ہے، جبکہ اگر کوئی شادی شدہ یہ کام کرتا ہے جس کے پاس حلال ذریعے سے یہ کام کرنے کا راستہ بھی ہے تو اس کو رجم کیا جائے گا۔ اور یہ سزا عہد نبوت میں صحیح اسناد سے ثابت ہے، اس لئے بحیثیت مسلمان اس کو ماننا اوربحیثیت حکم شرعی اسے نافذ کرنا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ایک اور بات جس کا صرف اشارہ کرنا چاہوں گا، تفصیلات کی یہ جگہ نہیں وہ یہ کہ دین اسلام فطرت کے مطابق نہیں بلکہ اسلام ہی فطرت ہے، لہذا اسے فطرت کے معیارات پر پرکھنا درست رویہ نہیں بلکہ باقی تمام اشیاء کے فطری یا غیر فطری ہونے کا معیار صرف اسلام کی تعلیمات ہیں۔ جو ان کے مطابق ہے وہ فطری ہے اور جو ان کے خلاف ہے وہ غیر فطری ہے ۔۔ اس انداز سے اسلامی سزاؤں پر غور کریں انشاء اللہ العزیز اشکالات دور ہوں گے اور رب سے شرح صدر کے لئے دعا کیا کریں، ساتھ ساتھ میری اور سب کی ہدایت کے لئے۔ و السلام محتاج اصلاح و دعا |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | sahj (17-12-09), shafresha (16-12-09), skjatala (08-10-11), حسنین ایوب (17-12-09), طاھر (16-12-09), عادل سہیل (18-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#36 |
|
Senior Member
![]() |
اتنی لمبی تفاسیر ، اللہ تعالی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے؟ نعوذ باللہ۔
اللہ تعالی قرآن حکیم کی حفاظت نہیں کرپایا ۔۔ قانون رجم کی آیت موجود تھی۔ لیکن کہیں ضائع ہوگئی ؟ کھو گئی؟ اللہ تعالی پر ایسا بہتان عظیم باندھنے والوں کو ئی توہین الہی کا مجرم نہیں کہتا؟ کیسی دوغلی پالیسی ہے؟ |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-10-10) |
|
|
#37 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
راجا بھائی اگرچہ آپ کی تحریر سے میری مکمل تشفی نہیں ہوسکی مگر میںآپ کی تحریر کے بعض مندرجات سے اتفاق کرتا ہوں۔
فقہ اسلامی کئی مسائل مثلاً "سزائے رجم" یتیم پوتے کی وراثت، حلالہ اور تین طلاق کا ایک ہی وقت میںموثر ہونا وغیرہ علماء کی ایک جماعت کے نزدیک متنازعہ فیہ ہیں۔ یہ بحث شاید اس فورم پر نئی ہو مگر علماء کی محافل میںشرکت کرنے کی برکت سے میں بقلم خود ایسی کئی محافل میںشرکت کرچکا ہوں اور بڑے بڑے فاضل علماء کے ان مسائل کی تائید اور تردید میں دلائل سُنے ہیں۔ آپ سزائے رجم کا انکار کرنے والوں پر کسی قسم کا حکم نا لگائیں! |
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-10-10) |
|
|
#38 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
یا ایھالذین آمنو اقرا باسم ربک الذی خلق ولا تقربو الزنا اگر آپ ان قصّوںپر یقین رکھتے ہیںتو آپ بھی مسلمان ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایک نیا فرقہ پیدا ہو گیا ہے جو کہ حدیث کا منکر ہے غالبا" اس فرقے کا نام پرویزی ہے جو کہ قادیانی کی ہی ایک قریبی شاخ ہے۔ بغیر دلیل کے صرف اگر غور کیا جائے تو یہ بھی حدیث ہی ہےکہ "یہ قرآن ہے" ۔ |
|
|
|
|
|
|
#39 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی الیاس سلام،
قرآن حکیم پر تو ہمارا ایمان ہے۔ یہ واقعات در اصل حکمت سے بھر پور ہیں۔ لیکن خلاف قرآن روایات پر بھی ایمان رکھنا ہے؟ یہ کس کا حکم ہے؟ اللہ تعالی کا یا رسول اللہ صلعم کا؟ یہ درست ہے کہ ہم کو تمام کی تمام معلومات رسول اکرم سے ملی ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم رسول اکرم کے فرمان مبارک پر یقین رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسی روایت جو اللہ تعالی کو (نعوذ باللہ) جھوٹا ثابت کرتی ہے کس منہ سے رسول اکرم سے منسوب کی جاتی ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ کلام نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ کروڑوں حفاظ نے یہ کلام حفظ کیا۔ اب ایک کتاب میں دشمناں اسلام نے یہ داخل کیا کہ رجم کی آیت بھی تھی جو کھو گئی۔۔۔ جی کھو گئی۔۔۔ یعنی اللہ تعالی قرآن حکیم کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا۔ جی؟ اب ایسی روایت پر یقین کریں یا پھر اللہ تعالی کے بیان پر کہ --- اللہ تعالی اس قرآن کی حفاظت فرمارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ آپ کو ایک قصہ گوش گزار کرتا ہوں۔ میرا ذاتی ہے۔ 1980 میں سنسناٹی ، اوہایو میں میں کالج میںپڑھتا تھا۔ وہاں اس وقت مسلماں بہت کم تھے۔رمضان کے دنوں میں یونیورسٹی کے سامنے ایک مسجد میں ، تراویح پڑھنے جاتا تھا جہاں مشکل سے بیس لوگ ہوتے تھے۔ ایک طالب علم لڑکا قرآن سامنے رکھ کر پڑھتا تھا ، کوئی حافظ قرآن ہم سب لوگوں میں نہیں تھا بلکہ قرآن بھی شاید ہی کسی کو ٹھیک سے پڑھنا آتا تھا، بس گذارے لائق تھا لیکن لگن ہوتی تھی تراویح کی ۔۔ کبھی کبھی اس لڑکے سے جو امامت کرتا تھا، تلفظ کی غلطی ہوجاتی تھی تو مقتدیوں میں سےکوئی ٹھیک کردیتا تھا۔۔۔ یہ ایک معمول کی بات ہے ، ایسا ہوتا ہی ہے۔ ختم ِ قرآن پر ہم لوگوں نے کھانے کا اہتمام کیا۔ وہی جانے پہچانے چہرے جو روز ملتے تھے۔ کھانے کے دوران ہمارے امام دوست نے پوچھا کہ آپ میں سے تلفظ کی غلطیاں کون ٹھیک کرتا تھا؟ تو سب ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔۔۔ اس وقت ہم لوگوں نے باری باری ہر لڑکے سے پوچھا کہ کیا اس نے کبھی تلفظ کی غلطی درست کی تھی؟ سب کا جواب نفی میں تھا۔ ایک ہی یونیورسٹی کا ہونے کے باعث ہم سب ہی ایک دوسرے کو جانتے تھے ۔ یہ بات اس وقت بھی حیرت کا باعث بنی اور بعد میں بھی ہم دوست اس کا تذکرہ کرتے رہے۔ کہ وہ کون شخص تھا جو غلطیاں ٹھیک کرتا تھا۔ یا تو وہ اس دن آیا نہیں یا پھر جلدی چلا گیا؟ بات تو معمولی سی ہے لیکن ایک سوال آج بھی ذہن میں ہے۔ یہ واقعہ میں لوگوں کو نہیں بتاتا اس لئے کہ ڈرتا ہوں کہ کہیں فاتر العقل نہ سمجھا جاؤں لیکن مجھ کو یقین کامل ہے کہ اللہ تعالی کوئی نہ کوئی وسیلہ پیدا کردیتے ہیں کہ اس کا وعدہ پورا رہے۔ میرا یہ یقین کامل ہے کہ قرآن حکیم اپنی مکمل حالت میں موجود ہے۔ اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کتاب کا کچھ حصہ کھو گیا ہے تو پھر ان لوگوں کا ایمان اس کتاب پر ہے جس میں یہ واقعہ لکھا ہے۔ میں ایسا کروں تو میں شرک کروںگا۔ آپ اپنا فیصلہ خود کیجئے ،، کتاب اللہ کی روشنی میں۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 16-12-09 at 09:53 PM. |
|
|
|
|
|
#40 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
جناب فاروق صاحب ! آپ نے اپنے پچھلے کئی تھریڈز میں قوانین پاکستان کو اسلامی قرار دیا ہے، آپ کے خیال میں تعزیرات پاکستان میں شادی شدہ زانی کی سزا کیا ہے؟ والسلام طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | sahj (17-12-09), فاروق سرورخان (18-12-09), مرزا عامر (10-10-10), عادل سہیل (18-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#41 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,115
شکریہ: 12,550
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بیشک جو لوگ ﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا پھانسی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیئے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے سورۃ المائدہ 5 ، آیت نمبر 33
__________________
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#42 |
|
Senior Member
![]() |
کنعان سلام،
قرآن حکیم صرف دو ہی جرائم کی سزا موت کا حکم دیتا ہے۔ ایک قتل اور دوسرا فساد فی الارض اللہ۔ آپ نے فساد فی الارض اللہ کی آیت پوسٹ کی ۔ بہت شکریہ۔ یہ اس موضوع سے قطعاً تعلق نہیں رکھتی۔ جو کچھ آج طالابن اور القاعدہ ، مرکزی حکومت کے خلاف پاکستان میں کررہے ہیں وہ ہے فساد فی الارض اللہ۔ یہ موضوع ہے زنا کا جس کے بارے میں بہت ہی واضح احکام اللہ تعالی نے دئے ہیں۔ حوالہ سحج فراہم کرچکے ہیں۔ بہر صورت۔ آپ کا شکریہ۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#43 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#44 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بھائی عبداللہ حیدر نے نماز کے بارے مین ایک لنک فراہم کیا تھا۔ جو کہ ان کے ہی مسلک کے کسی مصنف نے لکھی ہے۔ اس نے بھی کتب روایات کے بارے میں اپنےخدشات لکھتے وقت یہ بتایا کہ سیاسی وجوہات کی بناٰء پر بہت سی اسرائیلی روایات کتب روایات میں شامل ہوئیں۔ ذہن میںرکھئے کہ ہم محدثین اور مفسریں کو الزام نہیں دے رہے ہیں۔ ان تھوڑی سی روایات پر پرکھ رہے ہیںجو واضح طور پر قرآن کے خلاف ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت واضح طور پر قرآن کی ایک سے زائید آیات کی نفی کرتی ہے۔ امید ہے آپ کی اس جواب سے تشفی ہوئی ہوگی۔ بہت ہی شکریہ۔ والسلام |
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-10-10) |
|
|
#45 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہونے, کردیا, پتھر, یہودی, قائم, قرآن, قرآن حکیم, نیوز, موت, محمد, مطابق, افراد, الزام, از, اسے, بذریعہ, ثابت, جنگ, حکم, شہر, شادی, شخص, عدالت, عدالتی, صومالیہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| رسمِ نکاح اور شریعت کی مخالفت | Hina4malik | کتاب گھر | 1 | 30-12-10 05:26 PM |
| شریعت اور طریقت۔۔۔ معارض یا معاون | راجہ اکرام | اسلامی نظریہ حیات | 45 | 21-12-10 01:42 PM |
| رسم نکاح اور شریعت کی مخالفت | ابن آدم | شادی / منگنی کی تقریبات اور انتظامات | 13 | 01-12-10 06:14 PM |
| ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارا کوئی اصول نہیں | فیصل ناصر | عمومی بحث | 36 | 08-10-09 04:03 AM |
| احکام شریعت ۔۔۔۔۔ | مجاہد حسین | اسلامی عقیدہ | 1 | 11-03-08 06:10 PM |