واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


درندگی,,,,

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-11-09, 11:30 AM  
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default درندگی,,,,

درندگی,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی
ہلے صوبہ سرحد کے سینئر وزیر، بشیر بلور نے راگ الاپا اور پھر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے تان اٹھائی کہ ”دہشت گردی پھیلانے والے انسان نہیں درندے ہیں اور درندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی“۔ حاکمانہ جلال اور حکیمانہ جمال کے حامل اس اعلان سے کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔ بلا شبہ وہ لوگ انسانیت کے زمرے سے خارج ہیں جو معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں، انسانی لہو سے اپنی پیاس بجھاتے اور غارت گری سے آسودگی حاصل کرتے ہیں۔ ہم تو اس دین کے پیروکار ہیں جس نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ سو دہشت گردی بہرحال درندگی ہے اور اسے اس نام سے پکارا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
لیکن بشیر بلور کی بے کراں دانش اور یوسف رضا گیلانی کی لامحدود حکمت و بصیرت کے تمام تر احترام کے باوجود، جان کی امان پاؤں تو ایک چھوٹا سا سوال پوچھ لوں، یہ جو کچھ سات سمندر پار سے آیا ایک سفید فام عفریت کررہا ہے، انسانیت کی لغت میں اسے کیا کہتے ہیں؟ آٹھ سال پہلے انہی دنوں امریکہ کے خونخوار طیارے ہمارے ہی ہوائی اڈوں سے اڑے اور لگا تار ایک ہفتہ تک افغانستان پر کارپٹ بمباری کرتے رہے۔ لاتعداد بستیاں زمین کا پیوند ہوگئیں۔ ان گنت انسانوں کے پرخچے اڑ گئے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر ڈھلوانوں، گھاٹیوں، وادیوں اور میدانوں میں چار سو لہو کے جھرنے پھوٹنے لگے۔ کسی نے کوئی گوشوارہ مرتب نہیں کیا کہ ان آٹھ برسوں کے دوران کتنے معصوم، امریکی قہر کا نشانہ بن گئے۔ کیا یہ سب کچھ درندگی نہیں؟ مسجدیں محفوظ رہیں نہ اسپتال، باراتیں میزائلوں کا لقمہ ہوگئیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں گیت گاتی بچیاں آن واحد میں بھسم کردی گئیں۔ بلور صاحب اور گیلانی صاحب کو شاید یاد نہ ہو کہ قلعہ جنگی میں کیا ہوا تھا؟ کس طرح زنداں میں پڑے افغانوں کو امریکی فوجیوں نے یوں تاک تاک کر نشانہ بنایا جیسے کوئی منچلا پنجروں میں بند پرندوں کو شکار کرتا ہے، قندوز سے گرفتار کئے جانے والوں کو رسیوں سے باہم جکڑ کر فولاد کے ہوا بند کنٹینروں میں یوں ٹھونس دیا گیا کہ وہ تڑپ تڑپ کر مرگئے۔ ان کی مڑی تڑی بے کفن لاشوں کو لمبے گڑھے کھود کر دشت لیلیٰ کی ریت میں دبا دیا گیا۔ کابل و قندھار کی کم نصیب سرزمین گزشتہ آٹھ برس سے بہیمانہ درندگی کی آندھیوں میں گھری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 2002ء کے اواخر میں بتایا تھا کہ ایک سال کے دوران امریکی بمبار طیاروں نے پاکستان کے ہوائی اڈوں سے ستاون ہزار آٹھ سو اڑانیں بھریں۔ تصور کیجئے، آٹھ برس کے دوران کتنے حملے ہوچکے ہوں گے؟ کیا یہ طیارے افغان عوام پر گلاب اور موتئے کی کلیاں برساتے ہیں؟ اب تو کئی مسلمہ بین الاقوامی ادارے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ثابت کرچکے ہیں کہ افغانستان میں انتہائی بے دردی کے ساتھ کیمیائی ہتھیار استعمال کئے گئے اور کئے جا رہے ہیں۔ فاسفورس اور دوسرے کیمیائی مواد کے استعمال سے بچے خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں لیکن کون ہے جو ان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھے؟ کسے فرصت ہے کہ وہ یتیم ہوجانے اور روٹی کے دونوالوں کے لئے ٹھوکریں کھانے والے بچوں کو شمار کرے۔ کس کے پاس وقت ہے کہ بیوہ ہوجانے والی ان بے یار و مددگار خواتین کے اعداد و شمار مرتب کرلے جن کی زندگیاں، نوحے بن کر رہ گئیں؟ کون ان ماؤں کے آنسو پونچھے جو اپنے جوان بیٹوں کی قبروں کا تعویز ہو کے رہ گئیں؟
آٹھ برس سے ہمارے گھر سے جڑے گھر میں یہ حشر بپا ہے۔ بشیر بلور اور یوسف رضا کو امریکہ اور نیٹو کی افواج قاہرہ دکھائی نہیں دے رہیں۔ وہ سات سمندر پار سے آئے سفاکوں سے پوچھنے کا یارا نہیں رکھتے کہ دور دیس سے آنے والے غارت گرو! اس اجڑی بستی کو مزید کیوں اجاڑ رہے ہو؟ ان آفت زدہ افتادگان خاک پر مزید آفتیں کیوں ڈھا رہے ہو؟ انہوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ نائن الیون کے نام نہاد ملزموں میں تو ایک بھی افغانی نہیں؟ تم نے غربت کے مارے ان تہی داماں لوگوں کا عرصہ حیات کیوں تنگ کردیا ہے؟ بلور اور گیلانی اقتدار کے دسترخوان پہ بیٹھے ہیں اور وہ اس اقتدار کو امریکی پشت پناہی کا ثمر خیال کرتے ہیں۔ کل تک اے این پی پختونوں کے حقوق کی پرچم بردار تھی۔ پاکستان ان کے لئے سامراج کا ایجنٹ تھا۔ باچا خان نے اپنی قبر کے لئے بھی ڈیورنڈ لائن سے اس پار کی خاک کو پسند کیا۔ اے این پی ان کی میت افغانستان دفنا آئی۔ تیس سال قبل روس نے اپنے درندوں کے غول افغانیوں پر چھوڑ دیئے تو اے این پی افغانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بھلا کر روسیوں کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ اس کے کرتے دھرتے ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے کہ کب افغانستان روسیوں کے قبضے میں جاتا اور کب سرخ سویرے کا کارواں انقلاب کے ترانے گاتا، پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ تب وہ اٹھتے بیٹھتے امریکی سامراج، کو گالیاں دیتے اور روسی یلغار کے خلاف افغانوں کی جنگ حریت کو ”امریکہ کی جنگ“ قرار دیتے تھے۔ آج وہی امریکی سامراج کروسیڈ کے جھنڈے لہراتا افغانوں کے گلے کاٹ رہا ہے، ان کی بستیاں کھنڈر کررہا ہے، ان کی آنے والی نسلوں کے لہو میں مہلک کیمیائی مواد بو رہا ہے اور افغان حقوق کے یہ چیمپئن، اسی امریکی سامراج کے کندھے سے کندھا ملائے افغانوں کے سینے چھلنی کررہے ہیں۔ انہیں اپنے آس پاس کے ”دہشت گردوں“ کی درندگی نظر آ رہی ہے اور وہ ان درندوں“ سے بات تک کرنے کے روا دار نہیں، لیکن صبح شام رنگا رنگ ٹی وی مائیکس کے سامنے کھڑے ہو کر ”انسانیت“ کے خطبے دیتے ان پیران امن کو ان گورے لشکروں کی درندگی نظر نہیں آتی جو پندرہ لاکھ عراقیوں کا لہو پینے کے بعد افغانستان کو اپنے ہلاکت آفریں ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں۔ جن کے ڈرون ہر روز ہماری بستیوں پر میزائل برساتے اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے ہیں۔ ان سفید فام درندوں سے ہاتھ ملانا ان کے لئے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز و اکرام ہے، ان درندوں کے خون آلود پنجوں پہ بوسے دینا وہ سعادت خیال کرتے ہیں، ان درندوں کے پاؤں پہ سر رکھنا ان کے لئے دنیوی اور اخروی نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ نہ صرف اس کی درندگی کو درندگی نہیں کہتے بلکہ اس کی غلامی کو ماتھے کا جھومر بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ مل کر افغانوں کا ہانکا لگاتے اور شکار گاہ کی طرف لے کے آتے ہیں تاکہ گورے آقا نشانہ بازی کا ہنر آزماسکیں۔ انہیں ابو غریب، بگرام اور گوانتا نامو کی کوئی کہانی یاد نہیں۔ ”انسانیت“ کے ان پرچم برداروں اور ”درندوں“کے خلاف علم جہاد بلند کرنے والوں کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ ان کی ایک بیٹی پر کیا گزر رہی ہے جس کا نام عافیہ ہے اور جسے تلاشی کے نام پر روز برہنہ ہونے اور قرآن کریم پر پاؤں رکھ کر دہلیز تک جانے کا حکم ملتا ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کسی درندگی کا تصور کیا جاسکتا ہے۔
بشیر بلور صاحب اور یوسف رضا صاحب! بجا کہ معصوم انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے انسان نہیں درندے ہیں۔ تسلیم کہ درندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی لیکن کیا انسانیت اور درندگی کے معیار بدلتے رہتے ہیں؟سوات اور وزیر ستان کے درندوں کے نامہ اعمال کی تیرگی، واشنگٹن اور لندن کے درندوں کی زلف میں پہنچ کر حسن کیوں بن جاتی ہے؟
درندگی,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (18-11-09), shafresha (22-01-10), نیلم خان (23-11-09), محمدعدنان (20-11-09), مزمل فاروق (19-11-09), مسافر (26-11-09), اخترحسین (20-11-09), بلال الراعی (24-09-11), حیدر (27-11-09), حسنین ایوب (27-11-09), راجہ اکرام (19-11-09), سحر (19-11-09), عامرشہزاد (19-11-09), عادل سہیل (24-11-09)
پرانا 20-11-09, 01:44 PM   #31
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دور حاضر ہے حقیقت میں وہی عہد قدیم
اہل سجادہ ہیں یا اہل سیاست ہیں امام

اس میں پیری کی کرامت ہے نہ میری کا ہے زور
سیکڑوں صدیوں سے خوگر ہیں غلامی کے عوام

خواجگی میں کوئی مشکل نہیں رہتی باقی
پختہ ہو جاتے ہیں جب خوئے غلامی میں غلام
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (24-11-09)
پرانا 20-11-09, 08:03 PM   #32
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,904
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,609 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
اور کسی کا نمک کھا کر نبھانا کتنا مشکل ہو جاتا ہے کہ احادیث صحیحہ پر عقل کو ترجیح دینی پڑ جاتی ہے۔
صاحب سلام۔

قرآن حکیم کے کامل درست ہونے پر تو ایمان ہے۔ ایمان کے بعد کسی دلیل کی ضرورت نہیں‌رہتی۔

آپ کے پاس حدیث صحیحہ کے درست ہونے کی کوئی دلیل ہے؟ یا یہ کہ ان کتابوں پر آپ کا ایمان ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیوں؟ کیا اللہ کے رسول نے یا اللہ تعالی نے کہیں ایسا کہا ہے کہ بعد میں‌بھی چھ سات کتب آئیں گی ان مکمل کتب پر ایمان رکھنا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا حوالہ فراہم کیجئے ؟ یا پھر آُ کے پاس اللہ تعالی کی طرف سے وحی آتی ہے؟

میرا دعوی ہے کہ آپ اس کا سوال گول کر جائیں گے کہ اس سے یہ سامنے آتا ہے کہ حدیث پرستوں کے اصل نبی کون ہیں اور ان کا ایمان کن کتب پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان کتب پر ایمان ہے اور ان کتب کے لکھنے والوں‌پر ایمان ہے تو پھر شرمانا کیسا، دھڑلے سے کہیں‌کہ آپ حدیث پرست ہیں اسلام کی آڑ میں مسلمانوں کو ایس کتب سے شکار کرنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔

ہمسایہء جبریل امیں ہے بندہء‌مومن
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشاں

کسی یکجائی سے اب عہد غلامی کرلو
امت احمد مرسل کو مقامی کرلو



والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-11-09, 08:17 PM   #33
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,904
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,609 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھر مراسلہ دیکھیں
ارے ارے فاروق صاحب --- کیا ہو گیا اتنا غصہ کس لیئے؟ کیا کسی ایسے شخص کو جو اللہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مانتا ہے، آپ اسے مسلمان کہنے سے بھی گئے؟ نظریاتی اختلافات میں انسان کو اتنا بے خود نہیں ہو جانا چاہیئے -- کس نے آج تک یہ کہا ہے کہ جو آپ کہہ رہے ہیں؟ اپنے خیالات کو قابو میں رکھیں۔۔

طاہر
کس نے آج تک یہ کہا ہے کہ جو آپ کہہ رہے ہیں؟
آئیے دیکھتے ہیں کہ کس کس نے کہا ہے۔ کیا شیعہ ان کتب روایات پر ایمان رکھتے ہیں؟ سنی تو رکھتے ہیں۔
سب سے پہلے تو ان لوگوں نے کہا ہے کہ ہمارا ایمان ان کتب پر ہے ، جو اپنے آپ کو سنی کہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شیعہ فرقہ الگ ہوا کہ کچھ مسلمان بخارا اور فارسی نبیوں کی لکھی ہوئی کتابوں پر جن میں طرح طرح کی روایات موجود ہیں ، ان روایات کی کتابوں‌ پر سنی، سنت کے نام پر ایمان رکھنا شروع ہوگئے تھے ، اسی لئے سنی کہلائے۔ اور ان فارسی مصنفیں کو اپنا نبی مان لیا تھا۔ جتنا ایمان بخاری و ترمذی پر ہے اتنا ایمان قرآن حکیم اور اس کے رسول محمد رسول اللہ پر ہوتا تو کیا بات تھی؟

ہمسایہء جبریل امیں بندہء‌مومن
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشاں

علامہ سے معذرت کے ساتھ۔ دبے لفظوں میں علامہ بھی یہی فرما گئے تھے

اب تک مجھے ایک بھی شخص ایسا نہیں ملا جو یہ بتا سکے کہ بعد میں آنے والی ان کتب پر ایمان کیوں رکھنا ہے؟‌کیا یہ اللہ کا حکم ہے یا اس کے رسول اکرم کا ؟

اللہ کا واسطہ مجھے یہ نہیں کہئیے گا کہ آپ کا ایمان کتب روایات پر قرآن کی طرح نہیں ہے۔ یہ تو قرآن کی تشریح‌ہے۔ ایسی ہوتی ہے تشریح‌کہ قران حکیم کو ہی غلط ثابت کردے کچھ تو ہے جس کی یہ پردہ داری ہے
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-11-09, 08:38 PM   #34
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھر مراسلہ دیکھیں


جب ہزاروں پاؤنڈ کے ڈیزی کٹر عام انسانوں کو جن کا نہ القاعدہ سے واسطہ نہ کچھ، پر گراتے ہو، اس وقت انصاف کہاں‌ چلا جاتا ہے؟


آپ کا تجزيہ حقائق پر نہيں بلکہ عمومی تاثر اور قياس پر مبنی ہے۔ افغانستان ميں "ہزاروں پاؤنڈ وزنی" بموں کی کہانی نئ نہيں ہے۔ يہ الزام آج سے کچھ سال پہلے منظر عام پر آيا تھا اور تحقيق کے بعد غلط ثابت ہوا تھا۔

يہ الزام پہلی مرتبہ سال 2001 ميں اس وقت سامنے آيا تھا جب برطانيہ کے ايک نجی ڈی – يو ماہر ڈاۓ وليمز نے يہ دعوی کيا تھا کہ امريکہ افغانستان ميں پہاڑی غاروں تک رسائ کے ليے جو بم استعمال کر رہا ہے اس ميں يورينيم کی آميزش شامل ہے۔ چونکہ اس طرح کے ہتھياروں کا وزن 1000 سے 20000 پاؤنڈ تک ہوتا ہے لہذا ميڈيا کے کچھ عناصر نے يہ خبر نشر کر دی جس کی ديکھا ديکھی کچھ پاکستانی اخبارات نے بھی بغير تحقيق کيے يہ خبر شہ سرخيوں کے ساتھ شائع کی کہ امريکہ افغانستان ميں ہزاروں پاؤنڈ وزنی بم استعمال کر رہا ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ ان بموں ميں زمين کی سطح کو چيرنے کے ليے مواد يقينی طور پر استعمال ہوا تھا ليکن تحقيق سے يہ بات ثابت ہو گئ تھی کہ اس ميں يورينيم کا استعمال شامل نہيں تھا لہذا حقائق کی روشنی ميں يہ دعوی کرنا کہ افغانستان ميں "ہزاروں پاؤنڈ" وزنی بم استعمال کيے گۓ، قطعی بے بنياد ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-11-09, 08:45 PM   #35
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھر مراسلہ دیکھیں


کیا گوانتامو میں قید لوگ بین الاقوامی معاہدے کے تحت جنگی مجرم نہیں؟

جہاں تک اينمی کمبيٹنٹ کے حوالے سے قوانين کے بارے ميں آپ کا سوال ہے اس کی تشريح 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے تناظر ميں کی جانی چاہيے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ 11 ستمبر 2001 کے حملے امريکہ کے خلاف اقدام جنگ کے مترادف تھے۔ ان کی نوعيت اور شدت ايک جنگ کے مساوی تھی۔ ان حملوں ميں کم از کم ايک ہدف پينٹاگان خالص عسکری نوعيت کا تھا۔ يہ بھی ياد رہے کہ 11 ستمبر کے حملے القائدہ کی جانب سے امريکی تنصيبات پر پہلے حملے نہيں تھے بلکہ اس سے پہلے قريب دس سالہ عرصے ميں امريکی شہريوں اور امريکی تنصيبات پر لاتعداد حملے کيے گۓ۔

ستمبر 18 2001 کو کانگريس نے امريکی صدر کو يہ اختيار ديا تھا کہ وہ ان حملوں کے جواب ميں طاقت کا استعمال کر سکتے ہيں۔ اس کے بعد اقوام متحدہ اور نيٹو نے بھی اس بات کی توثيق کی تھی کہ امريکی کی جانب سے جوابی جارحانہ کاروائ اقوام متحدہ کے چارٹر اور نيٹو ٹريٹی کے عين مطابق ہو گی۔ 11 ستمبر 2001 (بلکہ اس سے بھی کچھ سال پہلے) امريکہ قانونی طور پر بھی اور حقائق کی روشنی میں حالت جنگ ميں ہے۔ اس ضمن ميں آپ کو يہ بھی ياد رکھنا چاہيے کہ اسامہ بن لادن نے قريب ايک دہائ پہلے عوامی سطح پر امريکہ کے خلاف "اعلان جنگ" کيا تھا۔ حالت جنگ کی صورت ميں کچھ ايسے قوانين اور ضوابط کا اطلاق حکومت کی صوابديد پر ہوتا ہے جن کا استعمال امن کی حالت ميں ممکن نہيں ہوتا۔ انھی قوانين ميں امريکی صدر کو يہ اختيار بھی حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس وقت تک اينمی کمبيٹنٹ کو زير حراست رکھ سکتےہيں جب تک حملے رک نہيں جاتے۔ اينمی کمبيٹنٹ کو جنگ کے قوانين اور ضابطوں کے عين مطابق دوران جنگ حراست ميں رکھا جا سکتا ہے۔

يہاں ميں يہ وضاحت بھی کر دوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ايک روايتی جنگ نہيں ہے جس ميں دو ممالک کی افواج اپنی مخصوض يونيفارمز اور جھنڈوں کے ساتھ اپنے ملک کی نمايندگی کرتے ہوۓ ميدان جنگ ميں ايک دوسرے کے سامنے واضح اعلان اور ارادے کے ساتھ موجود ہوتی ہيں اور اس ضمن ميں جنگ سے متعلق بين الاقوامی قوانين بھی لاگو ہوتے ہيں ۔ اس کے برعکس دہشت گرد عام عوام ميں گھل مل کر بغير اعلان اور اپنے "شکار" ميں فوجی اور غير فوجی کی تفريق کے بغير حملہ کرتے ہيں اسی ليے القائدہ کے ضمن ميں جنگ اور قيديوں کے حقوق کے حوالے سے جينيوا کينويشن کی شقوں کا مکمل اطلاق نہيں ہوتا۔

"اينمی کمبيٹنٹ" کون ہيں؟

القائدہ اور طالبان کے خلاف جاری جنگ ميں "اينمی کمبيٹنٹ" کی اصطلاح القائدہ اور طالبان سے وابسطہ ممبران اور ايجنٹس پر صادق آتی ہے۔ اس اصطلاح کی تشريح کے ليے امريکی حکومت نے 1942 ميں امريکی سپريم کورٹ کے اس فيصلے سے استفادہ کيا تھا جو ايکس پارٹ کوئرن نامی مشہور زمانہ کيس ميں ديا گيا تھا اس فيصلے سے ايک اقتتباس

ايکس پارٹ کوئرن 317 یو ايس 1، 37-38

"وہ شہری جو خود کو دشمن حکومت کی عسکری شاخ سے منسلک کريں گے اور اس کی مدد، رہنمائ اور اشارے سے جارحانہ عزائم کے ارادے کے ساتھ ملک ميں داخل ہوں گے انھيں ہيگ کنويشن اور جنگی قانون کی روشنی ميں دشمن تصور کيا جاۓ گا۔"

اس حوالے سے مزيد تفصيل آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔

Ex parte Quirin - Wikipedia, the free encyclopedia

"اينمی کمبيٹنٹ" ايک عمومی اصطلاح ہے جس کی دو ذيلی کيٹيگريز ہيں۔ قانونی اور غير قانونی کمبيٹنٹ۔ قانونی کمبيٹنٹ کی کيٹيگری کے زمرے ميں آنے والے قيديوں کو پی –او – ڈبليو کا سٹيٹس ديا جاتا ہے اور انھيں تيسری جينيوا کنوينشن کے تحت تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

امريکی صدر کے فيصلے کے مطابق القائدہ تنظيم کے رکن غير قانونی کمبيٹنٹ کی کيٹيگری ميں آتے ہيں کيونکہ دوسری وجوہات کے علاوہ وہ ايک ايسے گروپ کی نمايندگی کرتے ہيں جو کسی مملکت يا رياست کی نمايندگی نہيں کرتا لہذا تيسری جينيوا کينوينشن ميں ديے جانے والے تحفظات کا اطلاق اس صورت ميں نہيں ہوتا۔ اسی طرح طالبان کے گرفتار شدہ ارکان پر پی – او – ڈبليو سٹيٹس کا اطلاق نہيں ہوتا کيونکہ وہ ان شرائط کو پورا نہيں کرتے جو تيسری جينيوا کنويشن کے آرٹيکل 4 ميں وضع کی گئ ہيں۔

قانون کے اعتبار سے اس ضمن ميں امريکی صدر کا فيصلہ حتمی ہے ليکن عدالتوں نے بھی ان کے اس فيصلے کی باقاعدہ توثيق کی ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-11-09, 09:14 PM   #36
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اخترحسین مراسلہ دیکھیں
حیرت ھے ۔ اور مجھے غصہ بھی آرہا ھے

امريکہ ميں ہر شخص کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اس ضمن ميں کوئ امتياز نہيں ہے۔ امريکہ ميں آئين اور قوانين اس امر کو يقينی بناتے ہيں۔ اس تناظر ميں ہر شخص کو يہ اختيار حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کی تشہير کر سکتا ہے۔

امريکہ ميں اسلام کی قدر وقيمت اور سرکاری سطح پر اس کی اہميت کے ضمن ميں کچھ حقائق واضح کرنا چاہتا ہوں۔

امريکہ کے اندر اس وقت 1200 سے زائد مساجد اور سينکڑوں کی تعداد ميں اسلامی سکول ہيں جہاں اسلام اور عربی زبان کی تعليم دی جاتی ہے۔ امريکی معاشرے کی بہتری کے ليے مسلمانوں کو ديگر مذاہب کے لوگوں سے بات چيت اور ڈائيلاگ کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ اس کی ترغيب بھی دی جاتی ہے۔ امريکی سپريم کورٹ نے محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوانسانی تاريخ کے ايک اہم قانونی وسيلے کی حيثيت سے تسليم کيا ہے۔ امريکہ کے وہ دانشور اور رہنما جنھوں نے امريکی آئين تشکيل ديا انھوں نے کئ امور پر باقاعدہ قرآن سے راہنمائ لی۔ قرآن پاک کا انگريزی ترجمہ تھامس جيفرسن کی ذاتی لائبريری کا حصہ تھا۔

۔ ايک مسلمان ہونے کی حيثيت سے ميں آپ کو اپنے ذاتی تجربے کی روشنی ميں يہ بتا سکتا ہوں کہ امريکی معاشرے بلکہ امريکی حکومتی اداروں ميں بھی مسلمانوں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائيگی ميں کسی پابندی يا رکاوٹ کا سامنا نہيں کرنا پڑتا۔

کانگريس کے پہلے مسلم رکن کيتھ ايليسن کی حلف برداری کی تقريب کے حوالے سے کچھ باتيں جو آپ کے ليے دلچسپی کا باعث ہوں گی۔

کيتھ ايليسن نے اپنی حلف برداری کی تقريب سے پہلے يہ درخواست کی تھی کہ وہ بائبل کی بجاۓ قرآن پاک پر حلف اٹھانا چاہتے ہيں۔ صرف يہی نہيں بلکہ انھوں نے حلف اٹھانے کے ليے قرآن پاک کے اس ناياب نسخے کا انتخاب کيا جو امريکہ کے تيسرے صدر تھامس جيفرسن کی ذاتی لائيبريری کا حصہ تھا۔ قرآن پاک کا يہ نسخہ 1764 ميں لندن سے دو جلدوں ميں شائع ہوا تھا۔ اس وقت قرآن پاک کا يہ نادر نسخہ کانگريس کی لائيبريری کا حصہ ہے۔

آخر ميں اپنے اس موقف کا اعادہ کروں گا کہ ہے امريکی آئين کے مطابق امريکی شہريوں کو بغير کسی تفريق کے اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ دنيا ميں کتنے ممالک ايسے ہيں جو يہ دعوی کر سکتے ہيں کہ وہاں پر ہر قوم اور مذہب کے لوگوں کو مکمل آزادی حاصل ہے؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-11-09, 11:12 PM   #37
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
صاحب سلام۔

قرآن حکیم کے کامل درست ہونے پر تو ایمان ہے۔ ایمان کے بعد کسی دلیل کی ضرورت نہیں‌رہتی۔

آپ کے پاس حدیث صحیحہ کے درست ہونے کی کوئی دلیل ہے؟ یا یہ کہ ان کتابوں پر آپ کا ایمان ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیوں؟ کیا اللہ کے رسول نے یا اللہ تعالی نے کہیں ایسا کہا ہے کہ بعد میں‌بھی چھ سات کتب آئیں گی ان مکمل کتب پر ایمان رکھنا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا حوالہ فراہم کیجئے ؟ یا پھر آُ کے پاس اللہ تعالی کی طرف سے وحی آتی ہے؟

میرا دعوی ہے کہ آپ اس کا سوال گول کر جائیں گے کہ اس سے یہ سامنے آتا ہے کہ حدیث پرستوں کے اصل نبی کون ہیں اور ان کا ایمان کن کتب پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان کتب پر ایمان ہے اور ان کتب کے لکھنے والوں‌پر ایمان ہے تو پھر شرمانا کیسا، دھڑلے سے کہیں‌کہ آپ حدیث پرست ہیں اسلام کی آڑ میں مسلمانوں کو ایس کتب سے شکار کرنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔

ہمسایہء جبریل امیں ہے بندہء‌مومن
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشاں

کسی یکجائی سے اب عہد غلامی کرلو
امت احمد مرسل کو مقامی کرلو



والسلام
بے غم ہو جائیں جناب
گول نہیں بالکل سیدھا کہہ رہا ہوں کہ میں اس موضوع پر آپ سے کوئی بات کرنا بالکل بھی مناسب نہیں سمجھتا۔۔۔۔ وجہ آپ سمجھتے ہوں گے۔۔

اور اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ آپ کے دلائل قوی ہیں اور ہمارے پاس حدیث کے لئے دلیل نہیں تو بے شک آپ خوش رہیں۔۔۔۔۔ ہم بے دلیلے ہی اچھے
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-11-09, 11:26 PM   #38
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھر مراسلہ دیکھیں


امریکہ پر تو القاعدہ نے حملہ کیا تھا نا؟ جاؤ جا کر القاعدہ کو پکڑو؟ دنیا کی بہترین افواج، آلات، جدید ٹیکنالوجی، بلیک واٹر اور پتا نہیں کیا کیا سب کچھ تو ہے تو کیوں‌ باقاعدہ فوج کشی شروع کر دی افغانستان پر؟ کیاٹیکنالوجی اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نہیں سکتی تھی کہ ایک چھوٹی سی فوج سے اسی جگہ حملہ کر دیتے، بم ماردیتے، اڑا دیتے - اللہ اللہ خیر صلہ --

امريکی حکومت اس بات سے بخوبی واقف تھی کہ القائدہ کو اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے ميں کاميابی طالبان حکومت کی پشت پناہی اور سپورٹ کی بدولت ملی۔

آپ نے بالکل درست کہا ہے کہ امريکہ ابھی تک اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے ميں کامياب نہيں ہو سکا ہے ليکن يہ بھی حقيقت ہے کہ القائدہ تنظيم کے کئ اہم رکن گرفتار يا ہلاک ہو چکے ہیں۔ 2001 ميں امريکہ کی فوجی کاروائ سے پہلے القائدہ کاميابی کے ساتھ دنيا کے مختلف ممالک ميں دہشت گرد سيل اور گروپ تيار کر رہی تھی جس کی تمام تر ٹرينيگ افغانستان ميں کی جا رہی تھی۔ يہ تمام تربيت اور امداد طالبان حکومت کی زير نگرانی کی جا رہی تھی۔ اس وقت يہ صورت حال نہيں ہے۔ يہ درست ہے کہ ايک تنظيم کی حيثيت سے القائدہ اس وقت بھی ايک خطرہ ہے ليکن اس کی افاديت پہلے سے بہت کم ہو چکی ہے۔ اس تنظيم کی باقی ماندہ قيادت مفرور ہے اور اس کی تمام توجہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے پر صرف ہو رہی ہے۔

اسامہ بن لادن کو بالآخر انصاف کے کٹہرے ميں لايا جاۓ گا اور انھيں اپنے جرائم کی سزا ملے گی۔

آپ نے 11 ستمبر 2001 کے حادثے ميں ہونے والے جانی نقصان کے تناظر ميں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی منطق پر تنقيد کی ہے۔

حققیت يہ ہے کہ القائدہ کے خلاف کاروائ کا فيصلہ صرف 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد نہيں کيا گيا تھا بلکہ اس کے پيچھے قريب دس سالہ تاريخ ہے جس دوران القائدہ نے امريکہ کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کر کے دنيا بھر ميں امريکی تنصيبات اور املاک پر حملے شروع کر رکھے تھے۔ 11 ستمبر کے واقعات کے بعد بھی دو ماہ تک طالبان سے يہ مطالبہ کيا گيا کہ اسامہ بن لادن کو حکام کے حوالے کيا جاۓ۔ تمام تر مذاکرات کی ناکامی کے بعد فوجی کاروا‏ئ کے سوا کوئ چارہ نہيں تھا۔

اگر امريکہ 11 ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد بھی کوئ کاروائ نہيں کرتا تو آج القائدہ پہلے سے کہيں زيادہ موثر اور فعال تنظيم ہوتی۔ طالبان کے انکار کے بعد کيا امريکی حکومت دہشت گردی کے خطرے کو دانستہ نظرانداز کر سکتی تھی؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 21-11-09, 04:35 AM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,904
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,609 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
بے غم ہو جائیں جناب
گول نہیں بالکل سیدھا کہہ رہا ہوں کہ میں اس موضوع پر آپ سے کوئی بات کرنا بالکل بھی مناسب نہیں سمجھتا۔۔۔۔ وجہ آپ سمجھتے ہوں گے۔۔

اور اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ آپ کے دلائل قوی ہیں اور ہمارے پاس حدیث کے لئے دلیل نہیں تو بے شک آپ خوش رہیں۔۔۔۔۔ ہم بے دلیلے ہی اچھے
میرے پاس کوئی دلائل نہیں ہیں۔ میں‌صرف اور صرف مسلمان ہونے کے ناطہ قرآن پر یقین رکھتا ہوں۔ آپ تھیک سمجھے کہ میں بخوبی سمجھتا ہوں کہ یہاں کچھ لوگوں کا ایمان کتب روایات پر ہے۔

میں اب بھی اس دلیل کے انتظار میں ہوں‌جو امریکہ کو کافر قرار دیتی ہے ، جس کفر کو بنیاد بنا کر القاعدہ اور طالبان نے امریکہ کے خلاف اپنی ذاتی جنگ میں پاکستان کو میدان کارزار بنایا ہوا ہے۔ پاکستان کے ہر معصوم شہری، عورتوں اور بچوں کا بازاروں میں نہتا قتل جہنمی طالبان کے سر ہے۔ جس میں‌بلاشبہ القاعدہ اور طالبان پیش پیش ہیں۔

امریکہ کی قانون سازی میں نہ صرف قرآن کریم کے قوانیں اور اصولوں سے بھی مدد لی گئی ، بلکہ محمد صلعم کو دنیا کے بہترین قانون دینے والوں میں گنا گیا۔


امریکہ کے تیسرے صدرجناب تھامس جیفرسن کے پاس قرآن کا ایک انگریزی ترجمہ تھا جو لائبریری آف کانگرس کے پاس محفوظ ہے۔

مزید یہ کہ امریکہ دوسرے صدر جناب جان آدمز کے پاس بھی قرآن کا ایک نسخہ موجود تھا۔ یہ نسخہ آج بوسٹن پبلک لائبریری کے پاس محفوظ ہے۔ اس کا لنک دیکھئے۔

Search Books
The Koran : commonly called the Alcoran of Mahomet

John Adams (October 30, 1735 – July 4, 1826) was an American politician and the second President of the United States (1797–1801), after being the first Vice President (1789–1797) for two terms. He is regarded as one of the most influential Founding Fathers of the United States.

محفوظ رکھے جانے کا لنک دوسرا والا ہے۔

آج امریکہ کے آئین کا بنیادی اصول ، قرآن حکیم کے کسی بنیادی اصول کے خلاف نہیں ہے۔ یہ ایک بیانیہ جملہ نہیں ہے۔ جس طرح پاکستان کے آئین کے بنیادی اصول ، قرآن حکیم کے کسی اصول کے خلاف نہیں ۔ تو اس زعم میں مبتلا ہونا کہ "میں (بحیثیت پاکستانی) " ایک مسلم ملک کا باشندہ ہوں اور "تم" (‌بحیثیت امریکہ) ایک کافر ملک کے باشندہ ہو - ایسا سوچنا پھر اس کو بنیاد بنا کر امریکی باشندوں کو قتل کے قابل ٹھہرانا، نا صرف ایک خام خیالی ہے بلکہ انتہائی درجہ کی ارزل اور مذموم سوچ ہے۔

سارا مسئلہ اسامہ بن لادن کا ذاتی مسئلہ ہے ، اس نے اپنی انتظامی صلاحیت سے ایک شیطانی تنظیم کو جنم دیا جو آج ساری دنیا کے لئے خطرہ ہے ۔ اور اس کا سب سے بڑا نشانہ پاکستان ہے۔ پاکستان کے معصوم عوام ہیں۔۔

یہاں‌کچھ لوگوں کو شائد میری بات پسند نہ آئے اس لئے کہ ان کے ذہن کے اسفنج القاعدہ کے پراپیگنڈہ کا شکار ہیں۔ یہ پراپیگنڈا اس قدر مظبوط اور منظم ہے کہ اس کا شکار پاکستانی فوج، پاکستانی حکومت اور پاکستانی انتظامیہ سب ہیں۔

اس کے لئے کچھ دور جانے کی ضرورت نہیں صرف اخباروں کی خبرٰن پڑھ لیں آپ کو پتہ چل جائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔

طالبان کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 21-11-09, 09:07 AM   #40
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
بے غم ہو جائیں جناب
گول نہیں بالکل سیدھا کہہ رہا ہوں کہ میں اس موضوع پر آپ سے کوئی بات کرنا بالکل بھی مناسب نہیں سمجھتا۔۔۔۔ وجہ آپ سمجھتے ہوں گے۔۔

اور اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ آپ کے دلائل قوی ہیں اور ہمارے پاس حدیث کے لئے دلیل نہیں تو بے شک آپ خوش رہیں۔۔۔۔۔ ہم بے دلیلے ہی اچھے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
میرے پاس کوئی دلائل نہیں ہیں۔ میں‌صرف اور صرف مسلمان ہونے کے ناطہ قرآن پر یقین رکھتا ہوں۔ آپ تھیک سمجھے کہ میں بخوبی سمجھتا ہوں کہ یہاں کچھ لوگوں کا ایمان کتب روایات پر ہے۔

میں اب بھی اس دلیل کے انتظار میں ہوں‌جو امریکہ کو کافر قرار دیتی ہے ، جس کفر کو بنیاد بنا کر القاعدہ اور طالبان نے امریکہ کے خلاف اپنی ذاتی جنگ میں پاکستان کو میدان کارزار بنایا ہوا ہے۔ پاکستان کے ہر معصوم شہری، عورتوں اور بچوں کا بازاروں میں نہتا قتل جہنمی طالبان کے سر ہے۔ جس میں‌بلاشبہ القاعدہ اور طالبان پیش پیش ہیں۔

امریکہ کی قانون سازی میں نہ صرف قرآن کریم کے قوانیں اور اصولوں سے بھی مدد لی گئی ، بلکہ محمد صلعم کو دنیا کے بہترین قانون دینے والوں میں گنا گیا۔


امریکہ کے تیسرے صدرجناب تھامس جیفرسن کے پاس قرآن کا ایک انگریزی ترجمہ تھا جو لائبریری آف کانگرس کے پاس محفوظ ہے۔

مزید یہ کہ امریکہ دوسرے صدر جناب جان آدمز کے پاس بھی قرآن کا ایک نسخہ موجود تھا۔ یہ نسخہ آج بوسٹن پبلک لائبریری کے پاس محفوظ ہے۔ اس کا لنک دیکھئے۔

Search Books
The Koran : commonly called the Alcoran of Mahomet

John Adams (October 30, 1735 – July 4, 1826) was an American politician and the second President of the United States (1797–1801), after being the first Vice President (1789–1797) for two terms. He is regarded as one of the most influential Founding Fathers of the United States.

محفوظ رکھے جانے کا لنک دوسرا والا ہے۔

آج امریکہ کے آئین کا بنیادی اصول ، قرآن حکیم کے کسی بنیادی اصول کے خلاف نہیں ہے۔ یہ ایک بیانیہ جملہ نہیں ہے۔ جس طرح پاکستان کے آئین کے بنیادی اصول ، قرآن حکیم کے کسی اصول کے خلاف نہیں ۔ تو اس زعم میں مبتلا ہونا کہ "میں (بحیثیت پاکستانی) " ایک مسلم ملک کا باشندہ ہوں اور "تم" (‌بحیثیت امریکہ) ایک کافر ملک کے باشندہ ہو - ایسا سوچنا پھر اس کو بنیاد بنا کر امریکی باشندوں کو قتل کے قابل ٹھہرانا، نا صرف ایک خام خیالی ہے بلکہ انتہائی درجہ کی ارزل اور مذموم سوچ ہے۔

سارا مسئلہ اسامہ بن لادن کا ذاتی مسئلہ ہے ، اس نے اپنی انتظامی صلاحیت سے ایک شیطانی تنظیم کو جنم دیا جو آج ساری دنیا کے لئے خطرہ ہے ۔ اور اس کا سب سے بڑا نشانہ پاکستان ہے۔ پاکستان کے معصوم عوام ہیں۔۔

یہاں‌کچھ لوگوں کو شائد میری بات پسند نہ آئے اس لئے کہ ان کے ذہن کے اسفنج القاعدہ کے پراپیگنڈہ کا شکار ہیں۔ یہ پراپیگنڈا اس قدر مظبوط اور منظم ہے کہ اس کا شکار پاکستانی فوج، پاکستانی حکومت اور پاکستانی انتظامیہ سب ہیں۔

اس کے لئے کچھ دور جانے کی ضرورت نہیں صرف اخباروں کی خبرٰن پڑھ لیں آپ کو پتہ چل جائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔

طالبان کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے
قابل صد احترام
آپ شاید امریکہ کی محبت میں مجنوں سے بھی چار قدم آگے نکل گئے ہیں۔۔
میرے مراسلے میں جسکا آپ نے جواب دیا ہے اس میں صرف حدیث کی بات تھی اور آپ نے بے وقت کی راگنی الاپتے ہوئے پھر سے امریکہ سے اپنی والہانہ محبت اور عقیدت کا درس دینا شروع کر دیا۔۔۔

امریکہ کا کافر یا مسلمان ہونا اتنا اہم نہیں جتنا ایک مسلمان کے لئے اسلام اور قرآن و حدیث کا احترام کرنا ضروری ہے۔۔

بہر حال میں آپ کی مجبوریوں سے بخوبی آگاہ ہوں
کل اگر طالبان سے امریکہ کے مذاکرات کامیاب ہو گئے تو آپ ہی نے طالبان کے گن گانے شروع کر دینے ہیں۔
کیوں کہ آپ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں حقائق کے نہیں

امریکہ کا جو یار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے سب جانتے ہیں وہ کیا ہے اس لئے میں نہیں‌ بتاتا
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (22-11-09), مسٹر شیف (22-11-09), طاھر (21-11-09), عادل سہیل (24-11-09), عبداللہ حیدر (22-11-09)
پرانا 21-11-09, 01:43 PM   #41
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
یہاں‌کچھ لوگوں کو شائد میری بات پسند نہ آئے اس لئے کہ ان کے ذہن کے اسفنج القاعدہ کے پراپیگنڈہ کا شکار ہیں۔ یہ پراپیگنڈا اس قدر مظبوط اور منظم ہے کہ اس کا شکار پاکستانی فوج، پاکستانی حکومت اور پاکستانی انتظامیہ سب ہیں۔

طالبان کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے
فاروق صاحب !

آپ کی دوسری باتوں سے قطعہ نظر، گو کہ اس میں بھی کہنے سننے کی بے انتہا گنجائش ہے، صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ کیا القاعدہ کی پراپیگینڈا مشینری سی-این-این، بی-بی-سی، سی-این-بی-سی، فاکس اور کئی ہزار دوسرے چینیلز سے زیادہ طاقتور ہے؟ مجھے تو آج تک بحیثیت عام آدمی کسی القاعدہ یا طالبان نے آکر آپ کے مائی باپ امریکہ کے خلاف کوئی بات نہیں کی، نہ میں نے ان کو کوئی اخبار دیکھا، نہ اسامہ بن لادن اور ایمن الزواہری کے ویڈیو پیغامات میں نے سنے، پھر یہ کون سا طریقہ واردات ہے کہ نہ صرف ساہج، راجہ اکرام اور طاہر بلکہ حکومت پاکستان، افواج پاکستان ور انتظامیہ پاکستان بیچارے سارے کے سارے اس پروپیگینڈہ کا شکار ہو گئے؟ کیا آپ کے خیال میں پی-ٹی-وی تو القاعدہ کا نمائندہ چینل تو نہیں، ریڈیو پاکستان کہیں اسامہ بن لادن کی انویسٹمنٹ سے تو نہیں بنا یا جنگ اخبار القاعدہ کی پشت پناہی پر نہیں چل رہا؟ پاکستانی "اکثریت" تو یہی میڈیا دیکھتی ہے۔

آپ کے اس نعرے سے مجھے کچھ پرانی یادیں تازہ ہوگئیں، لگتا ہے آپ کا تعلق بھی کسی زمانے میں "کسی" طلبہ تنظیم سے رہا ہے ، یہ ایک زمانے میں کچھ ایک تنظیموں کا یہ بہت مشہور نعرہ ہوا کرتا تھا، آجکل کا معلوم نہیں

اللہ ہم سب کو ہدایت دے - آمین

طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
sahj (21-11-09), فاروق سرورخان (21-11-09), مسٹر شیف (22-11-09), راجہ اکرام (21-11-09), عادل سہیل (24-11-09), عبداللہ حیدر (22-11-09)
پرانا 22-11-09, 01:21 AM   #42
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
ایک مرتبہ پھر امریکی ایمان پر فاروق صآحب کے "دلائل" پڑھ کر محظوظ ہو رہا ہوں۔ سچ ہے کہ جب آدمی اللہ کے رسول کے فرامین سے چھٹکارا پا لے تو اس قسم کے طبع زاد فلسفے پیش کرنا مشکل نہیں‌رہ جاتا۔
تین مراسلے تقابل کے لیے پیش خدمت ہیں، انہیں غور سے پڑھیے اور نتیجہ خود نکال لیجیے۔
امیرالمومنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل بخاری کا ذکر ہے:
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
جب کہ آپ کا اپنا اور آپ کے ہمنواؤں کا حال یہ ہے کہ نبی بخاری ہے، اور قرآن "صحیح بخاری" اور دعوی کرتے ہیں مسلماں ہونے کا۔ ۔
امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں:
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
ایک محدث امام مالک (ر) بھی ہو گذرا ہے۔ جو کہ اتفاق سے عرب بھی تھا۔ اس کی مرتب کی ہوئی روایت کی کتاب سے آپ کوئی روایت حضرت عیسی کے زندہ ہونے ، زندہ آسمان پر جانے اور زندہ واپس آنے پر فراہم کردیجئے
امریکی صدر کا ذکر:
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
م
امریکہ کے تیسرے صدرجناب تھامس جیفرسن کے پاس قرآن کا ایک انگریزی ترجمہ تھا جو لائبریری آف کانگرس کے پاس محفوظ ہے۔

مزید یہ کہ امریکہ دوسرے صدر جناب جان آدمز کے پاس بھی قرآن کا ایک نسخہ موجود تھا۔
سچ ہے کہ برتن سے وہی چیزنکلتی ہے جو اس میں‌ہوتی ہے۔
قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ (آل عمران 118 )
"بغض تو ان کی زبانوں سے خود ظاہر ہو چکا ہے، اور جو (عداوت) ان کے سینوں نے چھپا رکھی ہے وہ اس سے (بھی) بڑھ کر ہے"

Last edited by عبداللہ حیدر; 22-11-09 at 03:01 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (23-11-09), فاروق سرورخان (22-11-09), مسٹر شیف (22-11-09), احمد بلال (19-12-09), راجہ اکرام (07-12-09), عادل سہیل (24-11-09)
پرانا 22-11-09, 03:05 AM   #43
Senior Member
مقبول
 
شاہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 199
کمائي: 2,929
شکریہ: 32
139 مراسلہ میں 350 بارشکریہ ادا کیا گیا
شاہ کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

امریکہ امریکہ کر بھیا
امریکہ ہی سے ڈر بھیا
ہما ہما چل بھئی چل
ٹھمک ٹھمک تا تھیا

ڈالر کے عشق میں جو بھی ڈوب گیا
اسے اچھے برے کا ہوش ہے کیا

ہم نے تو سنا تھا دنیا کی سب سے وفادار مخلوق ایک جانور ہے لیکن انسان بھی "اشرف مخلوقات" ہے ۔ کچھ صاحبان کی وفاداری پر تو وہ جانور بھی شرماجائے
شاباش حق نمک کو حلال کرنا اسی کو کہتے ہیں ۔ ویسے فاروق صاحب کا نعرہ ادھورا ہے اس کو مکمل کرلیں
طالبان کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے
اورجو بھی غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے
اب اس نعرے کے تناظر میں ڈرون حملے اور دیگر دہشت گردی کی وارداتوں پر نظر ڈالیں تو کچھ اور حقیقتیں آشکار ہونگیں
مجھے یقین ہے کے اس فورم میں لکھنے والے ہر شخص کے کوائف کو جب بھی امریکی حکومت چاہے معلوم کرسکتی ہے اس ٹیکنالوجی کے دور میں جانے کیسے اسامہ اور ایمن جیسے دنیا سے چھپتے پھرتے لوگوں کی ویڈیوز الجزیرہ سے نشر ہوجاتی ہیں اور جانے کون سے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو فون آجاتے ہیں ہر دہشت گردی کی واردات کے ذمہ داروں کا
یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہر پھٹنے والا خودکش کیا جیب میں خط لکھ کر رکھتا ہے کے میں طالبان ہوں یا اس کے جسم پر جاسوسی ناولوں کی طرح کوئی نشان کندہ ہوتا ہے جس سے پتہ چل جاتا ہے یہ امریکہ کا خریدہ ہوا کوئی خود کو بیچنے والا شخص نہیں بلکہ طالبان ہے
اور یہ بات تو بالکل ہی سمجھ میں نہیں آتی کے عوامی مقام پر دھماکے کرکے معصوم لوگوں کو قتل کرنے والے طالبان کو ان دھماکوں سے کیا فائدے مل رہے ہیں اس قسم کے دھماکوں کا فائدہ تو ان کی مخالف قوتوں کو پہنچ رہا ہے اور ان کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے میں خوب مدد مل رہی ہے
جانے امریکہ جیسی پاور سے پنگا لینے اور ناکوں چنے چبوانے والے لوگ اتنے بے وقوف کیوں ہیں
خیر جو بھی ہو ہمیں کیا ہمیں تو شرم آرہی ہے ان افراد کی وفاداری دیکھ کر شاید ان کے مقابلے میں آدھی وفاداری بھی اپنے اللہ سے نبھا لیتے تو آج ان حالوں میں نا ہوتے ہے
ماننا پڑے گا وفاداری ہو تو ایسی

Last edited by شاہ; 22-11-09 at 03:08 AM.
شاہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شاہ کا شکریہ ادا کیا
sahj (23-11-09), فاروق سرورخان (22-11-09), عادل سہیل (24-11-09)
پرانا 22-11-09, 08:31 AM   #44
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,904
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,609 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جو حقائق میں نے پیش کئے ان کا لنک بھی فراہم کیا۔ فلسفہ تو سب ہی پیش کرسکتے ہیں‌ ۔ آپ دیکھئے کہ یہ حقائق ہیں کہ نہیں۔ اب ایک حقیقت اور دیکھئے۔

امریکہ جن انسانوں کو تاریخ کے سب سے بڑے قانون فراہم کرنے والا تصور کرتا ہے ان میں سے ایک رسول اکرم محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس کا ثبوت:

یہ ایک پی ڈی ایف فائیل ہے۔ جس میں امریکہ کی سپریم کورٹ‌پر لگی ہوئی ایک تختی پر جن لوگوں کے تمثیلچہ بنے ہوئے ہیں ان میں سے ایک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ ان کے بارے میں امریکہ کی سپریم کورٹ‌لکھتی ہے۔

Muhammad (c. 570 - 632) The Prophet of Islam. He is depicted holding the Qur’an. The Qur’an provides the primary source of Islamic Law. Prophet Muhammad’s teachings explain and implement Qur’anic principles. The figure above is a well-intentioned attempt by the sculptor, Adolph Weinman, to honor Muhammad and it bears no resemblance to Muhammad. Muslims generally have a strong aversion to sculptured or pictured representations of their Prophet.

اقتباس:
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) 570 تا 632 عیسوی ---- پیغمبر اسلام، ان کا تمثیلچہ ، قرآن اٹھائے، قرآن حکیم بنیادی منبع فراہم کرتا ہے اسلامی قوانین کا ۔ جناب رسول اللہ محمد (صلعم) کی تعلیمات قرآن حکیم کی تعلیمات کی وضاحت کرتی ہیں اور قرآن حکیم کے اصولوں کا نفاذ کرتی ہیں۔ دیا ہوا تمثیلچہ، تمثیلچہ بنانے والے اڈولف وینمین کی ایک جانی بوجھی کوشش ہے کہ محمد (صلعم) کو یاد کرکے ان کی تعظیم کی جائے، اس تمثیلچہ کی کوئی مشابہت محمد (صلعم) سے نہیں ہے۔ مسلمان، عام طور پر اپنے نبی کی تصویر یا مجسمہ کے خلاف ہیں۔
آپ کتنے بھی فلسفہ بگھار لیں۔ میری کتنی بھی کردار کشی کرلیں۔ حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔ جو بھی لکھا وہ ھقیقت پر مبنی ہے۔ اب تک کوئی صاحب بھی ایک بھی مثال نہیں فراہم کرسکے ہیں کہ امریکی قانون میں کیا خلاف احکام خداوندی ہے۔

کم از کم انصاف تو کیجئے۔ اللہ تعالی نے فرمایا۔

5؛8 -- اے ایمان والو! اﷲ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اﷲ سے ڈرا کرو، بیشک اﷲ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 22-11-09, 08:31 AM   #45
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,904
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,609 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جو حقائق میں نے پیش کئے ان کا لنک بھی فراہم کیا۔ فلسفہ تو سب ہی پیش کرسکتے ہیں‌ ۔ آپ دیکھئے کہ یہ حقائق ہیں کہ نہیں۔ اب ایک حقیقت اور دیکھئے۔

امریکہ جن انسانوں کو تاریخ کے سب سے بڑے قانون فراہم کرنے والا تصور کرتا ہے ان میں سے ایک رسول اکرم محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس کا ثبوت:

یہ ایک پی ڈی ایف فائیل ہے۔ جس میں امریکہ کی سپریم کورٹ‌پر لگی ہوئی ایک تختی پر جن لوگوں کے تمثیلچہ بنے ہوئے ہیں ان میں سے ایک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ ان کے بارے میں امریکہ کی سپریم کورٹ‌لکھتی ہے۔

Muhammad (c. 570 - 632) The Prophet of Islam. He is depicted holding the Qur’an. The Qur’an provides the primary source of Islamic Law. Prophet Muhammad’s teachings explain and implement Qur’anic principles. The figure above is a well-intentioned attempt by the sculptor, Adolph Weinman, to honor Muhammad and it bears no resemblance to Muhammad. Muslims generally have a strong aversion to sculptured or pictured representations of their Prophet.

اقتباس:
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) 570 تا 632 عیسوی ---- پیغمبر اسلام، ان کا تمثیلچہ ، قرآن اٹھائے، قرآن حکیم بنیادی منبع فراہم کرتا ہے اسلامی قوانین کا ۔ جناب رسول اللہ محمد (صلعم) کی تعلیمات قرآن حکیم کی تعلیمات کی وضاحت کرتی ہیں اور قرآن حکیم کے اصولوں کا نفاذ کرتی ہیں۔ دیا ہوا تمثیلچہ، تمثیلچہ بنانے والے اڈولف وینمین کی ایک جانی بوجھی کوشش ہے کہ محمد (صلعم) کو یاد کرکے ان کی تعظیم کی جائے، اس تمثیلچہ کی کوئی مشابہت محمد (صلعم) سے نہیں ہے۔ مسلمان، عام طور پر اپنے نبی کی تصویر یا مجسمہ کے خلاف ہیں۔
آپ کتنے بھی فلسفہ بگھار لیں۔ میری کتنی بھی کردار کشی کرلیں۔ حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔ جو بھی لکھا وہ ھقیقت پر مبنی ہے۔ اب تک کوئی صاحب بھی ایک بھی مثال نہیں فراہم کرسکے ہیں کہ امریکی قانون میں کیا خلاف احکام خداوندی ہے۔

کم از کم انصاف تو کیجئے۔ اللہ تعالی نے فرمایا۔

5؛8 -- اے ایمان والو! اﷲ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اﷲ سے ڈرا کرو، بیشک اﷲ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
com, search, پاکستان, پسند, واشنگٹن, قرآن, لوگ, لندن, نظر, آج, انسان, امریکہ, بچوں, حسن, خواتین, خلاف, خان, دیس, سال, شام, غلامی, غربت, صوبہ, صبح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:49 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger