| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
|
|
Senior Member
![]() |
موغا دیشو (جنگ نیوز) صومالیہ میں انتہاپسند تنظیم حزب الاسلام کے مزاحمت کاروں نے 48 سالہ ایک شخص کو سنگسار کردیا۔ اے پی کے مطابق اف گوئے شہر میں قائم مقامی شریعت عدالت نے شادی شدہ ہونے کے باجود زنا کے الزام میں محمد ابراھیم کو سنگسار کرنے کی سزا دی تھی۔ عدالتی حکم کے بعد حزب الاسلامی کے مسلح افراد نے محمد ابوکر ابراہیم کے بدن کا نچلا دھڑ زمین میں دبادیا جس کے بعد اسے ماسک پہنے ہوئے لوگوں سمیت دیگر افراد نے پتھر مار مار کر ہلاک کردیا۔
تصاویر یہاں ہیں نوٹ: موت بذریعہ سنگساری قرآن حکیم سے قطعاً ثابت نہیں ۔۔ لیکن یہ اسرائیلیاتی سزا یہودی کتب میں قبل از اسلام ثابت ہے ۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by shafresha; 19-12-09 at 09:12 AM. وجہ: نام کی تصیح |
|
|
|
|
|
#16 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی الیاس،
بہت ہی مؤدبانہ عرضہے کہ ایسی سنی سنائی پر کیوں یقین رکھا جائے جب قرآن کے واضح احکامات موجود ہیں۔ ان کہانیوں کی کتابوں پر کیا ایمان رکھنا ہے یا پھر کوئی دلیل یا کوئی ثبوت ہے کہ ان کتب میں رسلو اکرم سے منسوب ہر خلاف قرآن روایت درست ہے؟ پلیز دلیل یا ثبوت فراہم کیجئے یا پھر یہ کہ کسی کا حکم کہ ان کتب پر ایمان رکھنا ہے اسلئے یہ درست ہیں۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | احمد بلال (16-12-09) |
|
|
#18 |
|
Senior Member
![]() |
لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ
وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم مُّعْرِضُونَ 24:48 اور جب ان لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرما دے تو اس وقت ان میں سے ایک گروہ (دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آنے سے) گریزاں ہوتا ہے وَإِن يَكُن لَّهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ 24:49 اور اگر وہ حق والے ہوتے تو وہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مطیع ہو کر تیزی سے چلے آتے أَفِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَن يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ بَلْ أُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ 24:50 کیا ان کے دلوں میں (منافقت کی) بیماری ہے یا وہ (شانِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) شک کرتے ہیں یا وہ اس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر ظلم کریں گے، (نہیں) بلکہ وہی لوگ خود ظالم ہیں إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ 24:51 ایمان والوں کی بات تو فقط یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے تو وہ یہی کچھ کہیں کہ ہم نے سن لیا، اور ہم (سراپا) اطاعت پیرا ہو گئے، اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ 24:52 اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا اور اس کا تقوٰی اختیار کرتا ہے پس ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() |
سوال اب بھی اپنی جگہ ہے دوستو۔
ان آیات میں سے ایک بھی یہ نہیں بتاتی کہ ان کتابوں میں شامل تمام روایات درست ہیں۔ کیا مشکل ہے کہ منہہ سے ان کتب پر ایمان کا اقرار نہیں کرتے آپ لوگ جب کہ دلوں میں ان کتب پر ایمان رکھتے ہیں۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-10-10) |
|
|
#20 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم
تفسیر ابن کثیر کا عکس رجم سے متعلق حاضر خدمت ھے، |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | عادل سہیل (18-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی سھج ،سلام
بھائی ان روایت پر جو قرآن حکیم کے خلاف ہیں ، کیا آُپ کا ان روایات پر ایمان ہے؟ ان پر ایمان رکھنے کا حکم کس نے دیا؟ اس کتاب کو ابن کثیر نے ہی لکھا تھا ، کوئی ثبوت اور دلیل ہے آپ کے پاس؟ یا پھر آپ کا ایمان ہے ان کتب کی روایت پر۔ جبکہ یہ قرآن کے صریح خلاف ہیں۔ ابن کثیر جانتے بوجھتے ہوئے قرآن میں ایسی تحریف کیون کرنے لگا؟ میں ان کتب کو ماننے کے لئے بالکل تیار ہوں ، شرط صرف معمولی ہے۔ آپ میں سے کوئی بھائی ۔ اللہ تعالی کی قسم کھا کر گواہی دے دے کہ اللہ تعالی نے یا اس کے رسول نے قرآن کے بعد آنے والی ان کتب پر ایمان رکھنے کے لئے کہا تھا۔ یا پھر مجھے کوئی ثبوت فراہم کردے کہ یہ کتاب سچ مچ اسی محترم نے لکھی تھی جس کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اور یہ رہی اصل کتاب۔ اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو پھر آپ کوئی بھی کتاب لے آئیے، اگر وہ قرآن حکیم ہے یا ایسی کتاب ہے جس کا نام قرآن حکیم میں موجود ہے تو میرا ایمان بحیثیت مسلمان ہے ۔ ورنہ ہر روایت کا قرآن سے ثبوت لائیے۔ رجم کی یہ روایت تو اللہ تعالی پر بہتان عظیم ہے۔ یہ سزا تو قرآن سے ثابت ہی نہیں۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں بلکہ حد درجہ کی توہین رسول اور توہین اللہ ہے۔ اس سے بھی بڑا یہ بہتان ہے کہ قرآن حکیم میں رجم کی آیت بھی تھی ، جو غائب ہوگئی؟ گویا کہ قرآن حکیم ہی مشکوک قرار دے دیا گیا؟ یعنی اللہ تعالی اپنے قرآن کی وعدے کے مطابق حفاظت نہیں کر پایا؟ نعوذ باللہ بھائی ذرا درد مندی سے سوچئیے ، کیا یہ ان لکھوں کروڑون حافظوں (حفاظ کرام) کے ساتھ ظلم نہیں ہے جنہوں نے اللہ تعالی کا قرآن اپنے سینوں میں رسول اللہ کے وقت سے بسا رکھا ہے۔ کیا ان سب لوگوں کی قرآن کو حفظ کرنے کی عبادت ضائع گئی؟ میرے بھائی، قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی حفاظت خود اللہ تعالی فرمار ہے ہیں۔ جو کوئی قرآن کی حفاظت کی آیت کی تکفیر کرتا ہے وہ اسلام دوست نہیں ہوسکتا، یہ کام یقینی طور پر دشمناں اسلام کا ہے۔ کہ مزے سے کہہ دیا کہ رجم کی آیت بھی تھی جو کہیں ضائع ہوگئی۔۔۔۔ یہ اندازہ نہیں کہ اس الزام سے تو اللہ تعالی جھوٹے قرار پاتے ہیں نعوذباللہ۔ میں تو ایسی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ پتہ نہیں آپ اس کو کیسے شئیر کرتے ہیں ، اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ قرآن نہ ہوا کوئی کہانی ہوگیا؟ لاحول ولا قوۃ۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 16-12-09 at 11:34 AM. |
|
|
|
|
|
#22 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فاروق بھائی ہمارے اور آپ کے نظریات میں بنیادی فرق ہے ہمارا ماننا یہ ہے کہ وحی دو اقسام کی ہے اور میرے رب نے اس کی حفاظت کا ذمہ بھی لیا ہے، ’’انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون‘‘ نبی کا کلام وحی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ بھی قرآن کریم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کے سامنے پیش کرتے ہیں، کیوں کہ ہمیں اسی بات کا حکم ہے کہ ’’فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم‘‘ کہ اگرتم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو تنازعات کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔ قرآن اور صاحب قرآن کیا فرماتے ہیں؟ ’’و ما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحی‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی طرف سے کچھ نہیںکہتے بلکہ یہ تو وحی ہے جو ان کی طرف نازل کی جاتی ہے۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ ’’يا رسول الله، أأكتب عنك كل ما تقول، في الغضب والرضا؟‘‘ کیا میں آپ سے ہر وہ چیز لکھ سکتا ہوں جو آپ کہتے ہیں غصے کی حالت میں یا عام حالت میں ؟؟ تو رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اكتب فوالذي بعثني بالحق لا يخرج منه إلا حق - وأشار إلى لسانه ‘‘ اپنی زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’لکھو، قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اس سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا‘‘ وحی متلو کے ساتھ وحی غیر متلو کی حفاظت کی وجہ کوئی بھی ذی شعور اگر تھوڑی دیر کے لئے قرآن کریم کی صرف دو آیات کو مد نظر رکھ کر غیر جانبداری سے غور کرے تو اس پر یہ راز عیاں ہو جائے گا کہ جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے نکلا وہ بھی وحی ہے اور اس کی حفاظت بھی اسی طرح کی گئی جس طرح اس کا حق تھا۔ آپ بھی سوچئے ان آیات مبارکہ کے حوالے سے ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘ اور اسوہ بننا کیسے ممکن ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر ہر پہلو بحفاظت پوری امت تک نہ پہچے؟؟ اور یہاں لفظ ’’اسوہ‘‘ کے حقیقی مفہوم کو بھی اگر ذرا مد نظر رکھ لیں تو بات مزید واضح ہو جائے گی۔ ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ“ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کے دعوے دار ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔ ذرا سوچیں اگر آپ کی ہدایات، آپ کا طرز عمل الغرض آپ کے افعال و اقوال بحفاظت پوری امت تک نہ پہنچیں تو کس طرح اتباع ممکن ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ یہ تو سراسر زیادتی ہو گی کہ ایک ہستی کو اسوۃ بھی بنایا جائے، پھر اللہ سے محبت کا پیمانہ اس ہستی کی اتباع کو قرار دیا جائے اور ہم یہ جانتے ہی نہ ہوں کہ آپ کے فرامین کیا ہیں؟ آپ کا طرز عمل کیا ہے؟ اور اللہ رب العزت ایسا ہرگز نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرامین کو انتہائی احتیاط کے ساتھ، انتہائی سخت معیارات کو مد نظر رکھ کر صحیح کو ضعیف الگ کر دیا گیا، مرفوع اور موقوف کو الگ کر دیا گیا۔۔ ذخیرہ احادیث سے موضوع احادیث کو الگ کرنے کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا، قواعد جرح و تعدیل اور اسماء الرجال جیسے فنون معرض وجود میں آئے۔ خود مغربی تاریخ دان حیران ہیں اسماء الرجال کے حوالے سے۔ المختصر قرآن کریم کی ان آیات اور حدیث نبوی کو پیش نظر رکھ کر کوئی بھی مسلمان احادیث صحیحہ میں وارد احکامات سے انکار نہیں کر سکتا، اور جو کرتا ہے اس کے لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’’فی قلوبھم زیغ‘‘ یہ چند گزارشات ہیں، اہل ایمان ان پر ضرور غور کریں، اور اہل علم سے رہنمائی کی درخواست ہے۔ و ما توفیقی الا باللہ۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | sahj (16-12-09), skjatala (08-10-11), ضِرار Derar (11-10-10), عادل سہیل (18-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#23 |
|
Senior Member
![]() |
رجم سے متعلق واضع حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
صحیح بخاری کتاب الصلح حدیث نمبر : 2695-2696 حدثنا آدم، حدثنا ابن أبي ذئب، حدثنا الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن أبي هريرة، وزيد بن خالد الجهني، رضى الله عنهما قالا جاء أعرابي فقال يا رسول الله اقض بيننا بكتاب الله. فقام خصمه فقال صدق، اقض بيننا بكتاب الله. فقال الأعرابي إن ابني كان عسيفا على هذا، فزنى بامرأته، فقالوا لي على ابنك الرجم. ففديت ابني منه بمائة من الغنم ووليدة، ثم سألت أهل العلم، فقالوا إنما على ابنك جلد مائة وتغريب عام. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لأقضين بينكما بكتاب الله، أما الوليدة والغنم فرد عليك، وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام، وأما أنت يا أنيس ـ لرجل ـ فاغد على امرأة هذا فارجمها ". فغدا عليها أنيس فرجمها. ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک د یہاتی آیا اور عرض کیا ، یا رسول اللہ! ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کردیجئے ۔ دوسرے فریق نے بھی یہی کہا کہ اس نے سچ کہا ہے ۔ آپ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کردیں ۔ د یہ اتی نے کہا کہ میرا لڑکا اس کے یہاں مزدور تھا ۔ پھر اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا ۔ قوم نے کہا تمہارے لڑکے کو رجم کیا جائے گا ، لیکن میں نے اپنے لڑکے کے اس جرم کے بدلے میں سوبکریاں اور ایک باندی دے دی ، پھر میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے ملک بدر کردیا جائے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ ہی سے کروں گا ۔ باندی اور بکریاں تو تمہیں واپس لوٹا دی جاتی ہیں ، البتہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کیا جائے گا اور انیس تم ( یہ قبیلہ اسلم کے صحابی تھے ) اس عورت کے گھر جاو¿ اور اسے رجم کرادو ( اگر وہ زنا کا اقرار کرلے ) چنانچہ انیس گئے ، اور ( چونکہ اس نے بھی زنا کا اقرار کرلیا تھا اس لیے ) اسے رجم کردیا |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#24 |
|
Senior Member
![]() |
ابو داؤد
كتاب الحدود 4415 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { وَاللاَّتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً } وَذَكَرَ الرَّجُلَ بَعْدَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ جَمَعَهُمَا فَقَالَ { وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا } فَنَسَخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْجَلْدِ فَقَالَ { الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ } . 4416 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى، - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنْ شِبْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ السَّبِيلُ الْحَدُّ قَالَ سُفْيَانُ { فَآذُوهُمَا } الْبِكْرَانِ { فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ } الثَّيِّبَاتِ . 4417 - حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَرَمْىٌ بِالْحِجَارَةِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْىُ سَنَةٍ " . 4418 - حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، بِإِسْنَادِ يَحْيَى وَمَعْنَاهُ قَالاَ " جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ " . 4419 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، - يَعْنِي الْوَهْبِيَّ - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ نَاسٌ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ يَا أَبَا ثَابِتٍ قَدْ نَزَلَتِ الْحُدُودُ لَوْ أَنَّكَ وَجَدْتَ مَعَ امْرَأَتِكَ رَجُلاً كَيْفَ كُنْتَ صَانِعًا قَالَ كُنْتُ ضَارِبَهُمَا بِالسَّيْفِ حَتَّى يَسْكُتَا أَفَأَنَا أَذْهَبُ فَأَجْمَعُ أَرْبَعَةَ شُهَدَاءَ فَإِلَى ذَلِكَ قَدْ قَضَى الْحَاجَةَ . فَانْطَلَقُوا فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى أَبِي ثَابِتٍ قَالَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَفَى بِالسَّيْفِ شَاهِدًا " . ثُمَّ قَالَ " لاَ لاَ أَخَافُ أَنْ يَتَتَايَعَ فِيهَا السَّكْرَانُ وَالْغَيْرَانُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى وَكِيعٌ أَوَّلَ هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دَلْهَمٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَإِنَّمَا هَذَا إِسْنَادُ حَدِيثِ ابْنِ الْمُحَبَّقِ أَنَّ رَجُلاً وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ لَيْسَ بِالْحَافِظِ كَانَ قَصَّابًا بِوَاسِطَ . 4420 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ، - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه خَطَبَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا وَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِهِ وَإِنِّي خَشِيتُ - إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ الزَّمَانُ - أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ تَعَالَى فَالرَّجْمُ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا كَانَ مُحْصَنًا إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ حَمْلٌ أَوِ اعْتِرَافٌ وَايْمُ اللَّهِ لَوْلاَ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَكَتَبْتُهَا ۔۔ 4421 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي . فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنَ الْحَىِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبِرْهُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجًا فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَىَّ كِتَابَ اللَّهِ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَعَادَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَىَّ كِتَابَ اللَّهِ . حَتَّى قَالَهَا أَرْبَعَ مِرَارٍ . قَالَ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ قَدْ قُلْتَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَبِمَنْ " . قَالَ بِفُلاَنَةَ . قَالَ " هَلْ ضَاجَعْتَهَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " هَلْ بَاشَرْتَهَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " هَلْ جَامَعْتَهَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَأُخْرِجَ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ . فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ فَخَرَجَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ وَقَدْ عَجَزَ أَصْحَابُهُ فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ فَرَمَاهُ بِهِ فَقَتَلَهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " هَلاَّ تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . 4422 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ ذَكَرْتُ لِعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قِصَّةَ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ لِي حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ذَلِكَ، مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلاَّ تَرَكْتُمُوهُ " . مَنْ شِئْتُمْ مِنْ رِجَالِ أَسْلَمَ مِمَّنْ لاَ أَتَّهِمُ . قَالَ وَلَمْ أَعْرِفْ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ فَجِئْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّ رِجَالاً مِنْ أَسْلَمَ يُحَدِّثُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُمْ حِينَ ذَكَرُوا لَهُ جَزَعَ مَاعِزٍ مِنَ الْحِجَارَةِ حِينَ أَصَابَتْهُ " أَلاَّ تَرَكْتُمُوهُ " . وَمَا أَعْرِفُ الْحَدِيثَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ إِنَّا لَمَّا خَرَجْنَا بِهِ فَرَجَمْنَاهُ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ صَرَخَ بِنَا يَا قَوْمِ رُدُّونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ قَوْمِي قَتَلُونِي وَغَرُّونِي مِنْ نَفْسِي وَأَخْبَرُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ قَاتِلِي فَلَمْ نَنْزِعْ عَنْهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخْبَرْنَاهُ قَالَ " فَهَلاَّ تَرَكْتُمُوهُ وَجِئْتُمُونِي بِهِ " . لِيَسْتَثْبِتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُ فَأَمَّا لِتَرْكِ حَدٍّ فَلاَ قَالَ فَعَرَفْتُ وَجْهَ الْحَدِيثِ . 4423 - حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي الْحَذَّاءَ - عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ زَنَى . فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مِرَارًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَسَأَلَ قَوْمَهُ " أَمَجْنُونٌ هُوَ " . قَالُوا لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ . قَالَ " أَفَعَلْتَ بِهَا " . قَالَ نَعَمْ . فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَانْطُلِقَ بِهِ فَرُجِمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ . 4424 - حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ رَأَيْتُ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً قَصِيرًا أَعْضَلَ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّهُ قَدْ زَنَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلَعَلَّكَ قَبَّلْتَهَا " . قَالَ لاَ وَاللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى الآخِرُ . قَالَ فَرَجَمَهُ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ " أَلاَ كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ أَمَا إِنَّ اللَّهَ إِنْ يُمَكِّنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلاَّ نَكَلْتُهُ عَنْهُنَّ " . 4425 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَالأَوَّلُ أَتَمُّ قَالَ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ . قَالَ سِمَاكٌ فَحَدَّثْتُ بِهِ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ . 4426 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ أَبِي عَقِيلٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - قَالَ قَالَ شُعْبَةُ فَسَأَلْتُ سِمَاكًا عَنِ الْكُثْبَةِ فَقَالَ اللَّبَنُ الْقَلِيلُ . 4427 - حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ " أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ " . قَالَ وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي قَالَ " بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلاَنٍ " . قَالَ نَعَمْ . فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ . 4428 - حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا مَرَّتَيْنِ فَطَرَدَهُ ثُمَّ جَاءَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا مَرَّتَيْنِ فَقَالَ " شَهِدْتَ عَلَى نَفْسِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ " . 4429 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثَنِي يَعْلَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَفَنِكْتَهَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ . وَلَمْ يَذْكُرْ مُوسَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهَذَا لَفْظُ وَهْبٍ . 4430 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الصَّامِتِ ابْنَ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ جَاءَ الأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَقَالَ " أَنِكْتَهَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَهَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا " . قَالَ نَعَمْ أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ حَلاَلاً . قَالَ " فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ " . قَالَ أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي . فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ . فَسَكَتَ عَنْهُمَا ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ فَقَالَ " أَيْنَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ " . فَقَالاَ نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " انْزِلاَ فَكُلاَ مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ " . فَقَالاَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا قَالَ " فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلٍ مِنْهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْقَمِسُ فِيهَا " . 4431 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِنَحْوِهِ زَادَ وَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ رُبِطَ إِلَى شَجَرَةٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ وَقَفَ . 4432 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَبِكَ جُنُونٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَحْصَنْتَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَ فِي الْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْرًا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ . 4433 - حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا، - وَهَذَا لَفْظُهُ - عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ خَرَجْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ فَوَاللَّهِ مَا أَوْثَقْنَاهُ وَلاَ حَفَرْنَا لَهُ وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا . - قَالَ أَبُو كَامِلٍ قَالَ - فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ فَاشْتَدَّ وَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ حَتَّى أَتَى عُرْضَ الْحَرَّةِ فَانْتَصَبَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِجَلاَمِيدِ الْحَرَّةِ حَتَّى سَكَتَ - قَالَ - فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلاَ سَبَّهُ . 4434 - حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ قَالَ ذَهَبُوا يَسُبُّونَهُ فَنَهَاهُمْ قَالَ ذَهَبُوا يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ فَنَهَاهُمْ قَالَ " هُوَ رَجُلٌ أَصَابَ ذَنْبًا حَسِيبُهُ اللَّهُ " . 4435 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَنْكَهَ مَاعِزًا . 4436 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَهْوَازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ نَتَحَدَّثُ أَنَّ الْغَامِدِيَّةَ وَمَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ لَوْ رَجَعَا بَعْدَ اعْتِرَافِهِمَا أَوْ قَالَ لَوْ لَمْ يَرْجِعَا بَعْدَ اعْتِرَافِهِمَا لَمْ يَطْلُبْهُمَا وَإِنَّمَا رَجَمَهُمَا عِنْدَ الرَّابِعَةِ . 4437 - حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ عَبْدَةُ أَخْبَرَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلاَثَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ اللَّجْلاَجِ، حَدَّثَهُ أَنَّ اللَّجْلاَجَ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ قَاعِدًا يَعْتَمِلُ فِي السُّوقِ فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ تَحْمِلُ صَبِيًّا فَثَارَ النَّاسُ مَعَهَا وَثُرْتُ فِيمَنْ ثَارَ فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ " مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ " . فَسَكَتَتْ فَقَالَ شَابٌّ حَذْوَهَا أَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ " مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ " . قَالَ الْفَتَى أَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى بَعْضِ مَنْ حَوْلَهُ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ فَقَالُوا مَا عَلِمْنَا إِلاَّ خَيْرًا . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَحْصَنْتَ " . قَالَ نَعَمْ . فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ . قَالَ فَخَرَجْنَا بِهِ فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا ثُمَّ رَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَنِ الْمَرْجُومِ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا هَذَا جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْخَبِيثِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَهُوَ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " . فَإِذَا هُوَ أَبُوهُ فَأَعَنَّاهُ عَلَى غُسْلِهِ وَتَكْفِينِهِ وَدَفْنِهِ وَمَا أَدْرِي قَالَ وَالصَّلاَةِ عَلَيْهِ أَمْ لاَ . وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدَةَ وَهُوَ أَتَمُّ . 4438 - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، جَمِيعًا قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - قَالَ هِشَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ - عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلاَجِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبَعْضِ هَذَا الْحَدِيثِ . 4439 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَجُلاً أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَرْأَةِ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا . 4440 - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، - الْمَعْنَى - قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، زَنَى بِامْرَأَةٍ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَجُلِدَ الْحَدَّ ثُمَّ أُخْبِرَ أَنَّهُ مُحْصَنٌ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مَوْقُوفًا عَلَى جَابِرٍ . وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِنَحْوِ ابْنِ وَهْبٍ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِنَّ رَجُلاً زَنَى فَلَمْ يَعْلَمْ بِإِحْصَانِهِ فَجُلِدَ ثُمَّ عَلِمَ بِإِحْصَانِهِ فَرُجِمَ . 4441 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، زَنَى بِامْرَأَةٍ فَلَمْ يَعْلَمْ بِإِحْصَانِهِ فَجُلِدَ ثُمَّ عَلِمَ بِإِحْصَانِهِ فَرُجِمَ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | عادل سہیل (18-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() |
راجہ صاحب۔
بہت شکریہ ، تما م روایات کو احادیث قرآر دینے کا۔ خلاف قرآن روایات کو صحیح قرار دینے کا۔ آپ نے ابھی ابھی ایک ایسی روایت درست قرار دی ہے جس کے رو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں رجم کی آیت بھی تھی ۔ لیکن اللہ تعالی اس کی حفاظت نہیں فرما سکے۔ لاحول ولا قوۃ۔ یعنی اللہ تعالی --- نعوذ باللہ ---- قرآن کی حفاظت نہیں فرما سکے۔ معاذ اللہ آپ نے جتنی آیات پیش کیں وہ کتنی ہی بار یہاں پیش کی جاچکی ہیں اور ان کا جواب بھی دیا جاچکا ہے ۔ کیا رسول اللہ نے وحی چھپائی؟ قرآن گواہی دیتا ہے کہ کسی نبی نے کوئی وحی نہیں چھپائی۔ اللہ تعالی نے جو کچھ نازل فرمایا وہ قرآن حکیم میں موجود ہے۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی وحی نازل فرمائیں اور اس کو بناء کسی حفاظت کے چھوڑ دیں کہ 200 سال بعد لوگ اس کو جمع کرکے لکھیں وہ بھی ایسا کہ ایک کتاب سے دوسری کتاب میں ترتیب، تدوین، متن، تعداد کا زبردست فرق ہو؟ توبہ استغفار۔ کچھ عقل کی بات بھی کیجئے صاحب۔ کیا آپ کے پاس کوئی بھی اصل کتاب ہے جو آپ ثبوت میں پیش کرسکیں۔ رسول اللہ کی اطاعت کیا ہے؟ رسول اللہ کی اطاعت فرض ہے، اتباع فرض ہے۔ لیکن رسول اللہ کی عین اطاعت، قرآن پر عمل کرنا ہے۔ خلاف قرآن احکامات پر عمل ، اللہ تعالی کی توہین کرنے والی روایات کو سچ قرآر دینا۔ یہ کونسا اسلما ہے بھائی؟ لاحول ولاقوۃ۔ ؎روایات دیکھئے : (٢) علامہ عبیداللہ بن مسعود المحبوبی الحنفی متوفی ٨٤٧ھ ٭” فقولہ علیہ السلام تکثر لکم احادیث من بعدی فاذاروی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی فما وافق کتاب اللہ تعالٰی فاقبلوہ وما خالفوہ فردوہ۔“ ( تو آپ علیہ السلام کا قول کہ میرے بعد تمہارے لئے احادیث کی کثرت ہوجائے گی تو جب اگر تم سے کوئی حدیث روایت کی جائے مجھ سے تو اسے کتاب اللہ تعالٰی پر پیش کروتواگر وہ کتاب اللہ کے موافق ہو تو اسے قبول کرلو اور جو مخالف ہو تو رد کردو۔“ ( التوضیح والتلویح،بحثِ سنت،ص٠٨٤) آیات دیکھئے۔ سوال: کیا کچھ وحی قرآن میں لکھے جانے سے رہ گئی تھی یا ترک کردی گئی تھی؟ جواب: 11:12 فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَضَآئِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَن يَقُولُواْ لَوْلاَ أُنزِلَ عَلَيْهِ كَـنْـزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ إِنَّمَا أَنتَ نَذِيرٌ وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ آپ اس میں سے کچھ ترک کر دیں جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اور اس سے آپ کا سینہء (اَطہر) تنگ ہونے لگے (اس خیال سے) کہ کفار یہ کہتے ہیں کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا، (ایسا ہرگز ممکن نہیں۔ اے رسولِ معظم!) آپ تو صرف ڈر سنانے والے ہیں (کسی کو دنیوی لالچ یا سزا دینے والے نہیں)، اور اﷲ ہر چیز پر نگہبان ہے آپ نے دو عدد آیات پیش کیں کہ رسول کا اتباع کیجئے اور رسول اللہ کی اطاعت کیجئے۔ اللہ تعالی ہم کو یہ بتاتے ہیں کہ یہ اتباع اور پیروی کس طرح کی جائے گی۔ آپ کی آیات مزید آیت کے اضافہ کے ساتھ۔ سوال نمبر 1۔ کیا اللہ تعالی یہ اصول فراہم کرتے ہیں کہ نبی صرف موافق القرآن بات کرتے ہیں؟ جواب: 53:3 وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے 53:4 إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ رسول اکرم قرآن کے اصولوں کے خلاف یا کم از کم جو کچھ ان پر وحی کیا گیا اس کے خلاف قطعاً کچھ نہیں فرماتے ۔ جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جو کچھ رسول اکرم نے جو بھی فرمایا وہ قرآن ہے یا قرآن کی طرح ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ اللہ تعالی ایک ایسی کتاب فراہم کریں جس میں پیوند عرصہ 200 سال کے بعد لوگ لگائیں۔ پڑھتے رہئیے یہاں۔ اب آپ دیکھئے اتباع کرنے کا زبردست حکم۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلعم کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اس کی پیروی کریں جو کہ ان پر وحی کیا گیا۔ یعنی جو کچھ رسول اللہ فرماتے ہیں وہ قرآن کی پیروی ہوتا ہے ، سوال: کیا رسول اللہ کا فرمایا ہوا قرآن کی پیروی نہیںبلکہ اس کے خلاف ہوسکتا ہے؟ جواب: 6:106 اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ آپ اس (قرآن) کی پیروی کیجئے جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کیا گیا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور آپ مشرکوں سے کنارہ کشی کر لیجئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ رسول اللہ کا اتباع کریں اور اطاعت کریں اور رسول اللہ کو حکم دیا گیا کہ وہ قرآن کی پیروی کریں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانجب بھی خلاف قرآن دیکھے یا سنے گا اس کی مخالفت کرے گا۔ یہ وحی خفیہ اور وحی غیر ضفیہ بھی ایک اختراع ہے جو قرآن سے بالکل بھی ثابت نہیں ۔ دیکھئے۔ تو کچھ لوگ، اس میں یہ نکتہ نکالتے ہیں کہ بھائی وحی کچھ تو جلی ہے جو قرآن میں ہے اور کچھ خفی ہے جو کہ روایات میں رقم ہے۔ اس لئے کہ کچھ وحی قرآن میں لکھے جانے سے رہ گئی تھی۔ سوال: کیا کچھ وحی قرآن میں لکھے جانے سے رہ گئی تھی یا ترک کردی گئی تھی؟ جواب: 11:12 فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَضَآئِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَن يَقُولُواْ لَوْلاَ أُنزِلَ عَلَيْهِ كَـنْـزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ إِنَّمَا أَنتَ نَذِيرٌ وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ آپ اس میں سے کچھ ترک کر دیں جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اور اس سے آپ کا سینہء (اَطہر) تنگ ہونے لگے (اس خیال سے) کہ کفار یہ کہتے ہیں کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا، (ایسا ہرگز ممکن نہیں۔ اے رسولِ معظم!) آپ تو صرف ڈر سنانے والے ہیں (کسی کو دنیوی لالچ یا سزا دینے والے نہیں)، اور اﷲ ہر چیز پر نگہبان ہے ہم اس سے یہ صاف صاف دیکھ سکتے ہیں کہ رسول اکرم کا ہر فرمان اس وحی کے مطابق ہوتا ہے جو کہ ان پر وحی کی گئی (53:3) رسول اکرم کو قرآن کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا (6:106) رسول اللہ صلعم نے کوئی بھی وحی ترک نہیں کی یعنی اس قرآن میںہر وحی موجود ہے۔ (11:12) سوال: سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جو رسول اکرم سے مخالف قرآن روایات منسوب کرتے ہیں ان کے پاس قرآن سے کیا ثبوت ہے؟ کیا اس امر کو خلاف قرآن نہیں پاتے کہ قانون رجم قرآن میں موجود تھا اور لکھے جانے سے رہ گیا۔ نعوذباللہ، کیا تمام حفاظ نے قرآن حکیم غلط حفظ کیا ہوا ہے؟ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ان روایات سے کیسے کیسے دھماکہ خیز مواد سامنے آرہے ہیں۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-10-10) |
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() |
راجہ اکرام سلام،
بھائی ، رہنمائی فرمائیے اور اپنی گواہی دے دیجئے کہ ان کتب پر ایمان رکھنا ہے۔ یا پھر اصل کتب کا ثبوت فراہم کردیجئے تاکہ ہم کو اندازہ ہوسکے کہ قرآن تبدیل ہوچکا ہے۔ ہمارے پاس کوئی پرانا قرآن حکیم ہے۔ اصل تو بھائی آپ کے پاس ہے۔ کم از کم ہماری ہدایت کی راہ کا خیال کیجئے۔ یہ طنز نہیں استدعا ہے۔ ساتھ ساتھ اگر آپ وحی متلو اور غیر متلو والی آیت بھی عنایت کردیجئے کہ اللہ تعالی نے کچھ تو رسول اللہ پر نازل کیا اور کچھ 200 سال بعد سامنے آیا جسکا تقریباً 99 فی صد جناب بخاری نے رد کردیا اور صحیح بخاری میں شامل نہیں کیا۔ آپ لوگ یہ بے معانی باتیں پتہ نہیں بار بار کیوں کرتے ہیں؟ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-10-10) |
|
|
#28 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کیا آپ تمام کے تمام دین کا انکار نہیں کر رہے جو احادیث میں تحریر ھے؟ اور جن حادیث کو آپ درست مانتے ہیں وہ کس جگہ لکھی ھوئی ہیں ؟ کتاب میں یا آسمان پر؟ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ضِرار Derar (11-10-10), عادل سہیل (18-12-09) |
|
|
#29 |
|
Senior Member
![]() |
سھج بھائی ۔ سلام
آپ نے بہت اچھا سوال کیا۔ ہمارا (آپ کا اور میرا دونوں کا) ایمان قرآن مجید پر ہے۔ اس کی وجہ خود رسول اللہ صلعم ہیں کہ بحیثیت نبی ان پر ایمان ہے اور بلاشبہ یہ کتاب رسول اکرم نے پیش کی۔ درست؟ اب یقینی طور پر رسول اکرم صلعم، صحابہ کرام (ر) کو ہدایات دیتے رہے۔ آپ کے اور ہمارے ایمان کے مطابق، یہ ہدایات قرآن حکیم کے مطابق ہیں۔ اب وہ روایات جو قرآن حکیم کے مطابق و موافق ہیں یعنی ان سنتوں اور احادیث کو ہم دیکھتے ہیںجو قرآن سے قطعاً مطابقت اور موافقت رکھتی ہیں تو ہمارے پاس بہت سادہ سی وجہ ہے کہ ہم ان پر ایمان لے آتے ہیں کہ یہ سب کچھ فرمان الہی کے عین مطابق ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی روایت میں رسول اللہ حکم دیتے ہیں کہ 100 کوڑوں کی جگہ بندے کا ایک سیر گوشت کاٹ لو (مثال ہے یہ) تو ہم یہ سوال ضرور کریں گے کہ آج جب رسول اللہ موجود نہیں تو ہم کیسے یہ معلوم کریں کہ یہ روایت درست ہے یا غلط۔ تو بھائی اللہ تعالی کے حکم کے مطابق اس کی کسوٹی قرآن ہے۔ نہ صرف اللہ تعالی کے حکم کے مطابق بلکہ رسول اللہ کے حکم سے بھی یہ ثابت ہے۔ یہ وجہ ہے کہ مسلمان قرآن کے مطابق اور موافق روایات تو فوراً مان لیتے ہیں لیکن قرآن کے غیر موافق روایات پر ہزار سال سے بحث ہورہی ہے۔ اللہ تعالی کوئی بہتری کی راہ نکالیں۔ اس پر آپ بھی سوچئیے اور میں بھی درد مندی سے سوچتا ہوں۔ اللہ تعالی سے اس دعا کے ساتھ کہ وہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائیں۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-10-10) |
|
|
#30 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایسا کہنا تو درکنار ایسا سوچنا بھی اسلام سے نکال کر کفر میں داخل کر دیتا ہے۔ اور جس مقصد کے لئے میں نے تحریر کیا تھا وہ آپ یا تو سمجھ نہیں سکے یا سمجھنا نہیں چاہتے۔ السلام علی من یتبع الھدی |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| ہونے, کردیا, پتھر, یہودی, قائم, قرآن, قرآن حکیم, نیوز, موت, محمد, مطابق, افراد, الزام, از, اسے, بذریعہ, ثابت, جنگ, حکم, شہر, شادی, شخص, عدالت, عدالتی, صومالیہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| رسمِ نکاح اور شریعت کی مخالفت | Hina4malik | کتاب گھر | 1 | 30-12-10 05:26 PM |
| شریعت اور طریقت۔۔۔ معارض یا معاون | راجہ اکرام | اسلامی نظریہ حیات | 45 | 21-12-10 01:42 PM |
| رسم نکاح اور شریعت کی مخالفت | ابن آدم | شادی / منگنی کی تقریبات اور انتظامات | 13 | 01-12-10 06:14 PM |
| ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارا کوئی اصول نہیں | فیصل ناصر | عمومی بحث | 36 | 08-10-09 04:03 AM |
| احکام شریعت ۔۔۔۔۔ | مجاہد حسین | اسلامی عقیدہ | 1 | 11-03-08 06:10 PM |