| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
|
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
درندگی,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی
ہلے صوبہ سرحد کے سینئر وزیر، بشیر بلور نے راگ الاپا اور پھر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے تان اٹھائی کہ ”دہشت گردی پھیلانے والے انسان نہیں درندے ہیں اور درندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی“۔ حاکمانہ جلال اور حکیمانہ جمال کے حامل اس اعلان سے کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔ بلا شبہ وہ لوگ انسانیت کے زمرے سے خارج ہیں جو معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں، انسانی لہو سے اپنی پیاس بجھاتے اور غارت گری سے آسودگی حاصل کرتے ہیں۔ ہم تو اس دین کے پیروکار ہیں جس نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ سو دہشت گردی بہرحال درندگی ہے اور اسے اس نام سے پکارا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن بشیر بلور کی بے کراں دانش اور یوسف رضا گیلانی کی لامحدود حکمت و بصیرت کے تمام تر احترام کے باوجود، جان کی امان پاؤں تو ایک چھوٹا سا سوال پوچھ لوں، یہ جو کچھ سات سمندر پار سے آیا ایک سفید فام عفریت کررہا ہے، انسانیت کی لغت میں اسے کیا کہتے ہیں؟ آٹھ سال پہلے انہی دنوں امریکہ کے خونخوار طیارے ہمارے ہی ہوائی اڈوں سے اڑے اور لگا تار ایک ہفتہ تک افغانستان پر کارپٹ بمباری کرتے رہے۔ لاتعداد بستیاں زمین کا پیوند ہوگئیں۔ ان گنت انسانوں کے پرخچے اڑ گئے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر ڈھلوانوں، گھاٹیوں، وادیوں اور میدانوں میں چار سو لہو کے جھرنے پھوٹنے لگے۔ کسی نے کوئی گوشوارہ مرتب نہیں کیا کہ ان آٹھ برسوں کے دوران کتنے معصوم، امریکی قہر کا نشانہ بن گئے۔ کیا یہ سب کچھ درندگی نہیں؟ مسجدیں محفوظ رہیں نہ اسپتال، باراتیں میزائلوں کا لقمہ ہوگئیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں گیت گاتی بچیاں آن واحد میں بھسم کردی گئیں۔ بلور صاحب اور گیلانی صاحب کو شاید یاد نہ ہو کہ قلعہ جنگی میں کیا ہوا تھا؟ کس طرح زنداں میں پڑے افغانوں کو امریکی فوجیوں نے یوں تاک تاک کر نشانہ بنایا جیسے کوئی منچلا پنجروں میں بند پرندوں کو شکار کرتا ہے، قندوز سے گرفتار کئے جانے والوں کو رسیوں سے باہم جکڑ کر فولاد کے ہوا بند کنٹینروں میں یوں ٹھونس دیا گیا کہ وہ تڑپ تڑپ کر مرگئے۔ ان کی مڑی تڑی بے کفن لاشوں کو لمبے گڑھے کھود کر دشت لیلیٰ کی ریت میں دبا دیا گیا۔ کابل و قندھار کی کم نصیب سرزمین گزشتہ آٹھ برس سے بہیمانہ درندگی کی آندھیوں میں گھری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 2002ء کے اواخر میں بتایا تھا کہ ایک سال کے دوران امریکی بمبار طیاروں نے پاکستان کے ہوائی اڈوں سے ستاون ہزار آٹھ سو اڑانیں بھریں۔ تصور کیجئے، آٹھ برس کے دوران کتنے حملے ہوچکے ہوں گے؟ کیا یہ طیارے افغان عوام پر گلاب اور موتئے کی کلیاں برساتے ہیں؟ اب تو کئی مسلمہ بین الاقوامی ادارے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ثابت کرچکے ہیں کہ افغانستان میں انتہائی بے دردی کے ساتھ کیمیائی ہتھیار استعمال کئے گئے اور کئے جا رہے ہیں۔ فاسفورس اور دوسرے کیمیائی مواد کے استعمال سے بچے خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں لیکن کون ہے جو ان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھے؟ کسے فرصت ہے کہ وہ یتیم ہوجانے اور روٹی کے دونوالوں کے لئے ٹھوکریں کھانے والے بچوں کو شمار کرے۔ کس کے پاس وقت ہے کہ بیوہ ہوجانے والی ان بے یار و مددگار خواتین کے اعداد و شمار مرتب کرلے جن کی زندگیاں، نوحے بن کر رہ گئیں؟ کون ان ماؤں کے آنسو پونچھے جو اپنے جوان بیٹوں کی قبروں کا تعویز ہو کے رہ گئیں؟ آٹھ برس سے ہمارے گھر سے جڑے گھر میں یہ حشر بپا ہے۔ بشیر بلور اور یوسف رضا کو امریکہ اور نیٹو کی افواج قاہرہ دکھائی نہیں دے رہیں۔ وہ سات سمندر پار سے آئے سفاکوں سے پوچھنے کا یارا نہیں رکھتے کہ دور دیس سے آنے والے غارت گرو! اس اجڑی بستی کو مزید کیوں اجاڑ رہے ہو؟ ان آفت زدہ افتادگان خاک پر مزید آفتیں کیوں ڈھا رہے ہو؟ انہوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ نائن الیون کے نام نہاد ملزموں میں تو ایک بھی افغانی نہیں؟ تم نے غربت کے مارے ان تہی داماں لوگوں کا عرصہ حیات کیوں تنگ کردیا ہے؟ بلور اور گیلانی اقتدار کے دسترخوان پہ بیٹھے ہیں اور وہ اس اقتدار کو امریکی پشت پناہی کا ثمر خیال کرتے ہیں۔ کل تک اے این پی پختونوں کے حقوق کی پرچم بردار تھی۔ پاکستان ان کے لئے سامراج کا ایجنٹ تھا۔ باچا خان نے اپنی قبر کے لئے بھی ڈیورنڈ لائن سے اس پار کی خاک کو پسند کیا۔ اے این پی ان کی میت افغانستان دفنا آئی۔ تیس سال قبل روس نے اپنے درندوں کے غول افغانیوں پر چھوڑ دیئے تو اے این پی افغانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بھلا کر روسیوں کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ اس کے کرتے دھرتے ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے کہ کب افغانستان روسیوں کے قبضے میں جاتا اور کب سرخ سویرے کا کارواں انقلاب کے ترانے گاتا، پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ تب وہ اٹھتے بیٹھتے امریکی سامراج، کو گالیاں دیتے اور روسی یلغار کے خلاف افغانوں کی جنگ حریت کو ”امریکہ کی جنگ“ قرار دیتے تھے۔ آج وہی امریکی سامراج کروسیڈ کے جھنڈے لہراتا افغانوں کے گلے کاٹ رہا ہے، ان کی بستیاں کھنڈر کررہا ہے، ان کی آنے والی نسلوں کے لہو میں مہلک کیمیائی مواد بو رہا ہے اور افغان حقوق کے یہ چیمپئن، اسی امریکی سامراج کے کندھے سے کندھا ملائے افغانوں کے سینے چھلنی کررہے ہیں۔ انہیں اپنے آس پاس کے ”دہشت گردوں“ کی درندگی نظر آ رہی ہے اور وہ ان درندوں“ سے بات تک کرنے کے روا دار نہیں، لیکن صبح شام رنگا رنگ ٹی وی مائیکس کے سامنے کھڑے ہو کر ”انسانیت“ کے خطبے دیتے ان پیران امن کو ان گورے لشکروں کی درندگی نظر نہیں آتی جو پندرہ لاکھ عراقیوں کا لہو پینے کے بعد افغانستان کو اپنے ہلاکت آفریں ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں۔ جن کے ڈرون ہر روز ہماری بستیوں پر میزائل برساتے اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے ہیں۔ ان سفید فام درندوں سے ہاتھ ملانا ان کے لئے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز و اکرام ہے، ان درندوں کے خون آلود پنجوں پہ بوسے دینا وہ سعادت خیال کرتے ہیں، ان درندوں کے پاؤں پہ سر رکھنا ان کے لئے دنیوی اور اخروی نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ نہ صرف اس کی درندگی کو درندگی نہیں کہتے بلکہ اس کی غلامی کو ماتھے کا جھومر بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ مل کر افغانوں کا ہانکا لگاتے اور شکار گاہ کی طرف لے کے آتے ہیں تاکہ گورے آقا نشانہ بازی کا ہنر آزماسکیں۔ انہیں ابو غریب، بگرام اور گوانتا نامو کی کوئی کہانی یاد نہیں۔ ”انسانیت“ کے ان پرچم برداروں اور ”درندوں“کے خلاف علم جہاد بلند کرنے والوں کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ ان کی ایک بیٹی پر کیا گزر رہی ہے جس کا نام عافیہ ہے اور جسے تلاشی کے نام پر روز برہنہ ہونے اور قرآن کریم پر پاؤں رکھ کر دہلیز تک جانے کا حکم ملتا ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کسی درندگی کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ بشیر بلور صاحب اور یوسف رضا صاحب! بجا کہ معصوم انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے انسان نہیں درندے ہیں۔ تسلیم کہ درندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی لیکن کیا انسانیت اور درندگی کے معیار بدلتے رہتے ہیں؟سوات اور وزیر ستان کے درندوں کے نامہ اعمال کی تیرگی، واشنگٹن اور لندن کے درندوں کی زلف میں پہنچ کر حسن کیوں بن جاتی ہے؟ درندگی,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی |
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (18-11-09), shafresha (22-01-10), نیلم خان (23-11-09), محمدعدنان (20-11-09), مزمل فاروق (19-11-09), مسافر (26-11-09), اخترحسین (20-11-09), بلال الراعی (24-09-11), حیدر (27-11-09), حسنین ایوب (27-11-09), راجہ اکرام (19-11-09), سحر (19-11-09), عامرشہزاد (19-11-09), عادل سہیل (24-11-09) |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہاہاہاہاہا
![]() یک نہ شد دو شد سلام طاہر |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | اخترحسین (20-11-09), راجہ اکرام (20-11-09) |
|
|
#18 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ خود کش بمبار کیوں آ کر بازار میں پھٹ جاتا ہے؟ یہ طالبان پراپیگنڈہ کا اثر ہے کہ ہر خود کش بمبار پاکستان کو کافر ملک اور پاکستانیوں کو ( آپ سمیت) کافر قرار دیتا ہے۔ اس طرح وہ کافروں کو سزا دے رہا ہے۔ اس طرح بازار میں معصوم عورتوں اور بچوں اور معصوم غیرمسلح لوگوں کو قتل کرکے اپنی دانست میں سنت رسول پوری کررہا ہے۔ یعنی اللہ کا حکم پورا کررہا ہے کہ جہاد جہاد کھیلا جارہا ہے۔ کمال یہ ہے کہ پاکستان کا اتنا بڑا حکومتی نظام سارا ناکارہ ہے اور ایک سہج اور دوسرا راجہ اکرام صرف درست کہتے ہیں۔ جن لوگوںکے پاس مکمل انٹیلیجنس ہے جو باقاعدہ جنگ لڑ رہے ہیں وہ سب بے کار ہیں بلکہ کافر ہیں؟ کچھ تو یار حقیقت کی آنکھ سے دیکھ لو اگر طالبان کا اتنا غم ہے تو ایسا کرو کہ ایک دو خود کش بمباروں کو ان کے پھٹنے سے پہلے کچھ سمجھانے کی کوشش کرو۔ بات یہ ہے کہ طالبان کا اتنا خوف ہے کہ ان کے خلاف کچھ کہنے سے پہلے ہی لوگوں کی شلواریں او پتلونیں بھیگ جاتی ہیں ۔ ان کو مولانا نعیمی یاد آجاتے ہیں اور پھر سب کبوتروں کی طرح غٹر غوں غٹر غوں تالی بانوں کے ساتھ لے ملا کر شروع کردیتے ہیں ۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | اخترحسین (20-11-09) |
|
|
#19 | ||||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
امریکہ پر تو القاعدہ نے حملہ کیا تھا نا؟ جاؤ جا کر القاعدہ کو پکڑو؟ دنیا کی بہترین افواج، آلات، جدید ٹیکنالوجی، بلیک واٹر اور پتا نہیں کیا کیا سب کچھ تو ہے تو کیوں باقاعدہ فوج کشی شروع کر دی افغانستان پر؟ کیاٹیکنالوجی اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نہیں سکتی تھی کہ ایک چھوٹی سی فوج سے اسی جگہ حملہ کر دیتے، بم ماردیتے، اڑا دیتے - اللہ اللہ خیر صلہ -- خس بھی کم ہوجاتا ہو جہاں بھی پاک؟ پوری بقاعدہ فوج کشی کرنے کی کیا ضرورت تھی سب ہوتے ہوئے؟؟؟ عراق کا کیا قصور تھا 9/11 میں ؟ کیا یہی ملٹری اور بین الاقوامی قوانین ہیںکہ جس پر چاہے، جب چاہے بغیر ثبوت کے دھاوا بول دو؟ جب ہزاروں پاؤنڈ کے ڈیزی کٹر عام انسانوں کو جن کا نہ القاعدہ سے واسطہ نہ کچھ، پر گراتے ہو، اس وقت انصاف کہاں چلا جاتا ہے؟ دنیا کی بہترین، منظم اور انصاف پسند قوم اور فوج کو آج تک اسامہ بن لادن نہ ملا اور اس کی آڑ میں دوسروں کی شامت - کیوں بھئی یہ کیا تماشا ہے؟ اور رہی بات امریکہ پر حملہ کس نے کیا، یہ بھی اس وقت کی سب سے بڑی سازش ہے کبھی نہ کبھی کوئی اس کو بھی مان لے گا -- یوٹیوب کا سہارا لے کر دوسروں کے خیالات بھی سن لیا کریں -- وہ دوسرے کو آپ کے اپنے امریکی ہیں یا برطانوی ہیں۔۔۔۔۔ اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
معافی چاہتا ہوں کہ آپ کے بخاری والی "بکواس" نے زرا جذباتی کر دیا تھا جبھی آپ کو کچھ برے سے جواب لکھہ دئیے، اگر برا لگے تو بخاری والا سمجھ کر معاف کر دیجیئے گا - اگر آپ کے ہاں وہ مسلمان کہلاتے ہوں تو۔ امریکی محبت کے جوش میں آکر کسی کو اسطرح کہنا مناسب نہیں ہے۔ ماسلامہ طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
||||||
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | sahj (20-11-09), فاروق سرورخان (20-11-09), مسٹر شیف (22-11-09), اخترحسین (20-11-09), راجہ اکرام (20-11-09), شاہ (20-11-09), عامرشہزاد (20-11-09) |
|
|
#20 |
|
Senior Member
مقبول
|
شکریہ طاہر صاحب ۔ مجھے محنت سے بچایا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شاہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#21 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() انتہائی معذرت کے ساتھ محترم فاروق صاحب اس کے سوا میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ البتہ آپ حق ادا کر رہے ہیں ![]() ![]() ![]()
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
|
#22 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بہت خوب جناب حضرت فاروق سرور خان صاحب بہت خوب ![]() جس انداز میں قرآن اور حدیث نبوی کا مزاق بنانے کے آپ ماہر ہیں، یہ انزاز آپ کو ہی مبارک ھو، ویسے ماشاء اللہ ایک بات ھے آپ نے حق ادا کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#23 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اب ہم دونوں لسٹ میں آ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے امریکہ کے تقدس کا خیال رکھا کریں کیوں کہ اس کی شان میں گستاخی ناقابل معافی جرم ہے باقی اگر کوئی قرآن و حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کو قولا و فعلا نشانہ تضحیک بناتا ہے تو اس پر کوئی عتاب نہیں۔۔ کیوں کہ آزادی فکر و اظہار ہر کسی کا بنیادی حق ہے۔ بس میں تو ان سے یہی کہتا ہوں کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() |
.................................................. ........
.................................................. ....... |
|
|
|
|
|
#26 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
حیرت ھے ۔ اور مجھے غصہ بھی آرہا ھے
|
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے اخترحسین کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (20-11-09), راجہ اکرام (20-11-09) |
|
|
#27 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
سبحان اللہ شاھج بھائی جزاک اللہ آپ نے قرآن پیش کیا ھے ۔۔۔۔۔اور میں قرآن کے ایک ایک حرف پر ایمان رکھتا ھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک حدیث پر ایمان رکھتا ھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی قرآن و حدیث پر بھی تکرار کرتا ھے تو وہ اپنا ایمان خود تباہ کرلیتا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس حیرت ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ کیسے مسلمان ھیں جو قرآنی آیات پر اپنی ناقس عقل کو ترجیع دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیرت ھے اور غصہ بھی ![]() ![]() ![]() اللہ سب مسلمانوں کو ہدایت دے آمین |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے اخترحسین کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (20-11-09), راجہ اکرام (20-11-09) |
|
|
#28 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بلکہ بعض تبصرے تو درس عبرت بھی ہوتے ہیں کہ بعض اوقات وطن چھوڑنے سے انسان کا سب کچھ بدل جاتا ہے، اور کسی کا نمک کھا کر نبھانا کتنا مشکل ہو جاتا ہے کہ احادیث صحیحہ پر عقل کو ترجیح دینی پڑ جاتی ہے۔ ویسے سہج بھائی ٹھیک کہتے ہیں کہ آپ واقعی حق ادا کر رہے ہیں اور خوب ادا کر رہے ہیں۔۔۔ اور سب سے زیادہ قابل تعریف بات یہ ہے کہ اس قدر حق نمک ادا کرنے کے ساتھ ساتھ آپ بزبان حال یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا لگے رہو منا بھائی۔۔۔۔۔۔ خوشبو لگا کے |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (20-11-09), عامرشہزاد (20-11-09) |
|
|
#29 |
|
Senior Member
![]() |
جب تک آپ ثابت نہیں کریں گے کہ امریکہ کافر ہے آپ ان آیات کا اطلاق امریکہ پر نہیں کرسکتے۔
پہلے آپ ثابت کیجئے کہ امریکہ بحیثیت ایک ملک کس طرح کافر ہے؟ اس کا کونسا قانون اللہ کے احکام کی تکفیر کرتا ہے۔ آپ کے پاس ایک بھی مثال ہے؟ امریکہ اپنے قانون کے خلاف کچھ نہیں کرتا۔ نہ اس کے سینیٹرز اور نہ ہی اس کی حکومت، اور نہ ہی اس کی فوج۔ آپ مجھے حق و دل سے انصاف کرتے ہوئے ، ایک دو مثالیں دیجئے جہاں امریکہ کا قانون اللہ کے احکام کی تکفیر کرتا ہو، تاکہ مجھے بھی کچھ غصہ آئے۔ بغیر کسی ثبوت کے آپ قانون دان، جج، سپاہی اور جلاد سب خود بننا چاہتے ہیں؟ بدمعاشی کرنے والے کو پیٹنا یا جنگ کرنا، یہ حق تو اللہ کا مذہب بھی دیتا ہے۔ اس پر آپ کسی کو کافر کیسے قرآر دے سکتے ہیں؟ نظریاتی ریاست کے دفاع کی اجازت آپ کے مذہب میں بھی ہے اور امریکہ کے قانون میں بھی۔ امریکہ اپنی جغرافیائی حدود میں کسی مسلمان کو صرف اس لئے سزا نہیں دیتا کہ وہ مسلمان ہے ۔ نہ ہی امریکہ کا کوئی قانون کا اصول اللہ کے قانون کے اصول کے مخالف ہے۔ تو پھر کیا یہ آپ کا صرف خیال ہے کہ امریکا کافر ہے؟ سارے اسلامی ملکوں کا بھی یہی حال ہے کہ ان کے قوانین کے اصول اللہ کے قوانیں کے لحاظ سے ہیں۔ آپ میں سے ایک صاحب نے فرمایا کہ ان کا ایمان قرآن پر ہے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیے کہ آپ اس سےمکریں گے نہیں ۔۔۔۔۔ تو میں بھی کچھ آیات پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں آپ کے فلسفہ کے لحاظ سے دیکھتے ہیں ۔۔۔۔ اگر مسلمانوں سے جنگ کرنے سے کوئی ملک کافر ہوجاتا ہے تو پھر ایران کی جنگ عراق سے کیا تھی؟ ایران و عراق دونوں کافر ہوئے کہ نہیں؟ افغانستان پاکستان سے جنگ کرتا ہے، افغانستان بھی کافر ہوگیا۔ سعودی عرب نے کویت چھڑانے کے لئے عراق پر حملہ میں امریکہ کا ساتھ دیا ، سعودی عرب کافر ، پاکستان نے امریکہ کا ساتھ افغانستان پر حملہ مین دیا پاکستان بھی کافر ، تو پھر تو آپ بھی کافر میں بھی کافر۔۔ بچا کیا؟ تو یار یہ والا فلسفہ نہیں چلے گا۔ یہ تو طالبانی فلسفہ ہے کہ سب کافر ہیں اور ان کافروں کا خون کرنا معاف ہے ![]() اب آپ کے لئے اصل چیلنج ہے کہ پہلے امریکہ کو کافر ثابت کیجئے پھر اس پر کافروںکی آیات کا اطلاق کیجئے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں : 9:100 وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ اور مہاجرین اور ان کے مددگار (انصار) میں سے سبقت لے جانے والے، سب سے پہلے ایمان لانے والے اور درجہء احسان کے ساتھ اُن کی پیروی کرنے والے، اللہ ان (سب) سے راضی ہوگیا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لئے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی زبردست کامیابی ہے کہیں ایسا تو نہیں ہورہا؟70:40 فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ سو میں مشارق اور مغارب کے رب کی قَسم کھاتا ہوں کہ بے شک ہم پوری قدرت رکھتے ہیں 70:41 عَلَى أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ اس پر کہ ہم بدل کر ان سے بہتر لوگ لے آئیں، اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں دل سے پوچھیں کہ کیا آپ من حیث القوم مسلمان ہیں؟ یہ قتل اور فساد فی الارض اللہ کرنے والے مسلمان ہیں؟ پھر پوچھیں کہ کتنا عرصہ ہوگیا مسلمانی ترک کرے ہوئے؟ بغور دیکھئے مسلمان نے ایک ہزار سال سے اوپر کفر کیا ہے۔ اللہ کی کتب میں انسانوں کی کتب کا پیوند لگایا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیںکہ روتے ہی رہ جائیں اور بنی اسرائیل کی طرح سے دنیا بھر میں خوار پھرتے رہیں؟ جی؟
Last edited by فاروق سرورخان; 20-11-09 at 01:33 PM. |
|
|
|
|
|
#30 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
و ھم یحسبون انھم یحسنون صنعا
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, search, پاکستان, پسند, واشنگٹن, قرآن, لوگ, لندن, نظر, آج, انسان, امریکہ, بچوں, حسن, خواتین, خلاف, خان, دیس, سال, شام, غلامی, غربت, صوبہ, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|