| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 8 قاری/قارئین نے چاچا کمال کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (03-04-09), فرحان دانش (04-04-09), وسیم (04-04-09), Wahid Mahmood (15-11-09), yashaka (05-04-09), ام غزل (05-04-09), اسد لطیف (05-04-09), رضی (06-04-09) |
|
|
#151 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 61
کمائي: 1,139
شکریہ: 43
42 مراسلہ میں 114 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#152 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امريکی حکومت اس خطے اور دنيا ميں پاکستان کی ايک قد آور اور اہم مسلم ملک کی حيثيت تسليم کرتی ہے۔ پاکستان کا استحکام اور اس کا دفاع نا صرف پاکستان بلکہ خطے اور دنيا کے بہترين مفاد ميں ہے۔ امريکہ اور عالمی برادری يہ توقع رکھتی ہے کہ حکومت پاکستان اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا کر پورے ملک پر اپنی رٹ قائم کرے۔ افغانستان ميں طالبان کے زير حکومت غير حکومتی عناصر کے قبضے ميں ملک کے کچھ علاقے دينے اور دہشت گردی کی آماجگاہ بننے کی اجازت دينے کا نتيجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ سازشوں پر يقين رکھنے والے کچھ دوستوں کی راۓ کے برعکس امريکہ پاکستان ميں ايک منتخب جمہوری حکومت کو کامياب ديکھنے کا خواہ ہے جو نہ صرف ضروريات زندگی کی بنيادی سہولتيں فراہم کرے بلکہ اپنی رٹ بھی قائم کرے۔ اس ضمن میں امريکہ نے ترقياتی منصوبوں کے ضمن ميں کئ سالوں سے مسلسل امداد دی ہے۔ انتہا پسندی کی وہ سوچ اور عفريت جس نے دنيا کے بڑے حصے کو متاثر کيا ہے اس کے خاتمے کے لیے يہ امر انتہائ اہم ہے۔ تمام تر معاشی مسائل کے باوجود امريکی حکومت ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ يہ امداد محض تربيت اور سازوسامان تک ہی محدود نہيں ہے بلکہ اس ميں فوجی اور ترقياتی امداد بھی شامل ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (27-05-09) |
|
|
#153 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 39
کمائي: 1,099
شکریہ: 6
25 مراسلہ میں 58 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ھم سب پریشان ھیں جعلی ویڈیو سے ، کاش کوئی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے بھی ایسی ھی پریشانی کا اظہار کرے ،
|
|
|
|
|
|
#154 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department ڈاکٹر عافيہ صديقی کيس جب يہ خبر پہلی مرتبہ ميڈيا پر رپورٹ کی گئ تھی تو بہت سے امريکی حکومتی عہديداروں نے اس بات کی تحقيق کی تھی اور افغانستان ميں متعلقہ حکام سے براہراست رابطہ کيا تھا۔ مشہور پاکستانی صحافی نصرت جاويد نے بھی اپنے پروگرام "بولتا پاکستان" مين اس بات کی تصديق کی تھی کہ انھيں پاکستان ميں امريکی سفير اين پيٹرسن نے يہی بتايا تھا کہ انھوں نے اپنی تحقيق سے اس بات کی تصديق کی ہے کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی قيدی نمبر 650 نہيں تھيں۔ اس کے علاوہ اين پيٹرسن نے پاکستان ميں ہيومن رائٹس کميشن کے صدر کو تين مرتبہ فون کر کے ان خبروں کی ترديد کی۔ اس بات کی تصديق بھی نصرت جاويد نے اپنے پروگرام ميں کی۔ اس کے بعد اين پيٹرسن نے پاکستان کے تمام اخبارات اور ميڈيا کے اہم اداروں کو ايک خط بھی لکھا جس ميں انھوں نے ڈاکٹر عافيہ صديقی اور قيدی نمبر 650 کے حوالوں سے ميڈيا پر افواہوں کی تردید کی اور يہ واضح کيا تھا کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی امريکی قيد ميں نہيں تھيں۔ رچرڈ باؤچر کی جانب سے وائس آف امريکہ کو ايک انٹرويو بھی ديا گيا جو بعد ميں جيو ٹی وی پر بھی نشر ہوا جس ميں انھوں نے واضح الفاظ ميں يہ بات کہی تھی کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی کبھی بھی قيدی نمبر 650 نہيں تھيں۔ برطانوی صحافی ايوان ريڈلی نے اپنے انٹرويو ميں يہ واضح طور پر کہا تھا کہ انکے "خيال" کے مطابق ڈاکٹر عافيہ صديقی قيدی نمبر 650 ہو سکتی ہيں اور اس کے بعد انھوں نے ميڈيا کے سامنے اس بات کو اسی طرح بيان کيا جس کو بنياد بنا کر ميڈيا کے کچھ حلقوں نے اس مفروضے کو ايک تصديق شدہ حقيقت بنا کر پيش کيا۔ يہ بات سراسر حقیقت کے منافی ہے۔ آپ اردو کے بہت سے فورمز پر ڈاکٹر عافيہ صديقی کيس کے حوالے سے ميری پوسٹس بھی پڑھ سکتے ہيں جس ميں يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے ترجمان کی حيثيت سے ميں نے کئ ہفتے پہلے يہی بات کہی تھی کہ ہماری تحقيق کے مطابق ڈاکٹر عافيہ صديقی قيدی نمبر 650 نہيں تھيں۔ جب اس کيس کے بارے ميں مجھ سے مختلف فورمز پر سوالات کيے گۓ تھے تو تمام تر تنقید کے باوجود ميں نے شروع ميں اپنی راۓ کا اظہار نہيں کيا تھا کيونکہ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم اس معاملے ميں تحقيق کر رہی تھی اور کوئ بھی راۓ دينے سے پہلے ميرے ليے يہ ضروری تھا کہ ميں اصل حقائق کی تصديق کروں۔ ظاہر ہے کہ انٹرنيٹ پر کچھ دوستوں کے ليے راۓ قائم کرنے سے پہلے تحقيق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ميں آپ کی توجہ اس بات کی طرف بھی کروانا چاہتا ہوں کہ برطانوی صحافی نے اپنے ايک حاليہ انٹرويو میں يہ بات بھی کہی کہ برطانوی حکومت نے جو معلومات لارڈ نذير احمد کو دی ہيں ان کے مطابق بھی ڈاکٹر عافيہ صديقی قيدی نمبر 650 نہيں تھيں۔ اب تک اس کيس کے حوالے سے امريکی سفارت کاروں، اہم افسران اور حکومتی اداروں نے جو بيان ديے ہیں ان سب ميں تسلسل اور يکسانيت ہے ليکن ميڈيا پر جو کچھ رپورٹ کيا جا رہا ہے اس ميں ہر روز ايک نئ "حقيقت" بيان کی جا رہی ہے۔ برطانوی صحافی کا انٹرويو اس کی تازہ مثال ہے۔ آپ اسی فورم پر ميرے ريمارکس پڑھ سکتے ہيں جن ميں اخباری خبروں کے درميان پاۓ جانے والے تضادات کا ذکر کيا گيا ہے۔ اس بارے ميں يہ بات بھی ياد رہے کہ يہ کيس اس وقت زير سماعت ہے اور اس کيس کے بہت سے پہلو ايسے ہیں جو اس کيس کے فيصلے کے وقت سب کے سامنے آئيں گے۔ ڈاکٹر عافيہ صديقی کی بہن نے بھی اپنے ايک حاليہ انٹرويو ميں يہی بات کہی تھی کہ اس کيس کے زير سماعت ہونے کی وجہ سے وہ کچھ معاملات پر اس وقت بات نہيں کر سکتيں۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#155 |
|
Senior Member
![]() |
اس معاملے میںروزنامہ امت میں چھپنے والا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے شوہر کا بیان پڑھنے کے قابل ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کس قسم کی سرگرمیوںمیںمصروف تھیں۔
امریکہ میںیہ بہت ہی عام بات ہے کہ بہت سے مسلمانوں کو "درس قرآن " کے نام سے مذہبی مجالس میںبلایا جاتا ہے اور ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کے تحت، ان کو دہشت گردی کے بارے میں "جہاد " کے نام سے قائیل کیا جاتا ہے۔ کہ آپ "جہاد " کیجئے اور جو بھی آپ سے "اختلاف" کرے اس کو "اختلاف کی سزا موت " دیجئے۔ ان مجالس میںبات چیت بہت جلدی قرآن کی آیات سے نکل کر "بوسنیا میں مسلمانوںپر امریکہ کے ظلم " اور دنیا بھر کی سیاست کی طرف ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے دلوںمیںنفرتیں ڈالی جاتی ہیں اور امریکہ کے خلاف اسلام اور قران کے نام پر بھڑکایا جاتا ہے۔ کیا مسجدوںکا مقصد سیاست چمکانا ہے یا عباد ت کرنا ہے۔؟ بہت ہی بڑے پیمانے پر، امریکہ میں مسجدوں، مدرسوں اور ذاتی محفلوںمیںدرس قرآن کے نام پر نفرتیںپھیلائی جارہی ہیں۔ یہ ایک قابل نفرت اور کریہہ کام ہے کہ قآن کی آڑمیںسیاست چمکائی جائے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایسے ہی پراپیگنڈے کا شکار ہوئیں۔ اور آہستہ آہستہ ایسی سرگرمیوںمیں شامل ہوگئیںجو کہ قابل اعتراض تھیں۔ حقیقت کیا ہے یہ تو تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہوگا۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#156 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق صاحب آپ نے ڈاکٹر امجد کا بیاں پڑھا اور ڈاکٹر عافیہ کو مجرم ثابت کردیا ۔ آپ قرآن کی بات کرتے ہیں ۔ کیا قرآن میں جہاد کا ذکر نہیں ۔ کیا آج بھی ہم پر جہاد فرض نہیں ہوا ۔ ڈاکٹر عافیہ نے اگر اپنے شوہر سے جہاد کے بارے میں بات کی تو جرم ہوگیا۔ کچھ تنظیموں کو چندہ دیا تو وہ مجرم ہو گئی ۔ اور آپ کی نظر میں امریکہ تو خدا ہے جس کے خلاف بات کرنے والے کو ہر ممکن سزا دینی چاہیے ۔
اور ڈاکٹر امجد کے بیان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ڈاکٹر عافیہ کسی دھشت گرد تنظیم سے تعلق رکھتی تھی ۔ آپ کے خیال میں ایک مسلمان عورت کی عزت اور آبرو کی کوئی حیثیت نہیں ۔ اور یہ قوم اتنی بے غیرت ہے کہ اس کی بیٹی امریکہ کی جیل میں ہے اور اس پر ہی جرم ثابت کررہے ہیں ۔ میں پھر کہوں گی اگر ہمارا یہی حال رہا تو کل ہماری قوم کی تمام مائیں امریکہ کی جیلوں میں قید ہوں گی ۔ تب بھی آپ لوگ ان تمام ماؤں کو مجرم ثابت کررہے ہوں گے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#157 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جہاد کے حوالے سے جن خيالات کا اظہار کيا جا رہا ہے اس حوالے سے ميں نيوجرسی کے ايک پاکستانی ضيا رحمان کی کہانی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو آپ کو ميرے اس نظريے کو سمجھنے ميں مدد دے گی کہ "مذہب کی قوت زبردستی قائل کرنے ميں نہيں بلکہ مائل کرنے ميں ہے"۔ ضيا رحمان نے سال 2003 کے آخر ميں نيوجرسی کے شہر وورہيز ميں ايک خستہ مکان خريد کر وہاں مسجد بنانے کا فيصلہ کيا۔ يہ وہ وقت تھا جب امريکہ ميں 11/9 کے واقعے کے زخم ابھی تازہ تھے اور مسلمانوں کے نظريات کے حوالے سے کئ سوالات جنم لے رہے تھے۔ وورہيز کے زونگ بورڈ کے سامنے جب مسجد کا منصوبہ پيش کيا گيا تو اس ميں کچھ قانونی اور انتظامی پيچيدگياں سامنے آئيں جس کے نتيجے ميں مسجد کی تعمير کا منصوبہ بظاہر ناممکن دکھائ دينے لگا۔ سونے پر سہاگہ يہ کہ علاقے کے بااثر لوگوں نے مسجد کی تعمير کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کر ديا۔ ايسی صورت حال ميں ضيا رحمان کو دوستوں کی جانب سے بہت سے مشورے ديے گۓ جن ميں "بھرپور احتجاج" سے لے کر جلسے جلوس اور شديد مزاحمت جيسے الفاظ بھی شامل تھے۔ ليکن ضيا رحمان ايک معتدل سوچ رکھنے والے وسعت پسند مسلمان ہونے کی وجہ سے يہ جانتے تھے کہ اگر وہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہمسائيوں کی موجودگی ميں قانونی جنگ جيت بھی ليں تو بھی کسی کا دل نہيں جيت سکيں گے اور اسلام کے بارے ميں لوگوں کے جذبات مزيد شدت اختيار کر جائيں گے۔ ضيا رحمان نے مسجد کی مخالفت کرنے والےتمام مذاہب کے لوگوں سے مشترکہ ملاقاتوں کا ايک سلسلہ شروع کيا اور انھيں مسجد کی تعمير اور اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے اپنے خدشات کے بارے ميں کھل کر اظہار کرنے کا موقع ديا۔ مقصد يہ تھا کہ اسلام کے حوالے سے پيدا ہونے والی بدگمانی کا ازالہ کيا جاۓ۔ يہ ايک انتہاہی حوصلے کا کام تھا کيونکہ شرکا کی جانب سے بعض اوقات انتہاہی تلخ اور شديد تنقيد سے بھرپور سوالات کيے جاتے تھے۔ ليکن ضیا رحمان نے ہمت نہيں ہاری اور ايک عظيم مقصد کی تکميل کے ليے بحث ومباحثہ اور ڈائيلاگ پر مشتمل ان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ آخر کار ضيا رحمان کی کوششيں رنگ لائيں اور وہ وقت بھی آيا جب علاقے کے بااثر يہوديوں، عيسائيوں اور ہندوؤں نے ضيا رحمان کے ساتھ مل کر وورہيز کے زونگ بورڈ کے ممبران کے سامنے مسجد کی تعمير کے ليے اپنی حمايت کا اعلان کيا۔ سال 2005 ميں ضيا رحمان کی کوششوں سے وورہيز کے علاقے ميں مسجد کا قيام عمل ميں آيا۔ مسجد کی تعمير کے بعد بھی ضيا رحمان نے اسلام کے نظريات کی وضاحت کے ليےمختلف مذاہب کے لوگوں سے مذہب کے حوالے سے ڈائيلاگ اور مشترکہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ضيا رحمان کی جدوجہد پر ايک دستاويزی فلم بھی تيار کی گئ ہے جو بہت جلد امريکی ٹی وی پر دکھائ جاۓ گی۔ يہ دستاويزی فلم يقينی طور پر ان دوستوں کو سوچنے پر مجبور کرے گی جو اس فورم پر "امريکی ميڈيا کا مسلمانوں کے خلاف پراپيگنڈ"کے حوالے سے اپنے خيالات کا اظہار کر چکے ہيں۔ UPF :: Films :: Talking Through Walls غير مسلموں کو دشمن اسلام قرار دے کر ان کے خلاف جہاد کی ترغيب دينے والے تو بہت ہيں ليکن ميرے نزديک ضیا رحمان جيسے لوگوں کے جہاد کو بھی نظرانداز نہيں کرنا چاہيے جو "نظريات کے اختلاف کی سزا موت" کی بجاۓ اس بات پر يقين رکھتے ہيں کہ "مذہب کی قوت زبردستی قائل کرنے ميں نہيں بلکہ مائل کرنے ميں ہے"۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (31-05-09) |
|
|
#158 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کے خیالات کا شکریہ
پوری دنیا کہ لوگ عیسائی ، یہودی اور چند مسلمان ، مسلمانوں کو تو یہ سبق پڑھاتے ہیں کہ ہر کام امن و آشتی سے کرو اور کوئئ تم پر ظلم کرے تو اس کو معاف کردو لیکن ان عیسائی ، یہودیوں کا اپنا طرز عمل اس بارے میں کیا ہوتا ہے ۔ ان کو تو لاکھوں مسلمانوں کو صرف شک کی بنیاد پر قتل کرنے کی اجازت ہے ۔ افغانستان میں ہزاروں لوگوں کو کس نے قتل کیا مسلمانوں نے یا یہ عیسائیوں نے فلسطین کے مسلمانوں کا قتل عام کون کر رہا ہے مسلمان یا یہودی ان کے مذاہب تو اس قتل وغارت گری سے بدنام نہیں ہوتے وہ ہم کو ہمارے گھر میں گھس کر قتل کریں اور ہم ان سے امن وآشتی کی بات کریں واہ جناب واہ |
|
|
|
|
|
#159 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
امريکہ سميت دنيا کا کوئ بھی ملک جنگ کی خواہش نہيں رکھتا۔ اس انتہائ نقطے پر پہنچنے سے پہلے تمام ممکنہ متبادل سياسی اور سفارتی امکانات اور آپشنز کو استعمال کيا جاتا ہے۔ ان تمام کوششوں ميں ناکامی کے بعد ہی اجتماعی سطح پر جنگ کا فيصلہ کيا جاتا ہے۔ يہ بھی ايک حقیقت ہے کہ حالات چاہے جيسے بھی ہوں، جنگ کی ايک بھاری سياسی قيمت بھی ہوتی ہے جو برسراقتدار حکومت کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ معاشی مشکلات اور بے گناہ افراد کی ہلاکت بھی جنگ کی ايسی حقيقتيں ہيں جن سے انکار نہيں کيا جا سکتا۔ يہ تمام عوامل اس بحث اور حکمت عملی کا حصہ ہوتے ہیں جن پر جنگ کے حتمی فيصلے سے قبل سب کو اعتماد ميں لیا جاتا ہے۔ ليکن اس سارے عمل کے باوجود ملک اور قوم کے دفاع کو درپيش واضح خطرات کو نظرانداز نہيں کيا جا سکتا۔ جب کچھ تجزيہ نگار 911 کے بعد امريکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو غير منطقی اور انتہائ جذباتی ردعمل قرار ديتے ہيں تو وہ ان حقائق اور خطرات کو نظرانداز کر ديتے ہيں جن کا سامنا امريکی حکومت کو اس حادثے کے فوری بعد کرنا تھا۔ اس وقت حقائق کچھ يوں تھے۔ القائدہ کی جانب سے امريکہ کے خلاف باقاعدہ جنگ کے اعلان کے بعد قريب 10 سال کے عرصے ميں دنيا بھر ميں امريکی املاک پر حملے کرنے کے بعد يہ تنظيم اتنی فعال اور منظم ہو چکی تھی کہ امريکہ کے اہم شہروں سميت اس کے عسکری مرکز پينٹاگان پر براہراست حملہ کيا گيا۔ اس واقعے کے بعد امريکہ سميت دنيا کے کئ ممالک ميں القائدہ کی جانب سے مزيد ايسی ہی کاروائياں کرنے کی يقين دہانی بھی ريکارڈ پر موجود ہے۔ حکومت پاکستان کے ذريعے امريکہ نے طالبان کے ساتھ 2 ماہ تک مذاکرات کيے جن کا مقصد اسامہ بن لادن کی گرفتاری اور افغانستان ميں اس تنظيم کو تحفظ فراہم نہ کرانے کی يقين دہانی حاصل کرنا تھا۔ ليکن طالبان نے ان مطالبات کو ماننے سے صاف انکار کر ديا۔ ان حالات ميں امريکہ کے سامنے کيا متبادل راستہ باقی رہ گيا تھا؟ آپ يقينی طور پر امريکی حکومت سے يہ توقع نہيں رکھ سکتے کہ وہ ملکی سلامتی کے اہم ترين فوجی فيصلے راۓ عامہ کے رجحانات اور مقبوليت کے گراف کی بنياد پر کرے۔ جب آپ 911 کے بعد امريکہ کی پاليسی کے بارے ميں راۓ کا اظہار کرتے ہیں تو يہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہيے کہ اگر اس واقعے کے بعد بھی القائدہ کے خلاف کاروائ نہ کی جاتی تو اس کے کيا نتائج نکلتے۔ اگر القائدہ کی دو تہائ سے زائد ہلاک اور گرفتار ہونے والی قيادت آج بھی سرگرم عمل ہوتی تو اس تنظيم کی کاروائيوں ميں مزيد اضافہ ہوتا اور القائدہ کا يہ پيغام دہشت گردی کی صفوں ميں شامل ہونے والے نوجوانوں کے ليے مزيد حوصلہ افزائ اور تقويت کا سبب بنتا کہ دنيا کی سب سے بڑی فوجی طاقت رکھنے والے ملک اور اس کی حکومت کو بھی دہشت گردی کے ذريعے سياسی دباؤ ميں لا کر اپنے مطالبات اور مطلوبہ مقاصد حاصل کيے جا سکتے ہیں۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#160 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,170
کمائي: 167,152
شکریہ: 9,674
7,365 مراسلہ میں 22,055 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد صاحب اس طرحکی منطق اپ عراق جنگ کی بھی پیش کر دیںتو نوازش ہو گی۔۔۔ وہ کیمیکل کی فیکٹریاں، القاعدہ سے تعلق، ایٹم بم کی تیاریاںاور ابو غریب کے واقع ان سب کو ایک تسلسل کے ساتھ پیش کر دیںتو بہتوں کا بھلا ہو گا۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#161 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام فواد صاحب
1-چلیں مان کیا قیدی نمبر 650 عافیہ نہیں تھی تو وہ کون تھی ؟ تھی تو کوئ مسلم عورت ھی ۔۔ کیا آپ بتانا پسند فرمائینگے وہ کون تھی اور اس کا جرم کیا تھا 2- 911 کے بعد امریکہ نے عراق پہ حملہ کیا جب کہ اس کے ملزم عراقی نہیں تھے زیادہ تر عرب تھے القائدہ کے کوئ تعلق عراق سے ثابت نہیں ھوا تھا کیا امریکہ کا حملے کا مقصد تیل کی دولت نہیں تھا - بش نے مانا عراق پر حملہ غلط انفارمشن کی وجہ سے ھوا کیا ان کے ایک سوری کہنے سے ایک میلین لوگ واپس آسکتے ھیں ؟؟ ایسے ملک کو جس کی غلطی کی وجہ سے ایک میلین سے زیادہ لوگ مارے گئے لاکھون لوگ معذور ھوئے ایسے ملک کو ویٹو کا حق ھونا چاھیے ؟؟؟ اور محترم بارود کی فضا میں گلاب نہیں کھلتے جب تک جنگ جاری ھے امن نا ممکن ھے اس جنگ کو بڑھانا نہین اب سمیٹنا چاھیے |
|
|
|
|
|
#162 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 39
کمائي: 1,099
شکریہ: 6
25 مراسلہ میں 58 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#163 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (31-05-09) |
|
|
#164 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ویسے تو یہ بات کنفرم ہو چکی ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے لیکن ۔ اس ویڈیو کو وجہ بناکر طالبان کا نام لینا غلط ہے ۔ اور جہاں تک اسلام کی بات ہے کیا ہمارے معاشرے میں کوئی اصل شریعت پر عمل کررہا ہے جو اس ویڈیو پر سب کو دکھ لگ گیا ہے ۔ dont think as western media want us to think plz use ur own brain |
|
|
|
|
|
|
#165 | ||||||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
2۔ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ جنگ اس وقت شروع کی جائے جب نظریاتی ریاست پر حملہ ہو۔ ۔ 3۔ یہ جہاد ایک جنگ کی صورت میں مناسب لیڈرشپ کے تحت اور باقاعدہ فوج بنا کر کیا جائے۔ یہ سنت رسول سے ثابت ہے۔ رسول اکرم نے کبھی چھپ چھپ کر حملہ نہیںکیا۔ جن لوگوںکو جہاد کا شوق ہے وہ فوج میںکیوں نہیں شامل ہوجاتے؟ ایسے چھپ چھپ کر حملے کرنے چہ معنی دارد؟ امریکہ ایک ملک ہے اور اس کے اپنے قوانین ہیں۔ یہاں رہنے والوں کو ان قوانین کے مطابق زندگی گذارنی ضروری ہے۔ جب امریکہ ایک تنظیم یا جماعت کو دہشت گرد قرار دیتا ہے تو پھر کوئی وجہ نہیںکہ ہم ایسی کسی تنظیم کی پذیرائی کریں اور اس کو چندہ دیں۔ جو لوگ ایسی تنظیموںکی پشت پناہی کرتے ہیں ان پر قانون کے مطابق کاروائی کی جاتی ہے۔ اقتباس:
امریکہ دنیا بھر میں انصاف ، آزادی ، مساوات اور امن کا پیامبر ہے۔ مجھے کبھی بھی نہ تو کسی نے کام کاج سے روکا ، نہ کاروبار سے روکا، اور نہ عبادت کرنے سے روکا۔ جس شہر میںمیں کاروبار کرتا ہوں اس شہر میںلاکھوں مسلمان کام کاج ، عبادت، اور کاروبار کرتے ہیں۔ مکمل آزادی سے اور قانون کی بالا دستی کے تحت ۔ جس پر مجھے فخر ہے۔ ایسی کوئی بھی تنظیم جو امریکہ پر حملہ کرتی ہے ، وہ سب امریکیوںکی دشمن ہے، مذہب کی تخصیص کے بغیر۔ جو لوگ مجرمانہ کاروائی میںشریک ہوتے ہیں ، امریکی قانون نافذکرنے والے ادارے صرف اور صرف ان کے ہی پیچھے جاتے ہیں۔ نہ کہ کسی خاصمذہب کے پیچھے ۔ اس بات کی گواہی ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا امریکی دے گا۔ اقتباس:
جی مسلمان ملکوںمیں بھی جیلیںعورتوںسے بھری پڑی ہیں۔ جو جرم کرتا ہے وہ بھرتا ہے۔ اقتباس:
اقتباس:
ان لوگوں سے "جہاد" کیجئے جن کے نزدیک "جہاد" کے معانی ہیں ---- "اختلاف کی سزا موت" |
||||||
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (31-05-09) |
![]() |
| Tags |
| girl, images, واقعات, لوگ, لڑکی, موقع, ممکن, معلوم, ایٹم بم, اللہ, اردو, اسلام, اسلامی, حکم, حضرات, خواتین, خان, داڑھی, سال, شخص, طالبان, عورت, صوبہ, صبر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سانحہ گودھرا کے 11 مسلمانوں کوبھارت نے موت کی سزا سنادی | ALI-OAD | خبریں | 0 | 02-03-11 08:37 AM |
| بچوں کے لیئے کہانیاں (نافرمانی کی سزا) | shafresha | بچوں کے لیے کہانیاں | 2 | 01-09-10 02:35 AM |
| حفاظتی بندوں کے بنا نے میں کرپشن کے ذمہ داروں کو سزا ملے گی:شہبازشریف | جاویداسد | خبریں | 1 | 28-08-10 09:25 PM |
| ورلڈ کپ میچ دیکھنے پر کوڑوں کی سزا | منتظمین | خبریں | 16 | 16-06-10 07:38 PM |
| بچوں کو نا فرمانی کی سزا | Zullu230 | گپ شپ | 0 | 14-12-07 11:30 AM |