واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


طالبان کی نو عمرلڑکی کو کوڑوں کی سزا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-04-09, 11:24 PM  
Senior Member
 
چاچا کمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,523
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default طالبان کی نو عمرلڑکی کو کوڑوں کی سزا

صوبہ سرحد کے ضلع سوات سے پہلی مرتبہ ایک ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں حلیے سے طالبان معلوم ہونے والے افراد ایک لڑکی کو سرعام کوڑوں کی سزا دے رہے ہیں۔تاہم حکومت اور طالبان نے اس خاص واقعہ کی تردید کی ہے تاہم اس بات کی تصدیق کی کہ ماضی میں خواتین کو کوڑوں کی سزائیں دینے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

موبائل فون سے بنائی گئی یہ دو منٹ کی ویڈیو اب سرعام دستیاب ہے۔ ویڈیو میں سرخ جوڑے میں ملبوس ایک جوان سال لڑکی کو دکھایا گیا ہے جسے زمین پر الٹا لِٹاکر کوڑے مارے جارہے ہیں۔

ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ طالبان کے حُلیے میں ایک شخص لڑکی کو پشت پر کوڑے برسارہا ہے جبکہ ایک شخص اس کے پیروں اور دوسرے نے جسم کے اوپر کے حصے کو دبوچا ہوا ہے۔ اس موقع پر درجنوں افراد دائرے میں کھڑے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔

سزا دینے والے افراد آپس میں پشتو زبان میں بات کرتے ہیں اور لڑکی چیختی چلاتی پشتو میں فریاد کرتی ہے کہ ’میرے باپ کا توبہ ، میرے دادا کا توبہ آئندہ ایسا نہیں کرونگی۔‘ وہ شدت درد سے بار بار التجا کرتی ہے کہ ’خدا کے لیے کچھ صبر کرو‘ مگر مارنے والا شخص کہتا ہے کہ ’تم نے کہا تھا مجھے ماردو مگر اب تو میرے پاس چھری بھی نہیں ہے۔‘

پندرہ سے زائد کوڑے مارنے کے بعد وہ لوگ لڑکی کو چھوڑ دیتے ہیں اور اٹھتے ہی لڑکی شٹل کاک برقعہ میں ملبوس نظر آتی ہے۔ اس وقت ان میں سے بڑی داڑھی والا ایک شخص اس سے قریب واقع ایک کمرے میں لے جاتا ہے۔ چیخ و پکار اور باتوں سے وہ تقریباً بارہ سے سترہ سال کے درمیان کی عمر کی معلوم ہوتی ہے۔

اس سلسلے میں دس کے قریب مقامی لوگوں سے رابطہ کیا گیا تو کافی مشکلات کے بعد انہوں نے صرف واقعہ کی تصدیق کی اور کہا کہ واقعہ سوات کی تحصیل کبل کے کالا کلی میں پیش آیا ہے۔ مقامی لوگ بظاہر خوف کی وجہ سے مزید معلومات دینے سے انکار کررہے ہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ لڑکی کون ہے اور انہیں کس بات پر سزا دی جارہی ہے۔

طالبان ترجمان مسلم خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ خواتین کو کوڑے مارنے کی سزا کا واقعہ حالیہ دنوں میں پیش نہیں آیا ہے۔ انہوں نے اس خاص واقعہ سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا البتہ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امن معاہدے سے قبل مولانا فضل اللہ کے حکم پر خواتین کو سزائیں دی جاتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں خواتین کو سرعام سزائیں نہیں دی گئیں بلکہ مولانا فضل اللہ نے حکم دیا تھا کہ خواتین کو جب بھی سزا دینی ہو تو انہیں کمرے کے اندر کوڑے مارے جائیں۔ مسلم خان کے بقول انہوں نے ماضی میں ایسی خواتین کو سزائیں دی ہے جو بقول ان کے گھر سے بھاگ گئی تھیں یا پھر انہیں مبینہ طور پر ' غیر اخلاقی حرکات' میں ملوث پایا گیا تھا۔

ملاکنڈ ڈویژن کے کمشنر سید محمد جاوید سے بھی جب اس بابت رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی اس طالبان ترجمان مسلم خان کے مؤقف کی تائید کی اور کہا ممکن ہےماضی میں خواتین کو ایسی سزائیں دی گئی ہوں۔ان کے بقول امن معاہدے کے بعد طالبان نے اپنی نجی عدالتیں ختم کردی ہیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آیا یہ واقعہ حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے سے پہلے یا بعد میں پیش آیا ہے لیکن یہ اس لحاظ بہت ہی سنگین واقعہ ہے کہ سوات میں ایک خاتون کو سرعام کوڑوں کی سزادی جارہی ہے۔اس سے قبل طالبان نے کئی دفعہ ان مرد حضرات کو لوگوں کے سامنے کوڑوں کی سزائیں دی تھیں جن پر مختلف نوعیت کے الزامات لگائے گئے تھے۔


اگر کسی کے پاس اصل ویڈیو ہو تو لگائیں۔۔۔۔ ویسے تالی بانوں کے حمائتی اس کے حق میں بھی کچھ نہی کچھ نکال لائیں گے۔۔۔

Last edited by منتظمین; 03-04-09 at 12:23 PM. وجہ: غیر مہذب الفاظ کی گنجائش ہمارے فورمز پر نہیں ہے۔
چاچا کمال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے چاچا کمال کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (03-04-09), فرحان دانش (04-04-09), وسیم (04-04-09), Wahid Mahmood (15-11-09), yashaka (05-04-09), ام غزل (05-04-09), اسد لطیف (05-04-09), رضی (06-04-09)
پرانا 11-05-09, 03:20 PM   #151
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 61
کمائي: 1,139
شکریہ: 43
42 مراسلہ میں 114 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
معذرت چاہتا ہوں‌یہ کہتے ہوئے لیکن خلیل، آپ کے سوالات آپ کی اپنی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ آپ کی اپنی عزت نفس بہت کم ہے۔ امریکہ پاکستان اور پاکستانیوں سے کوئی بغض نہیں‌رکھتا، یہ آپ کی اپنی مذہبی جماعتیں‌ہیں جن کا سر پیر نہیں‌ہے، جو موجودہ حکومت کو غیر اسلامی قرار دیتی ہیں، آپ کے ملک میں فساد فی الارض اللہ کے آئینہ دار ہیں۔
آپ کے خیال میں مذہبی جماعتیں ختم ہونے سے کیا معاشرہ بہتری کی طرف آئے گا ؟
بتول باجی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 13-05-09, 09:59 PM   #152
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : خلیل مراسلہ دیکھیں
مجھے صرف آپ یہ بتا دیں کہ امریکہ کیا چاہتا ہے؟

امريکی حکومت اس خطے اور دنيا ميں پاکستان کی ايک قد آور اور اہم مسلم ملک کی حيثيت تسليم کرتی ہے۔ پاکستان کا استحکام اور اس کا دفاع نا صرف پاکستان بلکہ خطے اور دنيا کے بہترين مفاد ميں ہے۔ امريکہ اور عالمی برادری يہ توقع رکھتی ہے کہ حکومت پاکستان اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا کر پورے ملک پر اپنی رٹ قائم کرے۔ افغانستان ميں طالبان کے زير حکومت غير حکومتی عناصر کے قبضے ميں ملک کے کچھ علاقے دينے اور دہشت گردی کی آماجگاہ بننے کی اجازت دينے کا نتيجہ ہم سب کے سامنے ہے۔

سازشوں پر يقين رکھنے والے کچھ دوستوں کی راۓ کے برعکس امريکہ پاکستان ميں ايک منتخب جمہوری حکومت کو کامياب ديکھنے کا خواہ ہے جو نہ صرف ضروريات زندگی کی بنيادی سہولتيں فراہم کرے بلکہ اپنی رٹ بھی قائم کرے۔ اس ضمن میں امريکہ نے ترقياتی منصوبوں کے ضمن ميں کئ سالوں سے مسلسل امداد دی ہے۔ انتہا پسندی کی وہ سوچ اور عفريت جس نے دنيا کے بڑے حصے کو متاثر کيا ہے اس کے خاتمے کے لیے يہ امر انتہائ اہم ہے۔

تمام تر معاشی مسائل کے باوجود امريکی حکومت ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ يہ امداد محض تربيت اور سازوسامان تک ہی محدود نہيں ہے بلکہ اس ميں فوجی اور ترقياتی امداد بھی شامل ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 27-05-09, 09:54 AM   #153
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 39
کمائي: 1,099
شکریہ: 6
25 مراسلہ میں 58 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ھم سب پریشان ھیں جعلی ویڈیو سے ، کاش کوئی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے بھی ایسی ھی پریشانی کا اظہار کرے ،
منیب آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منیب کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-05-09), ام غزل (27-05-09), ابن آدم (30-05-09), سحر (29-05-09), شازل (27-05-09)
پرانا 28-05-09, 10:26 PM   #154
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منیب مراسلہ دیکھیں
ھم سب پریشان ھیں جعلی ویڈیو سے ، کاش کوئی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے بھی ایسی ھی پریشانی کا اظہار کرے ،

Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

ڈاکٹر عافيہ صديقی کيس

جب يہ خبر پہلی مرتبہ ميڈيا پر رپورٹ کی گئ تھی تو بہت سے امريکی حکومتی عہديداروں نے اس بات کی تحقيق کی تھی اور افغانستان ميں متعلقہ حکام سے براہراست رابطہ کيا تھا۔ مشہور پاکستانی صحافی نصرت جاويد نے بھی اپنے پروگرام "بولتا پاکستان" مين اس بات کی تصديق کی تھی کہ انھيں پاکستان ميں امريکی سفير اين پيٹرسن نے يہی بتايا تھا کہ انھوں نے اپنی تحقيق سے اس بات کی تصديق کی ہے کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی قيدی نمبر 650 نہيں تھيں۔

اس کے علاوہ اين پيٹرسن نے پاکستان ميں ہيومن رائٹس کميشن کے صدر کو تين مرتبہ فون کر کے ان خبروں کی ترديد کی۔ اس بات کی تصديق بھی نصرت جاويد نے اپنے پروگرام ميں کی۔

اس کے بعد اين پيٹرسن نے پاکستان کے تمام اخبارات اور ميڈيا کے اہم اداروں کو ايک خط بھی لکھا جس ميں انھوں نے ڈاکٹر عافيہ صديقی اور قيدی نمبر 650 کے حوالوں سے ميڈيا پر افواہوں کی تردید کی اور يہ واضح کيا تھا کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی امريکی قيد ميں نہيں تھيں۔

رچرڈ باؤچر کی جانب سے وائس آف امريکہ کو ايک انٹرويو بھی ديا گيا جو بعد ميں جيو ٹی وی پر بھی نشر ہوا جس ميں انھوں نے واضح الفاظ ميں يہ بات کہی تھی کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی کبھی بھی قيدی نمبر 650 نہيں تھيں۔

برطانوی صحافی ايوان ريڈلی نے اپنے انٹرويو ميں يہ واضح طور پر کہا تھا کہ انکے "خيال" کے مطابق ڈاکٹر عافيہ صديقی قيدی نمبر 650 ہو سکتی ہيں اور اس کے بعد انھوں نے ميڈيا کے سامنے اس بات کو اسی طرح بيان کيا جس کو بنياد بنا کر ميڈيا کے کچھ حلقوں نے اس مفروضے کو ايک تصديق شدہ حقيقت بنا کر پيش کيا۔

يہ بات سراسر حقیقت کے منافی ہے۔

آپ اردو کے بہت سے فورمز پر ڈاکٹر عافيہ صديقی کيس کے حوالے سے ميری پوسٹس بھی پڑھ سکتے ہيں جس ميں يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے ترجمان کی حيثيت سے ميں نے کئ ہفتے پہلے يہی بات کہی تھی کہ ہماری تحقيق کے مطابق ڈاکٹر عافيہ صديقی قيدی نمبر 650 نہيں تھيں۔ جب اس کيس کے بارے ميں مجھ سے مختلف فورمز پر سوالات کيے گۓ تھے تو تمام تر تنقید کے باوجود ميں نے شروع ميں اپنی راۓ کا اظہار نہيں کيا تھا کيونکہ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم اس معاملے ميں تحقيق کر رہی تھی اور کوئ بھی راۓ دينے سے پہلے ميرے ليے يہ ضروری تھا کہ ميں اصل حقائق کی تصديق کروں۔ ظاہر ہے کہ انٹرنيٹ پر کچھ دوستوں کے ليے راۓ قائم کرنے سے پہلے تحقيق کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ميں آپ کی توجہ اس بات کی طرف بھی کروانا چاہتا ہوں کہ برطانوی صحافی نے اپنے ايک حاليہ انٹرويو میں يہ بات بھی کہی کہ برطانوی حکومت نے جو معلومات لارڈ نذير احمد کو دی ہيں ان کے مطابق بھی ڈاکٹر عافيہ صديقی قيدی نمبر 650 نہيں تھيں۔

اب تک اس کيس کے حوالے سے امريکی سفارت کاروں، اہم افسران اور حکومتی اداروں نے جو بيان ديے ہیں ان سب ميں تسلسل اور يکسانيت ہے ليکن ميڈيا پر جو کچھ رپورٹ کيا جا رہا ہے اس ميں ہر روز ايک نئ "حقيقت" بيان کی جا رہی ہے۔ برطانوی صحافی کا انٹرويو اس کی تازہ مثال ہے۔ آپ اسی فورم پر ميرے ريمارکس پڑھ سکتے ہيں جن ميں اخباری خبروں کے درميان پاۓ جانے والے تضادات کا ذکر کيا گيا ہے۔

اس بارے ميں يہ بات بھی ياد رہے کہ يہ کيس اس وقت زير سماعت ہے اور اس کيس کے بہت سے پہلو ايسے ہیں جو اس کيس کے فيصلے کے وقت سب کے سامنے آئيں گے۔ ڈاکٹر عافيہ صديقی کی بہن نے بھی اپنے ايک حاليہ انٹرويو ميں يہی بات کہی تھی کہ اس کيس کے زير سماعت ہونے کی وجہ سے وہ کچھ معاملات پر اس وقت بات نہيں کر سکتيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 29-05-09, 02:57 AM   #155
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,248
کمائي: 25,910
شکریہ: 6,460
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس معاملے میں‌روزنامہ امت میں چھپنے والا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے شوہر کا بیان پڑھنے کے قابل ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کس قسم کی سرگرمیوں‌میں‌مصروف تھیں۔

امریکہ میں‌یہ بہت ہی عام بات ہے کہ بہت سے مسلمانوں کو "درس قرآن " کے نام سے مذہبی مجالس میں‌بلایا جاتا ہے اور ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کے تحت، ان کو دہشت گردی کے بارے میں "جہاد "‌ کے نام سے قائیل کیا جاتا ہے۔ کہ آپ "جہاد " کیجئے اور جو بھی آپ سے "اختلاف" کرے اس کو "اختلاف کی سزا موت " دیجئے۔ ان مجالس میں‌بات چیت بہت جلدی قرآن کی آیات سے نکل کر "بوسنیا میں مسلمانوں‌پر امریکہ کے ظلم " اور دنیا بھر کی سیاست کی طرف ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے دلوں‌میں‌نفرتیں ڈالی جاتی ہیں اور امریکہ کے خلاف اسلام اور قران کے نام پر بھڑکایا جاتا ہے۔

کیا مسجدوں‌کا مقصد سیاست چمکانا ہے یا عباد ت کرنا ہے۔؟

بہت ہی بڑے پیمانے پر، امریکہ میں مسجدوں، مدرسوں‌ اور ذاتی محفلوں‌میں‌درس قرآن کے نام پر نفرتیں‌پھیلائی جارہی ہیں۔ یہ ایک قابل نفرت اور کریہہ کام ہے کہ قآن کی آڑ‌میں‌سیاست چمکائی جائے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایسے ہی پراپیگنڈے کا شکار ہوئیں۔ اور آہستہ آہستہ ایسی سرگرمیوں‌میں شامل ہوگئیں‌جو کہ قابل اعتراض تھیں۔ حقیقت کیا ہے یہ تو تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہوگا۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 29-05-09, 12:02 PM   #156
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق صاحب آپ نے ڈاکٹر امجد کا بیاں پڑھا اور ڈاکٹر عافیہ کو مجرم ثابت کردیا ۔ آپ قرآن کی بات کرتے ہیں ۔ کیا قرآن میں جہاد کا ذکر نہیں ۔ کیا آج بھی ہم پر جہاد فرض نہیں ہوا ۔ ڈاکٹر عافیہ نے اگر اپنے شوہر سے جہاد کے بارے میں بات کی تو جرم ہوگیا۔ کچھ تنظیموں کو چندہ دیا تو وہ مجرم ہو گئی ۔ اور آپ کی نظر میں امریکہ تو خدا ہے جس کے خلاف بات کرنے والے کو ہر ممکن سزا دینی چاہیے ۔
اور ڈاکٹر امجد کے بیان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ڈاکٹر عافیہ کسی دھشت گرد تنظیم سے تعلق رکھتی تھی ۔ آپ کے خیال میں ایک مسلمان عورت کی عزت اور آبرو کی کوئی حیثیت نہیں ۔ اور یہ قوم اتنی بے غیرت ہے کہ اس کی بیٹی امریکہ کی جیل میں ہے اور اس پر ہی جرم ثابت کررہے ہیں ۔ میں پھر کہوں گی اگر ہمارا یہی حال رہا تو کل ہماری قوم کی تمام مائیں امریکہ کی جیلوں میں قید ہوں گی ۔ تب بھی آپ لوگ ان تمام ماؤں کو مجرم ثابت کررہے ہوں
گے۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مزمل فاروق (29-05-09), ابن آدم (30-05-09), سام (30-05-09)
پرانا 29-05-09, 06:34 PM   #157
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
کیا قرآن میں جہاد کا ذکر نہیں ۔ کیا آج بھی ہم پر جہاد فرض نہیں ہوا ۔ ڈاکٹر عافیہ نے اگر اپنے شوہر سے جہاد کے بارے میں بات کی تو جرم ہوگیا۔ کچھ تنظیموں کو چندہ دیا تو وہ مجرم ہو گئی ۔

جہاد کے حوالے سے جن خيالات کا اظہار کيا جا رہا ہے اس حوالے سے ميں نيوجرسی کے ايک پاکستانی ضيا رحمان کی کہانی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو آپ کو ميرے اس نظريے کو سمجھنے ميں مدد دے گی کہ

"مذہب کی قوت زبردستی قائل کرنے ميں نہيں بلکہ مائل کرنے ميں ہے"۔

ضيا رحمان نے سال 2003 کے آخر ميں نيوجرسی کے شہر وورہيز ميں ايک خستہ مکان خريد کر وہاں مسجد بنانے کا فيصلہ کيا۔ يہ وہ وقت تھا جب امريکہ ميں 11/9 کے واقعے کے زخم ابھی تازہ تھے اور مسلمانوں کے نظريات کے حوالے سے کئ سوالات جنم لے رہے تھے۔ وورہيز کے زونگ بورڈ کے سامنے جب مسجد کا منصوبہ پيش کيا گيا تو اس ميں کچھ قانونی اور انتظامی پيچيدگياں سامنے آئيں جس کے نتيجے ميں مسجد کی تعمير کا منصوبہ بظاہر ناممکن دکھائ دينے لگا۔ سونے پر سہاگہ يہ کہ علاقے کے بااثر لوگوں نے مسجد کی تعمير کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کر ديا۔

ايسی صورت حال ميں ضيا رحمان کو دوستوں کی جانب سے بہت سے مشورے ديے گۓ جن ميں "بھرپور احتجاج" سے لے کر جلسے جلوس اور شديد مزاحمت جيسے الفاظ بھی شامل تھے۔ ليکن ضيا رحمان ايک معتدل سوچ رکھنے والے وسعت پسند مسلمان ہونے کی وجہ سے يہ جانتے تھے کہ اگر وہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہمسائيوں کی موجودگی ميں قانونی جنگ جيت بھی ليں تو بھی کسی کا دل نہيں جيت سکيں گے اور اسلام کے بارے ميں لوگوں کے جذبات مزيد شدت اختيار کر جائيں گے۔

ضيا رحمان نے مسجد کی مخالفت کرنے والےتمام مذاہب کے لوگوں سے مشترکہ ملاقاتوں کا ايک سلسلہ شروع کيا اور انھيں مسجد کی تعمير اور اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے اپنے خدشات کے بارے ميں کھل کر اظہار کرنے کا موقع ديا۔ مقصد يہ تھا کہ اسلام کے حوالے سے پيدا ہونے والی بدگمانی کا ازالہ کيا جاۓ۔ يہ ايک انتہاہی حوصلے کا کام تھا کيونکہ شرکا کی جانب سے بعض اوقات انتہاہی تلخ اور شديد تنقيد سے بھرپور سوالات کيے جاتے تھے۔ ليکن ضیا رحمان نے ہمت نہيں ہاری اور ايک عظيم مقصد کی تکميل کے ليے بحث ومباحثہ اور ڈائيلاگ پر مشتمل ان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ آخر کار ضيا رحمان کی کوششيں رنگ لائيں اور وہ وقت بھی آيا جب علاقے کے بااثر يہوديوں، عيسائيوں اور ہندوؤں نے ضيا رحمان کے ساتھ مل کر وورہيز کے زونگ بورڈ کے ممبران کے سامنے مسجد کی تعمير کے ليے اپنی حمايت کا اعلان کيا۔

سال 2005 ميں ضيا رحمان کی کوششوں سے وورہيز کے علاقے ميں مسجد کا قيام عمل ميں آيا۔ مسجد کی تعمير کے بعد بھی ضيا رحمان نے اسلام کے نظريات کی وضاحت کے ليےمختلف مذاہب کے لوگوں سے مذہب کے حوالے سے ڈائيلاگ اور مشترکہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

ضيا رحمان کی جدوجہد پر ايک دستاويزی فلم بھی تيار کی گئ ہے جو بہت جلد امريکی ٹی وی پر دکھائ جاۓ گی۔ يہ دستاويزی فلم يقينی طور پر ان دوستوں کو سوچنے پر مجبور کرے گی جو اس فورم پر "امريکی ميڈيا کا مسلمانوں کے خلاف پراپيگنڈ"کے حوالے سے اپنے خيالات کا اظہار کر چکے ہيں۔

UPF :: Films :: Talking Through Walls

غير مسلموں کو دشمن اسلام قرار دے کر ان کے خلاف جہاد کی ترغيب دينے والے تو بہت ہيں ليکن ميرے نزديک ضیا رحمان جيسے لوگوں کے جہاد کو بھی نظرانداز نہيں کرنا چاہيے جو "نظريات کے اختلاف کی سزا موت" کی بجاۓ اس بات پر يقين رکھتے ہيں کہ

"مذہب کی قوت زبردستی قائل کرنے ميں نہيں بلکہ مائل کرنے ميں ہے"۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (31-05-09)
پرانا 29-05-09, 06:52 PM   #158
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کے خیالات کا شکریہ
پوری دنیا کہ لوگ عیسائی ، یہودی اور چند مسلمان ، مسلمانوں کو تو یہ سبق پڑھاتے ہیں کہ ہر کام امن و آشتی سے کرو اور کوئئ تم پر ظلم کرے تو اس کو معاف کردو
لیکن ان عیسائی ، یہودیوں کا اپنا طرز عمل اس بارے میں کیا ہوتا ہے ۔ ان کو تو لاکھوں مسلمانوں کو صرف شک کی بنیاد پر قتل کرنے کی اجازت ہے ۔
افغانستان میں ہزاروں لوگوں کو کس نے قتل کیا مسلمانوں نے یا یہ عیسائیوں نے
فلسطین کے مسلمانوں کا قتل عام کون کر رہا ہے مسلمان یا یہودی
ان کے مذاہب تو اس قتل وغارت گری سے بدنام نہیں ہوتے
وہ ہم کو ہمارے گھر میں گھس کر قتل کریں اور ہم ان سے امن وآشتی کی بات کریں
واہ جناب واہ
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (31-05-09), ابن آدم (30-05-09)
پرانا 29-05-09, 08:08 PM   #159
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آپ کے خیالات کا شکریہ
پوری دنیا کہ لوگ عیسائی ، یہودی اور چند مسلمان ، مسلمانوں کو تو یہ سبق پڑھاتے ہیں کہ ہر کام امن و آشتی سے کرو اور کوئئ تم پر ظلم کرے تو اس کو معاف کردو
لیکن ان عیسائی ، یہودیوں کا اپنا طرز عمل اس بارے میں کیا ہوتا ہے ۔ ان کو تو لاکھوں مسلمانوں کو صرف شک کی بنیاد پر قتل کرنے کی اجازت ہے ۔
افغانستان میں ہزاروں لوگوں کو کس نے قتل کیا مسلمانوں نے یا یہ عیسائیوں نے
فلسطین کے مسلمانوں کا قتل عام کون کر رہا ہے مسلمان یا یہودی
ان کے مذاہب تو اس قتل وغارت گری سے بدنام نہیں ہوتے
وہ ہم کو ہمارے گھر میں گھس کر قتل کریں اور ہم ان سے امن وآشتی کی بات کریں
واہ جناب واہ

امريکہ سميت دنيا کا کوئ بھی ملک جنگ کی خواہش نہيں رکھتا۔ اس انتہائ نقطے پر پہنچنے سے پہلے تمام ممکنہ متبادل سياسی اور سفارتی امکانات اور آپشنز کو استعمال کيا جاتا ہے۔ ان تمام کوششوں ميں ناکامی کے بعد ہی اجتماعی سطح پر جنگ کا فيصلہ کيا جاتا ہے۔ يہ بھی ايک حقیقت ہے کہ حالات چاہے جيسے بھی ہوں، جنگ کی ايک بھاری سياسی قيمت بھی ہوتی ہے جو برسراقتدار حکومت کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ معاشی مشکلات اور بے گناہ افراد کی ہلاکت بھی جنگ کی ايسی حقيقتيں ہيں جن سے انکار نہيں کيا جا سکتا۔

يہ تمام عوامل اس بحث اور حکمت عملی کا حصہ ہوتے ہیں جن پر جنگ کے حتمی فيصلے سے قبل سب کو اعتماد ميں لیا جاتا ہے۔ ليکن اس سارے عمل کے باوجود ملک اور قوم کے دفاع کو درپيش واضح خطرات کو نظرانداز نہيں کيا جا سکتا۔ جب کچھ تجزيہ نگار 911 کے بعد امريکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو غير منطقی اور انتہائ جذباتی ردعمل قرار ديتے ہيں تو وہ ان حقائق اور خطرات کو نظرانداز کر ديتے ہيں جن کا سامنا امريکی حکومت کو اس حادثے کے فوری بعد کرنا تھا۔ اس وقت حقائق کچھ يوں تھے۔

القائدہ کی جانب سے امريکہ کے خلاف باقاعدہ جنگ کے اعلان کے بعد قريب 10 سال کے عرصے ميں دنيا بھر ميں امريکی املاک پر حملے کرنے کے بعد يہ تنظيم اتنی فعال اور منظم ہو چکی تھی کہ امريکہ کے اہم شہروں سميت اس کے عسکری مرکز پينٹاگان پر براہراست حملہ کيا گيا۔

اس واقعے کے بعد امريکہ سميت دنيا کے کئ ممالک ميں القائدہ کی جانب سے مزيد ايسی ہی کاروائياں کرنے کی يقين دہانی بھی ريکارڈ پر موجود ہے۔

حکومت پاکستان کے ذريعے امريکہ نے طالبان کے ساتھ 2 ماہ تک مذاکرات کيے جن کا مقصد اسامہ بن لادن کی گرفتاری اور افغانستان ميں اس تنظيم کو تحفظ فراہم نہ کرانے کی يقين دہانی حاصل کرنا تھا۔ ليکن طالبان نے ان مطالبات کو ماننے سے صاف انکار کر ديا۔

ان حالات ميں امريکہ کے سامنے کيا متبادل راستہ باقی رہ گيا تھا؟

آپ يقينی طور پر امريکی حکومت سے يہ توقع نہيں رکھ سکتے کہ وہ ملکی سلامتی کے اہم ترين فوجی فيصلے راۓ عامہ کے رجحانات اور مقبوليت کے گراف کی بنياد پر کرے۔

جب آپ 911 کے بعد امريکہ کی پاليسی کے بارے ميں راۓ کا اظہار کرتے ہیں تو يہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہيے کہ اگر اس واقعے کے بعد بھی القائدہ کے خلاف کاروائ نہ کی جاتی تو اس کے کيا نتائج نکلتے۔ اگر القائدہ کی دو تہائ سے زائد ہلاک اور گرفتار ہونے والی قيادت آج بھی سرگرم عمل ہوتی تو اس تنظيم کی کاروائيوں ميں مزيد اضافہ ہوتا اور القائدہ کا يہ پيغام دہشت گردی کی صفوں ميں شامل ہونے والے نوجوانوں کے ليے مزيد حوصلہ افزائ اور تقويت کا سبب بنتا کہ دنيا کی سب سے بڑی فوجی طاقت رکھنے والے ملک اور اس کی حکومت کو بھی دہشت گردی کے ذريعے سياسی دباؤ ميں لا کر اپنے مطالبات اور مطلوبہ مقاصد حاصل کيے جا سکتے ہیں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 29-05-09, 11:19 PM   #160
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,170
کمائي: 167,152
شکریہ: 9,674
7,365 مراسلہ میں 22,055 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فواد صاحب اس طرح‌کی منطق اپ عراق جنگ کی بھی پیش کر دیں‌تو نوازش ہو گی۔۔۔ وہ کیمیکل کی فیکٹریاں، القاعدہ سے تعلق، ایٹم بم کی تیاریاں‌اور ابو غریب کے واقع ان سب کو ایک تسلسل کے ساتھ پیش کر دیں‌تو بہتوں‌ کا بھلا ہو گا۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (31-05-09), ابن آدم (30-05-09), ابرارحسین (31-05-09), سام (30-05-09), سحر (30-05-09), شاہ جی 90 (30-05-09)
پرانا 30-05-09, 12:06 AM   #161
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام فواد صاحب

1-چلیں مان کیا قیدی نمبر 650 عافیہ نہیں تھی تو وہ کون تھی ؟ تھی تو کوئ مسلم عورت ھی ۔۔ کیا آپ بتانا پسند فرمائینگے وہ کون تھی اور اس کا جرم کیا تھا
2- 911 کے بعد امریکہ نے عراق پہ حملہ کیا جب کہ اس کے ملزم عراقی نہیں تھے زیادہ تر عرب تھے القائدہ کے کوئ تعلق عراق سے ثابت نہیں ھوا تھا کیا امریکہ کا حملے کا مقصد تیل کی دولت نہیں تھا - بش نے مانا عراق پر حملہ غلط انفارمشن کی وجہ سے ھوا کیا ان کے ایک سوری کہنے سے ایک میلین لوگ واپس آسکتے ھیں ؟؟
ایسے ملک کو جس کی غلطی کی وجہ سے ایک میلین سے زیادہ لوگ مارے گئے لاکھون لوگ معذور ھوئے ایسے ملک کو ویٹو کا حق ھونا چاھیے ؟؟؟
اور محترم بارود کی فضا میں گلاب نہیں کھلتے جب تک جنگ جاری ھے امن نا ممکن ھے اس جنگ کو بڑھانا نہین اب سمیٹنا چاھیے
Haya 786 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (30-05-09), مون لائیٹ آفریدی (08-11-09), ام غزل (31-05-09), ابن آدم (30-05-09), سام (30-05-09), سحر (30-05-09), شاہ جی 90 (30-05-09)
پرانا 30-05-09, 08:02 AM   #162
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 39
کمائي: 1,099
شکریہ: 6
25 مراسلہ میں 58 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad - Digital Outreach Team US State Dept مراسلہ دیکھیں
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

ڈاکٹر عافيہ صديقی کيس

جب يہ خبر پہلی مرتبہ ميڈيا پر رپورٹ کی گئ تھی تو بہت سے امريکی حکومتی عہديداروں نے اس بات کی تحقيق کی تھی اور افغانستان ميں متعلقہ حکام سے براہراست رابطہ کيا تھا۔ مشہور پاکستانی صحافی نصرت جاويد نے بھی اپنے پروگرام "بولتا پاکستان" مين اس بات کی تصديق کی تھی کہ انھيں پاکستان ميں امريکی سفير اين پيٹرسن نے يہی بتايا تھا کہ انھوں نے اپنی تحقيق سے اس بات کی تصديق کی ہے کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی قيدی نمبر 650 نہيں تھيں۔

اس کے علاوہ اين پيٹرسن نے پاکستان ميں ہيومن رائٹس کميشن کے صدر کو تين مرتبہ فون کر کے ان خبروں کی ترديد کی۔ اس بات کی تصديق بھی نصرت جاويد نے اپنے پروگرام ميں کی۔

اس کے بعد اين پيٹرسن نے پاکستان کے تمام اخبارات اور ميڈيا کے اہم اداروں کو ايک خط بھی لکھا جس ميں انھوں نے ڈاکٹر عافيہ صديقی اور قيدی نمبر 650 کے حوالوں سے ميڈيا پر افواہوں کی تردید کی اور يہ واضح کيا تھا کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی امريکی قيد ميں نہيں تھيں۔

رچرڈ باؤچر کی جانب سے وائس آف امريکہ کو ايک انٹرويو بھی ديا گيا جو بعد ميں جيو ٹی وی پر بھی نشر ہوا جس ميں انھوں نے واضح الفاظ ميں يہ بات کہی تھی کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی کبھی بھی قيدی نمبر 650 نہيں تھيں۔

برطانوی صحافی ايوان ريڈلی نے اپنے انٹرويو ميں يہ واضح طور پر کہا تھا کہ انکے "خيال" کے مطابق ڈاکٹر عافيہ صديقی قيدی نمبر 650 ہو سکتی ہيں اور اس کے بعد انھوں نے ميڈيا کے سامنے اس بات کو اسی طرح بيان کيا جس کو بنياد بنا کر ميڈيا کے کچھ حلقوں نے اس مفروضے کو ايک تصديق شدہ حقيقت بنا کر پيش کيا۔

يہ بات سراسر حقیقت کے منافی ہے۔

آپ اردو کے بہت سے فورمز پر ڈاکٹر عافيہ صديقی کيس کے حوالے سے ميری پوسٹس بھی پڑھ سکتے ہيں جس ميں يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے ترجمان کی حيثيت سے ميں نے کئ ہفتے پہلے يہی بات کہی تھی کہ ہماری تحقيق کے مطابق ڈاکٹر عافيہ صديقی قيدی نمبر 650 نہيں تھيں۔ جب اس کيس کے بارے ميں مجھ سے مختلف فورمز پر سوالات کيے گۓ تھے تو تمام تر تنقید کے باوجود ميں نے شروع ميں اپنی راۓ کا اظہار نہيں کيا تھا کيونکہ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم اس معاملے ميں تحقيق کر رہی تھی اور کوئ بھی راۓ دينے سے پہلے ميرے ليے يہ ضروری تھا کہ ميں اصل حقائق کی تصديق کروں۔ ظاہر ہے کہ انٹرنيٹ پر کچھ دوستوں کے ليے راۓ قائم کرنے سے پہلے تحقيق کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ميں آپ کی توجہ اس بات کی طرف بھی کروانا چاہتا ہوں کہ برطانوی صحافی نے اپنے ايک حاليہ انٹرويو میں يہ بات بھی کہی کہ برطانوی حکومت نے جو معلومات لارڈ نذير احمد کو دی ہيں ان کے مطابق بھی ڈاکٹر عافيہ صديقی قيدی نمبر 650 نہيں تھيں۔

اب تک اس کيس کے حوالے سے امريکی سفارت کاروں، اہم افسران اور حکومتی اداروں نے جو بيان ديے ہیں ان سب ميں تسلسل اور يکسانيت ہے ليکن ميڈيا پر جو کچھ رپورٹ کيا جا رہا ہے اس ميں ہر روز ايک نئ "حقيقت" بيان کی جا رہی ہے۔ برطانوی صحافی کا انٹرويو اس کی تازہ مثال ہے۔ آپ اسی فورم پر ميرے ريمارکس پڑھ سکتے ہيں جن ميں اخباری خبروں کے درميان پاۓ جانے والے تضادات کا ذکر کيا گيا ہے۔

اس بارے ميں يہ بات بھی ياد رہے کہ يہ کيس اس وقت زير سماعت ہے اور اس کيس کے بہت سے پہلو ايسے ہیں جو اس کيس کے فيصلے کے وقت سب کے سامنے آئيں گے۔ ڈاکٹر عافيہ صديقی کی بہن نے بھی اپنے ايک حاليہ انٹرويو ميں يہی بات کہی تھی کہ اس کيس کے زير سماعت ہونے کی وجہ سے وہ کچھ معاملات پر اس وقت بات نہيں کر سکتيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
بہت شکریہ ، فواد صاحب ، یقینآ آپ حق نمک خوب ادا کر رہے ہیں ۔ ذرا سوچیے کہ ّافیہ کی جگہ اگر آپ کی ماں بہن یا بیٹی بیوی قید ہوتی ، پھر آپ کے تاثرات کیا ہوتے ، امریکیوں نے ہر زبان میں اور یر فورم پر آپ جیسے زر خرید بٹھا رکھیے ہیں جو پیسے کے عوضکالے کوے کو سفید ثابت کرنے کا کام کرتے ہیں
منیب آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منیب کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (30-05-09), ام غزل (31-05-09), ابن آدم (30-05-09), سام (01-06-09), سحر (30-05-09), شاہ جی 90 (30-05-09)
پرانا 30-05-09, 08:53 AM   #163
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
ہر پشتو بولنے والا طالبان
خوب تشریح ہے بھئی

آپ لوگوں کی سمجھداری کی تو داد دینی پڑے گی
اور فاروق سرور خان آپ تو ۔۔۔

چلیں اسی ویڈیو پر بات کرلیں
1۔ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس ویڈیو میں یہ سزا دینے والے طالبان ہیں
2۔ یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ اس عمل سے پہلے اس کی شنوائی نہیں ہوئی یا اس پر مقدمہ نہیں چلا
3۔ اگر یہ لڑکی یا عورت جو بھی ہے واقعی کسی ایسے جرم کی حامل ہے جو اوپر ذکر ہوا( بدکاری ) تو شرع کیا تجویز کرتی ہے

اور ذرا یہ بھی بتادیں کے بغیر مکمل ثبوت کسی پر الزام تراشی کرنے کے بارے میں کیا حکم آیا ہے " یہاں یہ بات بھی شمار کرنا ضروری ہوگی کہ متعلقہ شخص یا متعلقہ گروہ سے الزام لگانے والے کا ذاتی عناد بھی شدید ہو جو آپ کے الفاظ میں نمایاں ہے "

فلحال ان باتوں کے جواب دیں اس پر مزید بات میں نماز کے بعد کرتا ہوں
فیصل صاحب میں اسلامک فقہ تا طالب علم ہوں ۔ مجھے آپ صرف ایک بات کا جواب دے دیں میں آپ کی تمام باتوں کو درست مان لوں گا ۔ یہ کون سی شریعت میں لکھا ہے کہ نامحرم مرد کسی نا محرم عورت کو اس طرح پکڑ کر سرعام سزا دے سکتے ہیں ۔ آپ ایک لائن میں یہ کہتے ہیں کہ یہ طالبان نہیں ہیں اور دوسری لائن میں اس فعل کی ہمایت کرنے لگتے ہیں ۔ پہلے یکسو ہو کر فیصلہ کر لیں کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ۔ باقی کوڑوں کی سزا کن حالات میں دی جا سکتی ہے اور کون یہ سزا دے سکتا ہے اس پر میرے خیال میں اس فورم میں بحث نہیں ہو سکتی ۔ اگر آپ کو خواہش ہو تو مجھے میل کر دیں اس پر بھی آپ کو تسلی بخش قسم کا مواد بھیج دوں گا ۔ اور خدا کے لیے وہ گھسی پٹی لائن مت کوٹ کیجئیے گا کہ علما دین کے سپیشلسٹ ہوتے ہیں ۔ دین کے سپیشلسٹ تو ہم سب مسلمان ہیں جو ماں کی گود سے دین سیکھنا شروع کرتے ہیں اور قبر میں جانے تک سیکھتے چلے جاتے ہیں۔
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (31-05-09)
پرانا 30-05-09, 09:38 AM   #164
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
فیصل صاحب میں اسلامک فقہ تا طالب علم ہوں ۔ مجھے آپ صرف ایک بات کا جواب دے دیں میں آپ کی تمام باتوں کو درست مان لوں گا ۔ یہ کون سی شریعت میں لکھا ہے کہ نامحرم مرد کسی نا محرم عورت کو اس طرح پکڑ کر سرعام سزا دے سکتے ہیں ۔ آپ ایک لائن میں یہ کہتے ہیں کہ یہ طالبان نہیں ہیں اور دوسری لائن میں اس فعل کی ہمایت کرنے لگتے ہیں ۔ پہلے یکسو ہو کر فیصلہ کر لیں کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ۔ باقی کوڑوں کی سزا کن حالات میں دی جا سکتی ہے اور کون یہ سزا دے سکتا ہے اس پر میرے خیال میں اس فورم میں بحث نہیں ہو سکتی ۔ اگر آپ کو خواہش ہو تو مجھے میل کر دیں اس پر بھی آپ کو تسلی بخش قسم کا مواد بھیج دوں گا ۔ اور خدا کے لیے وہ گھسی پٹی لائن مت کوٹ کیجئیے گا کہ علما دین کے سپیشلسٹ ہوتے ہیں ۔ دین کے سپیشلسٹ تو ہم سب مسلمان ہیں جو ماں کی گود سے دین سیکھنا شروع کرتے ہیں اور قبر میں جانے تک سیکھتے چلے جاتے ہیں۔
شاہ جی 90
ویسے تو یہ بات کنفرم ہو چکی ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے لیکن ۔ اس ویڈیو کو وجہ بناکر طالبان کا نام لینا غلط ہے ۔ اور جہاں تک اسلام کی بات ہے کیا ہمارے معاشرے میں کوئی
اصل شریعت پر عمل کررہا ہے جو اس ویڈیو پر سب کو دکھ لگ گیا ہے ۔
dont think as western media want us to think
plz use ur own brain
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (30-05-09), ابن آدم (30-05-09), سام (01-06-09)
پرانا 30-05-09, 11:46 AM   #165
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,248
کمائي: 25,910
شکریہ: 6,460
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
فاروق صاحب آپ نے ڈاکٹر امجد کا بیاں پڑھا اور ڈاکٹر عافیہ کو مجرم ثابت کردیا ۔
سحر سلام، آپ کسی شدید غلط فہمی کا شکار ہیں۔ میں نے کسی کو مجرم ثابت نہیں‌کیا۔ ٍڈاکٹر عافیہ صدیقی کو شواہد اور ثبوتوں کی بناء‌ پر مجرم ٹھیرانا صرف اور صرف عدالت کا کام ہے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آپ قرآن کی بات کرتے ہیں ۔ کیا قرآن میں جہاد کا ذکر نہیں ۔ کیا آج بھی ہم پر جہاد فرض نہیں ہوا ۔ ڈاکٹر عافیہ نے اگر اپنے شوہر سے جہاد کے بارے میں بات کی تو جرم ہوگیا۔
1۔ اللہ تعالی کی آیات کو دیکھئے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالی کے جہاد کی تعریف ہے ، "ایک نظریاتی ریاست کے دفاع کے لئے کی جانے والی کوششیں" ۔
2۔ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ ‌جنگ اس وقت شروع کی جائے جب نظریاتی ریاست پر حملہ ہو۔ ۔
3۔ یہ جہاد ایک جنگ کی صورت میں مناسب لیڈرشپ کے تحت اور باقاعدہ فوج بنا کر کیا جائے۔ یہ سنت رسول سے ثابت ہے۔ رسول اکرم نے کبھی چھپ چھپ کر حملہ نہیں‌کیا۔

جن لوگوں‌کو جہاد کا شوق ہے وہ فوج میں‌کیوں نہیں شامل ہوجاتے؟ ایسے چھپ چھپ کر حملے کرنے چہ معنی دارد؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
کچھ تنظیموں کو چندہ دیا تو وہ مجرم ہو گئی ۔
امریکہ ایک ملک ہے اور اس کے اپنے قوانین ہیں۔ یہاں‌ رہنے والوں کو ان قوانین کے مطابق زندگی گذارنی ضروری ہے۔ جب امریکہ ایک تنظیم یا جماعت کو دہشت گرد قرار دیتا ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں‌کہ ہم ایسی کسی تنظیم کی پذیرائی کریں‌ اور اس کو چندہ دیں۔ جو لوگ ایسی تنظیموں‌کی پشت پناہی کرتے ہیں ان پر قانون کے مطابق کاروائی کی جاتی ہے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اور آپ کی نظر میں امریکہ تو خدا ہے جس کے خلاف بات کرنے والے کو ہر ممکن سزا دینی چاہیے ۔
یہ ایک زیادتی سے پھر پور جملہ ہے۔ امریکہ میرا ملک ہے اور میں اس کا باشندہ ہوں اپنی خوشی سے۔
امریکہ دنیا بھر میں‌ انصاف ، آزادی ، مساوات اور امن کا پیامبر ہے۔
مجھے کبھی بھی نہ تو کسی نے کام کاج سے روکا ، نہ کاروبار سے روکا، اور نہ عبادت کرنے سے روکا۔ جس شہر میں‌میں کاروبار کرتا ہوں اس شہر میں‌لاکھوں مسلمان کام کاج ، عبادت، اور کاروبار کرتے ہیں۔ مکمل آزادی سے اور قانون کی بالا دستی کے تحت ۔ جس پر مجھے فخر ہے۔ ایسی کوئی بھی تنظیم جو امریکہ پر حملہ کرتی ہے ، وہ سب امریکیوں‌کی دشمن ہے، مذہب کی تخصیص کے بغیر۔ جو لوگ مجرمانہ کاروائی میں‌شریک ہوتے ہیں ، امریکی قانون نافذ‌کرنے والے ادارے صرف اور صرف ان کے ہی پیچھے جاتے ہیں۔ نہ کہ کسی خاص‌مذہب کے پیچھے ۔ اس بات کی گواہی ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا امریکی دے گا۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اور ڈاکٹر امجد کے بیان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ڈاکٹر عافیہ کسی دھشت گرد تنظیم سے تعلق رکھتی تھی ۔
ایسا کیجئے کہ کسی شریف عورت کے گھر سے بلٹ‌پروف جیکٹس اور بم بنانے کے کتابچہ درآمد کرکے دکھائیے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آپ کے خیال میں ایک مسلمان عورت کی عزت اور آبرو کی کوئی حیثیت نہیں ۔
جی مسلمان ملکوں‌میں‌ بھی جیلیں‌عورتوں‌سے بھری پڑی ہیں۔ جو جرم کرتا ہے وہ بھرتا ہے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اور یہ قوم اتنی بے غیرت ہے کہ اس کی بیٹی امریکہ کی جیل میں ہے اور اس پر ہی جرم ثابت کررہے ہیں ۔
مجرم مجرم ہوتا ہے۔ جذباتی نعروں‌سے جرم ختم نہیں‌ہوجاتا۔ ٍڈاکٹر عافیہ صدیقی اگر مجرم ہیں تو یہ سامنے آجائے گا۔ وہ تو امریکہ پڑھنے آئی تھیں۔ یہ بلٹ‌پروف جیکٹس (‌ان کے اپنے شوہر کے الفاظ میں ) اور بم بنانے کے کتابچہ کس مقصد کے لئے تھے۔ ایسے جذباتی نعرے آپ ان لوگوں کے لئے لگایئے جو پاکستان پر بار بار حملہ کرتے ہیں ، معصو پاکستانیوں کو "جہاد" کے نام پر قتل کرتے ہیں۔ اور پھر الزام امریکہ پر لگاتے ہیں۔ بی بی --- شکوہ بے بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میں پھر کہوں گی اگر ہمارا یہی حال رہا تو کل ہماری قوم کی تمام مائیں امریکہ کی جیلوں میں قید ہوں گی ۔ تب بھی آپ لوگ ان تمام ماؤں کو مجرم ثابت کررہے ہوں گے۔
اگر قوم کی مائیں‌ اپنے سپوتوں کی درست تربیت کریں اچھا مسلمان بنائیں، قرآن پر عمل کرنا سکھائیں تو ایسی نوبت کبھی نہیں‌آئے گی اور اگر قوم کی ماؤں‌نے اپنے سپوتوں کی درست تربیت نہیں‌کی تو پھر قوم کی ماؤں کو ایسے ہی دن دیکھنے پڑیں گے جیسا آپ فرما رہی ہیں۔ ذہن میں‌رکھئیے کہ امریکہ قوم کی ماؤں‌کی تعلیم کے خلاف نہیں‌ہے۔ اس کے لئے آپ کو ذرا سا منہہ پھیر کر ان دہشت گردوں‌کی طرف دیکھنا پڑے گا جن سے آج اس قوم کے سپوت لڑ رہے ہیں جو قوم کی ماؤں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔

ان لوگوں سے "جہاد"‌ کیجئے جن کے نزدیک "جہاد" کے معانی ہیں ---- "اختلاف کی سزا موت"
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (31-05-09)
جواب

Tags
girl, images, واقعات, لوگ, لڑکی, موقع, ممکن, معلوم, ایٹم بم, اللہ, اردو, اسلام, اسلامی, حکم, حضرات, خواتین, خان, داڑھی, سال, شخص, طالبان, عورت, صوبہ, صبر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سانحہ گودھرا کے 11 مسلمانوں کوبھارت نے موت کی سزا سنادی ALI-OAD خبریں 0 02-03-11 08:37 AM
بچوں کے لیئے کہانیاں (نافرمانی کی سزا) shafresha بچوں کے لیے کہانیاں 2 01-09-10 02:35 AM
حفاظتی بندوں کے بنا نے میں کرپشن کے ذمہ داروں کو سزا ملے گی:شہبازشریف جاویداسد خبریں 1 28-08-10 09:25 PM
ورلڈ کپ میچ دیکھنے پر کوڑوں کی سزا منتظمین خبریں 16 16-06-10 07:38 PM
بچوں کو نا فرمانی کی سزا Zullu230 گپ شپ 0 14-12-07 11:30 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger