| خاص آفرز اور اعلانات پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز (پاکستان کے اردو زبان میں سب سے بڑےفورمز) کی انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات اور بعض خاص موقعوں پر منفرد طرز کی پیشکشیں اپ یہاںپر پائیںگے۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | ظاہری انداز |
|
|
|
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,173
کمائي: 167,168
شکریہ: 9,675
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام!
جیسا کہ سب اراکین کو پاک۔نیٹ کے نیے روپ سے متعارف کروایا گیا ہے جس میں کچھ خاص منتخب کردہ تحاریر لگائی جاتی ہیں جن سے ان تحاریر کی ترجیحی بنیادوں پر نشرواشاعت ہوتی ہے۔ سرورق پر تحاریر کے آنے کے لیے ضروری ہے کہ تحریر اپ کی اپنی ہو، اچھی لکھی گئی ہو، املاء اور گرائمر کی غلطیوں سے پاک ہو۔ اور سب سے اہم یہ کہ اس میں کوئی مفید اور معلوماتی موضوع پیش کیا گیا ہو۔ اپنی تحریر کو پہلے صٍفحے پر شامل کروانے کے لیے اپنی تحریر کا عنوان اور لنک اس موضوع میں لگائیں، منتخب ہونے کی صورت میں شامل کر لی جائے گی۔ اگر اپ اپنی تحریر کے ساتھ کوئی تصویر بھی شامل کرنا چاہیں تو وہ اپنی اصل تحریر یا پھر اس موضوع میں شامل کر دیں۔ کوئی بھی رکن کسی بھی دوسرے رکن کی تحریر سرورق پر ڈالنے کی سفارش کر سکتا ہے اور تحریر کی منظوری کی صورت میں ایسے کسی بھی سفارش کرنے والے کو ہر سفارش پر 100 پوائنٹس ملیں گے۔ کسی بھی تحریر کی منظور اور سرورق پر ڈالنے کے بعد میں متعلقہ مراسلے اسی موضوع میں شکریہ ادا کردوں گا جس کا مطلب یہ لیا جائے کہ موضوع سرورق پر آ چکا ہے۔ سرورق میںڈالنے کا آسان طریقہ 1- جو تحریر اپکو اچھی لگتی ہے اس کا لنک اپ اپنے ایکسپلورر میں سے کاپی کر لیں۔ 2- "اب اپ کی تحریر سرورق پر" میں جا کر لنک کو بس پیسٹ کر دیں۔ اہم اعلان: اج سے ام غزل سرورق کو دیکھا کریں گیں۔ سرورق کے لیے تحریر کا انتخاب بھی ان کے پاس ہے۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! Last edited by shafresha; 10-08-10 at 07:09 PM. وجہ: ایک حرف کی تصیح! |
|
|
|
| 110 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | *ساجد* (03-04-09), abdulrehman303 (23-03-11), ALI-OAD (28-02-10), aqeel64 (13-09-10), asakpke (14-06-11), Aurangzeb Yousaf (20-04-09), Awais Aslam Mirza (30-04-11), Farrukh (09-05-10), GSM MAMA (24-04-09), JISOUTH (16-05-11), Miss Khan (24-09-11), monee3s (23-04-09), muhammad asif virani (03-08-09), mujahidsikhani (29-12-10), Nasiwise (31-07-10), rabab (12-04-10), rana ammar mazhar (25-10-11), Real_Light (16-04-09), rizvidarulifta (18-01-11), sahj (30-07-09), sana goher (26-01-11), shafresha (29-03-09), skjatala (12-05-11), فیضان صديقی ,سندھ (24-02-10), فیصل ناصر (29-03-09), فخر بٹ (15-06-11), فرخ ظفر (22-11-10), کنعان (03-10-10), کاشف اکرم وارثی (08-09-11), گوہر (26-09-09), گلاب خان (07-10-09), گلز (14-06-10), پاکستانی (02-04-09), ھارون اعظم (06-11-09), یاہو (08-12-10), یاسر عمران مرزا (17-02-10), یحیٰی (26-07-09), وجدان (27-07-09), نیلم خان (16-12-09), نورالدین (12-04-10), ناصر نعمان (07-08-10), نعیم۔ (21-03-10), میاں شاہد (30-03-09), مبشررضا (16-08-11), محمد یاسرعلی (14-01-10), محمد عمران نیازی (24-11-09), محمد عاصم (11-05-10), محمدمبشرعلی (16-12-09), محمداسد (30-07-09), محمدخلیل (29-03-09), محمدعدنان (04-04-09), مرزا عامر (19-07-10), مسافر (28-07-09), مشال خان (09-04-09), مطھر (08-12-10), Wahid Mahmood (20-12-09), wajee (30-03-09), yashaka (14-05-09), Zullu230 (17-04-09), آصف رضا (28-11-11), اکرم (19-04-09), ایکسٹو (18-11-11), ایم آصف (22-11-11), ایس اے نقوی (31-03-09), اویسی (14-05-10), ام طلحہ (22-06-09), ام غزل (31-03-09), ابو عمار (04-12-09), ابوسعد (31-01-11), ابن آدم (07-05-09), ابن جلال (25-04-09), احمد نذیر (06-06-11), احمدنواز (22-07-10), اسد لطیف (02-04-09), بزم خیال (22-11-09), تانیہ رحمان ستارہ (31-05-09), جاویداسد (11-06-10), جبران جان (05-01-12), حیدر (05-10-10), حمیرا کنول (15-06-11), حسنین ایوب (27-10-10), حسان (16-05-09), خرم شہزاد خرم (18-04-09), دین محمد وطن پال (15-05-10), رفیع انجم (01-07-10), رانا امر (19-04-09), راجہ اکرام (18-04-09), راشد احمد (07-05-09), رضی (06-04-09), زبیرافتحار (26-08-11), سیپ (29-03-09), سحر (31-05-09), سعود (02-04-09), شھزادباجوہ (04-06-11), شیراز حسن (17-06-10), شمشاد احمد (13-10-10), شاہ جی 90 (31-05-09), ضرغام (05-04-09), طارق اقبال (20-09-09), طارق راحیل (06-04-09), عیشال فاطمہ (12-08-11), عامرشہزاد (23-10-09), عارف اقبال (24-01-10), عبدالقدوس (30-03-09), عبداللہ آدم (08-01-11), عبداللہ حیدر (28-06-09), عبدالسلام (26-02-11), عدنان دانی (30-11-09), عرفان مسلم (30-08-11), عروج (10-10-10) |
|
|
#901 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,438
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,997 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (05-09-10), جاویداسد (08-07-10) |
|
|
#902 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,438
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,997 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (05-09-10), جاویداسد (08-07-10) |
|
|
#903 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,438
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,997 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (05-09-10), جاویداسد (09-07-10) |
|
|
#905 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,438
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,997 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم بلوچستان کا مقدمہ نہیں ہارے (دوسرا زاویہ نظر) مندرجہ ذیل تصویر 2009 کے 14 اگست کی ہے جب اہلیان بلوچستان نے باوجود بھارت نوازوں کی دھمکیوں کے 14 اگست کو پاکستانی پرچم لہرا کر پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا
|
|
|
|
|
|
#906 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 7
کمائي: 386
شکریہ: 0
6 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق پر ایک مضمون کہ کیا اللہ اور خدا الگ الگ ہیں۔
میں صرف اتنا کہتا ھوں کہ اگر کسی کو اپنے ذاتی نام سے پکارو گے تو وہ خوش ھو کر اور توجہ سے بات سنے گا۔ بتوں کو بھی خدا کہا جاتا ھے اور ہر شرکیہ مذہب کے اپنے اپنے خدا ہیں۔ کیا ہم اپنے خدا کو ان خداوں کے برابر لے کر آئیں(نعوذ باللہ) موصوف رائٹر کا کہنا ہے کہ نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا جس نام سے بھی اللہ کو پکارو وہ سنے گا۔ تو پھر بھگوان یا اوتار یا اسی طرح کے اور ناموں سے کیوں نہیں پکارا جاتا۔کیوں ہم اے اللہ اور اے میرے رب کہ کر دعائیں مانگتے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہم مسلمانوں کو اپنے ذاتی نام سے آگاہ کیا ہے۔باقی 99 نام صفاتی ہیں۔ان میں خدا کے نام کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ بس ہم اللہ تعالی کو اسی نام سے ہی پکارتے رہیں گے۔ |
|
|
|
|
|
#907 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,902
کمائي: 73,068
شکریہ: 26,778
3,501 مراسلہ میں 11,240 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ نے مخالفت کرنی ہے- کیوں؟ ایک چھوٹا سا واقعہ اپنی زندگی کا آپ کے سامنے پیش خدمت ہے- انگلینڈ کی ایک چھوٹی سی مسجد میں عشاء کی نماز کا انتظار کر رہا تھا۔ وہاں تبلیغی جماعت بھی آئی ہوئی تھی- چونکہ ہم لوگ مغرب کے بعد مسجد میں ہی بیٹھ جایا کرتے تھے اس لئیے عشاء کی نماز میں کافی وقت تھا- جماعت کے افراد نے مختصر دینی تقریر کی اس کے بعد دعا کر کے ہم سب مل کر بیٹھ گئے۔ ایک بزرگ نے مجھ سے پوچھا کہ اسلامی کتابیں پڑھنے کا شوق ہے میں نے عرض کی جی حضورقران کریم کا ترجمہ پڑھ لیا کرتا ہوں۔ وہ صاحب تو پریشان ہو گئے۔ کہنے لگے کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ قران کا ترجمہ پڑھنے سے آدمی گمراہ ہوسکتا ہے- میں ڈر گیا۔ پوچھا کہ حضور ہدایت کی کتاب سے گمراہی؟!! کہنے لگے کہ یہ تو صرف علما کا کام ہے۔ پھر پوچھا کہ کس کا لکھا ہوا ترجمہ پڑھتے ہو- میرا جواب تھا یوسف علی، ایم ایچ شاکر کا۔ انگلش ترجمہ اورمیں نے کہا کہ میں نے مودودی صاحب کی تفہیم القران بھی پڑھی ہے۔ یہ سننا تھا کہ ان صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور مجھے انھوں نے سمجھایا کہ آئندہ اسے ہاتھ بھی نا لگانا ورنہ ایمان چلا جائے گا- میں نے پوچھا کہ آپ نے اس کتاب میں ایسی کون سی بات دیکھی کہ جس کی وجہ سے میرا ایمان چلا جائے گا۔ میرا جواب دینے کے بجائے وہ اپنے تمام ساتھیوں کو لے آئے اور انھوں نے مجھےبہت پیار سے سمجھانا شروع کر دیا کہ تفہیم القران پڑھنے سے میرا ایمان باقی نہیں رہے گا۔ لیکن اس بات کا کسی کے پاس جواب نہیں تھا کہ اس میں ایسی کون سی بات ہے جس سے میرا ایمان چلا جائے گا ان آٹھوں افراد میں سے کسی نے تفہیم القران کا مطالعہ نہیں کیا تھا لیکن چونکہ انہیں یہ بات بتائی گئی تھی اس لئے ان کے دل میں صرف مخالفت تھی مخالفت کی وجہ نہیں- ایک اور حیرت انگیز بات ان میں سے کسی نے بھی کبھی بھی قران کا مکمل ترجمہ نہیں پڑھا تھا- ہاں عربی میں پڑھ کر ڈھیروں ثواب کمایا تھا دنیا میں بہت سے لوگ صرف اس لئے مخالفت کرتے ہیں کیوں کہ انہیں بتا یا جاتا ہے کہ آپ نے مخالفت کرنی ہے- کیوں؟ اس کا جواب اکثر کے پاس نہیں ہوتا
__________________
اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور اگر وہ تمھیں چھوڑ دے توکون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیئے اٰل عمران 160 |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | Nasiwise (26-07-10), فیصل ناصر (21-07-10), ھارون اعظم (08-09-10), نورالدین (20-07-10), احمد بلال (11-09-10) |
|
|
#908 |
|
Senior Member
![]() |
پیشِ خدمت ہے سافٹ ویئر سے متعلق میرا مراسلہ
MSKLC اپنا کی بورڈ خود بنائیں اور منتظمین یا جو بھی اس سرورق والے سیکشن کے انچارج ہیں ان سے گزارش ہے کہ اگر ضروری سمجھیں تو مضمون میں مناسب ترمیم کر دیں ۔ کیوں کہ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ بغص مقامات پر میں نے بڑے مشکل اور پیچیدہ انداز سے سمجھایا ہے اور بعض مقامات پر جھول ہے ۔ ورنہ ایسے ہی سہی ویسے میرا ارادہ تھا کہ یہ مضمون ماہ نامہ گلوبل سائنس میگزین کو بھی ارسال کر دوں اگر اس فورم کی انتظامیہ کو اعتراض نہ ہو تو کافی دنوں سے مطالعہ نہيں کیا اب نہ جانے کیا حال ہیں اس میگزین کے اللہ سلامت رکھے اُس میگزین کو بھی اور پاک نیٹ کو بھی ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
|
|
#909 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
کمائي: 48,863
شکریہ: 2,418
1,901 مراسلہ میں 5,647 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ ہہہہہہہہ
|
|
|
|
|
|
#910 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جاوید اسد بھائی،
اس طرح کی معلومات دلچسپ اور عجیب سیکشن میں نیا دھاگہ بنا کر پوسٹ کیا کیجئے یہاں صرف ان تحاریر کے لنک پیسٹ کرنے ہوتے ہیں جو سرورق کے لئے منتخب ہوں شکریہ
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#912 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے Nasiwise کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#914 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,790
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,004 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پیش خدمت ہے
الزام کسے دیں؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (11-09-10), شاہ جی 90 (29-08-10) |
|
|
#915 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 261
کمائي: 6,979
شکریہ: 10
189 مراسلہ میں 764 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا پاکستان کا میڈیا سچ نہیںبول سکتا؟ تحریر :عبدالہادی احمد
افغانستان سےیہ سچی اور پکی خبر ہے کہ وہاں چند ہزارطالبان کے ہاتھوں تین لاکھ سے زیادہ امریکی،نیٹو اور افغان فوجیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔وکی لیکس نامی ایک ویب سائیٹ نے امریکی فوج کے ڈیٹا بینک سے لی گئی اکیانوے ہزار سات سو اکتیس رپورٹیں افشا کر دی ہیں جو سن2004ءسے 2009 ء تک جنگ کے چھ برسوں کا احاطہ کرتی ہیں،ان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کا ذکرہے۔حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کی ایک کمزور اور پس ماندہ ترین اور بے سروسامان قوم نے دنیا کی واحد سپر پاو رکوکتنی آسانی سے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔تقریباً ہر دوسرے دن کسی نہ کسی کمانڈر ، جرنیل یا سیاسی افسر کا یہ بیان اخبارات کی زینت بنتا ہے کہ نیٹو افغانستان میں ناکام ہوگئی۔ واضح رہے کہ نیٹو44 ممالک کا اتحاد ہے اور اس کی امریکا اورافغانستان کی فوجوںسے مل کر تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے۔اس کے مقابلے میں طالبان مجاہدین چند ہزار سے زیادہ نہیں۔ یہ بلاشبہ اس دور کی سب سے بڑی خبر ہے،بلکہ اس دور کا زندہ معجزہ ہے۔یہ خبر تو اتنی اہمیت کی حامل تھی کہ ہر طرف واویلا مچ جاتا۔چینل اسے بریکنگ نیوزبناتے اور اخبارات اس کی تفصیلات سے لبریز ہوتے۔تجزیہ کار اور کالم نگار اسی عظیم الشان ’اپ سیٹ‘کے تذکرے کر رہے ہوتے اور دنیا بھر کے چینلزطالبان کے لیڈروں اور کمانڈروں کے انٹرویو ز نشر اور شائع کررہے ہوتے۔مغرب کے تھنک ٹینک سرجوڑے سوچ رہے ہوتے کہ ان کمزورابابیلوںنے طاقت کے نشے میں جھومتے ان ہاتھیوں کو کیوںکر مار گرایا؟ افغانستان میں تو جس طرح امریکا کو شکست ہو رہی ہے اس نے ہالی وڈ کے فلمسازوں کے لیے بھی نئے اور سنسنی خیز موضوعات کے انبار لگا دیے ہیں،مگر میڈیا پر صہیونی غلبے کی وجہ سے اصل حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔ یہ میڈیا کا جادوہے کہ ایشوز کو نان ایشوز اور نان ایشوز کو ایشوز بنا کر عقل و بصیرت پر پردے ڈال دیے گئے ہیں ۔ 27 دسمبر1979ءکوجب روس نے کابل پر حملہ کیا تو مغربی میڈیا نے کہاتھا،روس ایک ایسا ہاتھی ہے کہ جو ایک ایک قدم سوچ سمجھ کر اٹھاتا ہے،مگر اس کا جو قدم آگے بڑھتا ہے وہ پیچھے کبھی نہیں ہٹتا۔پھر دنیا نے دیکھا کہ ہاتھی سونڈ کٹا کرایسا بھاگا کہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔یہ ہاتھی اور چیونٹی کا مقابلہ تھا۔ ایک طرف سپر پاورتھی اور دوسری طرف دنیا میں سب سے زیادہ غریب، سب سے زیادہ جاہل، سب سے زیادہ پس ماندہ ملک کے پس ماندہ ترین لوگ۔ترقی اورپس ماندگی کے جدید پیمانے سے دیکھیں تو تناسب کے عجیب اعداد وشمار سامنے آتے ہیں۔روس میں اس زمانے میں تعلیم کی شرح سو فی صد تھی اور افغانستان میں محض پانچ فی صد لوگ پڑھے لکھے تھے۔روس کی فی کس آمدنی دو ہزار ڈالر سے زیادہ تھی اورافغانستان کی محض30ڈالرروس کی اوسط عمر ستر سال سے زیادہ اور افغانستان کی صرف 36 برس؛ غرضیکہ جس پیمانے سے بھی دیکھیں افغانستان پس ماندہ ترین اور روس سب سے زیادہ ترقی یافتہ نظر آتا تھا۔پھرمعجزہ رونماہو چیونٹی نے ہاتھی کو پچھاڑدیا۔ہم نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا۔میڈیا نے تب بھی تسلیم نہیں کیا تھا۔ کہا گیایہ امریکی سٹنگرتھے جو روسی طیاروں پر غالب آگئے ورنہ افغان مجاہدین کی کیا اوقات تھی۔آج توسٹنگر بھی نہیں،پھر یہ کیا ہے؟ایک بارپھر ان ہی کمزور افغانوںکے ہاتھوں دوبارہ ایک عظیم الشان معجزہ رونما ہو رہا ہے۔افغانستان آج بھی پس ماندگی کے لحاظ سے دنیا کے 178 ممالک میں173 ویں نمبرپر ہے۔بات دراصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرعون کو ختم کرنے کے لیے کبھی کوئی فرعون پیدا نہیںفرماتا، نہ نمرود کو ہلاک کرنے کے لیے کوئی دوسرا نمرود کھڑا کرتاہے،اگر وہ ایسا کرے تو پھر اللہ رب العالمین کی جلالت شان کا اظہارکیسے ہو۔اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ایک بے سروسامان شخص کے ہاتھوںغرق کر کے اپنی قوت و قدرت کا اظہار فرمایا، نمرود کو ایک حقیر مچھر کے ہاتھوں مٹاکراپنی ذات ستودہ صفات کی برتری ثابت کی اور کمزور ترین افغان مجاہدین کے ہاتھوںروس کے ٹکڑے اڑا کر اپنی عظمت وجلالت کا اظہار فرمایا۔”جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے“(یٰسین ۔82) وکی لیکس نے امریکی فوج کے ڈیٹا بینک سے چرائی گئی رپورٹوںمیں بتایا ہے کہ طالبان ناقابل تسخیر حد تک طاقت ور ہو گئے ہیں۔ان رپورٹوں میں اتحادی اَفواج کے ایسے مجرمانہ حملوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں، جن کا کبھی اعلان نہیں کیا گیا اور جن میں سینکڑوںبے گناہ افغان شہری مارے گئے۔ ان انتہائی خفیہ کمانڈوز کا ذکر بھی ہے، جنہیں طالبان کی اعلیٰ قیادت کو قتل کرنے پر مامور کیا گیا۔ امریکی ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروس کمیٹی کے چیئرمین نے کہا، ان دستاویزات کا منظر عام پر لانا امریکا کی قومی سلامتی، عوام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔امریکی محکمہ دفاع نے بھی وکی لیکس کی رپورٹس کو مجرمانہ فعل اور فوج و قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ اسی برس کے شروع میںہلمند پر بڑا حملہ کرتے وقت خبریں یہ آرہی تھیں کہ اس مقام پر ایک ہزار سے پندرہ سو تک طالبان ہیں،جب کہ نیٹو اور افغان فوج ملا جلا کر35ہزار کی نفری سے حملہ کر رہی تھی۔ مگر ہلمند میںکئی ماہ تک مسلسل زمینی اور فضائی حملے کیے گئے ،پھر منہ کی کھانے کے بعد قندھار پر چڑھائی کا منصوبہ ملتوی کردیاگیا ۔یہ صرف ہلمند کا مسئلہ نہیںگزشتہ نو برس میں مٹھی بھر جان بازوںنے ہر جگہ متحدہ صلیبیوں کی افواج قاہرہ اور جدید ترین اور تباہ کن ہتھیاروں کو اسی طرح ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ مجاہدین کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے اندر1700امریکی فوجی اور 1100 افغان فوجی مارے گئے ہیں۔اس کے علاوہ مجاہدین نے دو جاسوس طیارے اور ۳ جہاز اور ہیلی کاپٹر مار گرائے،227 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کیں۔160فوجی گاڑیاں اور50 آئل ٹینکر اور ٹرک تباہ کیے (یہ سب اعداد و شمار نیٹ پر دستیاب ہیں) ان اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ کے لگ بھگ صلیبی فوجی موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔ اب تو دنیا کی ”واحد سپر پاوراس ذلت سے بچنے کے لیے ہاتھ پاﺅں مار رہی ہے کہ نہ صرف اسے بلکہ اس کے ساتھ44ممالک کی متحدہ قوت کو شکست ہو رہی ہے اور شکست بھی ایک انتہائی چھوٹی، خستہ حال، بربادشدہ ملک کی پس ماندہ اور بے سروسامان قوم کے ہاتھوں۔ یہ تو ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ مٹھی بھر فاقہ کش ساری دنیا کی متحدہ افواج کو شکست فاش سے دوچار کر دیں۔ ابلیس کو یہی ڈر تھا کہ جب اس نے ا پنی مجلس شوریٰ میں حکم صادر کیا تھا کہ وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا روح محمد اس کے بدن سے نکال دو افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو افغانیوں کی غیرت دین کا علاج کرنے کے بہت جتن کیے گئے ،ان کے بدن سے روح محمد نکالنے کے لیے اہل دین اور مراکز دینی کو نشانہ بنایا گیا،ڈرون حملے کیے گئے،،کارپٹ بم باری کی گئی،مگر اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے اتنا ہی ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے امریکا دنیا کے سارے وسائل استعمال کر کے بھی یہ جنگ ہار رہا ہے،بلکہ ہار چکاہے۔اب اپنی پروپیگنڈے کی طاقت سے دنیا کو یہ باورا کرا رہا ہے کہ اسے شکست نہیں ہوئی۔ دنیا بھر کا میڈیابیک آوازہوکر کہہ رہا ہے کہ امریکا کی ناک نہیں کٹی ۔اس کام میںوہ ہمارے ذرائع ابلاغ سے بھی کام لے رہا ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کیا ہمارا میڈیا سچ نہیں بول سکتا؟ہمارے سارے چینلز لڑکی کوکوڑے مارنے والی وڈیو کئی دن تک بریکنگ نیوز کے طور پر ہر دس منٹ بعد چلاتے رہے۔ بعد میںپتہ چلاکہ وڈیو جعلی تھی۔ ان چینلز کا فرض تھا کہ جعلی وڈیو کی اطلاع بھی کئی بارنشر کرتے ،مگر کسی کو یہ سچ بولنے کی توفیق نہیں ہوئی۔اس کے برعکس امریکی مفادات کے عین مطابق نان ایشو کو ایشو بنا کرمسلسل بحث و مباحثے کا موضوع بنا یا جاتا ہے،تا کہ اصل ایشو نگاہوں سے اوجھل رہے۔ لوگوں کو یہ نہیں دکھایا جاتاکہ افغانستان کس طرح تیزی سے امریکی قبرستان بن رہا ہے۔سوال یہ ہے ہمارے چینلز پر امریکی مفادات کو کب تک بریکنگ نیوز بنایا جاتا رہے گا،بالفرض امریکا اور یہودی نژاد میڈیا جھوٹ بول رہا ہے ،تواس کا ”جواز“بھی ہے کہ اس خدمت کے بدلے اسے کروڑوں ڈالر ملتے ہیں،لیکن پاکستان کے کروڑوں عوام کی عقل کو کیا ہوا۔کیا میدیا کے رویے سے یہ ثابت نہیں ہو گیا کہ کہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی طرح پاکستانی میڈیا بھی گرد اڑاکر اوردھواں پھیلا کر اس کے پردے میں ہمارے دشمن کو واردات کرگزرنے کا موقع فراہم کر رہاہے۔اس کو بھی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا باقاعدہ ٹاسک ملا ہوا ہے، وہ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں پوری طرح شریک ہے،اس کے بدلے اسے بھی بھاری معاوضہ ملتا ہے۔حقیر ڈالروں کو”آخرت کا توشہ“ بنانے کے لیے یہ سچائی لوگوں کی نگاہ سے چھپائی جا رہی ہے کہ جس طرح بیس برس پہلے یہاں روسی سطوت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئی تھی،بالکل اسی طرح یہاں امریکی استعمارکا بیڑا کبھی نہ ابھرنے کے لیے ڈوبنے والا ہے۔اگرہمارے ذرائع ابلاغ میںکسی کو دعویٰ ہو کہ وہ امریکا سے ایمان کا معاوضہ نہیں لیتا تو اس کوامریکا اوراس کے پیادوں سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے ہمارے پیارے ملک میں دہشت گردی کیوں پھیلا رکھی ہے۔انہیںان غیر ملکی دہشت گردوں سے یہ پوچھنے کی ہمت کرنی چاہیے کہ افغانستان پر ان کے حملے سے پہلے یہ پاکستانی ”دہشت گرد“ کہاں چھپے ہوئے تھے؟ نصف صدی تک پاکستان کی یہ مغربی سرحد ہمیشہ محفوظ اور پرامن رہی،اب اچانک یہ خودکش بم بار کہاں سے آگئے؟ وہ جنگ جو اسامہ بن لادن کے خلاف شروع ہوئی تھی وہ پاکستان کی سرزمین پر کیوںپہنچا دی گئی ؟عوام الناس کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ امریکی صلیبی جنگ میں کرائے کے سپاہی کہیں بھی ہوں اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اوران میں بد ترین وہ ہیںجو جھوٹے پرو پیگنڈے کے ذریعے عوام کو بے وقوف بناتے ہیں تاکہ اس کے بدلے حقیرڈالر کما سکیں۔اپنے ضمیر اور ایمان کا سودا کرنے والے یہ لوگ اچھی طرح جان لیں کہ وہ اپنی چرب زبانی سے انسانوں کو دھوکا دے سکتے ہیں اللہ کو نہیں۔یاد رکھیںاپنا ایمان بیچ کردنیا کمانے والے آخرت میں بد ترین ناکامی سے دوچار ہوں گے۔ ”وہ لوگ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں،اللہ قیامت کے روز نہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گااور نہ انہیں پاک کرے گا،بلکہ ان کے لیے تو سخت دردناک سزا ہے“آل عمران:77 |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, php, فورم, پوسٹ, پاک, ویب, قرآن, قرآن حکیم, نظر, مکمل, متعارف, معجزہ, اسلامی, بھائی, تحریر, تعلیم, تصویر, تصاویر, حکم, خصوصی, زندگی, شہر, عورت, غزل, صحافیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 4 (0 members and 4 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | |
|
|