| خاص آفرز اور اعلانات پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز (پاکستان کے اردو زبان میں سب سے بڑےفورمز) کی انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات اور بعض خاص موقعوں پر منفرد طرز کی پیشکشیں اپ یہاںپر پائیںگے۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | ظاہری انداز |
| 35 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا | 00923339993636 (08-09-09), ALI-OAD (05-09-09), Bhatti (18-09-09), IshaqZafar (04-09-09), malik ehsan (05-09-09), Naeem-ud-din (06-09-09), Real_Light (06-10-09), samina khalil (09-11-09), shafirajput (04-09-09), shafresha (04-09-09), پاکستانی (27-08-10), نیلم خان (07-09-09), نویدظفرکیانی (30-09-10), نورین خان (06-09-09), محمد یاسرعلی (21-09-10), محمدخلیل (04-09-09), محمدعدنان (05-09-09), مرزا محمد فاروق (04-09-09), مرزا عامر (27-09-10), معظم (08-09-09), اویسی (28-08-10), ام طلحہ (04-09-09), اخترحسین (04-09-09), جلالپوری (11-09-09), جاویداسد (27-09-10), حسنین ایوب (05-09-09), روشنی (30-05-11), راجہ اکرام (04-09-09), رضی (13-09-09), سفر زندگی کا (06-01-10), شاہ جی 90 (04-09-09), شاہ110 (06-09-09), طارق راحیل (08-09-09), عامرشہزاد (14-09-09), عروج (19-09-10) |
|
|
#196 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اُترنے ہی نہیں دیتی مجھ پر کوئی آفت
میری ماں کی دعاؤں نے آسماں کو روک رکھا ہے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے راجہ اکرام کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 04-10-09 | ایس اے نقوی | ماں تجھے سلام(انتظامیہ) | 50 |
|
|
#197 |
|
Senior Member
![]() |
برادر راجا اکرام صاحب سے درخواست ہے کہ وہ ایک غزل کو شعروں کی صورت میں پوسٹ نہ کریں (شکریہ)
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#198 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب انجم شاہ صاحب کی گزارش ہمارے لئے حکم کا درجہ رکھتی ہے
لیکن معلومات کے لئے عرض ہے کہ اشعار غزلوں اور نظموں ہی کا حصہ ہوتے ہیں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شعر اکیلا ہو۔ لیکن جب کسی غزل یا نظم کا ایک شعر الگ ذکر کیا جائے تو اسے شعر ہی تصور کیا جانا بہتر ہے۔ یہ میرا خیال ہے اور امید ہے کہ باقی ساتھی بھی اس سے اتفاق کریں گے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#199 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اور بے شک غزل کے کسی ایک شعر کو الگ کر دیا تو جائے وہ شعر ہی تصور ہوگا مگر اسکےلئے ایک ہی شعر پیش کیا جائے نہ کہ غزل کے اشعار کو الگ الگ پیش کریں شکریہ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#200 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب اگر آپ نے اپنا اپنے تھریڈ کو دیکھا ہو تو اس میں شاید ایسی کوئی شرط نہیں
یا شاید کہیں پوشیدہ ہو اور میں اپنی کم نظری کی وجہ سے نہیں دیکھ پایا اس لئے اب یہ شرط لاگو کرنا میرے خیال میں مناسب نہیں۔ کیا خیال ہے؟؟ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | نیلم خان (13-09-10), مرزا محمد فاروق (03-10-09), ایس اے نقوی (04-10-09), شاہ جی 90 (25-09-10), عامرشہزاد (07-10-09) |
|
|
#201 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: lalamusa
مراسلات: 2,361
کمائي: 27,395
شکریہ: 5,971
1,796 مراسلہ میں 3,732 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اپنے اصول کبھی یوں بھی تڑنے پڑے
اس کی خطاء تھی ہاتھ مجھے جوڑنے پڑے آیا نہ جب قرار دلِ بے قرار کو یادوں کے رخ تمہاری طرف موڑنے پڑے اس کو تو میری یاد بھی آئی نہ بھول کر اپنے پرائے جس کے لئے چھوڑنے پڑے وہ شخص خود فراز بڑا بے اصول نکلا تھا اپنے اصول جس کے لئے توڑنے پڑے
__________________
مرزا محمد فاروق |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے مرزا محمد فاروق کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے مرزا محمد فاروق کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 27-08-10 | ایس اے نقوی | تھریڈ:پوائینٹ ہی پوائینٹس حاصل کریں | 50 |
|
|
#202 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دھوپ کو سایہ زمیں کو آسماں کرتی ہے ماں
ہاتھ رکھ کر میرے سر پر سائباں کرتی ہے ماں میری خواہش اور میری ضد اس کے قدموں پر نثار ہاں کی گجنائش نہ تو پھر بھی ہاں کرتی ہے ماں |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | پاکستانی لڑکی (07-10-09), نیلم خان (13-09-10), ایس اے نقوی (27-08-10), شاہ جی 90 (25-09-10), عبداللہ آدم (25-09-10) |
| کمائي نے راجہ اکرام کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 27-08-10 | ایس اے نقوی | تھریڈ:پوائینٹ ہی پوائینٹس حاصل کریں | 50 |
|
|
#203 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (27-08-10), شاہ جی 90 (25-09-10) |
|
|
#204 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ماں
راحت بشر کی امین روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھئے چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں ( رضا سرسوی) ابتدائے آفرینش سے لیکر آج تک بہت سے غیر معصوم کردار اُفق کائنات پر جلوہ گر ہوئے اور بہت سی ہستیاں اپنی بے پناہ جاذبیت کی ساتھ عالم فانی میں رونق افروز ہوئیں، لیکن جن کرداروں کو دوام ملا ، یا جو ہستیاں اپنے اخلاقی نقوش کی وجہ سے دنیا میں انفرادی اور امتیازی حیثیت کی حامل ہوئیں، ان میں ماں کا کردار سر فہرست نظر آتا ہے۔ اللہ جانے اس مختصر سے لفظ ''ماں'' کے عمیق سمندر میں کتنی لطافت زندگی،چاشنی ٔ حیات،کردار کے آفاقی نقوش اور قربانی و فداکاری کی لہریں موجزن ہیں کہ اب تک ذہن بشر اس کے تمام صفات و کمالات کے ادراک سے قاصر و عاجر ہے ،ہاں! جیسے جیسے اس کی زندگی کے خوبصورت صفحات کھولتے ہیںتواس کے صفات بھی معجزاتی طور پرسامنے آتے رہتے ہیں ۔ اگر غائرانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہی ماں محبتوں کی معراج،عشق اول کا زریں زینہ،بوستان لطافت کی حسین باغباںاور عہد بہاران انسانیت کی فراہمی کا سامان ہے ، جس کے طریقہ ٔمہربانی اور انداز عطوفت کی وسعت کے سامنے آسمان کی بے کراں وسعتیں کم محسوس ہیں،جس کا وجود نازنین،اطمینان و سکون اور راحت بشر کا مکمل امین ہے ۔۔۔!بلکہ کردار ماں کا سب سے عظیم پہلویہ ہے کہ خدا وند متعال نے قرآن جیسی آبد آثار کتاب میں اپنی پیروی و اطاعت کے ساتھ اس کے حق میں نیک برتائو اور اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے(بنی اسرائیل٢٣)اور اس کی فضیلت کا ادنیٰ نمونہ یہ ہے کہ رسول اسلا م نے حصول جنت کو ماں کے مقدس قدموں میں قرار دیا ہے یعنی ماں کی اطاعت،حصول جنت کا ضامن ہے''الجنة تحت اقدام الامھات''(نھج الفصاحت،بحار الانوار) اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا سب سے زیادہ بہتر سلوک کا حق دار کون ہے؟ تو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں، دوسری دفعہ بھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں اور تیسری دفعہ بھی فرمایا تیری ماں۔ جب چوتھی دفعہ پوچھا گیا تو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا باپ حدیث کی رو سے اگر آپ دیکھیے تو جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے مکے میں عورتوں کو بالکل ہیچ سمجھتے تھے، مدینے میں نسبتاً ان کی قدر تھی، لیکن جب اسلام آیا اور اللہ نے ان کے متعلق آیات نازل فرمائیں تو ہمیں ان کی حقیقی قدر و منزلت معلوم ہوئی۔ (بخاری شریف) خطبہ حجۃ الوداع کے تاریخی موقعے پر یوم عرفہ میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگو تم نے ان کو اللہ کے نام کے واسطے حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف مواقع پر مردوں کو عورتوں کے ساتھ حسن سلوک، ادائے حقوق اور بہتر معاشرت کی ترغیب دی۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اولاد کے لیے ماں کی خدمت کا اجر حج و جہاد سے افضل ہے، یہاں تک فرمایا کہ ان کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ جب ماں کے قدموں کا یہ درجہ ہے تو اس مقدس ماں کا کیا درجہ ہوگا۔(الطاہر شمارہ نمبر 46، شعبان 1428ھ بمطابق اگست 2007ع عورت کا مقام، محمد شکیل طاہری) مقدم کون ...ماں یا باپ؟؟ نظام خانوادگی میں ماں اور باپ دونوں کا کردار بنیادی اور اساسی حیثیت کا حامل ہے، دونوں میں سے کسی ایک کے بغیر نہ اولاد کی اچھی تربیت ہو سکتی ہے اور نہ خانوادہ کا نظام ہی قابل قدر ہو سکتا ہے ،اسی لیئے قرآن مجید نے دونوں کا احترام اور ان کے ساتھ نیک برتائو کو لازم و ضروری قراردیاہے'' با لوالدین احساناً''(بنی اسرائیل ٢٣) لیکن آیات اور احادیث سے جوچیزمستفاد ہے وہ یہ کہ ماں کا حق،باپ پر مقدم ہے،کیوں؟اس لیئے کہ یہ بات نصف النہار کی طرح روشن ہے کہ اولاد کی پیدائش اور تربیت میں ماں جتنی زحمتیں ہنس ہنس کر برداشت کرلیتی ہے عطوفت پدری اس کے تحمل کا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔ قرآن کی آیتوں نے خصوصیت سے ماں کی ان خصوصی زحمتوں کی طرف اشارہ کیا ہے ،ارشاد ہوا''حملتہ امہ وھناً علی وھن و فصالہ فی عامین''(لقمان ١٤)اس کی ماں نے دکھ پر دکھ سہہ کر پیٹ میں رکھا اور دو سال میںاس کی دودھ بڑھائی کی ،دوسری جگہ اسی تعبیر کو دوسرے پیرائے میں پیش کیا ،ارشاد ہوا''حملتہ امّہ کرھاً و وضعتہ کرھاً و حملہ و فصالہ ثلاثون شہراً'' (احقاف آیت ١٥)اس کی ماں نے رنج ہی کی حالت میں اس کو پیٹ میں رکھا اورتکلیف کے ساتھ پیدا کیا اور اس کے حمل اور دودھ بڑھائی کی مدت ٣٠ مہینہ ہوئی۔ اصل میں زحمتوں کی بھی کئی صورتیں ہوتی ہیں ،بعض وہ ہیں جن سے بہت سے لوگ دوچار ہوتے ہیں اور تقریباً ہر فرد بشر ان میں مشترک ہے لیکن کچھ ایسی زحمتیں ہیں جو مخصوص حیثیت کی حامل ہیں ،اولاد کی پیدائش کے اولین و آخرین مراحل میں پیش آنے والی زحمتیں صرف ماں سے مخصوص ہیں جن میں کوئی اور شریک نہیں ہوسکتا۔ حضرت زین العابدین نے بھی ان زحمتوں کوپیش نگاہ رکھتے ہوئے ماں کے حقوق کو باپ پر فوقیت دی ہے ، آپ فرماتے ہیں:ماں کا حق تم پر یہ ہے کہ تم جانو!اس نے چند شرائط کے ساتھ شکم میں تمہاری پرورش کی ،اپنی قوت دودھ کی شکل میں دے کر تمہیںزندگی دی،یہ ایسی زحمتیں ہیں جن میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے،اس نے اپنے تمام وجود کے ساتھ تمہاری نگہداری کی ،تمہاری احتیاج کو اپنی بھوک اور پیاس کے ذریعہ دور کیا اور صرف اس لیئے کہ تمہیں گرمی ،سردی اور آفتاب سے محفوظ رکھے شب بیداری کی اور ہزار مصیبتیں برداشت کی،تم ماں کے حقوق کی ادائیگی ہرگز نہیں کر سکتے مگر یہ کہ خدا کی توفیقات شامل حال ہوں،لیکن باپ کا حق یہ ہے کہ تم جانو!تمہاری پیدائس کا اصل محرک وہی ہے اور تم اس کے وجود کی ایک شاخ ہو ۔(تفسیر نورالثقلین ٣ ١٥١،حقوق از دیدگاہ اسلام ٦٧)مذکورہ روایت میں حضرت سجاد نے ماں کو پیش آنے والی مخصوص زحمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح اندازمیں بیان کر دیا کہ صحن ہستی میں کوئی دوسرا ایسا نہیں جو ان زحمتوں متحمل ہو سکے۔ ایک دوسری حدیث میں ماں کے حقوق کے تقدیم کی واضح نشاندہی موجود ہے ،حکم ابن خرام رضی اللہ نے رسول ص سے دریافت کیا :اے اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ نیکی کروں؟آپۖ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ نیکی کر، اس نے پھر پوچھا:پھر کس کے ساتھ نیکی کروں؟ پھر وہی جواب ملا''ماں کے ساتھ بھلائی کر''اس نے پھر جرات کی ، اس کے بعد کون حسن سلوک کا مستحق ہے؟ جواب ملا''تیری ماں مستحق ہے'' چوتھی مرتبہ پھر پوچھا: پھر کس کے ساتھ نیکی کروں؟آنحضور ۖ نے فرمایا''اپنے باپ کے ساتھ نیکی کر''یا رسول اللہ من أبر؟ امک ،ثممن ؟امک،ثم من؟امک،ثم من ؟اباک(الکافی ٢ ١٥١،بحار الانوار ٧٤ ٤٩)۔ مذکورہ حدیث کااندازبالکل واضح اور حتمی ہے کہ باپ کی زندگی کے تمام تر اہم گوشوں اور انداز تربیت کے باوجود جب ماں کی جانثاری اور قربانی پر نگاہ جاتی ہے اور ماںکے حقوق کا خیال آتا ہے تو باپ ماں سے تین زینہ نیچے نظر آتاہے۔ ماں کی ان خصوصی زحمتوں کے پیش نظر رسول اسلام ص نے اسے صرف باپ پر فوقیت نہیں دی بلکہ تمام عالم بشر پر اس کے حقوق کو مقدم قرار دیا ہے ''اعظم الناس حقاً علی الرجول امہ''(نہج الفصاحت ٦٨)۔ اس کے علاوہ ماں کی عظمت کا سب سے عظیم پہلو یہ ہے کہ خداوند عالم نے ماں کی رضا کو اپنی خوشنودی اور رضایت کا پہلا زینہ قرار دیا ہے،یعنی ایک بندہ ناچیز خداوند عالم کی خوشنودی اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی ماں کو خوش نہ کر لے،چنانچہ مشہور روایت ہے''رسول اسلام ص ایک ایسے جوان کے یہاں تشریف لے گئے جو حالت احتضار میں تھا اور جانکنی کا یہ عالم اس کے لیئے انتھائی دشوار اور مشکل تھا،آپ ۖ نے اس سے فرمایا:کیا دیکھ رہے ہو؟جوان نے کہا:میرے سامنے دو روسیاہ کھڑے ہیں،جن کی وجہ سے میں سخت وحشت زدہ اور پریشان ہوں،آپ ۖ نے فوراً فرمایا:کیا اس جوان کی ماں موجود ہے؟ اس کی ماں وہاں موجود تھی ،اس نے کہا :جی ہاں میں اس کی ماں یہاں موجود ہوں،آپ نے فرمایا: کیا تو اس سے راضی ہے ؟اس نے کہا:یا رسول اللہۖ پہلے تو راضی نہ تھی، لیکن آپ کی خاطر اب راضی ہوں ،اسی وقت جوان ہوش میں آیا ،آپ ۖ نے پوچھا:اب کیا دیکھ رہے ہو؟اس نے کہا:وہ دو روسیاہ چلے گئے اب میں دو خوبصورت سفید چہرے والوں کو دیکھ رہا ہوں،جن کی وجہ سے میں کافی خوشحال ہوں،اس کے بعد وہ اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔(ترجمہ از انوار النعمانیہ،نعمت اللہ جزائری) آپ نے دیکھا جو شخص کافی دیر سے عذاب الہی میں مبتلا تھا وہ ماں کی خوشنودی اور رضایت کی وجہ سے فوراً عذاب سے بری ہو گیا،اس کے علاو ہ بھی رسول اسلام ۖ نے ماں کی فضیلت کی بہت سی تعبیریں اپنی احادیث میں پیش کی ہیںتاکہ انسان ماں کی پیروی اوراس کے ساتھ نیک برتاو کرتا رہے،اس لیئے کہ صرف ماں کی اطاعت وپیروی انسان کو بہت سے اچھے صفات کا حامل بنا سکتی ہے۔ ماں پیکر محبت محبت انسان کی زندگی کی اہم ترین ضرورت ہے،محبت کے بغیر انسان کی خوشیاں اور مسرتیں کیف آگیں جذبات سے قطعی عا ری ہوتی ہیں،اولادکی تربیت میں بھی محبت کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر معاشرہ کے اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کی پرورش محبتوں کے سایہ میں ہوتی ہے،بدبخت ،شریر،مجرم اور خطرناک معمولاً وہ افراد ہوتے ہیں جس کی زندگی محبت و الفت اور چاہتوں کی حقیقی روشنی سے خالی ہوتی ہے۔ حضرت جعفر صادق فرماتے ہیں :''انَّ اللہ عزوجلَّ یرحم الرجل لشدة حبہ لولدہ''(بحار الانوار ١٠٤ ٩٥)پردگار عالم انسان پر اس کی اپنے بچوں سے شدت ِ محبت کی بنیاد پر رحم کرتا ہے...........ایک اور جگہ آپ نے فرمایا:''احبوا السبیان و الرحمھم و اذا وعدتموہم ففوالھم فانھم لا یرون الا انکم ترزقون ھم''بچوں سے محبت کرو اور ان پر رحم کرو اور جب بھی ان سے کوئی وعدہ کرو تو اسے پورا کرو کیونکہ وہ تم کو اپنا رزق دینے والا سمجھتے ہیں(من لا یحضر الفقیہ ٣ ٣٠١،اصول کافی٢ ٨٢) محبت کے بغیر انسان کو وہ کیف و سرور نہیں ملتا جس کا وہ خواہش مند ہوتا ہے اور تجربات کی بنیاد پر یہ بات واضح ہے کہ محبت کی وجہ سے تربیت کے بہت سے نقائص دور ہوتے ہیں،چنانچہ ڈاکٹر زان پیزا کہتا ہے: اگر بچے کو کافی حد تک محبت ملے تو وہ ڈراونے خوابوں ،اضطراب اور پریشانی سے محفوظ رہتا ہے کیونکہ ڈراونے خواب دیکھنے کا سب سے مہم سبب پیار و محبت کی کمی ہے(تربیت ،راہ سعادت انسان) ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ زندگی کی اس اہم ترین ضرورت کو کون پورا کرے ،معصوم بچوں کی زندگی کو محبت و الفت کے حقیقی قمقموں سے کون روشن کرے؟اگر کائنات کے گوش و کنار کا جائزہ لیں اور اصناف بشر کا دقیق نظری سے مطالعہ کریں تو احساس ہوگا کہ صنف نازک میں ''ماں''ایک ایسی فردہے جو بچے کو محبتوں سے ہم کنار کر کے معاشرہ کا ایک عظیم فرد بناتی ہے۔ اور یہ بھی طئے ہے کہ کائنات کی کوئی اور شخصیت اس کا بدل نہیں بن سکتی، اس لیئے کہ ماں اس وقت اپنی محبتیںنچھاور کرتی ہے جب انسان کلی طور پر اس کی نظرِ التفات کا محتاج ہوتا ہے،آپ دیکھیں کہ انسان اپنی زندگی کے اولین مراحل میں محبت کا محتاج ہوتا ہے،ایک بچہ جو اپنی زندگی کی شروعات کر رہا ہے وہ اپنی زندگی میں کسی چیز کی اتنی احتیاج محسوس نہیں کرتا ،جتنا محبت و چاہت اور نظر التفات کا محتاج ہوتا ہے،وہ بچہ محبتوں کا متقاضی ہوتا ہے اگر محبت کے تقاضوں کو احسن طریقہ سے پورا کر دیا جائے تو روتا بلکتا ایک معصوم بچہ انہونی طریقہ سے خوشیوںاور مسرتوں کی آغوش میں چلا جاتا ہے،کیوں؟اس لیئے کہ ابتداء حیات میں محبت ہی اس کی غذا ،محبت ہی اس کی نیند،محبت ہی اس کا سکون و اطمینان بلکہ محبت ہی اس کی عین زندگی ہوتی ہے......!اس کائنات میں کون ہے جو اپنی واجب مشغولیتوںکو ترک کرنے کے بعد ایک بچہ کو اس کی عین زندگی سے ہم کنار کرے،یعنی اس کے دامن حیات میں محبت و چاہت کے پھول بکھیر دے،اپنی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر بچہ کی ضرورتیں پوری کرے،اپنی نظرِ التفات کے سائے میں اس کو خوشیاں اور مسرتیں دے،اس پوری کائنات میں کوئی نہیں جو ہر آن بچہ پر نگاہ رکھ سکے .... ہاں ......کائینات کی واحد فرد' 'ماں'' ہے،جو اپنی اولین ضرورتوںسے چشم پوشی کرتے ہوئے بچہ کی ضرورت کا خیال رکھتی ہے،اپنا سکون و اطمینان بچہ کی تسکین کے لیئے قربان کردیتی ہے، اپنی ذات کو مصائب و آلام سے قریب کرلیتی ہے لیکن حتی المقدور یہ کوشش کرتی ہے کہ بچہ کے قریب مصیبت کی ایک آنچ بھی نہ انے پائے۔ اوڑھتی ہے حسرتوں کا خود تو بوسیدہ کفن چاہتوں کا پیرہن بچہ کو پہناتی ہے ماں (رضا سرسوی) ماں کے مقدس پیکر میں محبتوں کا اس قدر انبار ہے کہ خود اس کا وجود ہی عین محبت و الفت نظر آتا ہے ،اس لیئے کہ زندگی کا کوئی ایسا پہر نہیں جب ماں اپنے بچہ سے غافل ہوتی ہو،دن کی روشنی تو دور رات کی تاریکی اور خاموشی میں جب مخلوق خدا خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے تو ایک ماں معراج محبت پر پہنچ کر معصوم بچہ پر ممتا کے حسین پھول نچھاور کرتی ہے...... آپ دیکھیں کہ ایک پرسکون رات میں جب بچہ محوخواب ہوتا ہے تو ایک مہربان دل ماں اپنی نیند صرف اور صرف اس کے سکون اور اطمینان کے لیئے اسی کے سپرد ر دیتی ہے اور خود آنکھوں میں نیند لیئے جاگتی رہتی ہے کہ کب کون سی ضرورت پڑجائے،ورنہ اگر پرسکون نیند لے رہی ہوتی تو بچہ کی ایک ہلکی اور معصوم جنبش پر آدھی رات کو بیدار ہوکر اس کی نگہداری نہ کرتی۔ کب ضرورت ہو، میرے بچہ کو اتنا سوچ کر جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سو جاتی ہے ماں ماں کی یہ محبت و الفت صرف ابتداء حیات تک محدود نہیں رہتی بلکہ جیسے جیسے انسان عروج و کمال کی طرف قدم رکھتا ہے ویسے ویسے اس کی ممتا اور محبت کے انداز بھی بدلتے اورموثر ہوتے رہتے ہیں........چنانچہ جب باپ سرپرست خانوادہ کی حیثیت سے بچہ کی خطا اور لغزش پر سرزنش کرتا ہے اور اسے مارنا چاہتا ہے تو وہ بچہ ماں کی آغوش محبت میں پناہ گزیں ہوتا ہے، کیا ...... باپ کے اس تربیتی اقدام کے دربیان ماں کی محبت سازگار اور سودآور ہے؟ماہرین نفسیات نے تربیت کے تمام جنبوں کا مطالعہ کرنے کے بعد غیر جانبدارانہ فیصلہ سنایا کہ باپ کی تند مزاجی اور بچہ کے لیئے دھمکی بھراانداز اہم ہے لیکن ماں کا اپنی ممتا سے مجبور ہو کر بچہ کو بچا لینا اس سے کہیں زیادہ اہم ہے ،اس لیئے کہ اگر بچہ کی ابتدائی زندگی میں صرف دھمکیاں اور تندمزاجی شامل رہیں ، تو وہ آہستہ آہستہ دھمکیوں کا عادی ہو تا جائے گا ،جو اس کی آئندہ زندگی میں بہت خطرناک صورتحال اختیار کر جائے گی،اس کی زندگی کو معتدل ااور خوشگوار بنانے لے لیئے دھمکیوں کی دھوپ کے ساتھ ساتھ ممتا کا راحت بخش سایہ بہت ضروری ہے جو ایک ماں احسن طریقہ سے پورا کرتی ہے۔ آغوش مادر اولین تربیت گاہ بشر ماں کی آغوش صرف لوریوں کی جائے گا ہ نہیں ،بلکہ موثر ترین تربیت گاہ اور انوکھا مدرسہ بھی ہے،جس طرح بچہ کی موہوم زبان ماں بہتر انداز میں سمجھ کر اس کی ضرورتیں پوری کرتی ہے اسی طرح بچہ بھی ماں کے انداز و اطوار کو دیکھ کر اسے اپنی زندگی کے لیئے آئینہ بناتا ہے،بچہ کے لیئے ماں کی زبان استاد کی زبان سے قطعی مختلف ہوتی ہے،ایک بچہ باپ یا استاد کی بہ نسبت ماں کی گود میں بہتر تربیت پاتا ہے۔کیوں....؟ماہرین نفسیات نے اس کی بہتر توجیہ پیش کی ہے،اصل میں تعلیم و تربیت کے لیئے انس و محبت بے حد ضروری ہے،اچھے استاد کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مطالب کو ہنستے کھلاتے طلاب کے ذہن میں اتار دے،اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ابتداء میں بے پناہ مہربانی اور انسیت کا مظاہرہ کرے ۔ چونکہ بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں ماں سے بہت زیادہ مانوس ہوتا ہے ،اس لیئے ماں ایام طفلی میں انگلیاں پکڑ کر جو کچھ بچہ کو سکھاتی ہے وہ آخری عمر میں بھی اس کے ذہن سے زائل نہیں ہوتا۔ تیری آغوش محبت درس گاہ قوم ہے سینچ دیں مائیں وطن، ہمت اگر ہاریں نہیں (صوفی عبدالرب) تربیت کا یہ انداز صرف زندگی کے ابتدائی ایام تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کی تربیت کے نقوش انسان کی پوری زندگی پر محیط ہیں،ایک کمزور و ناتواں انسان ماں کی عظیم نعمت کا کتنا محتاج ہے اسے قید تحریر و تقریر میں نہیں لایا جاسکتا......آپ اسے یوں دیکھیں کہ ایک ایسی زندگی جو تباہ کن پہلواختیار کر لیتی ہے ، بدنام اور ادھوری منزل کی طرف بڑھتی ہے تو ایسی ناکام زندگی کو خوش رنگ لباس پہناکر خوشگوار لمحات عطا کرنے میں ماں پیش ہیش نظر آتی ہے...........سماجی الجھنیں ،سماج کے نشیب و فراز ،ذہنی کیفیات،سماج کی بے اعتدالیاں ،سماج کے من گھڑت طور طریقہ... جن کے زیر اثر انسانی زندگی کے چند نازک لمحات دم توڑتے رہ جاتے ہیں،جن میں نہ کوئی انصاف ہے اور نہ کوئی انسانی رشتہ.........تو ایسے میں ماں اپنی ممتا کے وسیع آغوش میں اس دردمند اور کمزور انسان کو لیکر ان الجھنوں سے نجات دلاتی ہے،سماج کے نشیب و فراز سے آشنا کرتی ہے اور ان رشتوں سے قریب کرتی ہے جن سے منہ موڑکر انسان آخر میں تاریکیوں کی فرد بن جاتا ہے۔ فلسفی حیران رہ جاتے ہہیں دانش ور خموش زندگی کی گتھیاں کچھ ایسے سلجھاتی ہے ماں رضا سرسوی زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم صحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہم (علامہ اقبال) اصل میں ماں کی نصیحتوں سے کسب فیض کا طریقہ و سلیقہ چاہیے،معرفت کے ساتھ کسب فیض کیا جائے تو سود آور اور مفید ہوتا ہے،انسان ماں کو وہ درجہ و مرتبہ نہیں دیتا جس کی وہ مستحق ہے اور چاہتا ہے کہ زندگی میں کام آنے والی نصیحتوں کے تمام شگفتہ پھول اس کی جھولی میں ڈال دیئے جائیں،ظاہر ہے ایسی صورت میں وہ تہی داماں ،حیران و پریشان شاہراہ حیات پر پھرتا رہے گا اورکوئی چیز ہاتھ بھی نہ آے گی،ہاں! ماں کی حقیقی معرفت کے ساتھ کسب فیض کیا جائے تو پھر اس کی نصیحتیں زندگی کے کسی ایک مرحلے سے مخصوص نہیں ہونگی بلکہ ہر دور میں اس کے انوکھے مشورے انسان کے ذہنی انتشار کو دور کرتے رہیں گے۔ زندگانی کے سفر میں ،گردشوں کی دھوپ میں جب کوئی سایہ نہیں ملتا تو یاد آتی ہے ماں ایک ماں کہنے سے ملتا ہے مجھے کتنا سکوں دور ہوجاتے ہیں دنیا بھر کے افکار زبوں (حفیظ جالندھری) 999999999999999 اورحقوق والدین بالخصوص پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث و نصائح کے ایک بڑے حصے پر محیط ہے اس کی وجہ قرآن کی متواتر تاکیدات و تنبیہات اور اجتماعی ضرورت ہے۔ بالخصوص اس تناظر میں کہ پیغمبر نے معاشرہ سازی اور تمدن جدید کی تشکیل کے لئے ایک بڑی مہم کا آغاز کیا تھا اور چونکہ خاندان کو معاشرتی عمارت میں خشت اول کی حیثیت حاصل ہے اور والدین کی مثال خانوادے میں ایک رہبر کی سی ہوتی ہے اس لئے ان کے حقوق کی رعایت کرنا بہت ضروری ہے ورنہ اجتماعی عمارت ریت کی دیوار کی طرح متزلزل اور بے ثبات ہو جائیگی۔ اسی لئے دعوت توحید کے بعد یہ مسئلہ سب سے زیادہ پیغمبر ص کی توجہ کا مرکز بنا اور مسئلہ کے عبادی پہلو کو اجاگر کرنے کے لئے آپ نے اللہ کی رضا اور والدین کی رضا کو ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے اور تاکید کی ہے کہ والدین کی نافرمانی سب سے بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالی کی محبت و مغفرت اور والدین کی محبت و اطاعت کے درمیان رابطہ کے بارے میں حضرت زین العابدین سے روایت ہے کہ ایک شخص پیغمبر کے پاس آکر کہنے لگا یا رسول اللہ میں نے ہرقسم کا برا عمل کیا ہے کیا میرے لئے بھی توبہ کا موقع ہے توآپ نے پوچھا: فھل من والدیک احد حی ۔ ”کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے جواب دیا میرا باپ زندہ ہے تو آپ نے فرمایا: فاذھب فبرہ ”جا اور اس کے ساتھ حسن سلوک کر“ جب وہ چلا گیا تو آپ نے فرمایا: لوکانت امہ ”کاش کہ اس کی ماں زندہ ہوتی“ [بحارالانوار۷۴:۸۲]۔ اور حضرت جعفر صادق سے روایت ہے : جاء رجل الی النبی ،فقال : یارسول اللہ من ابر؟ قال امک قال :ثم من؟ قال امک، قال: ثم من؟ قال امک، قال: ثم من؟ قال اباک۔ ”ایک شخص پیغمبر ص کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ ص میں کس کے ساتھ حسن سلوم کروں تو آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ اس نے پوچھا پھرکس کے ساتھ فرمایا ماں کے ساتھ، اس نے کہا پھرکس کے ساتھ فرمایا ماں کے ساتھ اس نے کہا پھرکس کے ساتھ فرمایا باپ کے ساتھ“ ۔[اصول کافی باب البربالوالدین ۲:۱۶۷/۹] پیغمبر ص نے اولاد کے لئے والد کے جن حقوق کی طرف توجہ دلائی ہے ان میں سے یہ ہے کہ والد کو غیظ و غضب میں دیکھ کر اس کی ہتک حرمت سے بچنے کے لئے پسر کو خاضع و متواضع ہو جانا چاہئے۔ مزیدبرآن کسی کے باپ کوگالی دے کراپنے باپ کوگالی دئیے جانے کاسبب بننابھی ایساگناہ ہے جوعقاب اخروی کاموجب ہے اوران کے ساتھ حسن سلوک فقط ان کی زندگی میں نہیں بلکہ ان کی موت کے بعدبھی ہے مثلا ان کا قرض اداکرنااوران کے لئے دعاخیرواستغفارکرناوغیرہ وغیرہ۔ پیغمبر ص نے اپنی زندگی ہی میں ان سب وصیتوں کوعملی جامہ پہنا دیا تھا چنانچہ جس وقت آپ لوگوں کو ہجرت کے لئے تیار کر رہے تھے تاکہ مدینہ میں ایک جدید توحید پرست معاشرہ تشکیل دیا جا سکے اور اس وقت مسلمانوں کی تعداد اتنی کم تھی کہ انگلیوں پرگنے جا سکتے تھے سیرت کی کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ ایک شخص پیغمبر کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ص میں ہجرت کے لئے آپ کی بیعت کرتا ہوں اور اپنے ماں باپ کو روتا ہوا چھوڑ آیا ہوں تو آپ نے فرمایا: ”ان کے پاس جلد واپس جا اور جس طرح انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنسا“ [الترغیب والترھیب ۳:۳۱۵۔]۔ اس واقعہ سے بھی والدین کے حقوق کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے کہ ایک دن پیغمبر کی ایک رضاعی بہن آپ سے ملنے کے لئے آئی تو آپ نے نہایت گرمجوشی سے اس کا استقبال و احترام کیا پھر اس کا بھائی آیا تو آپ نے اس کا ویسا احترام نہ کیا جیسے اس کی بہن کا کیا تھا اس پر آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ آپ نے اس کی بہن کا جو احترام کیا وہ اس کے بھائی کا نہیں کیا حالانکہ وہ مرد ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا اس کی بہن اپنے باپ کے ساتھ اپنے بھائی کی بہ نسبت زیادہ حسن سلوک کرتی ہے۔ تو آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ پیغمبر کے نزدیک قربت و دوری اور ان کے نزدیک محترم ہونے کا معیار والدین کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے۔ ماں کے اس منصب کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جو پیغمبر نے ماں کو عطا فرمایا ہے کہ : الجنة تحت اقدام الامھات۔ ”جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے“ [بحارالانوار۷۴:۸۲۔]۔ 888888888 جنت اور ماں: قال رسول اللہۖ : '' الجنة تحت اقدام الامھات''۔ ترجمہ: ۔ ''جنت مائوں کے قدموں کے نیچے ہے''۔ (مستدرک الوسائل١٨١١٥،میزان الحکمہ ٥٧٦٣) ماں کی فضیلت کے عنوان سے جتنی بھی احادیث وارد ہوئی ہیں اگر سب کا دقیق نظری سے مطالعہ کیا جائے تو بخوبی اندازہ ہوگا کہ ان تمام احادیث میں جتنی خوبصورتی اور اچھے انداز سے اس حدیث میں اظہار فضیلت کیا گیا ہے وہ کسی حدیث میں نہیں ملتا ، اسی لئے معصومین علیھم السلام نے صرف ایک مقام پر بیان نہیں فرمایا، بلکہ اس حسین تعبیر کو دوسری احادیث کے ذیل میں بھی پیش کیا ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے یعنی حصول جنت ماں کی رضا وخوشنودی کے ذریہ ممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی انسان ماں کی خوشنودی کی بھر پور رعایت کرتا ہے لیکن مذہب کے دیگر ارکان و احکام کی انجام دہی میں کوتاہی کرتا ہے وہ جنت میں جائیگا یا اس کے لئے جنت کا مژدہ سنایا جا رہا ہے بلکہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہے ،روزہ اور دوسرے مذہبی وظائف کی انجام دہی میں پیش پیش ہے لیکن یہ تمام احکام ماں کی خوشنودی ، اسکی اطاعت اور اس کے ساتھ نیک برتاؤ کے ہمراہ نہیںہیں تو ایسے شخص کیلئے جنت میں کوئی جگہ نہیں، اسی کے بر عکس وہ شخص جو ان تمام وظائف کو ماں کی اطاعت کے ہمراہ انجام دے رہا ہے تو کسی شک و شبہ کے بغیر وہ جنت کا حقدار قرار پائیگا۔ نکات: ١۔ جنت اپنی تمام تر خوبصورتی اور خوشنمائی کے باوجود ماں کے مقدس قدموں میں دم توڑ تی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ ٢۔ہر مسلمان کمال و سعادت چاہتا ہے اور سعادت کی آخری منزل جنت ہے گویا اسکی زندگی کا اصل مقصد اور واقعی ہدف حصول جنت ہے '' انہ لیس لا نفسکم ثمن الا لجنة''( بحار ٨٧) انسان نیکی کرہا ہے تو جنت کیلئے ، اپنے نفس پر کنٹرول کر کے برائیوں سے اجتناب کر رہا ہے تو جنت کیلئے پورا عالم انسان ہر آن حصول جنت کیلئے حیران و پریشان ہے، لیکن رسول اسلام نے اس حیرانی و پریشانی کی تخفیف کیلئے الجنة تحت اقدام الامھات کا حسین مژدہ سنا یا کہ اگر حقیقی معرفت کے ساتھ ماں کے سلسلے میں نیک برتاؤکیا جائے، اسکی خدمت میں کوتاہی نہ کی جائے تو اسے پریشان و سر گرداں ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جنت تو اس کے گھر میں موجود ہے۔ ماں کا حق اور اسکی ادائیگی: قال السجاد : امّا حق امک فان تعلم انھا حملتک حیث لا تحمل احداً احداً اعطیتک من ثمرةمالا یعطی احداًاحداً..........(الامالی صدوق ٤٥٣) ترجمہ:ماں کا حق تم پر یہ ہے کہ تم جانو ! اس نے ایسی جگہ برداشت کیا کہ کوئی دوسرا اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور اپنے قلب وجان کا پھل تم کو عطا کیا کہ کوئی دوسرا اس عطا کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ حضرت سجاد نے ماں کو حمل اور دودھ بڑھائی کے ذریعہ پیش آنے والے مصائب ومشکلات اور عظیم قربانی کی نشاند ہی کی ہے اور یہ بھی واضح کردیا کہ یہ قربانی اتنی مثالی اور منفردہے کہ اس پوری کائنات میں کوئی دوسرا ایسا نہیں جو اس عظیم قربانی اور مصائب کا متحمل ہو سکے ، یہ سچ ہے کہ'' ماں'' صنف نازک کی ایک ضعیف فرد ہو نے کے باوجود اس قدر قربانیاں پیش کرتی ہیں کہ روایات و احادیث نیز قرآن میں بھی اس کا خصوصی تذکرہ کیا گیا ہے،ان خصوص تذکروں کے ذریعہ بنی نو ع بشر کو ماں کی خدمت ،احسان اور نیک برتاؤ کے سلسلے میں بہت زیادہ حساس بننے کی تاکید کی گئی ہے اور زور دیا گیا ہے کہ اس کے حق میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرو۔ لیکن کیا ماں کے سلسلے میں نیکیاں اور احسان اس کے حقوق کی پوری طرح ادائیگی کر سکتے ہیں ۔۔۔؟ نہیں!اگر انسان دن و رات اس کی خدمتوں میں گذاردے، تب بھی اس کے حق کی ادئیگی نا ممکن ہے۔ رسول اکرم ۖنے فرمایا : حق الوالدان تطیعہ ما عاش و اما حق الوالدة فھیھات ھیات لو انہ عدد رمل عالج و قطر المطر ایام الدنیا قام بین یدیھا ما عدل ذالک یوم حملتہ فی بطنھا (سفینة البحار٥٨٧٨)۔ باپ کاحق یہ ہے کہ تم پوری زندگی اسکی اطاعت کرتے رہو، لیکن ماں کے حقوق کی ادائیگی تم سے ہرگز ممکن نہیں ، اگر صحرا کے ریگزاروں اور بارش کے قطروں کی مانند دن و رات اسکی خدمت کرتے رہو تو یہ خدمتیں دوران حمل کی طاقت فر سا زحمتوں کا بھی حق ادا نہیں کر پائیں گی۔ بارش کے انگنت اور بے شمار قطروں کے ذریعہ ماں کی خدمت کی عدم ادائیگی کو بیان کر کے لوگوں کوخاص طور سے متوجہ کیا گیا ہے......... عام طور سے انسان چند چھوٹی چھوٹی خدمتیں انجام دیکر یہ خیال کرتا ہے کہ ہم نے ماں کی خدمت کا حق ادا کر دیا، لہٰذا وہ اس سلسلے میں خود کو بری الذمہ خیال کرتا ہے، رسول نے ایسے خود خیال لوگوں کو باور کرایا کہ یہ چھوٹی چھوٹی خدمتیں کیا .....؟پوری زندگی کی خدمت اس کے حقوق کی ادائیگی سے قاصر ہیں۔ آپ نے ایک دوسری جگہ مزید وضاحت فرمائی : ایک شخص نے اپنی ماں کو کاندھوں پر اٹھائے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کرایااور رسول اسلام ۖ کی خدمت میں حاضر ہوا، یا رسول اللہ ص کیا میں نے اس کا حق ادا کردیا ..؟ آپ نے فرمایا: ہرگز نہیں ،یہ خدمت تو وضع حمل کے وقت کی ایک گریہ کا بھی حق ادانہیں کر پائیگی(ظلال٧ ٤١٥) آپ نے غور کیا رسول ص نے ایک طرف وضع حمل کی سختیوں کو بیان فرمایا، تو ساتھ ہی ساتھ مزید خدمتوں کی ترغیب دی............... ایک شخص رسول اکرم ص کی خدمت میں اپنی ماں کی سخت مزاجی اور بد اخلاقی کی شکایت کرنے لگا ،آپ نے ایک نگاہ غضب ڈال کر فرمایا: اس نے تمھیں نو مہینے حمل کیا ، دو سال تک دودھ بڑھائی کی ، تمھارے آرام وسکون کے لئے شب بیداری کی اور دن کی روشنی میں تمھا ری صحت و سلامتی کے لئے زحمتیں اٹھائیں تو اس وقت بد اخلاق اور سخت مزاج نہ تھی ، مرد نے کہا :یا رسول اللہ میں نے اسکی زحمتوں کا حق ادا کر تے ہوئے دو مرتبہ اپنے کاندھوں پہ اٹھا کر ارکان حج ادا کروایا، رسول اللہ نے فرمایا:ہرگز نہیں !یہ تمام خدمتیں وضع حمل کے وقت کے ایک گریہ کا بھی حق ادا نہیں کرسکتیں(ارزش پدر و مادر ١٩٩)۔ یہ حدیث آج کے سر پھرے جوانوں کی اصلاح کے لئے پیش کی گئی ہے جو ماں کی تھوڑی سی سخت مزاجی کو عنوان بنا کر اسکی تمام تر زحمتوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں، آج کے جوانوں سے یہ بات زیادہ سننے میں آتی ہے کہ ان کا مزاج ہی درست نہیں خدمت کیا کریں ، رسول اکرم نے سختی سے اسکی مخالفت کی ہے اورہمارے ذہنوں کو باور کرایا ہے کہ اسکی تمام تر سخت مزاجی کے مقابلہ میں ہمارا مزاج پھول کی طرح نرم و نازک ہونا چاہئے،اس لئے کہ وہ عمر کے اسی مرحلہ پر ہو تی ہے جہاں پہونچ کر مزاج میں سختی آہی جاتی ہے ایسے وقت میں ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اقدام سے اس کے مزاج میں مزید سختی نہ آنے دیں بلکہ اسکی دلجوئی کریں اور اس سخت مزاج کے مقابلہ اپنے مزاج نرم رکھیں۔ ماں کی خدمت .........کیسے؟ قال رسول اللہ ۖ: کذالک البر کذالک البرو کان ابّر الناس امّہ( میزان الحکمة) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اسلام ص نے فرمایا: جس وقت میں جنت میں تھا ،ایک قاری کی آواز میری سماعت تک پہو نچی ،میں نے سوال کیا یہ کون ہے؟ جواب دیا گیا :یہ حادثہ بن نعمان رضی اللہ ہے ،رسول اسلام ص نے فرمایا : یہ نیکی ہے ،یہ نیکی ہے، حادثہ رضی اللہ نے اپنی ماں کے ساتھ بہت زیادہ نیکی کی، اور وہ اس صفت میں بقیہ لوگوں سے با لکل ممتاز اور جدا تھا۔ اس روایت میں رسول اسلام ص نے ماں کی خدمت کو جہاں دنیا کے تمام کاموں سے با لکل منفرد قرار دیتے ہوئے اپنی خوشنودی کو اس میں مضمر قرار دیا ہے، وہیں اس کے ثواب کو عملی صورت میں بھی پیش کیا ہے کہ اگر ماں کی خدمت میں کوئی شخص اپنے دن و رات گذار رہا ہے تو وہ جنت کا حقیقی مستحق قرار پائیگا ، رسول ص نے حدیث مذکور میں صرف جنت کا مژدہ نہیں سنایا بلکہ مقام فخر و انبساط میں حارثہ کو یاد کیا ہے، زبان رسول ص سے مختص ہو جا نا بہت بڑی بات ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حارثہ کی ماں کے سلسلے میں خدمت یقینا مثالی اور لائق افتخار تھی۔ رسول ص نے افتخار تو کیا ہے لیکن حارثہ کے خدمت انداز کیا تھا اسکی تصریح نہیں کی ہے، سوال یہ ہے کہ ماں کی خد مت کیسے کریں، اس کے ساتھ نیک برتائو کا انداز کیسا ہو نا چاہئے..........؟؟ کیا اسکی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں پوری کر دینے سے اسکی خدمت کا حق پورا ہو سکتا ہے ؟ نہیں،بلکہ اسکی واقعی خدمت یہ ہے کہ اسکی زبان کھلنے سے پہلے اسکی تمام ضرو رتیں پوری کر دی جائیں۔ چنانچہ ایسی مثالی خدمت کا ادراک حضرت موسیٰ ع کے واقعہ سے ہو سکتا ہے، وہ جوان جو جنت میں جناب موسیٰ کا ساتھی تھا ،اسکی خدمت معمولی نہیں تھی ، اگر اس جوان کے روز و شب کی مصروفیتوں کو پیش نگاہ رکھ کرماں کی خدمت کا تجزیہ کریں تو اس کے اصلاحی نقوش واضح و آشکار ہوں گے۔ وہ شخص صبح سے لیکر شام تک کام میں مشغول رہتا تھا اور وہ بھی ایسا کام جس میں ذہنی جمع خرچی زیادہ ہو تی ہے،گوشت کی دوکان پر گاہکوں کے ساتھ مصروف رہنا بہت مشکل کام ہے، ایسا شخص جب شام کوگھر لوٹتاہے تو پھر اسے نہ کھانے کا ہوش رہتا ہے اور نہ ہی کسی دوسری چیز کا...........بس تھکن اتارنے کے لئے اس کے ذہن کے نہاں خا نوں میں بے شکن بستر گھو متا رہتا ہے.... لیکن حضرت موسیٰ ع کا بیان ہے کہ جب میں اس کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ سب سے پہلے اس نے غذا آمادہ کیا اور اس بوڑھی عورت کے پاس پہو نچاجو اپنے ہاتھ پیر سے مفلوج تھی اور جو اپنا کوئی بھی کام خود انجام دینے سے قاصر تھی، وہ جوان اس کے پاس پہونچ کر اس کو کھانے کا ایک ایک لقمہ اس کے منھ میں ڈالنے لگا جب وہ کھانے سے فارغ ہوئی تو اس کا لباس تبدیل کروایا اور قضای حاجت میں آسانی سے اسکی مدد کی ،پھر اسکی مخصوص جگہ پر اسے سلایا، جناب موسیٰ حیران و پریشان اس جوان کو دیکھ رہے ہیں ،جس کا چہرہ تھکاوٹ سے عاری انتہائی ہشاس و بشاس ہے،یہی نہیں بلکہ دوسر ی صبح جب وہ گھر سے جانے لگا تو پھر اسکی تمام ضرورتیں پوری کرتا ہوا ،دوکان پر پہونچا اور پھر سے اس ہنگامہ خیز ماحول کی ایک فرد بن گیا( ارزش پدر ومادر ٢٠٧)۔ خدمت کا اصل مطلب ہی یہ ہے کہ ماں کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت تشنۂ تکمیل نہ رہ جائے اور انسان سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جو اسکی ناراضگی کا سبب بن جائے۔ حضرت سجاد اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھاتے تھے ، اسے اقدام نے آپ کے ہمعصروں کی نظروں کو خاص طور سے اپنی طرف متوجہ کیا اور انھوں نے بڑے تعجب سے پو چھا : باوجود اس کے کہ آپ سب سے زیادہ صلہ رحمی اور حسن سلوک کرنے والے ہیں، لیکن پھر بھی آ پ اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کر کھا نا نہیں کھاتے ؟ تو آپ نے فرمایا : انی اکرہ ان تسبق یدی الی ما سبقت الیہ عینھا فاکون قد عققتھا ........ مجھے پسند نہیں ہے کہ جس چیز کی طرف میری ماں کی نظر سبقت کر چکی ہو اس کی طرف میرا ہاتھ بڑھ جائے اور یوں میں اپنی ماں کا نافرمان بن جائوں (فی رحاب ائمہ اہلبیت ١٩٥٢)۔ یہ کیا ہے ؟اصل میں ماں کی خدمت کی حسین تعبیر ہے جو حضرت سجاد اپنے اقدام کے ذریعہ پیش فرما رہے ہیں،بلکہ احتیاط کی اعلی مثال حضرت سجاد نے اس روایت کے ذیل میں قائم کی ہے ،یہ تو عام بات ہے کہ بد احتیاطی کی صورت میں بہت سے ایسے حرکات سرزد ہو جاتے ہیںجسکی ہمیں اطلاع بھی نہیں ہو تی اور اس کے برے اثرات بھی مرتب ہو تے رہتے ہیں اور بعد میں اس کا خمیازہ بھگتنا بڑا ہی مشکل اور سخت ہو جاتا ہے، امام علیہ السلام نے بھی ماں کی خدمت کر نے میں احتیاط اور حفظ مراتب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑ نے کی تلقین کی ہے۔ چنانچہ اسی بد احتیاطی کے نتیجہ میں ابو مہزم نے اپنی ماں سے تلخ کلامی کی ،دوسرے دن جب حضرت جعفر صادق کی خدمت میں پہونچے تو آپ نے فوراً کہا: ابو مہزم !تمھارے اور ماں کے درمیان کیا ہوا تھا، گذشتہ شب تم اس سے سخت لہجے میں گفتگو کر رہے تھے،تمھیں نہیں معلوم کہ اس کا شکم تیرا گھر رہا ہے، اسکی آغوش تیرے لئے گہوارہ رہ چکی ہے اور اس کا پستان تمہارے پینے کا برتن رہا ہے۔ ابن مہزم کہتے ہیں کہ ہاں !ایسا ہی ہے تو حضرت نے فرمایا اس کے ساتھ سخت لہجے میں باتیں نہ کرو،جعفر صادق کے ان کلمات نے بیٹے پر جادو کا اثر کیا اور اس نے فوراً جا کر ماں سے معافی مانگی (بحار الانوار ٧٤ ٧٦)۔ لیکن ذرا نگاہ اٹھا کر آج کے معاشرہ کو دیکھئے کہ آجکا یہ مشینری دور اپنی تمام تر ترقیوں کے باوجود کتنی پستی میں ہے، افسوس تو یہ ہے کہ آج کے جوان غلط تربیت ، منحرف روش اور نام نہاد ترقی یافتہ ثقافت کی وجہ سے ماں کو گندی گالیاں تک دیتے ہیں، لعن طعن کرتے ہیں اور اس پر اپنا جام غضب انڈیلتے ہیں، اسکی تمام زحمتوں ، قرآن و احادیث کی شدید سفارشوں کو پس پشت ڈال کر زبردستی اپنی باتیں منواتے ہیں اور اسکی واجب ضرورتیں پوری نہیں کرتے، گویا آج کے دور میں خدمت کے نام پر خدمت کا بھر پور مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ ماں کی خدمت جہاد سے افضل : قال رسول اللہ ۖ : ارجع مع والدتک فوالذی بعثنی با لحق لا لسنھا بک لیلة خیر من جھاد فی سبیل اللہ(اصول کافی ٢ ٤٧٣) ایک شخص رسول اللہ ۖکی خدمت میں آکر کہنے لگا : یا رسول اللہ ۖ!میں ایک طاقتور جوان ہوں اور جہاد میں جانا چاہتا ہوں لیکن میری ماں زندہ ہے اور وہ اسے پسند نہیں کرتی ، رسول اسلام نے اس کے جذبات کو دیکھتے ہوئے فرمایا: تو اپنی ماں کے پاس پلٹ جا اس لئے کہ اس ذات کی قسم جس نے مجھے مبعوث کیا ہے، ماں کا تم سے ایک رات مانوس ہونا جہاد سے افضل ہے۔ اسلام میں جہاد کی بہت زیادہ اہمیت ہے ، مجاہد فی سبیل اللہ کی فضیلت میں قرآن میں خصوصی آیات موجود ہیں، چنانچہ کبھی کہا :انھیں مردہ نہ کہو ،یہ زندہ ہیں ۔ کبھی کہا :یہ زندہ تو ہیں لیکن ان کی زندگی اتنی انفرادی ہے کہ اس کا شعور تمھیں نہیں، کبھی کہا: یہ اللہ کی طرف سے رزق پاتے ہیں ،ان فضیلتوں کو دیکھ کرایک عام شخص یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا اس سے افضل ماں کی خدمت قرار پا سکتی ہے؟ ایک ایسا شخص جو اپنے جان و مال سے میدان کارزارمیں جہاد کررہا ہے وہ اس سے کمتر ہو سکتا ہے جو گھر میں بیٹھ کر ماں کی خدمت کر رہا ہے ........؟ ہاں !ہو سکتا ہے لیکن اسے سمجھنے کے لئے قرآن اور حدیث کا سہارا لینا ہوگا۔ چنانچہ اگر شہید کی فضیلت میں قرآن میں بل احیاء ، عند ربھم یرزقون یا بل احیاء لکن لا تشعرون جیسے فقرے استعمال کئے گئے ہیں تو ماں کی فضیلت میں بھی خصوصی اور مناسب الفاظ استعمال کئے ہیں ، چنانچہ خدا نے فرمایا : واشکری ولوا لدیک ،میرے شکر کے ساتھ اس کا بھی شکر ادا کرو ، خدا نے اپنی اطاعت و پیروی کے ساتھ اسکی اطاعت کو مختص کیا '' لا تعبدون الاّ اللہ و با لوالدین احساناً''۔کبھی ماں کی سختیوں کو موضوع بنا کر فضیلت کا احساس دلایا''حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا'' ۔ اگر ایک شھید جہاد میں سختیاں برداشت کرتا ہے تو ماں بھی حمل، وضع حمل اور دودھ بڑھائی میں بے پناہ سختیاں برداشت کرتی ہے،اگر ایک شھید اصلاح قوم کے لئے جہاد میں اپنی جان قربان کرتا ہے تو ماں بھی قوم کو ایک عظیم مصلح اور جانباز دینے کے سلسلے میں کبھی کبھی اپنی جان نثار کر دیتی ہے،اگر فضیلت کے تمام جنبوں کو دیکھ کر مقایسہ کیا جائے تو احساس ہوگا کہ ماں کی فضیلت کا پلّہ شہید کی فضیلت کے پلّے سے بھاری ہے، شہید کی تمام فضیلتوں کے باوجود خدا نے اپنے شکر کے ساتھ اس کا شکریہ ادا کرنے کو نہیں کہا ، اپنی اطاعت کے ساتھ اسکی اطاعت کو واجب قرارنہیں دیا ، لیکن ماں اس سے قطعی مختلف ہے۔ اسی لئے ماں کی خدمت کو یا تو جہاد سے افضل کہا گیا ، یا اس کی خدمت و مہربانی کا ثواب جہاد کے مثل بتایا گیاہے، چنانچہ حضرت باقر نے فرمایا: ایک ایسا جوان اپنی ماں کے ہمراہ رسول کی خدمت میں آیا جو میدان جنگ میں جانے کا قصد رکھتا تھا لیکن اسکی ماں اپنی تنہائی کے سبب اسے جنگ میں جانے سے روک رہی تھی، تو رسول نے فرمایا: اپنی ماں کے پاس رہ کر اسکی خدمت کر، اس لئے کہ اس کا اجر و ثواب جہاد کے ثواب کے مساوی ہے '' فقال رسول اللہ: عند امک قروان لک من الاجر عند ھا مثل مالک فی الجھاد( میزان الحکمة ٣٦٧٥)۔ ماں کی خدمت ، گناہوں کا کفارہ : جاء رجل الی النبی ۖ فقال یا رسول اللہ ما من عمل قبیح الاقد عملتہ فھل لی من توبة... الخ ۔ (بحار الانوار ٧٤ ٨٢) ترجمہ :حضرت سجاد/ زین العابدین نے فرمایا : ایک مرد نے رسول اللہ ص کے پاس آکر کہا :یا رسول اللہ ص کوئی ایسا برا کام نہیںہے جسے میں نے انجام نہ دیا ہو، کیا توبہ و استغفار کا کوئی راستہ موجود ہے ؟ آپ نے فرمایا :کیا تمھارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے ، کہا ہاں میرا باپ زندہ ہے آپ نے فرمایا پس جا اور اس کے ساتھ نیکی کر اس نے کہا : اگر اس نے منھ پھیر لیا تو میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا: اگر اسکی ماں موجود ہو تو اس کے ساتھ نیکی کرو۔ نکات : ١۔ دنیا میں کوئی ایسا گناہ نہیں جسکی مغفرت ممکن نہیں ، لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ انسان اپنے کئے پر پشیمان ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو ( نہج البلا غہ ) ٢۔ انسان اپنے خاطی پیکر کی وجہ سے گناہ کرتا ہے ۔ لیکن احادیث و روایات کے ذریعہ دینا ہی میں ایسے کاموں کی نشاندہی کردی گئی ہے کہ انسان اسکی انجام دہی سے اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرسکتا ہے ماں کی خدمت اسکی ایک عمدہ کڑی ہے۔ ماں اور اجابت دعا: قال رسول اللہۖ: دعاء الوالدة یفضی الی الحجاب( سنن بن ماجہ ٢ ٢٧١) ترجمہ : ماں کی دعا ، دعا مقبول نہ ہو نے کے موانع میں سے ہے ،یعنی ماں کی دعا ہر رکاوٹ کو اپنے سے دور کر دیتی ہے ۔ دعا کرنا ایک قلبی امر ہے جو انسان کے باطن سے تعلق رکھتا ہے اسی لئے انسان کے دل سے نکلی ہو ئی دعا زبان کی دعا سے پہلے مستجاب ہوتی ہے، قرآن کا ارشاد ہے: ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی( غافر ٦٠) تم دعا کرو میں اجابت کروںگا ،اس کے بعدخدا نے کبر وغرور کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :جو کبر وغرور اپناتے ہیں وہ جہنم میں جائیں گے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ دعا کا تعلق کبر سے نہیں بلکہ رحم و عطوفت سے اور تواضع و انکساری سے ہے،چونکہ خدا رحیم و کریم ہے اس لئے جب انکساری کے ساتھ دعا کی جاتی ہے تو بہت جلد قبول ہوتی ہے۔ ماں کی دعا بیٹے کے حق میں اس لئے قبول ہوتی ہے، کیو نکہ ماں رحم و عطوفت کا پیکر ہے اس کے یہاں غضب سے زیادہ رحم کا عنصر پایا جاتا ہے۔ چنانچہ رسول اکرم ص نے اسکی صراحت کی ہے آپ نے فرمایا : ماں کی دعا جلدی مقبول ہوتی ہے ،لوگوں نے سوال کیا :ایسا کیوں ہے ؟ آپ نے فرمایا: اس لئے کہ ماں ، باپ سے زیادہ مہربان ہوتی ہے اور رحم کے ساتھ کی گئی دعا جلدی رد نہیں کی جاتی( المحجة البیضاء ٢٢٤٢) لیکن اس کے لئے شرط یہ کہ ماں کی باقاعدہ خدمت کی جائے ،اسکی ضرورتوں کا بھر پور خیال رکھا جائے ،اس لئے کہ جب ماں خوش ہو کر دعا کرتی ہے تو پھر اب وہ دعا بڑی ہویا چھوٹی ، بہت جلد مقبول بارگاہ خدا قرار پاتی ہے، چنانچہ اسکی وضاحت جناب موسیٰ کے واقعہ سے ہو سکتی ہے۔ حضرت موسیٰ ع نے دیکھا کہ وہ جوان ماں کی خدمتیں انجام دے رہا ہے اور آہستہ آہستہ ماں کی زبان ہل رہی ہے ، حضرت موسیٰ ع کو بہت تعجب ہوا ،آپ جب گھر سے باہر آئے تو اس جوان سے سوال کیا کہ تمھاری ماں آہستہ آہستہ کیا کہ رہی تھی؟اس جوان نے ہنس کر کہا : میری خدمت سے خوش ہوکر ہر روز دعا کرتی ہے کہ معبود میرے فرزند کی اس خدمت کا صلہ یہ قرار دے کے اسے جنت میں اس مقام پہ رکھ جہاں حضرت موسیٰ ع کی جگہ معین ہے حضرت موسیٰ ع نے مسکرا کر کہا بشارت ہو جب میں نے خدا کہا کہ میں جنت کا ساتھی دیکھنا چاہتا ہوں تو خدا نے تمھارے دیدار کے لئے یہاں بھیجا ہے (رزش پدر و مادر ٢٠٧) آپ نے دیکھا ماں نے خوش ہوکر ایک عجیب و غریب دعا کی لیکن اسکی دعا بارگاہ خدا وندی میں مستجاب ہوئی۔ اور حضرت موسیٰ ع جیسے نبی ع خود اسے بشارت دینے کے لئے تشریف لائے۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا | 00923339993636 (07-10-09), پاکستانی لڑکی (07-10-09), نیلم خان (13-09-10), محمد یاسرعلی (21-09-10), ایس اے نقوی (03-12-09), اسراراحمد چوہدری (28-08-10), شاہ جی 90 (25-09-10), عامرشہزاد (16-10-09), عبداللہ آدم (28-08-10) |
| کمائي نے Real_Light کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 27-08-10 | ایس اے نقوی | تھریڈ:پوائینٹ ہی پوائینٹس حاصل کریں | 150 |
|
|
#205 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماں کی عظمت کو سلام
اللہ تعالی سب کی مائوں کا سایہ ان کے سر پر سلامت رکھے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | پاکستانی لڑکی (07-10-09), ایس اے نقوی (27-08-10) |
| کمائي نے شاہ جی 90 کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 27-08-10 | ایس اے نقوی | تھریڈ:پوائینٹ ہی پوائینٹس حاصل کریں | 50 |
|
|
#206 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام و علیکم!
عزیز ممبران ماں کے نام سے دھاگہ شروع کریں اور 500 پوائینٹ حاصل کریں اور اس دھاگے میں مراسلہ لکھنے پر 50پوائینٹ حاصل کریں اگر دھاگہ بہتریں الفاظ پر متشمل ہوا جس کے نیچے منتظمین کا شکریہ ہوا اس دھاگہ کو 1000 پوائینٹ دیئے جائیں گے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا | نیلم خان (13-09-10), اسراراحمد چوہدری (28-08-10) |
|
|
#207 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,336
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماں تو بس ماں ہوتی ہے
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#208 |
|
Senior Member
![]() |
آپ شعر پوسٹ کرو
مجھے پوائینٹ دینے میں مشکل آ رہی ہے منتظمین کا آگاہ کر دیا ہے انشاء اللہ مسئلہ حل ہوتے ہی پوائینٹ ارسال کر دوں گا |
|
|
|
|
|
#209 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,689
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماں تجھے سلام
۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (24-09-10), شاہ جی 90 (19-09-10) |
|
|
#210 |
|
Senior Member
![]() |
مشہورنظم میں سے صرف ایک قطعہ باقی یاد نہیں اگر مل گئی تو اسی پوسٹ کو ایڈٹ کرلوں گا۔
گود ماں دی درسگاہ پہلی اتہوں زندگی دا نصب العین بنڑدا ایتہوں داتا، خواجہ ، فرید ورگے دکھی دلاں دے واستے چین بنڑدا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیھم شرم وحیا دی ماں جے ہوئے پیکر، پتر وی غوث الثقلین بنڑدا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ رحمتہ اللہ علیہ سیدہ خاتون جنت جے ماں ہوئے، فیر پتر وی سخی حسین بنڑدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔رضی اللہ عنھا، رضی اللہ عنہ
__________________
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔النساء:64 ترجمعہ:امام احمدرضابریلوی |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| adab, aisa, color, duniya, heart, khuda, love, magenta, فورم, پاکستان, قدم, ماں, world, اللہ, انگلش, انتظامیہ, انسان, اردو, اسلام, بھائی, خوش, درخواست, دعا, عظیم, صفت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پوائنٹس کے بدلے میں رقوم | منتظمین | خاص آفرز اور اعلانات | 75 | 28-12-09 10:02 AM |
| 500 پوئنٹس حاصل کریں | حضرت بنگش | پشتو فورمز | 77 | 05-11-09 03:05 PM |
| 200 پوائنٹس حاصل کریں | عبدالقدوس | خاص آفرز اور اعلانات | 25 | 24-02-09 06:11 PM |
| کمائی کے 100 پوائنٹس حاصل کریں | عبدالقدوس | خاص آفرز اور اعلانات | 14 | 06-10-08 09:05 AM |
| کمائی کے 120 پوائنٹس حاصل کریں | مزمل فاروق | خاص آفرز اور اعلانات | 7 | 19-09-08 03:25 PM |