واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > جہاد



جہاد جہاد


کیا اسلام تلوار سے پھیلا؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-03-10, 11:46 PM   #1
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,164
کمائي: 74,705
شکریہ: 8,791
2,969 مراسلہ میں 10,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default کیا اسلام تلوار سے پھیلا؟

کیا اسلام تلوار سے پھیلا؟

اسلام کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت میں وہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ دوسری حیثیت میں وہ نیکی و تقوٰی کی جانب ایک دعوت اور پکار ہے۔
پہلی حیثیت کا منشا دنیا میں امن قائم کرنا، اس کو ظالم و سرکش انسانوں کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچانا اور دنیا والوں کو اخلاق و انسانیت کے حدود کا پابند بنانا ہے جس کے لیے قوت و طاقت کے استعمال کی ضرورت مسلم ہے۔

لیکن دوسری حیثیت میں وہ قلوب کا تزکیہ کرنے والا، ارواح کو پاک کرنے والا، حیوانی کثافتوں کو دور کرکے بنی آدم کو اعلیٰ درجہ کا انسان بنانے والا ہے جس کے لیے تلوار کی دھار نہیں بلکہ ہدایت کا نور ،دلوں کا جھکاؤ اور جسموں کی پابندی نہیں بلکہ روحوں کی اسیری درکار ہے۔ اگر کوئی شخص سر پر چمکتی ہوئی تلوار دیکھ کر لا الہ الا اللہ کہہ دے مگر اس کا دل بدستور ما سوی اللہ کا بتکدہ بتا رہے تو دل کی تصدیق کے بغیر یہ زبان کا اقرار کسی کام کا نہیں، اسلام کے لیے اس کی حلقہ بگوشی بیکار ہے۔
دینِ حق تو خیر بڑی چیز ہے دنیا کی معمولی تحریکیں بھی جن کا منشا محض دنیوی مقاصد کا حصول ہوتا ہے اپنی کامیابی کے لیے ایسے پیرووں پر بھروسہ نہیں کرسکتیں جو صرف زبان سے ان کے موید ہوں۔ پھر وہ دن جو تمام عالم بشری کی اصلاح کا عظیم مقصد لے کر اٹھا ہو کیا یہ ممکن تھا کہ وہ اپنی دعوت کا کام تلوار کی گونگی زبان کے سپرد کرتا۔ کیا وہ ایسے پیرو حاصل کر کے مطمئن ہو سکتا تھا جن کے دل اللہ کے خوف سے خالی مگر تلوار کی ہیبت سے معمور ہوں؟ کیا ایسے بزدل اور بودے آدمیوں کو وہ کوئی وزن دے سکتا تھا جو محض جان بچانے کے لیے کسی عقیدے کو جس کی صداقت کے وہ قائل نہ ہوں، قبول کر لیں؟ اور اگر ایسا ہوتا تو کیا اسے وہ کامیابی حاصل ہو سکتی تھی جو اس نے فی الحقیقت حاصل کی؟
اس بحث سے یہ حقیقت تو اچھی طرح واضح ہو گئی کہ اسلام اپنی صداقت پر ایمان لانے کے لیے کسی کو مجبور نہیں کرتا۔ بلکہ دلائل و براہین کی روشنی میں ہدایت کی راہ کو ضلالت کی راہ سے ممتاز کر کے دکھا دینے کے بعد ہر شخص کو اختیار دیتا ہے کہ چاہے غلط راستے پر چل کر نامرادی کے گڑھے میں جا گرے اور چاہے سیدھے راستے پر لگ کر حقیقی اور دائمی کامیابی سے بہرہ اندوز ہو۔ اس میں شک نہیں کہ تبلیغ میں تلوار نہیں چلتی لیکن اس تبلیغ کے ساتھ کچھ چیزیں اور بھی ہیں جن کے تعاون سے دنیا میں اسلام کی اشاعت ہوتی ہے اور وہ یقینًا تلوار کی اعانت سے بے نیاز نہیں ہیں۔
اگر اسلام صرف چند عقائد کا مجموعہ ہوتا اور اللہ کو ایک کہنے، رسالت کو برحق ماننے، یوم آخر اور ملائکہ پر ایمان لانے کے سوا انسان سے وہ کوئی اور مطالبہ نہ کرتا تو اسے کسی سے لڑنے ضرورت پیش نہ آتی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ صرف ایک عقیدہ ہی نہیں بلکہ ایک قانون بھی ہے۔ ایسا قانون جو انسان کی عملی زندگی کو اوامرو نواہی کی بندشوں میں کسنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس کا کام صرف پند و موعظت ہی سے نہیں چل سکتا بلکہ اسے نوکِ زبان کے ساتھ نوکِ سنان سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔ اس کے عقائد سے سرکش انسان کو اتنا بُعد نہیں ہے جتنا اس کے قوانین کی پابندی سے ہے۔ باطل نظام اور باطل عقائد کا غلبہ انسانوں کی اکثریت کو دین کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا یا اسے قبول کرنے میں مانع بنتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیرہ سال مکے میں دعوت دی، مضبوط دلائل دیے، واضح حجتیں پیش کیں اور کوئی ذریعہ نہ چھوڑا جو حق کے اظہار و اثبات کے لیے مفید ہو سکتا تھا لیکن اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہ تھی۔ ہجرت کے بعد پہلے معرکے بدر میں کل مردان جنگی تین سو تیرہ تھے جن میں بچے بھی شامل تھے۔ لیکن جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلوار ہاتھ میں لی، ملک میں ایک منظم اور منضبط حکومت قائم کر دی تو صرف دس سال کے اندر جانثاروں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار کا لشکر ہمراہ تھا اور خطبہ حجۃ الوداع میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان موجود تھے۔
اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ اسلام نے ان پردوں کو چاک کر دیا جو دلوں پر پڑے ہوئے تھے، اس فضا کو صاف کر دیا جس کے اندر کوئی اخلاقی تعلیم پنپ نہیں سکتی تھی، ان حکومتوں کے تختے الٹ دیے جو حق کی دشمن اور باطل کی پشت پناہ تھیں، ان بدکاریوں کا استیصال کر دیا جو دلوں کو نیکی و پرہیزگاری سے دور رکھتی ہیں۔
پس جس طرح یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بناتا ہے، اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تلوار کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان میں ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تبلیغ اور تلوار دونوں کا حصہ ہے جس طرح ہر تہذیب کے قیام میں ہوتا ہے۔ اسلام کسی کی گردن پر تلوار رکھ کر کلمہ پڑھوانے کی اجازت نہیں دیتا جیسا کہ امام ابن کثیر "لا اکراہ فی الدین" کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

'' کسی شخص کو دین اسلام میں داخل ہونے پر مجبور نہ کرو کیونکہ وہ اس قدر بین و واضح ہے اور اس کے دلائل و براہین اس قدر روشن ہیں کہ کسی شخص کو اس میں داخل ہونے پر مجبور کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اللہ نے جس شخص کو ہدایت دی ہو گی اور جس کا سینہ قبول حق کے لیے کھول دیا ہو اور جس کو بصیرت کا نور عطا کیا ہو وہ دلیل واضح کی بنا پر خود اسے اختیار کرے گا، اور جس کی سماعت و بینائی پراللہ نے مہر کر دی ہو اس کا مارے باندھے دین میں داخل ہونا بیکار ہے۔''
لیکن اسلام کی تلوار ان لوگوں کی گردنیں کاٹنے میں ضرور تیز ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں یا اللہ کی زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں۔ اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس تیزی میں وہ حق بجانب نہیں ہے۔

(ماخوذ از الجہاد فی الاسلام)

Last edited by عبداللہ حیدر; 20-03-10 at 11:59 PM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-05-10), فیصل ناصر (21-03-10), کنعان (22-03-10), ھارون اعظم (21-03-10), نیلم خان (18-05-10), نورالدین (22-03-10), مون لائیٹ آفریدی (22-03-10), محمد عاصم (18-05-10), مرزا عامر (28-07-10), اویسی (18-05-10), احمد بلال (18-05-10), سحر (21-03-10), شاہ جی 90 (21-03-10)
پرانا 21-03-10, 01:45 AM   #2
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,768
کمائي: 95,694
شکریہ: 22,624
4,760 مراسلہ میں 13,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

(((((((((پس جس طرح یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بناتا ہے، اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تلوار کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان میں ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تبلیغ اور تلوار دونوں کا حصہ ہے جس طرح ہر تہذیب کے قیام میں ہوتا ہے۔ ))))))))

خلاصہ یہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جزاک اللہ عبداللہ بھائی
عبداللہ آدم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-05-10), فیصل ناصر (21-03-10), نورالدین (22-03-10), مون لائیٹ آفریدی (22-03-10), مرزا عامر (28-07-10), اویسی (18-05-10), احمد بلال (18-05-10), سحر (21-03-10), شاہ جی 90 (21-03-10), طاھر (22-03-10), عبداللہ حیدر (21-03-10)
پرانا 21-03-10, 10:17 AM   #3
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
'' کسی شخص کو دین اسلام میں داخل ہونے پر مجبور نہ کرو کیونکہ وہ اس قدر بین و واضح ہے اور اس کے دلائل و براہین اس قدر روشن ہیں کہ کسی شخص کو اس میں داخل ہونے پر مجبور کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اللہ نے جس شخص کو ہدایت دی ہو گی اور جس کا سینہ قبول حق کے لیے کھول دیا ہو اور جس کو بصیرت کا نور عطا کیا ہو وہ دلیل واضح کی بنا پر خود اسے اختیار کرے گا، اور جس کی سماعت و بینائی پراللہ نے مہر کر دی ہو اس کا مارے باندھے دین میں داخل ہونا بیکار ہے۔''
لیکن اسلام کی تلوار ان لوگوں کی گردنیں کاٹنے میں ضرور تیز ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں یا اللہ کی زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں۔ اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس تیزی میں وہ حق بجانب نہیں ہے۔

(ماخوذ از الجہاد فی الاسلام)


السلام علیکم بھائی عبداللہ حیدر

جزاک اللہ
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (21-03-10), نورالدین (22-03-10), مرزا عامر (28-07-10), شاہ جی 90 (21-03-10)
پرانا 21-03-10, 11:13 PM   #4
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تو گویا اللہ کے دشمن سے لڑنے کے لیئے تلوار ضروری ہے لیکن دلوں کو مسخر کرنے کے لیئے تلوار غیر ضروری ہے ، اس کے لیئے حسن اخلاق ضروری ہے
اب کوئی مسلمان ہو گا تو دل سے ہو گا نہ کہ مجبور ہو کر
تو آپ یہ کہ سکتے ہیں کہ دشمنان اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیئے تو تلوار ضروری ہے لیکن اسلام کو پھیلانا ہے تو اس کا واحد طریقہ حسن سلوک ہے جو کہ کوئی بڑی مشکل بات بھی نہیں ہے
کیا میں درست سمجھا ہوں ؟
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (21-03-10), کنعان (22-03-10), نیلم خان (18-05-10), مرزا عامر (28-07-10), عبداللہ آدم (22-03-10), عبداللہ حیدر (21-03-10)
پرانا 21-03-10, 11:22 PM   #5
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,164
کمائي: 74,705
شکریہ: 8,791
2,969 مراسلہ میں 10,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم، مختصرا یوں سمجھیں‌کہ تلوار دعوت کے راستے میں حائل رکاوٹوں‌کو دور کرتی ہے، پھر دعوت دلوں‌کو مسخر کرتی ہے۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (21-03-10), نورالدین (22-03-10), مرزا عامر (28-07-10), احمد بلال (18-05-10), شاہ جی 90 (21-03-10), عبداللہ آدم (22-03-10)
پرانا 21-03-10, 11:48 PM   #6
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیکن بھیا اگر تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو ہمیں معاملہ الٹ نظر آتا ہے
دعوت سب سے پہلے نظر آتی ہے اور تلوار کا استعمال انتہائی مجبوری میں جب جنگ مسلط کی جا رہی ہو اس وقت نظر آتا ہے یا اس وقت جب کہ اللہ کے گھر کو کفار سے چھڑانے کا معاملہ ہو ۔ ایک بات یاد رکھنے کی ہے اور وہ یہ کہ جہاد کی اہمیت سے ہمیں بالکل انکار نہیں ، لیکن دعوت کی اہمیت زیادہ ہے اسی لیئے تو ہر جہاد سے قبل مشرکین کو دعوت دی جاتی رہی ہے ،
تو ترتیب تو یہ ہوئی کہ پہلے دعوت اور اگر دعوت قبول نہ کی جا رہی ہو اور مسلمانوں اور اسلام کے خلاف طاقت کے استعمال کا خدشہ ہو تو پھر جہاد
کیا خیال ہے اس بارے میں
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-05-10), کنعان (22-03-10), نورالدین (22-03-10), محمد عاصم (18-05-10), مرزا عامر (28-07-10), اویسی (18-05-10), احمد بلال (18-05-10), عارف اقبال (22-03-10), عبداللہ حیدر (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 12:15 AM   #7
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,164
کمائي: 74,705
شکریہ: 8,791
2,969 مراسلہ میں 10,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شاہ جی آپ کی بات ایک‌حد تک درست ہے لیکن جو علاقے صحابہ کرام نے فتح کیے وہاں پہلے تلوار پہنچی پھر دعوت آئی۔ موجودہ شام، لبنان، مصر، فلسطین، عراق، یمن وغیرہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ بہرحال، دعوت کی اہمیت سے انکار نہیں‌کیا جا سکتا۔ جہاد کی مثال ہل کی ہے جس سے زمین کا سینہ چیرا جاتا ہے اور دعوت کی مثال بیج کی ہے جو برگ وبار لاتی ہے۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-05-10), نورالدین (22-03-10), محمد عاصم (18-05-10), مرزا عامر (28-07-10), احمد بلال (18-05-10), عارف اقبال (22-03-10), عبداللہ آدم (18-05-10)
پرانا 22-03-10, 02:01 AM   #8
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,768
کمائي: 95,694
شکریہ: 22,624
4,760 مراسلہ میں 13,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اصل مراسلہ:شاہ جی
(((((((((((لیکن بھیا اگر تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو ہمیں معاملہ الٹ نظر آتا ہے
دعوت سب سے پہلے نظر آتی ہے اور تلوار کا استعمال انتہائی مجبوری میں جب جنگ مسلط کی جا رہی ہو اس وقت نظر آتا ہے یا اس وقت جب کہ اللہ کے گھر کو کفار سے چھڑانے کا معاملہ ))))))))))


شاہ جی اتنی دعوت دی جاتی تھی کہ
1۔اسلام قبول کر لو
2۔جزیہ دے کر امان مین ا جاؤ
3۔فیصلہ تلوار سے کروا لو

ان کے علاوہ کبھی بھی کسی مسلمان لشکر نے کسی قیصر و کسری پر چڑھائی کرتے ہوئے کوئی دعوت نہیں دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نہ ہی باقاعدہ طور پر مبلغ بھیجے کہ اسلام کو افراد میں پھیلائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب حکومت مسخر ہو جاتی تو اگلا معاملہ پھر کیا جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-05-10), نورالدین (22-03-10), محمد عاصم (18-05-10), مرزا عامر (28-07-10), عبداللہ حیدر (22-03-10)
پرانا 18-05-10, 01:51 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,119
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کچھ دشمنان اسلام یہ دعوی کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کی نوک سے پھیلا ہے ، توآّپ اس کا رد کس طرح کرتے ہیں ؟

الحمد للہ
دین اسلام اس شخص کی نسبت توحجت ودلیل اوربیان وضاحت کے ساتھ پھیلا ہے جودین اسلام کی تبلیغ کوسنتا اورقبول کرتا ہے ، لیکن جس نے دین اسلام کونہیں مانااوراس کا انکار کیا اس کے خلاف سازشیں کیں اس کی نسبت دین اسلام قوت وطاقت اور تلوار کی نوک سے پھیلا حتی کہ وہ اس پرغالب ہوا اوراس کی دشمنی جاتی رہی تواس بنا پروہ مسلمان ہوگيا ۔ .
دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 12 / 14 )
Islam Question and Answer - کیا اسلام تلوار کی نوک سے پھیلا ہے
طلحہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-05-10), محمد عاصم (18-05-10), مرزا عامر (28-07-10), شاہ جی 90 (18-05-10)
پرانا 18-05-10, 03:44 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,627
کمائي: 30,464
شکریہ: 10,464
1,168 مراسلہ میں 3,099 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ااسلام کے ماننےاور عمل کرنے والوں کو اللہ نے ہمیشہ طاقت کی بلندیوں‌پہ رکھا ہے۔۔
اسلام کا درس ہے Proud to be a muslim یعنی اللہ کے آگے سر جھکا نے میں فخر محسوس کریں۔۔
اسی لئے یہ تین باتیں تھیں‌۔۔
۔اسلام قبول کر لو
2۔جزیہ دے کر امان مین ا جاؤ
3۔فیصلہ تلوار سے کروا لو
اور جب اللہ کے حکم سے ان پہ غالب آ جاو تو ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ دعوت دو۔



لیکن آج ہم خود اسلام پہ عمل نہیں کر رہے تو اللہ نے اپنی مدد بھی واپس لے لی۔اور ہمیں مصلحتیں نظر آنے لگیں ۔۔۔اب ہم طاقت دکھا نہیں سکتے اور دعوت ہم دیتے نہیں کیونکہ ہمارے اندد وہ اخلاق بھی منقود ہیں‌جو نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تھے ۔۔
احمد بلال آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (28-07-10), شاہ جی 90 (18-05-10), عبداللہ آدم (19-05-10)
پرانا 28-07-10, 04:53 AM   #11
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,514
کمائي: 95,887
شکریہ: 8,877
3,846 مراسلہ میں 12,777 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جو قر‏آن پوری دنیا کیلئے نظام لایا ہے اس نے اس نظام کے نفاذ اور اس کی نشر و اشاعت کا طریقہ بھی بتا دیا ہے۔
ادعوا الی سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة و جادلہم بالتی ہی احسن۔
ترجمـ: اللہ کے راستے کی طرف حکمت اور ا‌چھی نصحیت کے ساتھ بلاؤ اور( اگر وہ نہ مانے اور جدال کی نوبت ‏آ ہی جائے تو )ان سے جدال کرو ا‌چھے طریقے سے۔

خلاصہ یہ کہ: پہلے دعوت: ‌چاہے نہ مانیں تو تلوار۔

تفصیل میں جائیں تو عموما اس زمانے میں جو طرز حکومت اور جغرافیائی حالات تھے ان میں دعوت ان کے حکمرانوں کو دی جاتی تھی۔۔۔ نہ ماننے پر ا ن سے ہی تلوار فیصلہ کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اور تلوار کے اس فیصلہ میں بھی اسلام کے اصول جہاد کو بہر حال مد نظر رکھا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کامیابی ملنے پر۔۔۔۔۔۔۔ عوام جزیہ دے کر رہنا شروع ہو جاتے تھے اور۔۔۔۔۔۔۔ صحابہ کرام کا عمل دیکھ کر اسلام قبول کر لیتے تھے۔۔۔۔۔۔۔ یہی طریقہ بعد میں بھی جاری رہا۔۔۔۔ یہاں تک کہ امت مسلمہ عروج سے زوال کی طرف ‌چل دی۔۔۔۔۔۔
شمشاد احمد آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
قاسم شاہ (09-08-10), مرزا عامر (28-07-10), شاہ جی 90 (28-07-10)
پرانا 28-07-10, 11:13 AM   #12
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,807
کمائي: 46,479
شکریہ: 7,233
5,839 مراسلہ میں 14,844 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسلام تلوار کے بغیر بس کربلا تک ہی پھیلا تھا
اس کے بعد تلوار سے ہی پھیلا ہے ؎
اور جہاں یہ تلوار سے پھیلا تھا
وہ اب اس کا نام نشان بھی نہیں ہے
مسجد قرطبہ اس کی زندہ مثال ہے
__________________
جب تک میری انفریکشن ختم نہیں ہوگی میں فورم میں نہیں آونگا۔
محمدخلیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (28-07-10)
پرانا 28-07-10, 02:04 PM   #13
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,514
کمائي: 95,887
شکریہ: 8,877
3,846 مراسلہ میں 12,777 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خلیل صاحب

کیوں تاریخ کے اوراق مسخ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔

کربلا کا موضوع ہی نازک سا ہے۔۔۔۔ اس لئے اس پر تو میں بات شروع نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔ اگر کہیں ‌چلی ہوئی نظر ‏آ گئی اور وقت ہوا تو اپنی گذارشات پیش کر دوں گا۔

رہی بات مسجد قرطبہ کی
تو جناب ا‌چھا یاد دلایا ‏آپ نے مسجد قرطبہ تو اس کی بہترین مثال ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا۔۔۔۔۔۔ سپین میں مسلم فاتحین داخل ہوئے انھوں نے تلوار اٹھائی مگرسپین کے ان حکمرانوں کے خلاف جنھوں نے دین اسلام کی دعوت کو قبول کیا اور نہ جزیہ دینا قبول کیا۔۔۔۔۔
فتح کے بعد وہاں کی غیر مسلم عوام نے جذیہ دے کے اپنے مذہب کے مطابق رہنے کا ہی فیصلہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو اسلام کی حقانیت اور مسلمانوں کے قول و فعل کو دیکھ کر بخوشی اسلام لے ‏آئے ۔ ان پر کوئی جبر نہیں کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ سپین کی فتح کے 9000 سال بعد بھی جب قرطبہ کا سقوط ہو رہا تھا تو یہی عیسائی وہاں اہم کر دار ادا کر رہے تھے جن کے باپ دادا کو مسلمانوں کے بزور شمشر اسلام میں نہ تو داخل کیا۔ نہ ان کو علاقے سے بے دخل کیا اور نہ ہی ان کا قتل عام کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ 900 سال بعد ان کی ‏آل ا ولاد نے مسلمانوں کی نالائقی کی وجہ دیکھا۔
شمشاد احمد آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (28-07-10)
جواب

Tags
color, کوشش, پاک, مکہ, موقع, ممکن, مسلمان, ایمان, اللہ, اسلام, اعلیٰ, بدر, تعلیم, زندگی, شخص, ظالم, عقیدہ, عقیدے, عقائد, عالم, عظیم, غلط, صاف, صداقت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جب ہر سُو رنگ سے پھیل گئے The Great شعر و شاعری 6 30-09-09 02:54 PM
کوبکو پھیل گئی بات شناسائی کی The Great مزاحیہ شاعری 0 14-09-09 12:41 PM
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی The Great شعر و شاعری 0 14-08-09 10:26 PM
گناہ پھیلانے کا انجام عادل سہیل اسلام اور عصر حاضر 8 10-10-08 02:03 AM
نیک بنو نیکی پھیلاو omer عمومی بحث 2 28-07-07 10:36 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:20 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger