|
|
#1 |
|
Banned
اجنبی
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مراسلات: 24
کمائي: 924
شکریہ: 19
17 مراسلہ میں 63 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا اور یہ امت آخری امت ہے۔ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا، وہ آخری زمانے میں امتی بن کر اتریں گے، اپنی باقی زندگی گزاریں گے، دجال کو قتل کریں گے، زمین پر امن قائم فرمائیں گے اور وفات پاکر مدینہ منورہ میں مدفون ہوں گے۔
حضرت امام مہدی آخری زمانے میں عام انسانوں کی طرح پیدا ہوں گے، وہ رسول اللہ ﷺ کے خاندان سے ہوں گے اور وہ خود کو چھپائیں گے مگر پہچان لیے جائیں گے، مسلمان انہیں اپنا امام و امیر بنائیں گے اور ان کے ساتھ مل کر خوب خوب جہاد کریں گے۔جہاد اسلام کا قطعی فریضہ اور قرآن پاک کا ایک محکم حکم ہے۔جہاد مسلمانوں پر نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی طرح فرض ہے۔جہاد کا منکر کافر ہے اور اس بارے میں کج بحثی کرنے والاگمراہ ہے۔جہاد قیامت تک جاری و ساری رہے گا اور رسول اللہ ﷺکے امتیوں کی ایک حق جماعت ہر زمانے میں جہاد کرتی رہے گی اور کسی زمانے میں ایک گھڑی کے لیے بھی جہاد موقوف یاملتوی نہیں ہو گا۔اور جہاد سے مراد قتال فی سبیل اللہ ہے، پھر قتال فی سبیل اللہ کی معاونت میں جو کا م ہو گا وہ بھی جہاد ہے خواہ زبان سے ہو یا قلم وغیرہ سے۔۔۔۔۔۔ یہ چند اسلام عقائد و نظریات ہیں جن کا ثبوت قرآن و سنت سے ہے۔ ماضی قریب کے ایک کذاب و دجال مرزا قادیانی ملعون و مردود نے ان عقائد کا انکار کیا اور مسلمانوں کا ان عظیم نعمتوں سے محروم کرنے کی کوشش کی۔ الحمد للہ امت مسلمہ کا اکثر حصہ اس خوفناک کینسر سے بچ گیا جبکہ چند محروم بد نصیب لوگ اپنے جرائم کی پاداش میں اس ناپاک کھائی میں گر گئے۔ان میں سے جو زندہ ہیں ان کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے، کاش وہ لوٹ آئیں۔۔۔۔ کاش وہ سمجھ جائیں۔ انگریز چاہتا تھا کہ مسلمانوں کے دل سے عزت و عظمت کے خواب نکال دے، ان کے دلوں سے جذبہ جہاد نچوڑ لے، ان کے دماغوں سے شوق شہادت کھرچ لے اور ان کے ارمانوں سے اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کا سودا مٹا دے۔ بس اسی کام کے لیے مرزا قادیانی کو لایا گیا اور اس سے طرح طرح کے دعوے کرائے گئے۔ زیادہ دعوے کرنے کا مقصد مسلمانوں کو ان علمی بحثوں میں الجھانا تھا جن سے مسلمانوں کی اکثریت دین کا علم نہ ہونے کی وجہ سے ناواقف ہے۔ قادیانی گروپ کا اصل مقصد انگریزی اقتدار کا تحفظ اور مسلمانوں کو اس غلامی پر مطمئن رکھنا تھا۔ اور یہ مقصد تبھی حاصل ہو سکتا تھا جب مرزا قادیانی جہاد کو مشکوک بنا دے اور ان عظیم شخصیات کو جن کے حوالے سے مسلمانوں کو جہاد یاد رہتا ہے بدنام کر دے۔ چنانچہ مرزا ملعون نے جہاد کا برملا انکار کیا، مجاہدین کو خوب برا بھلا کہا اور جہاد کے منسوخ یا ملتوی ہونے کا اعلان کیا۔ دوسری طرف اس نے مستقبل کی اہم جہادی شخصیتوں حضرت عیسی علیہ السلام اور امام مہدی کو خوب بدنام کیا اور اپنی ناپسندیدہ شخصیت پر ان مبارک ناموں کی تختیاں چپکا کر مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ حال تو درکنار مستقبل میں بھی جہاد کا خیال چھوڑ دو کیونکہ زمانے کا مہدی اور مسیح خود انگریز کی کاسہ لیسی کر رہا ہے اور ملکہ برطانیہ کی حکومت کو خدا کی دَین بتا رہا ہے۔ ان تمام باتوں پر اگر باریکی سے غور کیا جائے تو مرزائیت کا خلاصہ "انکار جہاد" نکلے گا کیونکہ مرزا کی تمام باتوں، کوششوں اور سازشوں کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمان جہاد چھوڑ دیں، جہاد کا خیال دل سے نکال دیں اور جہاد کے معنی بدل دیں۔ پھر اسی نظریئے کے ذیل میں مرزا اور اس کی پارٹی نے کوشش کی کہ کسی طرح لوگوں کی نظر میں نبی اکرم ﷺ کا مقام (نعوذ باللہ) مرزا قادیانی سے کم کر کے دکھایا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے قیامت تک قتال فی سبیل اللہ کے جاری رہنے کا اعلان فرمایا ہے۔ مسلمان نبی اکرم ﷺ سے سچی عقیدت و محبت رکھتے ہیں اس لیے انہیں اس اعلان پر پختہ یقین ہے۔ چنانچہ ہر زمانے میں جو لوگ بھی جہاد کے لیے اٹھے، مسلمانوں نے انہیں حق پر سمجھ کر ان کی نصرت کی۔ دوسری طرف مرزا قادیانی ملعون نے جہاد کی منسوخی کا اعلان کیا۔۔ اب اس اعلان کی وقعت تبھی لوگوں کے دل میں آ سکتی تھی جب وہ مرزا قادیانی کو (نعوذ باللہ) نبی اکرم ﷺ سے افضل سمجھیں۔ اشعارو عبارات کی حد تک انہوں نے اس کی کوشش بھی کی مگر نظریاتی طور پر انہوں نے ایک اور داؤ کھیلا اور وہ یہ کہ جہاد کی دو قسمیں گھڑ لیں ایک تلوار کا دوسرا قلم کا۔ پھر یہ ڈھنڈورا پیٹ دیا کہ نعوذ باللہ قلم کا جہاد جہادِ کبیر اور تلوار کا جہاد جہادِ صغیر ہے۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیے: تاریخی قومی دستاویز ۱۹۷۰ صفحہ نمبر ۱۹۰ مرزا ناصر (مرزا قادیانی کا پوتا) کہتا ہے " تلوار کا جہاد منسوخ ہے۔ تلوار کا جہاد تو جہادِ صغیر ہے قلم کا جہاد جہادِ کبیر ہے" |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Banned
اجنبی
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مراسلات: 24
کمائي: 924
شکریہ: 19
17 مراسلہ میں 63 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مرزا قادیانی ملعون نے جہاد کے خلاف بہت کچھ لکھا اور پھر اپنے ان ظالمانہ وسوسوں کو پوری امت مسلمہ میں پھیلانے کی کوشش کی۔چنانچہ وہ لکھتا ہے:
" میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک، عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہےکہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں" مرزا قادیانی ملعون نے جہاد کے خلاف جو ظالمانہ وساوس پھیلائے ان وساوس کے اثرات پر اسے مکمل بھروسہ تھا اور اسے یقین تھا کہ جو جو لوگ اس کے زیرِ اثر آتے جائیں گے وہ جہاد کے منکر ہوتے جائیں گے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے: " میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے" ( مجموعہ اشتہارات ص ۱۹ ،ج ۳) مرزا کی اس عبارت سے چند باتیں واضح طور پر سمجھ میں آتی ہیں۔ ۱۔ قادیانی تحریک کا اساسی مقصد مسلمانوں کو جہاد سے برگشتہ اور بیگانہ کرنا ہے، چنانچہ وہ فخر سے کہہ رہا ہے کہ میرے مرید جیسے جیسے بڑھتے جائیں گے جہاد کے انکار کی فضا عام ہوتی جائے گی۔ (تریاق القلوب، ص ۲۷،۲۸ مندرجہ روحانی خزائن ص۱۵۵ ج۱۵) دیکھا آپ نے مرزا اپنے کارناموں کا اعتراف کر رہا ہے۔ ۱۔ جہاد کے خلاف کتابیں اور اشتہارات لکھے ہیں۔ ۲۔ انہیں دوسرے ملکوں میں پھیلایا ہے۔ ۳۔ جہاد کو ماننا احمقوں کا کام ہے۔ ۴۔ جہاد کے مسائل جوش دلاتے ہیں ( معلوم ہوا کہ جہاد یعنی قتال فی سبیل اللہ کی مخالفت ہو رہی ہے) ۵۔ یہ سارے کام سلطنتِ برطانیہ کو بچانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ مرزا ملعون خود بھی اپنی بے برکت و ناپاک زندگی جی کر مر گیا، سلطنتِ برطانیہ بھی نہ بچ سکی بلکہ ایک بے نور ٹھنڈے علاقے تک محدود ہو گئی مگر مرزا کی ناپاک کوششوں سے ایک طبقہ اسلام کی مقدس شاہراہ سے گمراہ ہو کر مرتد ہو گیا۔ جبکہ دوسری طرف مرزا قادیانی کے جہاد کے خلاف پھیلائے جانے والے پچاس الماریوں کے برابر وساوس مسلمانوں میں اس بری طرح پھیل گئے کہ وہ لوگ جنہیں کبھی آدھے منٹ کے کے لیے محاذِ جنگ کی سعادت نصیب نہیں ہوئی اپنے گھروں میں بیٹھ کر دعوٰی کر رہے ہیں کہ وہ بڑا جہاد کر رہے ہیں۔ (ایسا جہاد جس میں اسلام دشمن کافروں کی نکسیر تک نہیں پھوٹتی) جبکہ غزوہ احد میں آقا مدنیﷺ جس جہاد میں زخمی ہو کر گر پڑے تھے وہ نعوذ باللہ چھوٹا جہاد ہے۔ ہائے کاش! مسلمان سمجھیں اور اپنے دامن کو مرزائی چنگاریوں سے بچائیں۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Banned
اجنبی
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مراسلات: 24
کمائي: 924
شکریہ: 19
17 مراسلہ میں 63 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مرزا قادیانی نے نبوت کا دعوٰی کر کے مسلمانوں کو ان کے ماضی سے کاٹنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اب مدینہ کی طرف دیکھنے کی بجائے غلاموں کے وطن قادیان کی طرف دیکھیں اور پھر اس نے مسیح اور مہدی کا دعوٰی کر کے مسلمانوں کو مستقبل سے مایوس کرنے کی سعی کی ہے کہ دیکھو جس مسیح اور مہدی کے انتظار میں تم ہر کسی سے ٹکر لیتے ہو وہ سر سے پاؤں تک بیماریوں میں گھرا ہوا، ایک افیونی بدکار ہے، اس لیے اب تم انگریزوں کی اطاعت دل و جان سے قبول کر لو۔ چنانچہ اس ظالم نے ملکہ برطانیہ کہ اطاعت کو اسلام کا حصہ قرار دیا، وہ لکھتا ہے:
" سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں، ایک یہ کہ خدا تعالٰی کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو، سو وہ سلطنت حکومتِ برطانیہ ہے" (شہادت القرآن ص ۸۴، روحانی خزائن ص۳۸۰،ج۳) مرزا ملعون نے اپنے زمانے میں اس بات کا اعلانیہ دعوٰی کیا تھا کہ اب مسلمان کبھی فتح یاب نہیں ہو سکتے۔ لیجیئے اس کےاشعار پڑھیئے: اب چھوڑ دو جہاد کا اے خیال دوستو دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال دوستو اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دیں کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور قتال کا فتوٰی فضول ہے دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہےجو یہ رکھتا ہے اعتقاد اس نظم میں چند اشعار کے بعد کہتا ہے: یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا اک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے دیکھیں راز فاش ہو گیا کہ مرزا کو سلطنتِ انگریزی کی قوت پر مکمل بھروسہ تھا بس اسی بھروسے پر اس نے یہ پیشگوئی کر دی۔ آج کے جہاد مخالف دانشوروں کو بھی امریکہ، انڈیا، اسرائیل کی طاقت پر اس قدر بھروسہ ہے کہ وہ بھی اسلام، مسلمانوں اور مجاہدین کے خاتمے کی صبح شام پیشگوئیاں کرتے رہتے ہیں اور مسلمانوں کو کافروں کے سامنے سر جھکانے کا حکم دیتے رہتے ہیں۔ الحمد للہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی۔ اب ان شاء اللہ زمانے کے پیٹ پرست دانشوروں کی باتیں بھی غلط ثابت ہوں گی اور جہاد کو کوئی نہیں مٹا سکے گا۔ آجکل بعض لوگ مسلمانوں کی کمزوری کا رونا رو کر، ایمان میں ان کی عدم پختگی کا حوالہ دے کر انہیں جہاد سے روکتے ہیں۔ یہ نظریات بھی مرزا قادیانی کے ہیں۔چنانچہ اسی نظم میں چند اشعار آگے چل کر وہ کہتاہے: ظاہر ہیں خود نشاں کہ زماں وہ زماں نہیں اب قوم میں ہماری وہ تاب و تواں نہیں اب تم میں خود وہ قوت و طاقت نہیں رہی وہ سلطنت و رعب، وہ شوکت نہیں رہی چند اشعار آگے لکھتا ہے: دل میں تمہارے یار کی الفت نہیں رہی حالت تمہاری جاذبِ نصرت نہیں رہی (مرزا کی یہ پوری نظم تحفہ گولڑویہ ضمیمہ ص۴۲، روحانی خزائن ص۷۷، ج ۱۷ پر درج ہے) اس نظم کے مذکورہ بالا اشعار کو بار بار پڑھیں اور پھر اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ کہیں خدانخواستہ مرزائی کینسر کا کچھ اثر ہمارے اندر تو نہیں آ گیا؟ یاد رکھئیے مرزائی افکار حضور سرور کونینﷺ کی گستاخی، بے ادبی اوردشمنی پر مبنی ہیں۔ اس لیے ہر عاشقِ رسول کا دل ان افکار سے پاک ہونا ضروری ہے۔ یہاں یہ بات بھی یار رکھئیے کہ ہر شخص خواہ وہ کسی مقام پر کیوں نہ ہو، جب وہ خود جہاد میں نہ نکلنا چاہتا ہو، اپنی جان اللہ تعالٰی کے لیے قربان نہ کرنا چاہتاہو اور وہ اپنی اس کمزوری اور غلطی پر رونے کی بجائے جہاد پر اعتراضات کرتا ہو تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے منہ سے وہی وسوسے نشر ہوں گے جو مرزا قادیانی ملعون نے پھیلائے ہیں "ہم میں طاقت نہیں، ہم نصرت کے قابل نہیں" اور بہت کچھ۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Banned
اجنبی
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مراسلات: 24
کمائي: 924
شکریہ: 19
17 مراسلہ میں 63 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہاں ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی ملعون سے لے کر عصر حاضر کے نام نہاد دانشوروں تک جہاد کے تمام مخالفین مسلمانوں کو تو جہاد سے روکتے رہے جبکہ یہی لوگ کافروں کے لڑنے کی حمایت کرتے ہیں اور خود ان کے ساتھ مل کر لڑنے کو جائز سمجھتے ہیں۔ یعنی ان بد نصیب لوگوں کی قسمت میں بس اللہ کے راستے میں لڑنا نہیں ہے کیونکہ انہیں اس میں ہلاکت نظر آتی ہے۔ لیکن جب انہی لوگوں کو کافر اپنے ساتھ مل کر لڑنے کی دعوت دیتے ہیں تو یہ بھاگ بھاگ کر ان کے ساتھ جا ملتے ہیں۔ مال، عہدے، حکومت بچانے کے لالچ میں۔
چنانچہ مرزا قادیانی ملعون لکھتا ہے: " میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔میرا والد مرزا غلام مرتضٰی گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسانِ پنجاب میں ہے اور ۱۸۵۷ میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امدار میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے چٹھیات خوشنودی حکام ان کا ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہو گئیں۔ مگر تین چٹھیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ اور جب تموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا" (کتاب البریہ ص ۳، ۴، ۵ ۔ روحانی خزائن ص ۴، ج ۱۳) مجاہدین کو شدت پسند، دہشت گرد،رجعت زدہ کہنے والے اس عبارت میں موجود مناظر پر ایک نظر ڈالیں، مسلمانوں کے لیے انگریزوں سے لڑنا حرام، دین دشمنی اور بے مصلحتی، جبکہ انگریزوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑنا قابل فخر۔ انگریزوں کے لیے منہ میں گھی شکر اور انہیں برا بھلا کہنا خلافِ تہذیب اور بد اخلاقی، اور مجاہدین کے لیے حرامی اور بدکار جیسے الفاظ۔یہی تہذیب آپ کو وحید الدین خان کے قلم میں ملے گی۔بالکل یہی دو رنگی، ہندوؤں کے لیے سینہ فراخ اور اپنوں کو دو دو من کی گالیاں۔ اور یہی انداز آپ کو ہمارے ملک کے جہاد مخالف طبقے میں ملے گا۔ وہ اسلام دشمنوں کو برا بھلا کہنا کفر سمجھتے ہیں جبکہ اپنے مسلمان مجاہد بھائیوں کو گالیاں دینا اور انہیں مارنا اپنے ایمان کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ہاں! اللہ کے دشمن ایسے ہی ہوتے ہیں۔ قرآن و سنت میں ان کی یہی علامات درج ہیں۔ جبکہ اللہ تبارک و تعالٰی کے محبوب بندے کافروں کے لیے سخت اور مسلمانوں کے لے نرم ہوتے ہیں۔ |
|
|
|
| کمائي نے جمعہ خان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 21-03-09 | میاں شاہد | قادیانیت کا خلاصہ "انکارِ جہاد" | 150 |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ماشا اللہ، سبحان اللہ ![]() آپ نے بہت عمدہ اور بہترین باتیں پیش کی ہیں اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین آپ کا بہت بہت شکریہ
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,263
شکریہ: 0
370 مراسلہ میں 826 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مسلمانوں کا "بندوقوں اور بموں" سے جہاد میں ناکامی تو ہمنے تاریخ میں کئی بار دیکھی ہے۔ کیا علم و دانش سے جہاد ممکن نہیں؟
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عارف کریم ۔ اپ نے ایک سے زائد دفعہ "مسلمانوں" کا ذکر کیا ہے۔ کیا آپ مسلمان ہیں؟ قادیانی ہیں، عیسائی ہیں سیکولر ہیں کیا ہیں؟ اس سے بحث کرنے والوں کو بحث کرنے میں سہولت میسر ہو گی۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
جمعہ خان، جزاک اللہ خیرا۔ آپ نے یہ اقتباسات "جہاد ایک محکم فریضہ" نامی کتاب سے لیے ہیں، بہتر ہوتا اگر اس کا حوالہ بھی دے دیتے۔ میں نے یہ کتاب اردو محفل پر دیکھی تھی۔
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
آج کل یہ فیشن سا بن گیا ہے کے ہم لوگ "میںخود بھی" یہ کہہ دیتے ہیں کے میں کسی فرقے سے تعلق نہیں رکھتا۔ مگر اھل دانائی یہ کہتے ہیں کے ایسا کہنے والے خود ایک نیا فرقہ ہیں!
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Khatm-e-nubuwwat
مراسلات: 166
کمائي: 6,858
شکریہ: 65
123 مراسلہ میں 416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جی نہیں جناب الحمد اللہ میں یہاں موجود ہوں اس لئے اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ۔۔۔۔۔خیر یار یہ تقیہ بازی کرنا چھوڑدو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری بات آپ کا جس فرقے سے تعلق ہے اس کے تو خود کئی فرقے بن گئے ہیں دو میں بتا دیتا ہوں اگر کہو تو مزید بھی بتا دوں گا ۔۔۔ایک قادیانی فرقہ۔۔۔دوسرا لاہوری فرقہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ بھی قرریبا پانچ فرقے ہیں اس جماعت کے جس کے ساتھ آپ کا تعلق ہے۔۔۔۔۔۔۔اگر آپ فرمائیں تو اس کا تفصیلی جواب دے دوں اور برائے مہربانی ٹاپک پر رہا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ مضمون قادیانیت کے مقاصد پر تھا یعنی انگریز نے قادیانیت کو جہاد کے حرام قرار دینے کیلئے پیدا کیا اگر اس کا کوئی جواب ہے تو دیں۔۔۔ادھر ادھر کی کرکے نہ اپنا وقت برباد کیا کریں اور نہ دوسروں کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Khatm-e-nubuwwat
مراسلات: 166
کمائي: 6,858
شکریہ: 65
123 مراسلہ میں 416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی اور اس فرقے کا نام نام نہاد روشن خیال ہے جو اوپر سے تو کود کو مسلمان کہتے ہیں اور اندر ہی اندر مسلمانوں کی جڑیں کھا رہے ہیں اسے آپ کہہ سکتے ہیں کہ جیسا دیس ویسا بھیس۔۔۔۔۔سورہ بقرہ کی نالکل شروع میں اس فرقے کے بارے میں کافی معلومات ہیں۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
اس فرقہ کا بھی کچھ تو نام ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#15 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ آجکل عمومی سا بیان ہے جو اکثر لوگ دیتے ہیں جس میں میں بھی شامل ہوں اور اسکا سبب کچھ اور ہوتا نا کہ وہ جو آپ نے بیان کیا " اس پر ہم الگ تھریڈ شروع کرسکتے ہیں " اور یہ بھی عرض ہے کے آپ سے مخاطب سب ہی لوگ قادیانی نہیں ہیں حتہ کے عارف کریم صاحب بھی اپنے مسلمان ہونے کی خبر دے چکے ہیں اور سورہ بقرہ کے بلکل شروع میں جن افراد کا ذکر ہے ملاحظہ کیجئے امید ہے آپ میری بات کو ذاتی تنقید کے بجائے ایک مثبت پیرائے میں لے کر اپنی پوسٹ پر ایک مرتبہ نظر ثانی کریں گے |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, گذارش, پیارے, پاک, پسند, نظر, منتقل, ممکن, ایمان, اللہ, اردو, اسلام, اسلامی, بہترین, بھائی, جواب, حکم, خوش, خلاف, ختم نبوت, خدا, دل, درخواست, دعا, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" | Hashims | Search Engines | 8 | 02-09-11 03:24 PM |
| موسم سرما میں "حیاتین۔ڈی" کی اہمیت | سیپ | شعبہ طب | 2 | 24-01-11 12:16 AM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| پاکستان میں ہجڑوں کی قانونی جیت اور نعرہ "وصولی تک ڈیرے ڈال رکھیں گے" | گوہر | گپ شپ | 11 | 25-12-09 03:08 PM |