|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اس حقیقتِ قرآن پر داعیانِ حق کو، ہر دور اور ہر ملک کے داعیانِ حق کو گہری نگاہ سے غور و تامل کرنا چاہیے کہ اہلِ ایمان اور ان کے حریفوں کے درمیان جو جنگ برپا ہوتی ہے وہ درحقیقت عقیدہ و فکر کی جنگ ہے، اس کے سوا اس جنگ کی اور کوئی حیثیت قطعًا نہیں ہے۔ ان مخالفین کو مومنین کے صرف ایمان سے عداوت ہے اور ان کی تمام برافرختگی اور غیظ و غضب کا سبب وہ عقیدہ ہے جسے مومنین نے حرز جاں بنا رکھا ہے۔ یہ کوئی سیاسی جنگ ہر گز نہیں ہوتی، نہ یہ اقتصادی یا نسلی معرکہ آرائی ہے۔ اگر اس نوعیت کا کوئی جھگڑا ہوتا تو اسے بآسانی چکایا جا سکتا تھا اور اس کی مشکلات پر قابو پایا جا سکتا تھا لیکن یہ تو اپنے جوہر و روح کے لحاظ سے خالصتًہ ایک فکری جنگ ہوتی ہے۔ یہاں امر متنازع فیہ یہ ہے کہ کفر رہے گا یا ایمان، جاہلیت کا چلن ہو گا یا اسلام کی حکومت !
مشرکین کے سرداروں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو مال و دولت، حکومت اور دوسرے ہر طرح کے دینوی مفادات پیش کیے اور ان کے مقابلے میں صرف ایک چیز کا مطالبہ کیا اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عقیدہ کی جنگ ترک کر دیں اور اس معاملے میں اُن سے کوئی سودا بازی کر لیں۔ اور اگر خدانخواستہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی یہ خواہش پوری کر دیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان کے درمیان کوئی جھگڑا باقی نہ رہتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ایمان و کفر کا مسئلہ ہے اور اس کشمکش کی تمام تر بنیاد و عقیدہ پر ہے۔ مومنین کو جہاں کہیں اعداء سے سامنا ہو یہ بنیادی حقیقیت ان کے دل و دماغ پر منقش رہنی چاہیے۔ اس لیے کہ اعداء کی تمام تر عداوت و خفگی کا سبب صرف یہ عقیدہ ہے کہ " وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جو غالب ہے اور حمید ہے" اور صرف اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اُسی کے آگے سرافگندہ ہیں۔ اعداء یہ ہتھکنڈہ بھی استعمال کر سکتے ہیں کہ عقیدہ و نظریہ کے بجائے کسی اور نعرہ کو اس جنگ کا شعار بنا دیں۔ اور اسے اقتصادی یا سیاسی یا نسلی جنگ ثابت کرنے کی کوشش کریں تا کہ مومنین کو اس معرکہ کی اصل حقیقت کے بارے میں گھپلے میں ڈال دیں اور عقیدہ کی جو مشعل اس کے سینوں میں فروزاں ہے اُسے بجھا دیں۔ اہلِ ایمان کو اس بارے میں کسی دھوکے کا شکار نہ ہونا چاہیے۔ اور انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اعداء کے یہ اُلجھاوے ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہیں۔ اور جو اس جنگ میں کوئی اور نعرہ بلند کرتا ہے تو دراصل وہ یہ چاہتا ہے کہ اہل ایمان کو اس ہتھیار سے محروم کر دے جو ان کی کامیابی و ظفرمندی کا اصل راز ہے، یہ کامیابی جس شکل میں بھی ہو، چاہے اُس روحانی بلندی اور آزادی کے رنگ میں ہو جو اخدود کے واقعہ میں اہل ایمان کو نصیب ہوئی یا اس روحانی بلندی کی بدولت حاصل ہونے والے مادی غلبہ کی صورت میں جس سے صدر اول کے مسلمان سرفراز ہوئے۔ مقصد جنگ اور شعار معرکہ کو مسخ کرنے کی مثال آج ہمیں بین الاقوامی عیسائیت کی اس کوشش میں نظر آتی ہے، جو ہمیں اس فکری جنگ کے بارے میں طرح طرح کے فریبوں میں مبتلا کرنے کے لیے صرف ہو رہی ہیں اور تاریخ کو مسخ کر کے یہ افترا پردازی کی جا رہی ہے کہ صلیبی جنگوں کے پس پردہ سامراجی حرص کارفرما تھی، یہ سراسر جھوٹ ہے۔ بلکہ حقیقیت یہ ہے کہ سامراج جس کا ظہور ان جنگوں کے بہت بعد ہوا ہے وہ صلیبی روح کا آلہ کار بنا رہا ہے۔ کیونکہ یہ صلیبی روح جس طرح قرونِ وسطٰی میں کُھل کر کام کرتی رہی ہے اس طرح اب وہ بغیر نقاب کے سامنے نہیں آ سکتی تھی۔ یہ عقیدہ اسلام کے ان معرکوں میں پاش پاش ہو چکی تھی جو مختلف النسل مسلمان رہنماؤں کی قیادت میں برپا ہوئے۔ ان میں صلاح الدین اور خاندان حمالیک کے توران شاہ کُردی تھے۔ ان لوگوں نے اپنی قومیتوں کو فراموش کر کے صرف عقیدہ اور نظریہ ہی کو یاد رکھا۔ اور عقیدہ ہی کی بدولت وہ ان کامیابیوں سے ہمکنار ہوئے۔ (جادہ و منزل، سید قطب) Last edited by عبداللہ حیدر; 09-03-10 at 02:50 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| کوشش, قرآن, چاہیے۔, مسلمان, مشعل, معلوم, آج, آزادی, ایمان, اللہ, اسلام, بازی, ترک, جھوٹ, دل, سودا, عیسائیت, عقیدہ, عقیدے, غور, غالب, غضب, صلاح, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|