| جہاد جہاد |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 421
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | shafresha (16-10-09), فاروق سرورخان (16-10-09), مون لائیٹ آفریدی (22-03-10), محمدمبشرعلی (24-06-10), سحر (02-11-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
سہج بھائی، السلام علیکم
آپ نے ایک بہترین آیت شئیر کی ہے، سب دوستوں کی آسانی کے لئے اس آیت کا مکمل حوالہ مع ترجمہ اور اس آیت کے الفاظ کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے اہم الفاظ کے لفظی اور اصطلاحی معانی درج کررہا ہوں۔ سورۃ الانفال ( 8 ) 8:60 وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لاَ تَعْلَمُونَهُمُ اللّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ اور (اے مسلمانو!) ان کے (مقابلے کے) لئے تم سے جس قدر ہو سکے (ہتھیاروں اور آلاتِ جنگ کی) قوت مہیا کر رکھو اور بندھے ہوئے گھوڑوں کی (کھیپ بھی) اس (دفاعی تیاری) سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو ڈراتے رہو اور ان کے سوا دوسروں کو بھی جن (کی چھپی دشمنی) کو تم نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے، اور تم جو کچھ (بھی) اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تم سے ناانصافی نہ کی جائے گی مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ جو تمہاری استطاعت ہو وہ قوت اور رباط الخیل ترھبون رباط کے معانی اس کے ممکنہ معانی گھوڑوں کی کھیپ یا ربط کی جمع یعنی "تانے بانے" ، مزید معانوں کے لئے آپ اس لنک پر کلک کیجئے ، آ پکو بیشتر معانی اسی "تانے بانے" سے ملتے جلتے ہوئے ملیں گے۔ الخیل کے معانی لفظ خیل کے معانی گھوڑے کے بھی ہوتے ہیں اور "خیال" یا "سوچ" کے بھی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے دونوں طرح سے اس لفظ کو استعمال کیا ہے، آپ لنک پر اس کو کلک کرکے دیکھ سکتے ہیں۔ ترھبون کے معانی کلک کرکے دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کے معنے ڈرانے ، دبدبہ پیدا کرنے یا خوف پیدا کرنے کے ہیں تو جہاں مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ کے معانی چاق و چوبند تندرست گھوڑوں کی کھیپ کے ہوئے وہاں ان الفاظ کے معانی دلوں میںدبدبہ ڈالنے والی ایسی قوت و سازا سامان یا بندو بست کے بھی ہوئے جو خیالات کے تانوں بانوں سے بڑھ دلوں میں دبدہ ڈال دے یا خوف پیدا کردے۔ جیسے جوہری قوت، دور مار میزائیل یا کہ خیال و سوچ کی حد جہاں تک جائے، اس حد تک دلوں میں خوف پیدا کرنے والی دفاعی تیاری۔ یہ ان آیتوں میں سے ایک ہے جن کو پڑھ کر دل بے اختیار سبحان اللہ کہتا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن میں ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جو زمانہ قدیم میں جب موجودہ جدید نطریات موجود نہیں تھے، اس وقت ایک عام آدمی کے لئے بھی معنی رکھتے تھے اور آج جب ہم کچھ مزید اشیاء کا علم رکھتے ہیں تو ان الفاظ نے اپنے معانی نہیں کھوئے کہ فرمان الہی ، قرآن حکیم تمام وقتون کے لئے ہے۔ مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ جہاں تک تمہاری استطاعت ہو قوت سے اور جہاں تک تمہارا خیال و سوچ کی کڑیاںملیں، وہاں تک دلوں مٰں دبدبہ ڈالنے کے لئے (اپنے دفاع کی تیاری کرو) عربی دان حضرات، (خصوصاًعبداللہ حیدر سے ) سے درخواست ہے کہ اس فہم پر نظر ثانی فرمائیں تاکہ غلطی کا امکان نہ رہے۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 20-10-09 at 09:49 PM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (19-10-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
واعلیکم السلام بھائی سرور فاروق
شکریہ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
عملِ جہاد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افادات مفتی اعظم پاکستان مولانامفتی محمد شفیع صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ مرتب جناب محمد ارشد صاحب مسلمانوں کی تباہی کا سبب ! قرآن وسنت کی نصوص نیز پوری تاریخ اسلام کا تجربہ شاہد ہے کہ جب بھی مسلمان جہاد چھوڑ دیتے ہیں تو دوسری قومیں ان پر غالب آجاتی ہیں ۔ ان کے دل ان سے مرعوب ہوجاتے ہیں ۔ اور پھر ان کی (مسلمانوں ) آپس میں پھوٹ پڑجاتی ہے ۔ وہ جذبہ شجاعت وحمیت جو کفار کے مقابلہ میں صرف ہونا چاہیئے تھا ۔ وہ آپس میں صرف ہونے لگتا ہے ۔ اور یہی ان کی تباہی کا سبب ہے ۔(جہاد ص 6 ) جہاد وغزوات کی حکمت ! کسی قابل ناحق کو قصاصاً قتل کرنا یا کسی چور کو سزا دینا یا کسی بدمعاش کو مار پیٹ کرنا ، ڈاکؤں کے منظم گروہ سے جنگ کرکے ان کو جرم سے روکنا یا ختم کرنا اگر چہ بظاہر کچھ انسانوں کو تکلیف میں ڈالنا یا ضائع کردینا ہے ۔ مگر یہ کسی سمجھدار انسان کے نزدیک عام دنیا کے امن وسلامتی کے منافی نہیں ۔ بلکہ عام انسانوں کے امن وسلامتی اور سلامت اطمینان کا واحد ذریعہ ہے ۔ اگر چند جرائم پیشہ لوگوں کو سزا دے کر تکلیف میں نہ ڈالا جائے تو پوری انسانیت کا امن وسکون برباد ہو جاتا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد وغزوات اور آپ کے قائم کردہ حدود تعزیرات سب اسی حقیقت پر مبنی ہیں ۔ جو اصلاح حال کی ساری تدبیروں سے مایوس ہو جانے کے بعد آخری علاج کے طور پر عمل میں لائی گئی ہے ۔ وہ ڈاکٹر اپنے فن کا ماہر نہیں ہو سکتا جو صرف مرہم لگانا جانتا ہے ۔ مگر سڑے ہوئے فاسد شدہ اعضاء کا آپریشن کرنا نہیں جانتا ۔ کوئی عرب کے ساتھ ہو یا ہو عجم کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہے تیغ نہ ہو جب قلم کے ساتھ سمجھو اور خوب سمجھو کہ جب عالم کے جسم میں شرک کے زہریلے جراثیم پیدا ہو گئے اور وہ ایک مریض جسم کی طرح ہوگیا تو رحمت خداوندی نے اس کے لیے ایک مصلح اور مشفق طبیب (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بھیجا جس نے ترپین سال تک متواتر اس کے ہر عضو اور ہر رگ وریشہ کی اصلاح کی فکر کی ۔ جس سے قابل اصلاح اعضاء تندرست ہو گئے ۔ مگر بعض اعضاء جو با لکل سڑ چکے تھے کہ ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہ رہی بلکہ خطرہ ہو گیا کہ ان کی سمیت تمام بدن میں سرایت کر جائے ۔ اس لیے حکیمانہ اصول کے موافق عین رحمت وحکمت کا مقتضا یہی تھا کہ آپریشن کرکے ان اعضاء کو کاٹ دیا جائے ۔ یہی جہاد کی حقیقت ہے ۔اور یہی تمام جارحانہ (یعنی اقدامی ) اور مدافعانہ غزوات کا مقصد ہے ۔ کچھ متعصب کہنے لکے کہ اسلام بزور شمشیر پھیلایا گیا ہے ۔ اور یہ ایسا جھوٹ ہے کہ شاید آسمان کے سائے میں ایسا بڑا جھوٹ کوئی نہ بولا گیا ہو ۔ یہ بھی تو سوچئے کہ تلوار تو جھبی چلی ہو گی ۔ جب تلوار چلانے والوں کا کوئی جتھہ کوئی قوت پیدا ہو ئی ہوگی ۔ تو کوئی پوچھے کہ ان تلوار چلانے والوں کو کس تلوار نے اسلام کا ایسا فدائی بنا دیا تھاکہ سر کو کفن باندھ کر ہر میدان میں سر بکف نطر آتے تھے ۔حقیقت یہ ہے کہ سفید جھوٹ کی تردید کرنا بھی سچ کی توہین ہے ۔ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ص22 ) حکم جہاد ! مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر کفار کے مظالم کا یہ حال تھا کہ کوئی دن خالی نہ جاتا تھا کہ کوئی مسلمان ان کے دست ستم سے زخمی اور چوٹ کھایا ہوانہ آتا ہو ۔ قیام مکہ کے آخر دور میں مسلمانوں کی تعداد بھی خاصی ہو چکی تھی وہ کفار کے ظلم وجبر کی شکایت اور ان کے مقابلے میں قتل وقتال کی اجازت مانگتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جواب فرماتے کہ صبر کرو ۔ مجھے ابھی تک قتال کی اجازت نہیں دی گئی ۔ یہ سلسلہ دس سال تک اسی طرح جاری رہا ۔ جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وطن مکہ چھوڑنے اور ہجرت کرنے پر مجبور کردیئے گئے اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ (عنہم) آپ کے رفیق تھے تو مکہ مکرمہ سےنکلتے وقت آپ کی زبان سے نکلا ۔ اخرجوا نبیّھم لیھلکن ۔ یعنی ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکالاہے' ۔اب ان کی ہلاکت کاوقت آگیا ہے ۔ اس پر مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد یہ آیت ۔اذن للذین یقٰتلون بانھم ظلمو ، وان اللہ علیٰ نصرھم لقدیر (39:22) ، نازل ہوئی ۔ جس میں مسلمانوں کو کفار سے قتال کی اجازت دے دی گئی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ (عنہم) نے فرمایا کہ یہ پہلی آیت ہے جو قتال کفار کے معاملہ میں نازل ہوئی جبکہ اس سے پہلے ستر سےزیادہ آیتوں میں قتال کو ممنوع قرار دیا گیا تھا ۔ (معارف القرآن ۔ ص 275 ج 6 ) اس پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ ہجرت مدینہ سے پہلے کفار کے ساتھ جہاد وقتال ممنوع تھا ۔ اس وقت کی تمام آیت قرآنی میں مسلمانوں کو کفار کی ایذاؤں پر صبر اورعفوو درگزر کی ہی تلقین تھی ۔ ہجرت مدینہ کے بعد سب سےپہلے اس آیت وقاتلو افی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم ولا تعتدو ا الخ (2 : 190 ) میں قتال کفار کا حکم آیا ۔ اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے روایت یہ بھی ہے کہ قتال کفار کے متعلق پہلی آیت یہ ہے ۔ (اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا ) مگر اکثر حضرات اور تابعین کے نزدیک پہلی آیت سورہ بقرہ کی آیت مذکورہ ہی ہے ۔ اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ (عنہم) نے جس کو پہلی فرمایا ہے وہ بھی ابتدائی آیتوں میں ہونے کے سبب پہلی کہی جاسکتی ہے ۔ (معارف القران ج اص 469) مکہ معظمہ میں جہاد و قتال کے احکام نہیں تھے ۔ یہ سب سے پہلی آیت ہے (ان اللہ اشتریٰ من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ ) جو مکہ مکرمہ میں ہی قتال کے متعلق نازل ہوئی ۔ اور اس کا عمل ہجرت کے بعد شروع ہوا اس کے بعد دوسری آیت ( اذن للذین یقاتلون ) نازل ہوئی ۔ حکم جہاد کی شرعی حیثیت ! ( کتب علیکم القتال ) یعنی تم پر جہاد فرض کیا گیا ، ان الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہو تا ہے کہ جہاد ہر مسلمان پر ہر حالت میں فرض ہے ، بعض آیت قرآنی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہو تا ہےکہ یہ فریضہ فرض عین کے طور پرہر مسلم پر عائد نہیں ۔ بلکہ فرضِ کفایہ ہے کہ مسلمان کی ایک جماعت اس فرض کو ادا کردے تو باقی مسلمان سبکدوش سمجھے جائیں گے ، ہاں کسی زمانہ یا ملک میں کوئی جماعت بھی فریضہ جہاد ادا کرنے والی نہ رہے تو سب مسلمان ترکِ فرض کے گناہ گار ہو جایئں گے ۔ حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد الجھاد ماض الی یوم القیامہ کا یہ مطلب ہے کہ قیامت تک ایسی جماعت کا موجود رہنا ضروری ہے جو فریضہ جہاد ادا کرتی رہے ۔ نیز صحیح بخا ری ومسلم کی حدیث ہےکہ ُُ ُ ایک شخص نے آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کت کی اجا زت چا ہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے در یا فت کیا کہ تمہا رے ماں باپ زندہ ہے؟ اس نے عر ض کیا کہ ہاں زندہ ہے۔آپ نے فر مایا کہ پھر جاؤ، ماں باپ کی خد مت کرکے جہا د کا ثواب حا صل کروِِِ،،۔ اس سے یہ بھی معلو م ہوا کہ جہا د فرض کفا یہ ہے جب مسلما نوں کی ایک جما عت فریضہ جہا د کو قا ئم کئے ہوئے ہو تو باقی مسلمان دوسری خدمتوں اور کاموں میں لگ سکتے ہیں ۔ ہاں اگر کسی وقت امام المسلمین ضرورت سمجھ کر نفیر عام کا حکم دے اور سب مسلمانوں کو شرکتِ جہاد کی دعوت دے تو پھر جہاد سب پر فرض عین ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم نے سورہ توبہ میں ارشاد فرمایا ۔ (یایھا الذین امنو اما لکم اذا قیل لکم انفرو ا فی سبیل اللہ اثا قلتم ) ''اے مسلمانوں ! تمہیں کیا ہو گیا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم بوجھل بن جاتے ہو'' ۔ اس آیت میں اسی نفیر عام کا حکم مذکور ہے اسی طرح خدانخواستہ کسی وقت کفار کسی اسلامی ملک پر حملہ آور ہوں ۔اور مدافعت کرنےوالی جماعت ان کی مدافعت پر پوری طرح قادر اور کافی نہ ہو ۔ تو اس وقت بھی یہ فریضہ اس جماعت سے متعدی ہو کر پاس والے سب مسلمانوں پر عائد ہو جاتا ہے ۔ اور اگر وہ بھی عاجز ہوں تو ان کے پاس والے مسلمانوں پر ، یہاں تک کہ پوری دنیا کے ہر فرد مسلم پر ایسے وقت جہاد فرضِ عین ہوجاتاہے ۔قرآن کریم کی مذکورہ بالا تمام آیات کے مطالعہ سے جمہور فقہاء و محدثین نے حکم قرار دیا ہے کہ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے ۔ (معارف القرآن ص 18 ج 4 ) جب امیر المؤمنین کی طرف سے جہاد کی دعوت مسلمانوں کو دے دی جائے ۔اور اسلامی شعائر کی حفاظت اس پر موقوف ہو کیونکہ اس وقت ترکِ جہاد کا وبال صرف تارکین جہاد پر نہیں بلکہ پورے مسلمانوں پر پڑتاہے ۔ کفار کے غلبہ کے سبب عورتیں ، بچے ، بوڑھے اور بہت سے بے گناہ مسلمان قتل وغارت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ان کے جان ومال خطرہ میں پڑجاتے ہیں ۔ (معارف القرآن ص 213 ج 4 ) جس وقت اسلام اور مسلمانوں سےدفاع کی ضرورت ِ شدید ہو اس وقت یقیناً جہاد تمام عبادات سے افضل ہو گا ۔ جیسا کہ غزوہ خندق میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار نمازیں قضا ہو جانے کے واقعہ سے ظاہر ہے ۔ (معارف القرآن ص335 ج 4 ) مقصدِ جہاد :۔ مؤمن کی جدو جہد کا یہی مقصد ہو تا ہے کہ دنیا میں خدا کا قانون رائج ہو اور اللہ کا حکم بلند ہو ۔ کیونکہ اللہ تعالٰی تمام مخلوق کا مالک ہے اور اس کا قانون خالص انصاف پر مبنی ہے ۔ اور جب انصاف کی حکومت قائم ہوگی تو امن قائم رہے گا ۔ دنیا کے امن کے لیے یہ ضروری ہے کہ دنیا میں وہ قانون رائج ہو جو خدا کا قانون ہے ۔ لہذا کامل مؤمن جب جنگ کرتا ہے تو اس کے سامنے یہی مقصد ہو تا ہے ۔ لیکن اس کے مقابلے میں کفار کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ کفر کی ترویج ہو اور کفر کا غلبہ ہو ۔ آیت ( وان نکثوا ایمانھم من بعد عھد ھم واطعنو فی دینکم فقاتلو ائمۃ الکفر انھم لا ایمان لھم لعلھم ینتھون ) ۔ (9 : 12 ) میں مسلمانوں کو اس کی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کسی قوم سے اپنا غصہ اتارنے کے لیے نہ لڑیں بلکہ ان کی اصلاح وہدایت کو مقصد بنائیں اس آیت میں یہ بتلا دیا کہ جب وہ اپنی نیت کو اللہ کے لیے صاف کرلیں اور محض اللہ کے لیے لڑیں تو پھر اللہ تعالٰی اپنے فضل سے ایسی صورتیں بھی پیدا فرمادیں گے کہ ان کے غم وغصہ کا انتقام بھی خود بخود ہو جائے ۔ ( معارف القرآن ص 325 ج 4 ) چنانچہ ہر مسلمان جہاد میں جتنی عملی شرکت یا مالی معاونت کرسکتا ہو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہئے ۔ مدت جہاد :۔ (وقاتلو ھم حتٰی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ ) خلاصہ اس تفسیر کا یہ ہے کہ مسلمانوں پر اعداء اسلام کے خلاف جہادو قتال اس وقت تک واجب ہے جب تک مسلمانوں پر ان کے مظالم کا فتنہ ختم نہ ہو جائے اور اسلام کو سب ادیان پر غلبہ حاصل نہ ہوجائے اور یہ صورت صرف قرب قیامت میں ہوگی اس لیے جہاد کا حکم قیامت تک جاری اور باقی ہے ۔ ( جیساکہ حدیث شریف سے ثابت ہے ۔ ( الجھاد ماض الی یوم القیامۃ ) ( معارف القرآن ص 233 ج 4 ) ( حتی یعطوا لجزیۃ ) ( 9 : 29 ) ۔۔۔۔۔۔۔ الخ ۔ میں ان لوگوں سے جہاد وقتال کرتے رہنے کی ایک حد اور انتہا بھی بتلائی ہے یعنی یہ حکم قتال اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہ ماتحت ہو کر رعیت بن کر جزیہ دینا منظور نہ کرلیں ۔ (معارف القرآن ص 320 ج 4 ) جزیہ کی حقیقت اور رفع اشکا ل :۔ اصطلاح شرعی میں جزیہ سے مراد وہ رقم ہے جو کفا ر سے قتل کے بدلہ میں لی جا تی ہے ۔ کفر وشرک اللہ اور رسول کی بغاوت ہے۔اس کی اصل سزا قتل ہے۔ مگر اللہ تعا لی" نے اپنی رحمت کاملہ سے ان کی سزا میں تخفیف کردی کہ اگر وہ اسلامی حکو مت کی رعیت بن کر عام اسلامی قانون کے ماتحت رہنا منظور کریں تو ان سے معمولی رقم جزیہ کی لے کر چھو ڑدیا جائے۔اور اسلامی ملک کاباشندہ ہونے کی حیثیت سے ان کی جان ومال ، آبروکی حفاظت اسلامی حکومت کے ذمہ ہوگی ۔ انکی مذہبی رسومات میں کوئی مزا حمت نہ کی جائے ۔ اسی رقم کو جزیہ کہاجاتاہے۔ جزیہ کفارسے سزائے قتل رفع کر نےکا معاو ضہ ہے۔ اسلا م کا بدلہ نہیں۔ اس لئے یہ شبہ نہیں ہو سکتا کہ تھوڑے سے دام لے کر اسلا م سے اعراض اورکفر پر قائم رہنے کی اجازت کیسے دےدی گئ۔اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ اپنے مز ہب پر قائم رہنے ہوئے اسلامی حکو مت میں رہنےکی اجازت بہت سے اُن لوگوں کو بھی ملتی ہے جن سے جز یہ نہیں لیا جا تا مثلاً عورتیں ، بچے،بوڑھے۔ مزہبی پیشوا،اپاہج،معزور۔اگر جزیہ اسلام کا بدلہ ہوتاان سے بھی لیاجاناچاہئےتھا۔ (معارف القر آن ص 365 ج4 ) طریق غلبہ اور جہاد کی تیاری غلبہ اور بلندی حاصل کرنے کے لئے صرف ایک ہی چیز اصل ہے یعنی ایمان اوراس کےتقاضےپورےکرنا۔ایمان کےتقاضہ میں وہ تیاریاں بھی داخل ہیں جوجنگ کےسلسلےمیں کی جاتی ہیں۔یعنی اپنی فوجی قوت کااستحکام،سامانِ جنگ کی بہم رسانی اورظاہری اسباب سےبقدروسعت آراستہ ومسلح ہوناغزوہ احدکےواقعات اوّل سےآخرتک ان تمام امورکےشاھدہیں۔ (معارف القرآن ص194ج 2)قرآن پاک میں ارشادہے:۔ ''وَ اَعۡدُوۡ الَھُمۡ مَّااسۡتَطَعۡتُمۡ مّنۡ قُوَّۃِ۔۔۔۔۔'' الیٰ آخر(60: ![]() یعنی سامان جنگ کی تیاری کرو کفار کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے اس میں سامان جنگ کی تیاری کے ساتھ ( ما استطعتم ) کی قید لگا کر یہ اشارہ فرما یا دیا کہ تمہاری کامیابی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ تمہارے مقابل کے پاس جیسا اور جتنا اور بھی سامان ہے تم بھی اتنا ہی حاصل کرلو بلکہ اتنا کافی ہے کہ اپنی مقدور بھر جو سامان ہو سکے وہ جمع کرلو تو اللہ تعالٰی کی نصرت وامداد تمہارے ساتھ ہو گی ۔ صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان جنگ فراہم کرنے اور اس کےاستعمال کی مشق کو بڑی عبادات اور موجب ثواب قرار دیا ہے ۔ ''من قوۃٍ'' عام لفظ اختیار فرما کر اس طرف سے بھی اشارہ کردیا کہ یہ قوت ہر زمانہ اور ملک و قوم کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہے ۔ اس لیے آج کے مسلمانوں کو بقدر استطاعت ایٹمی قوت ، ٹینک ،لڑاکا ،طیارے ، آبدوز اور کشتیاں جمع کرنا چاہئے کیو نکہ یہ سب اسی قوت کے مفہوم میں داخل ہیں اور اس کے لیے جس علم وفن کے سیکھنے کی ضرورت پڑے وہ سب اگر اس نیت سے ہو کہ اس کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں سے دفاع کا اور کفار کے مقابلہ کا کام لیا جائے گا تو بھی جہاد کے حکم میں ہے ۔ ( معارف القرآن ص 672 ج 4 ) سامان جنگ اکٹھا کرنے کی مصلحت :۔ آیت مذکورہ ( ترھبون بہ عدوا اللہ و عدو کم ) میں سامان جنگ کی تیاری کا حکم دینے کے بعد اس سامان کے جمع کرنے کی مصلحت اور اصل مقصد بھی ان الفاظ میں بیان فرمایا یعنی سامان جنگ و دفاع جمع کرنے کا اصل مقصد قتل وقتال نہیں بلکہ کفر وشرک کو زیر کرنا اور مرعوب و ملغوب کردینا ہے ۔ وہ کبھی صرف زبان یا قلم سے بھی ہو سکتا ہے اور بعض اوقات اس کے لیے قتل وقتال ضروری ہو تا ہے ، جیسی صورت حال ہو اس کے مطابق دفاع کرنا فرض ہے ۔ سامان جنگ کے ساتھ نظر اللہ تعالٰی پر ہو :۔ (یا ایھا الذین اٰمنو خذو حذرکم ) ۔۔۔۔الخ ۔ اس آیت کے پہلے حصہ میں جہاد کرنے کے لیے اسلحہ کی فاہمی کا حکم دیا گیا اور دوسرے حصہ میں اقدام جہاد کا ۔ اس سے ایک بات تو یہ معلو م ہوئی جس کو متعدد مقامات پر واضح کیا گیا ہے کہ ظاہری اسباب کو اختیا ر کرنا تو اس کے منافی نہیں ہے ۔ دوسری یہ بات معلوم ہوئی کہ یہاں اسلحہ کی فرہمی کا حکم تو دے دیا گیا لکین یہ وعدہ نہیں کیا گیا کہ اس کی وجہ سے تم یقیناً ضرور محفوظ ہی رہو گے ۔ اس سے اشارہ اس بات کی طرف کردیا گیا کہ اسباب کا اختیار کرنا صرف اطمینان قلب کے لیے ہوتا ہے ۔ ورنہ ان میں فی نفسہ نفع ونقصان کی کو ئی تاثیر نہیں ہے ۔ ( ص 474 ج 4 ) حصول کامیابی کے لیے قرآنی ہدایات :۔ سورہ انفال کی آیت 45 ، 46 میں حق تعالٰی نے مسلمانوں کی میدان جنگ اور مقابلہ دشمن کے لیے ایک خاص ہدایت نامہ دیاہے جو ان کےلئے دنیا میں کامیابی اور فتح مندی کا اور آخر ت کی نجات وفلاح کا نسخہ اکسیر ہے ۔ اورقرون اولٰی کی تمام جنگوں میں مسلمانوں کی فوق العادت کامیابیوں اورفتوحات کارازاسی میں مضمرہےاوروہ چندچیزیں ہیں۔ اول ثبات:۔یعنی ثابت رہنااورجمنا،جس میں ثبات قلب اور ثبات قدم دونوں داخل ہیں۔کیونکہ جب تک کسی شخص کادل مضبوط اورثابت نہ ہواس کاقدم اعضاء ثابت نہیں رہ سکتے(یہ بات)اہل تجربہ سےمخفی نہیں کہ میدان جنگ کاسب سےپہلااورسب سےزیادہ کامیاب ہتھیارثباتِ قلب اورقدم ہی ہے۔ دوسرےسارےہتھیاراس کےبغیربیکارہیں۔ دوسرےذکراللہ:یہ وہ مخصوص اورمعنوی ہتھیارہےجس سےمؤمن کےسواعام دنیاغافل ہے۔پوری دنیاکی حکومتیں جنگ کےلئےبہترین اسلحہ اورنئےسےنئےسامان مہیا کرتی ہیں اور فوج کے ثابت قدم رکھنے کی پوری تدبیریں کرتی ہیں مگر مسلمانوں کے اس معنوی اور روحانی ہتھیار سے بے خبر اور نہ آشنا ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ثبات قدم کا اس سے بہتر کوئی نسخہ بھی نہیں ۔ کیسی ہی مصیبت اور پریشانی ہو اللہ کی یاد سب کو ہوا میں اڑادیتی ہیں اور انسان کے قلب کو مضبوط اور قدم کو ثابت رکھتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض غزوات میں انہیں ہدایت کو مستحضر کرانے کے لیے عین میدانِ جنگ میں یہ خطبہ دیا '' اے لوگوں ! دشمن کے مقابلہ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ تعالٰی سے عافیت مانگو ۔ اور جب ناگزیر طور پر مقابلہ ہو ہی جائے تو پھر صبر ثبات کو لازم پکڑو اوریہ سمجھ لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے ۔ آخری آیت ( 8: 22 ) میں عام قانون کی صورت سے بتلا دیا ۔ ( ان اللہ مع الصابرین ) یعنی اللہ تعالٰی ثابت قدم رہنے والوں کا ساتھی ہے ۔ اس میں میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے والے بھی شامل ہیں اور عام احکام شرعیہ کی پابندی پر ثابت قدم رہنے والے حضرات ان سب کے لیے معیت الٰہیہ کا وعدہ ہے ۔ اور معیت ہی ان کی فتح وظفر کا اصلی راز ہے کیو نکہ جس کو قادر مطلق کی معیت نصیب ہوگئی اس کو ساری دنیا مل کر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتی ۔ ( ص685 ج 4 ) سفر جہاد کا ایک اہم ادب :۔ قرآن پاک میں ارشاد ہیں ۔ ( فَا نۡفِرُوۡ ا ثُبَاتٍ اَوِنۡفِرُوۡا جَمِیۡعَا )یعنی اگر جہاد کے لیےنکلو تواکیلےاورتنہانہ نکلوبلکہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں نکلویاایک کثیر(جمیعا)لشکرکی صورت میں جاؤ ۔کیونکہ اکیلےلڑنےکےلئےجانے میں نقصان کاقوی احتمال ہے اوردشمن ایسے موقع سےپوراپورافائدہ اُٹھالیتاہے۔یہ تعلیم توجہادکےموقع کےلئےمسلمانوں کو دی گئی ہے۔لیکن عام حالات میں بھی شریعت کی یہی تعلیم ہےکہ اکیلےسفرنہ کیاجائے۔ انجامِ کارکامیابی اہل ایمان کی ہوتی ہے:۔ قرآن پاک میں ارشادہےکہ:''وَاَنۡتُمُ الاعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ہ'' اس آیت میں ایک اہم ضابطہ اوراُصول کی طرف رہنمائی فرمائی وہ یہ کہ اللہ تعالٰی کی عادت اس عالم میں یہی ہےکہ وہ سختی،نرمی،دکھ،سکھ،تکلیف وراحت کےدنوں کو لوگوں میں ادل بدل کرتے ہیں ۔ اگر کسی وجہ سے کسی باطل کو قوت کو عارضی فتح و کامرانی حاسل ہو جائے تو جماعت حقہ ، کو اس سےبد دل نہیں ہو نا چاہئے اور یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہم کو اب ہمیشہ شکست ہی ہو ا کرے گی ۔ بلکہ اس شکست کے اسباب کا پتہ لگا کر ان اسباب کا تدارک کرنا چاہئے ۔ انجام کا فتح جماعت حقہ ہی کو نصیب ہو گی۔ دوسری جگہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں ۔ ( وَ کَانَ حَقَّاً عَلَیۡنَا نَصۡرُ الۡمُئۡومِنیۡنَ )(30 : 47 ) اور ہمارے ذمہ تھا کہ ہم مؤمنین کی مدد کرتے ۔ اس کا تقاضا بظاہر یہ تھا کہ مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں کبھی شکست نہ ہو ۔ حالانکہ بہت سے واقعات اس کے خلاف ہوئےہیں اور ہوتے رہتے ہیں ۔ اس کا جواب خود اسی آیت میں موجود ہے کہ مؤمنین سے مراد وہ مجاہد ین فی سبیل اللہ ہیں جو خالص اللہ کے لیے کفار سے جنگ کرتے ہیں ۔ایسےلوگوں کاہی انتقام اللہ مجرمین سےلیتےہیں اوران کوغالب کرتےہیں۔جہاں کہیں اس کےخلاف کوئی صورت پیش آتی ہےوہاں عموماًمجاہدین کی کوئی لغزش ان کی شکست کا سبب بنتی ہے جیساغزوہ احدمیں ہوا۔ کامیابی کےلئےگناہوں سے بچنالازمی ہے جو لوگ محض نام ، مؤمن مسلمان رکھ لیں ۔ احکام خداوندی سے غفلت و سرکشی کے عادی ہو ں ، اور غلبہ کفار کے وقت بھی اپنے گناہوں سے تائب نہ ہو ں وہ اس وعدہ میں شامل نہیں وہ نصرت الہیہ کے مستحق نہیں ۔ یوں اللہ تعالٰی اپنی رحمت سے بغیر کسی استحقاق کے بھی نصرت وغلبہ فرمادیتے ہیں ۔ اس کی امید رکھنا اور اس سے دعا مانگنا ہر حال میں مفید ہی مفید ہے ۔ ( ص 761 ج 6 ) ظاہری شکست کبھی امتحان کے لئے ہوتی ہے :۔ سورہ عنکبوت کی آ یت ( 29 :372 ) میں (وَھُمۡ لاَ یُفتنُوۡنَ ) فتنہ سے مشتق ہے ۔جس کے معنی آزمائش کے ہیں ۔ اہل ایمان خصوصا انبیاء وصلحا کو دنیا میں مختلف قسم کی آزمائشوں سے گذرناہو تا ہے ، پھر انجام کا ر فتح اور کامیابی ان کی ہوتی ہے ۔ ان امتحانات اور شدائد کے ذریعہ مخلص اور غیرمخلص اور نیک وبد میں ضرور امتیاز کریں گے ۔ یعنی اللہ تعالٰی کو تو ہر انسان کا صادق یا کاذب ہونا اس کے پیدا ہو نے سے پہلے بھی معلوم ہے۔ امتحانات اور آزمائشوں کے جان لینے کے معنی یہ ہیں کہ اس امتیاز کو دوسروں پر بھی ظاہر فرمادیں ۔ ضرورت جہاداور تر ک کےنقصانات سور ہ محمد کی آیت 22کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے احکام شرعیہ الہیہ سےروگردانی کی جن میں حکم جہادبھی شامل ہےاس کا اثریہ ہوگاکہ تم جاہلیت کے قدیم طریقوں پرپڑجاؤگےجس کالازمی نتیجہ زمین میں فساداورقطع ارحام ہےجیساکہ جاہلیت کےہر کام میں اس کا مشاہدہ ہوتاتھاکہ ایک قبیلہ دوسرےقبیلہ پر چڑھائی اورقتل وغارت کرتاتھا۔اپنی اولادکوخوداپنےہاتھوں زندہ درگور کردیتےتھےاسلام نےان تمام رسومات جاہلیت کومٹایااوراس کےمٹانےکےلئےحکم جہادجاری فرمایاجواگرچہ ظاہرمیں خونریزی ہے مگردرحقیقت اس کاحال سڑےہوئےعضوکوجسم سےالگ کردیناہےتاکہ جسم سالم رہے۔جہادکےذریعہ عدل وانصاف اورقرابتوں اوررشتوں کا احترام قائم ہوتا ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے۔( وَ لَوۡ لاَ دَفَع اللہ الناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )الٰی آخر الایۃ(40:22) اس جہاد و قتال کی حکمت کا اور اس کا بیان ہے کہ یہ کوئی نیا حکم نہیں پچھلے انبیاء اور ان کی امتوں کو بھی قتال کفار کے احکام دئیے گئےہیں۔ اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کسی مذہب اور دین کی خیر نہ تھی۔ سارے ہی دین و مذہب اور ان کی عبادت گاہیں ڈھا دی جاتیں۔ حالتِ عذر میں ترکِ جہاد کی گنجائش قرآن مجید میں ارشاد باری تعالٰی ہے۔فَضلَ اللہُ المُجَا ھِدِیۡنَ بِاَمۡوَالِِِِھِمۡ وَ اَنۡفُسِھِمۡ عَلَی القَاعِدِیۡنَ دَرَجَۃَ وَّکلا وعَدَاللہُ الۡحُسۡنَیٰ ۔ یعنی اللہ تعالٰی نے مجاھدین کو تارکینِ جہاد پر فضیلت دی ہے اور اللہ تعالٰی نے دونوں سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔ اس میں ایسے لوگوں سے جو عذرکے سبب یا کسی دوسری دینی خدمت مشغول ہونے کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوں، تو ان سے بھی بھلائی کا وعدہ مذکورہ ہے ۔ ورنہ اس کے چھوڑنے والوں سے وعدہ ہونے کی ضرورت نہ تھی۔ اسی طرح ایک دوسری آیات میں ہے: (فَلَوۡ لاَنَفَرَ مِنۡ کُلَ فِرۡقَۃِ مِنھُمۡ طَائفۃ لِیَتفقھوافَی الدینَ) " اور کیوں نہ نکل کھڑی ہوئی تمھاری ہر بڑی جماعت میں سے چھوٹی جماعت اس کام کے لئے کہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرے"۔ اس میں خود قرآن کریم نے یہ تقسیم عمل پیش فرمائی۔ کہ کچھ مسلمان جہاد کا کام کریں اور کچھ تعلیم دین میں مشغول رہیں۔ حا لت عذر کی حقیقت:۔ سورہ توبہ کی آیت 46 وَلَوۡ اَرَدُ وۡ الۡخُرُوۡجَ لاَ عَدُوَّ لَہُ عُدُۃُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر واقعی یہ لوگ جہاد کے لئے نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لئے ضروری تھا کہ کچھ تیاری بھی توکرتے ۔ لیکن انھوں نے کوئی تیاری نہیں کی ۔ جس سے معلوم ہوا کہ عذر کا بہانہ غلط تھا ۔ در حقیقت ان کا ارادہ ہی جہاد کے لئے نکلنے کا نہیں تھا ۔ اس آیت سے ایک اہم اصول مستفاد ہو ا کہ جو تعمیل حکم کے لئے تیار ہوں پھر کسی اتفاق حادثہ کے سبب معذور ہو گئے ۔ جس کی وجہ سے نہ جا سکے تو ان کا عذر معقول ہے ۔ بغیر عذر شرکتِ جہادسےمحرومی کاوبال :۔ غزوہ تبوک میں حکم عام کے باوجود بعض منافقین شریک نہیں ہوئے ، اور صرف خود ہی نہیں بیٹھے رہے بلکہ دوسروں کو بھی تلقین کی کہ :۔ لاَتَنفِرُوۡ ا فِی الحَر :۔یعنی گرمی کے زمانہ میں جہاد کے لئے نہ نکلو۔ غزوہ تبوک کا حکم اس وقت ہوا تھا جب بہت سخت گرمی پڑرہی تھی حق تعالٰی نےان کا جواب دیا کہ :۔ ( قُلۡ نَارُ جَھَنَّمَ اَشَدُّ حَرَّا ) یعنی یہ بد نصیب اس وقت کی گرمی کو دیکھ رہے ہیں اور اس سے بچنے کی فکر کر رہے ہیں اس کے نتیجہ میں حکم خدا اور رسول کی نافرمانی پر جو جہنم کی آگ سے سابقہ پڑنے والا ہے ۔ اس کی فکر نہیں کرتے کیا یہ موسم کی گرمی جہنم کی گرمی سے ذیادہ ہے ۔ جہاد وقتال میں احکام کی پابندی :۔ قرآن پاک کی آیت (وَاِنِ استَنصرُوۡ کُمۡ فِی الدِینِ فَعَلَیکُم النصرُ ( 8 : 72 ) اس میں مذہبی تعصب اور عصبیت جاہلیت کی روک تھام کرنے کے لئے یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ مذہبی رشتہ اگر چہ اتنا قوی اور مضبوط ہے مگر معاہدہ کی پابندی اس سے بھی زیادہ مقدم اور قابل ترجیح ہے مذہبی تعصب کے جوش میں معاہدہ کی خلاف ورزی جائز نہیں ۔ یہی شریعت اسلام کی وہ امتیازی خصوصیت ہے جس نے ان کو دنیا میں فتح و عزت اور آخرت کی فلاح کا مالک بنایا ہے ۔ ورنہ عام طور پر دنیا کی حکومتیں معاہدات کا ایک کھیل کھیلتی ہیں جس کے ذریعہ کمزور کو دبانا اور قوت والے کو فریب دینا مقصد ہوتا ہے ۔ جس وقت اپنی ذرا سی مصلحت ہوتی ہے تو سو طرح کی تا ویلیں کرکے معاہدہ کو ختم کر ڈالتے ہیں ۔ اور الزام دوسروں کے سر لگانے کی فکر کرتے ہیں ۔ صلح حدیبیہ کے وقت ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ سے صلح کرلی اور شرائط صلح میں یہ بھی داخل تھا کہ مکہ سے جو شخص اب مدینہ جائے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس کردیں ۔ عین اس معاملہ صلح کے وقت ابو جندل رضی اللہ عنہ (عنہم) جن کو کفار مکہ نے قید کرکے طرح طرح کی تکلیفوں میں ڈالاہواتھا کسی طرح حاضر خدمت ہوگئے اور اپنی مظلومیت کا اظہار کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد کے طالب ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمت عالم بن کر آئے تھے ایک مظلوم مسلمان کی فریاد سے کتنے متاثر ہوئے ہوں گے اس کا اندازہ کرنا بھی ہر شخص کے لئے آسان نہیں مگر اس تاثر کے باوجود آیت مذکورہ کے حکم کے مطابق ان کی امداد کرنے سے عذر فرما کر واپس کردیا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظریہ بھی تھاکہ جلد مکہ فتح ہونے والا ہے اور یہ سب قصے ختم ہونے والے ہیں ) ۔ ( معارف القرآن ص 298 ج 4 ) ( اسی طرح) غزوہ بدر میں جب کہ تین سو تیرہ بے سرو سامان کا مقابلہ ایک ہزار با شوکت کافروں سے ہے ۔ ظاہر ہے کہ اگر ایک شخص بھی اس وقت ان کی امداد کو پہنچ جائے تو کس قدر غنیمت معلوم ہو گا ۔ لیکن اسلام کی پابندی عہد ان سب باتوں سے مقدم ہے عین میدان کارِ راز میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ (عنہم) اور ابوحسل رضی اللہ عنہ (عنہم) دو صحابی شرکتِ جہاد کے لئے پہنچتے ہیں ، مگر آ کراپنے راستے کا حال بیان کرتے ہیں کہ راستے میں کفار نے روکا کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد کو جارہےہو ۔ ہم نے انکار کیا اور عدم شرکت کا وعدہ کرلیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وعدہ کا علم ہوا تو دونوں کو شرکت جہاد سے روک دیا اور فرمایا کہ ہم ہر حال میں وعدہ وفاکریں گے ، ہمیں اللہ تعالٰی کی امداد کافی ہے اور بس ۔ حقیقت میں اللہ کے احکام کی پابندی ہر چیز سے مقدم ہے اللہ کی نافرمانی اتنی خطرناک ہے کہ جہاد جیسا مبارک عمل بھی جنت میں لے جانے کا اس وقت ذریعہ بنے گا جب اللہ کی نافرمانی کے مرتکب نہ ہوں ۔ حدیث شریف میں آتا ہے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ (عنہم) سے منقول کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اہل اعراف کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی والدین کی مرضی اور اجازت کے خلاف جہاد میں شریک ہوں گئے اور اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ،تو ان کو جنت کے داخلہ سے ماں باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم کے داخلہ سے شہادت فی سبیل اللہ نے روک دیا ۔ ( معارف القرآن ص 568 ج 3 ) معلوم ہوا کہ جہاد کے ساتھ اللہ کے دوسرے احکام کی پابندی بھی لازم ہے ۔ خداسے تعلق تمام رشتوں سے مقدم ہے :۔ مسلمان صرف اللہ کےلئے اور اسلام کے لئے جہاد کرتا ہے اور جو وطن یا نسب ، اللہ تعالٰی اور اسلام کی راہ میں حائل ہو ،اس نسب و وطن کو بھی اس پر قربان کردیتا ہے ۔ اسلام کی سب سےپہلی ہجرت مدینہ نے اور غزوہ بدر و احد کے میدانوں نے ہمیں یہی سبق دیئے ہیں ۔ کیونکہ ان میدانوں میں ایک ہی خاندان کے افراد کی تلواریں اسی خاندان کے دوسرے افراد کے سروں پر اس لئے پڑی ہیں کہ وہ اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تھے اگر وطن اور قبائلی وحدتیں مقصود ہو تو یہ سارے جہاد فضول ہوتے ۔ (جہاد ۔ ص13 ) غزوہ بدر میں اس وقت جب دونوں لشکر ملے تو دیکھا گیا کہ بہت سے اپنے ہی لخت جگر تلواروں کی زد میں ہیں ۔ مگر اس حزب اللہ کا عقیدہ تھا ہزاروں خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کاشنا باشد چنانچہ جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ( جو اب تک کافر تھے میدان میں آئے ) تو خود صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی تلوار ان کی طرف بڑھی عتبہ سامنے آیا تو اس کے فرزند حضر ت حذیفہ رضی اللہ عنہ تلوار کھینچ کر باہر نکلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ماموں میدان میں بڑھا تو فاروقی تلوار نے خود اس کافیصلہ کیا- (پیغمبرامن عالم کی حیثیت سےص105) رشتہ داری اوردوستی کے سارےتعلقات پراللہ تعالٰی ارواس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کاتعلق مقدم ہےجوتعلق اس سے ٹکرائےوہ توڑنےکےقابل ہے۔صحابہ کرام کاوہ عمل جس کی وجہ سے وہ ساری اُمت سے افضل واعلیٰ قرارپائےیہی چیز تھی کہ انھوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پراپنی جان ومال اورہررشتہ وتعلق کو قربان کرکے زبان حال سےکہا؛ تونخل خوش ثمرکیستی کہ سرو سمن ہمہ زخویش بریدندوباتوپیوستند بلال حبشی رضی اللہ عنہ ،صہیب رومی رضی اللہ عنہ ،سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اورقریش مکہ ،انصارمدینہ توسب آپس میں بھائی بھائی ہوگئےاور بدر و احدکےمیدانوں میں باپ،بیٹےبھائی بھائی کی تلواروں نےآپس میں ٹکراکراس کی شہادت دی کہ ان کامسلک یہ تھاکہ؛ ہزارخویش کہ بیگانہ از خداباشد فدائےیک تن بیگانہ کاشناباشد (معارف القرآن ص338ج4) جہادکاعمل صدقہ جاریہ سےبھی بڑھاہوا۔ اسلامی سرحدوں کی حفاظت کےلئےجنگ کی تیاری کےساتھ وہاں قیام کرنےکورباط یامرابطہ کہا جاتاہےرباط کےفضائل بےشمارہیں صحیح مسلم میں بروایت سلمان رضی اللہ عنہ (عنہم) مذکورہےکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ''ایک دن کا رباط ایک مہینہ مسلسل روزےاورتمام شب عبادت میں گذارنے سےبہتر ہے۔اوراگروہ اسی حال میں مرگیاتواس کےعمل رباط کاروزانہ ثواب ہمیشہ کےلئےجاری رہےگا۔اور اللہ کی طرف سےاس کارزق جاری رہےگا۔اوروہ شیطان سےمامون ومحفوظ رہےگا۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ ہرایک مرنےوالےکاعمل اس کی موت کے ساتھ ختم ہوجاتاہے۔بجزمرابط کےکہ اس کاعمل قیامت تک بڑھتاہی رہتاہے،اورقبرمیں حساب وکتاب لینےوالوں سےمامون ومحفوظ رہتاہے۔ ان روایات سےمعلوم ہوا کہ عمل رباط ہرصدقہ جاریہ سے بھی زیادہ افضل ہے۔کیونکہ صدقہ جاریہ کاثواب تواسی وقت تک جاری رہتاہےجب تک اس کےصدقہ کئےہوئےمکان،زمین،یاتصانیف کُتب یاوقف کی ہوئی کتابوں وغیرہ سےلوگ فائدہ اُٹھاتےرہیں جب یہ فائدہ منقطع ہوجائےگاتو ثواب بھی بندہوجائےگا۔مگرمرابط فی سبیل اللہ کاثواب قیامت تک منقطع ہونےوالانہیں۔اوروہ جتنے نیک کام دنیامیں کیاکرتاتھا۔ان کاثواب بھی بغیرعمل کئےہمیشہ جاری رہے گا۔(معارف ص275ج2) مشروعیت جہادکی حکمت ومصالح؛ اس آیت( وَلَوۡ یَشَآءُاللہُ لاَ نۡتَصَرَمِنۡھُمۡ ) (سورۂ محمد؛آیت4)میں حق تعالٰی نےارشادفرمایاکہ اس امت میں کفارسےجہادوقتال کی مشروعیت درحقیقت ایک رحمت ہے۔کیونکہ وہ آسمانی عذابوں کے قائم مقام ہے کیونکہ کفر وشرک اور اللہ سے بغاوت کی سزا پچھلی قوموں کو آسمانی اور زمینی عذابوں کے ذریعہ دی گئی ہے ۔ امت محمدیہ میں ایسا ہو سکتا تھا مگر رحمت اللعلمین صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اس امت کو ایسے عذابو ں سے بچا لیا گیا اور اس کے قائم مقام جہاد شرعی کو کردیا گیا جس میں بہ نسبت عذاب عام بڑی سہولتیں اور مصلحتیں ہیں اول تو یہ کہ عذاب میں پوری قومیں مرد ، عورت، بچے سبھی تباہ ہوتے ہیں ۔ اور جہاد میں عورتیں بچے تو مامون ہیں ہی مگرمرد بھی صرف وہی اس کی زد میں آتے ہیں جو اللہ کی دین کی حفاظت کرنے والوں کے مقابلہ پر قتال کے لئے آکھڑے ہوں پھر اس میں بھی سب مقتول نہیں ہوتے۔ ان میں بہت سے لوگ کو اسلام و ایمان کی تو فیق نصیب ہوجاتی ہے ۔ نیز جہاد کی مشروعیت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذ ریعے جہاد و قتال کے دونوں فریق مسلمان اور کفار کا امتحان ہو جاتا ہے کہ کون اللہ کے حکم پر اپنی جان ومال نثار کرنے کو تیار ہوجاتا ہے اور کون سرکشی اورکفر پر جما رہتا ہے یا اسلام کے روشن دلائل کو دیکھ کر اسلام قبول کرلیتا ہے ۔ ( معارف القرآن ص30 ج8 ) حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ نے جہاد کے فرض ہونے کی ایک حکمت یہ بھی فرمائی ہے کہ قہر وغضب اور مدافعت کا مادہ جو انسانی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے ۔ جب جہاد کے ذ ریعہ اپنا صحیح مصرف پالیتا ہے تو آپس کی خانہ جنگ اور فساد سے خود بخود نجات ہوجاتی ہے ۔ورنہ اس کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ جس چھت میں بارش کا پانی نکلنے کا راستہ پر نالوں کے ذریعہ نہ بنایا جائے تو پھر یہ پانی چھت توڑ کر اندر آجاتاہے ۔ آج اگر غور کیا جائے تو پورے عالم اسلام پر یہی مثال صادق آتی ہے ۔ اور شیطان اور شیطانی تعلیم ،کفر والحاد خدااور رسول سے بغاوت ، فحاشی وعیاشی سے طبیعتیں مانوس ہورہی ہیں ان کی نفرت دل سے نکل چکی ہے اس پر کسی کو غصہ نہیں آتا ۔ انسانی رواداری ، اخلاقی اور مروت کا سارا زور کفرو الحاد اور ظلم کی حمایت میں صرف ہوتا ہے ۔ نفرت ، بغاوت، عداوت، کا میدان خود اپنے اعضاء جوارح کی طرف ہے ۔ آپس میں ذرا ذراسی بات پر جھگڑاہے ۔ چھوٹاسا نقطہ اختلاف ہو تو اس کو بڑھا کر پہاڑبنادیا جاتا ہے اخبارات و رسائل کی غذایہی بن کر رہ گئی ہے دونوں طرف سے اپنی پوری توانائی اس طرح صرف کی جاتی ہے کہ گویا جہاد ہو رہا ہے دو مخالف طاقتیں لڑرہی ہیں اور کوئی خدا کا بندہ اپنی طرف نظر کرکے نہیں دیکھتا کہ ظالم جو بہ رہا ہےوہ تیرا ہی گھر نہ ہو (وحدت امت ص53 ) خلاف جہاد امور:۔ذیل میں ان امور کا ذکر کیا جاتا ہے جو مقصد جہاد کے خلاف یا نقصان کا باعث بن سکتے ہیں ۔ کفار سے دوستی کی ممانعت:۔ ارشاد باری تعالٰی ہے یَاَیُّھَاالۡذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لاَتَتِّخِذُوۡا بِطَانَۃً مَنۡ دُونکم لاَیَالُونَکُمۡ خَبَالاً ۔۔۔۔الخ ۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ مسلمان اپنے اسلامی بھائیوں کے سوا کسی کو بھیدی اور مشیر نہ بنائیں ۔ کیونکہ یہودی ہو یا نصاریٰ ،منافقین ہوں یا مشرکین کوئی جماعت تمہاری حقیقی خیر خواہ نہیں ہوسکتی ۔ بلکہ ہمیشہ یہ لوگ اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ تمہیں بے وقوف بنا کرنقصان پہنچائیں اور دینی اور دنیوی خرابیوں میں مبتلا کریں ۔ ان کی آرزویہ ہے کہ تم تکلیف میں رہو ۔(مَاعَنِتُّمۡ ) کہ کوئی غیر مسلم کسی حال میں مسلمانوں کا حقیقی دوست اور خیر خواہ نہیں ہوسکتا ۔(اِنۡ تَمۡسَسۡکُمۡ حَسَنَۃٌ ) یعنی ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر تمہیں کوئی اچھی حالت پیش آجائے تو یہ ان لوگوں کو دکھ پہنچاتی ہے ۔اور اگرتم پر کوئی بری حالت آپڑتی ہے تو اس سے خوش ہوتے ہیں ۔ منافقین کے کیدومکر اور شدید مخالفین کے عناد اور مخالفت کے نتائج سے محفوظ رہنے کا آسان اور سہل الاصول نسخہ پر بیان کیا گیا کہ ( وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡ ا وَتَتَّقُوۡا لاَیَضُرُّکُمۡ کَیۡدَھُمۡ شَیۡئاً اِنَّ اللہَ بِمَایَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطً ) اگرتم صبر اور تقویٰ اختیار کئے رہوتوتم کو ان کی چالیں ذرابھی نقصان نہ پہنچاسکیں گی ۔ (معارف ص 2 ) اسلام کی کفار کے بارے میں تعلیمِ اخلاق :۔ کفار اگر چہ مسلمانوں کے در پے آزار رہتے ہیں ۔ لیکن اسلام کی تعلیم اخلاق یہ ہے امام قرطبی نے قرآنی حکم (وَغلُظۡ عَلَیۡھِمۡ ) کہ متعلق فرمایا کہ اس جگہ غلظت استعمال کرنے سے عملی غلظت مراد ہے کہ ان پر احکامِ شرعیہ جاری کرنے میں کوئی رعایت اور نرمی نہ برتی جائے ۔ زبان اور کلام میں غلظت اختیار کرنا مراد نہیں کیونکہ وہ سنت انبیاء کے خلاف ہے وہ کسی سے سخت کلامی اور سب وشتم نہیں کرتے ۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :۔ اگر تمہاری کنیز زنا کی مرتکب ہو تو اسکی سزاحد شرعی اس پر جاری کردو مگر زبان ملامت اور طعن و تشنیع نہ کرو ۔''( معارف ص 422ج4 ) کفار سے قتال خیر خواہی کے تحت ہوتاہے :۔ اور جہاں تک کفار سے قتال کی بات ہے تو وہ حکم خداوندی ہے کہ ( یَاَ یُّھَاالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡ ا قَاتِلُوۡا ) (123:9) میں تفصیل بتلائی گئی ہے کہ کفار تو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ ان سے جہاد وقتال میں ترتیب کیا ہونی چاہئے ۔ اس آیت میں ارشاد ہے کہ کفار میں سےجو لوگ تم سے قریب ہوں پہلے ان سے جہاد کیا جائے ۔ قریب ہونا مقام کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے اور رشتہ ، نسب اور تعلقات کے اعتبار سے بھی جو قریب ہوں وہ دوسروں سے مقدم کئے جاویں کیونکہ اسلامی جہاد درحقیقت ان کی خیر خواہی کے تقاضہ سے ہے ۔ اور خیر خواہی وہمدردی میں رشتہ دار تعلقات والے مقدم ہیں ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ۔ (وَاَنۡذِرۡعَشِیۡرَتَکَ اۡلاَ قۡرَبِیۡنَ ) یعنی اپنے قریبی عزیزوں کو اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرائیں ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعمیل فرمائی اور سب سے پہلے اپنے خاندان کے لوگوں کو کلمئہ حق پہنچایا ۔ (معارف القرآن ص 794 ج 4 ) موت سے گھبراہٹ:۔ قرآن پاک میں ہے ( اَیۡنَ مَاتَکُوۡنُوۡا یُدۡرِککُمُ الۡمَوۡتُ ) ۔۔۔۔ الخ ۔ اللہ تعالٰی نے اس آیت میں جہاد سے رکنے والوں کے اس شبہ کا ازالہ کردیا ہے کہ شاہد جہاد سے جان بچاکر موت سے بھی بچ سکتے ہیں ۔اس لئے فرمایا کہ موت ایک دن آکر رہے گی ۔ خواہ تم جہاں کہی بھی ہو وہیں موت آئے گی ۔ جب یہ بات ہے توتمھاراجہاد سےمنہ پھیرنا بےکارہے۔(وَلَوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُرُوۡ جٍ مُشَیَّدَ)اس آیت میں کہاگیاکہ موت تم کوبہر کیف پہنچ کررہےگی اگرچہ تم مضبوط محلوں میں ہی کیوں نہ ہو۔(ص484ج2) جنگ میں بھاگنایاپُشت پھیرنا؛ جنگ چھڑجانےکےبعدپشت پھیرنااورمیدان جنگ سےبھاگنامسلمانوں کےلیےجائزنہیں البتہ دوحالتیں مستثنیٰ ہیں اِلاَّمُتَحَرّفاًلّقِتَال ٍ اَوۡ مُتَحَیّزًااِلٰی فِئَۃٍ۔یعنی جنگ کےوقت پشت پھیرنادوحالتوں میں جائز ہےایک تویہ کہ میدان سے پشت پیھرنا محض ایک جنگی چال کے طور پر دشمن کو دکھانے کے لئے ہو ، حقیقتاً میدان سے ہٹنا مقصد نہ ہو بلکہ مخالف کو ایک غفلت میں ڈال کر یکبار گی حملہ پیشِ نظرہو ، دوسری استثنائی حالات میں جس میدان سے پشت پیھرنے کی اجازت ہے یہ ہے کہ اپنے موجودہ لشکر کی کمزوری کا احساس کرکے اس لئے پیھچے ہٹیں کہ مجاہدین کی مزیدکمک حاصل کرکے پھر حملہ آور ہو ں سورہ انفال 66 ( فَاِنۡ یِّکُنۡ مّنۡکُمۡ مِائَۃ صَابِرَۃ یَّغۡلَبُوۡا مَا ئَتَیۡنِ الایۃ ۔ یعنی اگر مسلمان سوآدمی ثابت قدم ہوں تو دوسوکفار پر غالب رہنے کی توقع ہے۔ اس لئے پشت پھیرنا جائز نہیں ۔ ہاں فریق مخالف کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہوجائے تو ایسی حالت میں میدان چھوڑ دینا جائز ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ (عنہم) نے فرمایا کہ جو شخص اکیلا تین آدمیوں کے مقابلہ سے بھاگا وہ بھاگا نہیں ۔ ہاں جو دو آدمیوں کے مقابلہ میں بھاگا وہ بھاگنے والا ہے ۔ یعنی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے ۔ اب یہی حکم قیامت تک باقی ہے ۔ جمہور امت اور ائمہ کے نزدیک حکمِ شرعی یہی ہے کہ جب تک فریق کی تعداد دوگنی سے زیائد ہو اس وقت تک میدان جنگ سے بھاگنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے ۔ ( معارف ص 200 ج 4 ) 4۔ نزاع اوراختلاف؛ سورۂانفال کی آیت46میں مضرپہلوؤں پرتنبیہ کرکےان سےبچنےکی ھدایت ہےاوروہ مضرپہلوجوجنگ کی کامیابی میں مانع ہوتا''باہمی نزاع اوراختلاف ہے(نتیجتاً)تم میں بزدلی پھیل جائےگی اورتمھاری ہوا اکھڑجائے گی ۔وَاصۡبِرُوۡا۔میں نزاع اورجھگڑوں سےبچنےکاکامیاب نسخہ بتلایاہے اسی صفت کانام صبرہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل نظرہے کہ قرآن کریم میں اس جگہ ۔لاَ تَنَازَعُوۡا۔فرمایاہے۔یعن ی باہمی کشاکش کوروکا ہے۔اختلاف یااس کےاظہارسےمنع نہیں کیا،اختلافِ رائےجودیانت اوراخلاص کےساتھ ہووہ کھبی نزاع کی صورت اختیارنہیں کرتا۔نزاع وجدال وہیں ہوتاہے جہاں اختلاف رائےکےساتھ اپنی بات ماننےکاجذبہ کام کررہا ہو۔(معارف ص253ج4) 5۔ مال غنیمت میں خیانت؛ لفظ غلول خیانت کےمعنی میں بھی استعمال ہوتاہےاورخاص کرمال غنیمت کی خیانت کےلیےبھی ۔اورمال غنیمت چوری اورخیانت اورجرم عام چوریوں اورخیانتوں سےزیادہ اشدہے،کیونکہ مال غنیمت میں پورے لشکراسلام کاحق ہوتاہے،توجس نےاس میں چوری کی اس نےسینکڑوں،ہزاروں آدمیوں کی چوری کی،اگرکسی وقت تلافی کاخیال بھی آوےتوبہت مشکل ہےکہ سب کوان کاحق پہنچائےیامعاف کرائے۔بخلاف دوسری چوریوں کےکہ مال کامالک معلوم ومتعین ہے کسی وقت اللہ نےتوبہ کی توفیق دی تواس کاحق اداکرکے معاف کراکربری ہوسکتاہے۔یہی وجہ تھی کہ غزوہ میں ایک شخص نے اون کا کچھ حصہ چھپاکراپنے پاس رکھ لیاتھا۔ مال غنیمت کامال تقسیم ہونےکےبعداس کوخیال آیاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لےکرحاضرہوا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم باوجودرحمتہ للعالمین ہونےاورامت پرماں باپ سےزیادہ شفیق ہونےکےاس کویہ کہہ کرواپس کردیاکہ اب میں کس طرح سارے لشکرمیں تقسیم کروں اب توقیامت کےروزہی تم اس کولےحاضرہوگے۔ اس لئےغلول کی سزابھی عام چوروں سے زیادہ اشدہے۔کہ میدان حشرمیں جہاں ساری مخلوق جمع ہوگی۔سب کےسامنےاس کواس طرح رسواکیاجائےگاکہ جومال چوری کیاتھاوہ اس کی گردن پرلداہوگا۔صحیحین میں روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (عنہم) مذکورہےکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ دیکھوں ایسانہ ہوکہ قیامت والےروزمیں کسی کو اس طرح دیکھوں کہ اس کی گردن پر اونٹ لداہوا ہے۔(اوریہ اعلان ہوتاہوکہ اس نےمال غنیمت کااونٹ چرایاتھا) وہ شخص اگرمجھ سےشفاعت کاطالب ہوگاتومیں اس کوصاف جواب دےدوں گاکہ میں نےحکمِ الٰہی پہنچا دیا،اب میں کچھ نہیں کرسکتا۔ اللہ بچائےیہ میدان حشرکی رسوائی ایسی ہوگی کہ بعض روایات میں ہےکہ جن کےساتھ یہ معاملہ ہوگاوہ تمنا کریں گےکہ ہمیں جہنم میں بیھج دیا جائے مگر اس رسوائی سے بچ جائیں ۔ (معارف ص 233 ج 2 ) 6 :۔ فخر وعجب قرآن پاک کی آیت ( فَلَمۡ تَقۡتُلُو ھُمۡ وَلَکِنَّ اللہَ قَتَلَھُمۡ )8؛17) میں یہ ہدایت دی گی ہے کہ اپنے سعی عمل پر ناز نہ کرو یہ جو کچھ ہوا وہ تمہاری کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خالص حق تعالٰی کی نصرت و امداد کاثمرہ تھا ۔ جو دشمن تمہارے ہاتھوں قتل ہوئے ان کو درحقیقت تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالٰی نے قتل کیا ہے اس ہدایت کے ذریعہ اس فخر وعجب کی خرابی سے بچالیا جس کے نشے میں عموماً فاتح اقوام مبتلاہو جایا کرتی ہیں ۔ ( ص 202 ج4 ) اللہ تعالٰی ہم سب کوجذبہ جہاداوراخلاص نصیب فرمائےاورشرعی اصولوں کےتحت جہاد کرنےاورشہادت فی سبیل اللہ کی دولت سےمشرف فرمائیں۔ آمین بحرمتہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔ |
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | السیف (25-11-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
جہاد کے فضائل
جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی کیا جائے تو وہ قیامت کے دن اس حال مین آئے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہو گا۔ اس کے خون کا رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس کی خوشبو مشک جیسی ہو گی۔۔۔۔۔(بخاری و مسلم) اللہ کے راستے میں شہید ہونا قرض کے علاوہ ہر چیز کا کفارہ ہے۔۔۔۔(مسلم) سب لوگوں سے زیادہ اس آدمی کی زندگی بہتر ہے جو جہاد کے لیئے اپنے گھوڑے کی لگام پکڑتا ہے ۔اس کی پشت پر بیٹھ کر دوڑتا پھرتا ہے ۔ جب بھی وہ کسی دشمن کے آنے کا شور یا دشمن کی طرف چلنے کا کھٹکا سنتا ہے تو تیزی سے دوڑ پڑتا ہے ۔وہ شہادت اور موت کو موت کی جگہوں سے تلاش کر رہا ہوتا ہے۔۔۔۔(مسلم) بے شک جنت میں سو درجے ہیں۔ جو اللہ نے مجاہدین کے لیئے تیار کر رکھے ہیں ۔ ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فیصلہ ہے ،جتنا آسمان اور زمیں کے درمیان۔۔۔۔ (بخاری و مسلم) اللہ کے راستے مین جہاد کرو ۔کیونکہ جو بھی اللہ کے راستے میں فواق ناقہ(دو مرتبہ دودھ دھونے کا درمیانی وقفہ)کے بقدر لڑائی کرتا ہے ۔ اللہ کی طرف سے اس کے لیئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔۔۔۔(مسند احمد۔ ترمزی) اللہ کے راستے میں جس آدمی کے پاوں پر غبار پڑی اس کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔۔۔۔۔۔(البخاری) دو آنکھیں ایسی ہیں جن کو جہنم کی آگ چھوئے گی بھی نہیں ۔ ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے رو پڑی اور دوسری وہ آنکھ جس نے اللہ کے راستے میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری۔۔۔۔(مسند احمد ۔ نسائی) |
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | السیف (25-11-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ دین کے کاموں میں کون ساعمل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنا‘ میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا‘ میں نے پوچھا اور اس کے بعد ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہا د کرنا ۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سوالات نہیں کئے‘ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ان کے جوابات عنایت فرماتے ۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتح مکہ کے بعد اب ہجرت ( فرض ) نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت بخیر کرنا اب بھی باقی ہیں اور جب تمہیں جہاد کے لئے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہوا کرو
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
راوی انس بن مالک رضی اللہ عنہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ( یہ انس کی خالہ تھیں جو عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں ) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور ‘ اس عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے‘ جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے ۔ ام حرام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے کے لئے دریا کے بیچ میں سوار اس طرح جارہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پرہوتے ہیں یا جیسے بادشاہ تخت رواں پر سوار ہوتے ہیں یہ شک اسحاق راوی کو تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایئے کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے کردے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کےلئے دعا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سوگئے‘ اس مرتبہ بھی آپ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں غزوہ کے لئے جا رہے ہیں پہلے کی طرح‘ اس مرتبہ بھی فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے میرے لئے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہیں میں سے کردے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تو سب سے پہلی فوج میں شامل ہوگی ( جو بحری راستے سے جہاد کرے گی ) چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ام حرام رضی اللہ عنہ نے بحری سفر کیا پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو ان کی سواری نے انہیں نیچے گرادیا اوراسی حادثہ میں ان کی شہادت ہوگئی حدیث نمبر : 2788 صحیح بخاری |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اورنماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ جنت میں داخل کرے گا خواہ اللہ کے راستے میں وہ جہاد کرے یا اسی جگہ پڑارہے جہاں پیدا ہواتھا ۔ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کئے ہیں‘ ان کے دودرجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان وزمین میں ہے ۔ اس لئے جب اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو تو فردوس مانگو کیونکہ وہ جنت کا سب سے درمیانی درجہ ہے اور جنت کے سب سے بلند درجے پر ہے یحییٰ بن صالح نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں یوں کہا کہ اس کے اوپر پروردگار کا عرش ہے اوروہیں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں ۔
حدیث نمبر : 2790 صحیح بخاری |
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | سحر (02-11-09) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
راوی
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ میں نے رات میں دو آدمی دیکھے جو میرے پاس آئے پھر وہ مجھے لے کر ایک درخت پر چڑھے اور اس کے بعد مجھے ایک ایسے مکان میں لے گئے جو نہایت خوبصورت اور بڑا پاکیزہ تھا‘ ایساخوبصورت مکان میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ ان دونوں نے کہا کہ یہ گھر شہیدوں کا ہے حدیث نمبر : 2791 صحیح بخاری |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,530
کمائي: 298,224
شکریہ: 36,136
13,829 مراسلہ میں 40,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اپنے آپ کو جہاد کے لئے تیار کرنا ہی جہاد بالنفس ہے
فرمان خداوندی ہے تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہاری آزمائش ہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | sahj (08-03-10), کنعان (08-03-10), مسٹر شیف (08-03-10), عبداللہ آدم (08-03-10), عبداللہ حیدر (07-03-10) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اللہ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے اور مجھ سمیت تمام اہل اسلام کو جہاد (قتال) کے واسطے ھردم تیار رہنے والا بنائے، آمین والسلام |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| .net, color, magenta, php, فن, فرض, کوششں, کتابوں, پاکستان, قید, قرآن, قرآن حکیم, لوگ, نفرت, چور, نماز, نظر, مکہ, مکمل, موت, موجودہ, منافقین, ممکن, ماں, مجید, آج, آدمی, ایمان, اللہ, بھائی, تلاش, تعلیم, جھوٹ, جرم, حال, حدیث, حزب اللہ, خون, دریافت, دعا, رمضان, رات, زندگی, زمانہ, سفر, شور, شام, شخص, عنایت, عبادت, عباس, عبداللہ, عرش, عرض, غبار, غزوہ, غزوہ بدر, صالح, صحابہ, صحابی, صدقہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میں تو لفظ لفظ تیری تیری ذات ہوں | زارا | شعر و شاعری | 1 | 12-02-11 07:53 AM |
| گھریلو صارفین احتیاطی تدابیر اختیار کریں، گیس کی بو ہو تو بجلی کے بٹن آن نہ کریں | گلاب خان | خبریں | 1 | 08-01-11 12:29 PM |
| کرپٹ افسران کے خلاف شکنجہ تیار کرنے کی تیاری | جاویداسد | خبریں | 1 | 27-07-10 01:14 PM |
| بے احتیاطی یا تیز رفتاری کا نتیجہ | مسافر | دلچسپ اور عجیب | 3 | 02-10-09 01:03 PM |
| تفتیشی ٹیم کو موت کی وجہ جاننے سے آگے کا اختیار نہیں، برطانوی ہائی کمیشن | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 07-01-08 07:51 AM |