واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > جہاد



جہاد جہاد


جہاد ( قرآن کی روشنی میں)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 15-01-10, 02:43 AM   #1
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,108
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جہاد ( قرآن کی روشنی میں)

جہاد ( قرآن کی روشنی میں)

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
یہ سوال باقی ہے کہ جنگ میں لشکر کفار کا ساتھ دینے والوں کی جان کس حد تک محترم ہے۔ امید ہے بھائی منتظمین اور بھائی کنعان اپنے وسیع مطالعے کی روشنی میں مفصل و مدلل جواب دیں گے۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

جناب عبداللہ بھائی

سوال اگر کوئی نیا بندہ پوچھے تو بات بھی سمجھ میں آتی ھے، پھر کسی خاص نام کی طرف اشارہ کر کے پوچھنا، آپ کا سوال پوچھنے کا مطلب کچھ سمجھ نہیں آیا خیر دیکھتے ہیں کیا بنتا ھے۔



جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں رہے آ پ کو کفار سے لڑنے کی اجا زت نہیں تھی جب ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے اور وہاں بھی کفار نے آپ کا پیچھا نہ چھوڑا تو اللہ تعالی نے لڑنے کی اجازت دے دی ۔


أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ
ان لوگوں کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی ہے جن سے (ناحق) جنگ کی جا رہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک ﷲ ان (مظلوموں) کی مدد پر بڑا قادر ہے
20:39

اس کے بعد اللہ تعالی نے مسلمانوں پرلڑنا فرض فرما دیا ۔

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ
( ﷲ کی راہ میں ) قتال تم پر فرض کر دیا گیا ہے
02:216


کفار سے لڑائی اس وقت تک فرض کر دی ہے جس کے مقاصد درج ذیل ہیں۔


1- فتنے کا خاتمہ

جب تک دنیا کے کسی خطے میں کفار کے پاس وہ طاقت و شوکت موجود ہے کہ وہ اسلام کی وجہ سے کسی کو فتنہ میں مبتلا کر سکتے ہوں اگر کوئی ایمان لانا چاہتا ہو تو ان کی سزا اور تکلیف کے خوف سے ایمان لانے سے جھکتا ہو اور کوئی ایمان لے آئے تو اسے ان کے ظلم و تشدد کانشانہ بننا پڑتا ہو اس وقت تک ان سے لڑنا فرض ہے کہ اسلام لانے کی راہ کی ہر رکاوٹ (فتنہ)ختم ہو جائے ۔اللہ تعالی نے فرمایا ۔

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلّهِ فَإِنِ انتَهَواْ فَلاَ عُدْوَانَ إِلاَّ عَلَى الظَّالِمِينَ
اور ان سے جنگ کرتے رہو حتٰی کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین (یعنی زندگی اور بندگی کا نظام عملًا) ﷲ ہی کے تابع ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر زیادتی روا نہیں
02:193


2- غلبہ اسلام


جب تک تمام دنیا میں اسلام غالب نہ ہو جائے اور ہر جگہ اللہ کا قانون نافذ نہ ہو جائے کفار سے لڑتے رہنا فرض ہے ۔


وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّهِ فَإِنِ انتَهَوْاْ فَإِنَّ اللّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
اور (اے اہلِ حق!) تم ان (کفر و طاغوت کے سرغنوں) کے ساتھ (انقلابی) جنگ کرتے رہو، یہاں تک کہ (دین دشمنی کا) کوئی فتنہ (باقی) نہ رہ جائے اور سب دین (یعنی نظامِ بندگی و زندگی) اللہ ہی کا ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ اس (عمل) کو جو وہ انجام دے رہے ہیں، خوب دیکھ رہا ہے
08:39


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

عن ابن عمر رضي الله عنهما ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال :
( أمرت أن أقاتل الناس ، حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله ، وأن محمدا رسول الله ، ويقيموا الصلاة ، ويؤتوا الزكاة ، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحق الإسلام ، وحسابهم على الله تعالى )
رواه البخاري و مسلم .
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں نے لوگوں سے لڑتا رہوں یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ ہیں اورنماز قائم کریں اور زکوة ادا کریں جب وہ یہ کام کریں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لئے مگر اسلام کے حق کے ساتھ ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے ۔

(بخاری و مسلم )


3- ان سے لڑتے رہنا فرض ہے


قَاتِلُواْ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَلاَ بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلاَ يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَلاَ يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُواْ الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ
(اے مسلمانو!) تم اہلِ کتاب میں سے ان لوگوں کے ساتھ (بھی) جنگ کرو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حق (یعنی اسلام) اختیار کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ (حکمِ اسلام کے سامنے) تابع و مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے خراج ادا کریں
9:29


4- کمزوروں کی مدد

جب دنیا کے کسی خطے میں کمزوروں پر ظلم ہو رہا ہو انہیں ظلم سے نجات دلانے تک لڑتے رہنا فرض ہے ۔


وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا
اور (مسلمانو!) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں (غلبۂ دین کے لئے) اور ان بے بس (مظلوم و مقہور) مردوں، عورتوں اور بچوں (کی آزادی) کے لئے جنگ نہیں کرتے جو (ظلم و ستم سے تنگ ہو کر) پکارتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جہاں کے (وڈیرے) لوگ ظالم ہیں، اور کسی کو اپنی بارگاہ سے ہمارا کارساز مقرر فرما دے، اور کسی کو اپنی بارگاہ سے ہمارا مددگار بنا دے
04:75


5- مقتولین کا بدلہ


اگر کافر کسی مسلمان کو قتل کر دیں تو اس کا بدلہ لینا فرض ہے ۔ ہاں اگر مسلمان کو کسی مسلمان نے قتل کر دیا ہو تو دینی اخوت کی وجہ سے ویت بھی ہو سکتی ہے ‘ معانی بھی ۔ مگر کافر سے بدلہ فرض ہے الایہ کہ وہ مسلمان ہو جائے ۔


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى
اے ایمان والو! تم پر ان کے خون کا بدلہ (قصاص) فرض کیا گیا ہے جو ناحق قتل کئے جائیں
2:178

2 ھجری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف عمرہ کی ادائیگی کے لئے مکہ تشریف لائے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ لڑنے کا نہیں تھا کفار نے آپ کو روک دیا تب بھی آپ نے لڑائی نہیں کی ۔آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا مکہ والوں نے انہیں واپس نہ آنے دیا تو مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ حضرت عثمان کو رضی اللہ تعالی عنہ قتل کر دیے گئے ہیں ۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا اب ہم ان لوگوں سے لڑائی کئے بغیر نہیں جائیں گے اورآپ نے چودہ سوساتھیوں سے لڑائی کی بیعت لی ۔کفار نے یہ سنا تو جناب عثمان کو واپس دیا ۔
(مختصر سیرة الرسول اورسیرة ابن ہشام )

صاف ظاہر ہے کہ یہ بیت قصاص عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے لی گئی تھی ۔اللہ تعالی نے اس بیعت پراپنی رضا کااعلان قرآن مجید میں نازل فرمایا ۔

لقد رضی اللہ عن المومنین اذیبا یعونک الشجرة
(الفتح)

یقینا اللہ تعالی مومنوں سے راضی ہو گیا جس وقت وہ درخت کے نیچے تجھ سے بیت کر رہے تھے ۔

8 ھ میں آپ نے صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حارث بن عمیر ازودی رضی اللہ تعالی عنہ کو خط دے کر بصری کے حاکم کی طرف بیجا ۔ راستے میں شرحیل بن عمرو غسانی نے جو قیصر کی طرف سے بلقاء شام کی گورنر تھا‘ انہیں گرفتار کر کے شہید کر دیا ۔آپ کو اطلاع پہنچی تو آپ کو سخت صدمہ ہوا ۔آپ نے تین
ہزار کا لشکر تیار کیا اتنا لشکر اس سے پہلے غززہ خندق کے علازہ کبھی جمع نہیں ہوا ۔زید بن حارثہ کو ان کا امیر مقر فرمایا اورانہیں حکم دیا کہ جہاں حارث بن عمیر قتل کئے گئے وہاں جا کر انہیں اسلام کی دعوت دو اگر قبول کریں تو درست ورنہ اللہ سے مدد مانگ ان سے لڑو ۔یہی وہ جنگ موتہ جس میں تین ہزار مسلمان دو لاکھ کفار سے لڑے مسلمانوں کے یکے بعد دیگرے تین امیر شہید ہوئے۔ پھر سیف اللہ خالد رضی اللہ تعالی عنہ نے کمان سنبھالی اوراللہ تعالی نے فتح فرمائی ۔
(الرحیقا المختوم )

اس علاقے کے لوگوں کو مزید سبق سکھانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے قریب انہی زید بن حارثہ کے فرزند ارجمند اسامہ کو لشکر کا امیر بنا کر روانہ فرمایا تھا ‘ جس کی تکمیل حضرت ابوبکر صدیق صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں ہوئی ۔


6- معاہدہ توڑنے کی سزا


اگر کوئی قوم مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑ ڈالے تو اس سے لڑنا فرض ہے ۔

وَإِن نَّكَثُواْ أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُواْ فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُواْ أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لاَ أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ
اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو تم (ان) کفر کے سرغنوں سے جنگ کرو بیشک ان کی قَسموں کا کوئی اعتبار نہیں تاکہ وہ (اپنی فتنہ پروری سے) باز آجائیں
09:12


اللہ تعالی نے مسلمانوں کا عہد توڑنے والی قوم سے جنگ کرنے کی صورت میں مسلمانوں کو چھ بشارتیں بھی دیں ہیں ۔

قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ
تم ان سے جنگ کرو، اللہ تمہارے ہاتھوں انہیں عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا اور ان (کے مقابلہ) پر تمہاری مدد فرمائے گا اور ایمان والوں کے سینوں کو شفا بخشے گا
9:14

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 2 ھجری میں قریش مکہ سے دس سال کے لئے صلع کر لی تھی اور اس صلح میں ان کی ایسی کڑی شرط بھی قبول فرما لی تھیں جو مسلمانوں کو سخت ناگوار تھیں ۔ مگر ۸ھ میں قریش نے صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف قبیلہ بنو خزاعہ کے خلاف فوجی کاروائی میں حصہ لے کر معاہدہ صلع توڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہزار کا جانبازوں کے لشکر کے ساتھ مکہ پرحملہ کر دیا اور مکہ فتح فرما لیا ۔


7- دفاع کے لئے لڑنا


جب کوئی قوم مسلمانوں پر حملہ آور ہو جائے تو دفاع کے لئے لڑنا فرض ہے ۔


وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
اور ﷲ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک ﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا
2:190


8- مقبوضہ علاقہ چھڑوانا



اگر کفار مسلمانوں کی کسی جگہ پر قبضہ کر لیں تو انہیں وہاں سے نکالنا اور مسلمانوں کا قبضہ دوبارہ بحال کرنا فرض ہے ۔

وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ
اور (دورانِ جنگ) ان (کافروں) کو جہاں بھی پاؤ مار ڈالو اور انہیں وہاں سے باہر نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا
2:191


سورة بقرہ میں طالوت کی قیادت میں بنی اسرائیل کی جس جنگ کا ذکر ہے وہ بھی مسلمانوں کے علاقے واپس لینے کے لئے لڑی گئی تھی۔ اللہ تعالی نے ان مجاہدوں کاقول نقل فرمایا ہے ۔


وَمَا لَنَا أَلاَّ نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ ﷲ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَارِنَا وَأَبْنَآئِنَا
ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم ﷲ کی راہ میں جنگ نہ کریں حالانکہ ہمیں اپنے گھروں سے اور اولاد سے جدا کر دیا گیا ہے


اللہ تعالی نے مسلمانوں کی تعداد اور نہایت کم ہونے کے باوجود ان کی خاص مدد فرمائی اور داﺅد علیہ السلام نے کفار کے سپہ سالار جالوت کو قتل کر دیا اور کفار کو شکست ہوئی۔
مکہ کی فتح میں کفار کے معاہدہ توڑنے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی شامل تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کو سر زمین مکہ سے نکالا تھا ۔


قرآن مجید سے یہ آٹھ مقاصد لکھے گئے ہیں جن کے حاصل ہونے تک اللہ تعالی نے کفار سے لڑنے رہنے کا حکم دیا ہے۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
sahj (15-01-10), فیصل ناصر (15-01-10), میاں شاہد (18-08-10), محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), احمد نذیر (23-11-11), اخترحسین (19-01-10), بلال اویسی (14-07-10), راجہ اکرام (15-01-10), رضی (16-01-10), سحر (15-01-10), طاھر (15-01-10), عبداللہ آدم (14-07-10), عبداللہ حیدر (15-01-10)
کمائي نے کنعان کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
18-08-10 میاں شاہد , جہاد/جہاد-قرآن-کی-روشنی-میںJazak ALLAH 150
پرانا 15-01-10, 04:08 PM   #2
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,970
کمائي: 276,803
شکریہ: 33,218
12,658 مراسلہ میں 37,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کنان بھائی اللہ آپکو جزائے خیر دے
مندرجہ بالا ارشادات کی روشنی میں آج پاکستان، افغانستان ،عراق اور فلسطین کے حالات میں ہماری کیا ذمہ داریاں ہونی چاہئیں ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (16-01-10), محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), احمد بلال (14-07-10), اخترحسین (19-01-10), شاہ (15-01-10), عبداللہ آدم (14-07-10)
پرانا 16-01-10, 01:08 AM   #3
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,108
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ، تفصیلی جواب کے لیے شکر گزار ہوں لیکن معذرت کے ساتھ کہ تشنگی ابھی باقی ہے۔ کفار کے ساتھ جہاد میں تو کسی کو شک نہیں‌ہے۔ میرا سوال کلمہ گو لوگوں کے بارے میں ہے کہ اگر وہ جنگ میں کفار و مشرکین کے ساتھی بن کر آئیں تو کیا ان کی جان کی حرمت قائم رہے گی یا نہیں۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

بھائی معذرت کی کوئی ضرورت نہیں آپ اس کے بغیر ہی گفتگو جاری رکھ سکتے ہیں، چلیں ایک بار پھر کوشش کرتے ہیں۔


پاکستان میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی موجودہ لہر نے ہر حساس دل کو تڑپا کر رکھ دیا ہے۔ مسلمان مسلمان کا خون بہانے میں مصروف ہے۔ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ یہ اللہ کے عذاب کی ایک شکل ہے۔

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ
(سورۃ الانعام - 65)
فرما دیجئے: وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے (خواہ) تمہارے اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر کے آپس میں بھڑائے اور تم میں سے بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ دیکھئے! ہم کس کس طرح آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ یہ (لوگ) سمجھ سکیں


جو لوگ جہاد کے نام پر ملک میں دہشت گردی کر رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمان کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا
(سورۃ النساء ۔ 93)
اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے


رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا :

فإِنَّ دِماءَكم وأموالكم وأعراضكم وأبشارَكم عليكم حَرام كحرْمةِ يومكم هذا، في شهركم هذا، في بَلدِكم هذا. ألا هل بَلغتُ؟ قلنا: نعم۔
(صحیح البخاری 6924)
''تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ''جی ہاں۔''

جو شخص امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ہتھیار اٹھاتا ہے، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے:

''من حملَ علينا السلاحَ فليسَ منا''
(صحیح البخاری حدیث نمبر6916)
''جس نے ہم (مسلمانوں) پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔''


مسلمان کو قتل کرنا تو بہت دور کی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو اس سے بھی منع فرمایا کہ ہتھیار کے ساتھ مسلمان کی طر ف اشارہ کیا جائے:

لا يُشيرُ أحدُكم على أخيهِ بالسلاح، فإِنه لا يدري لعلَّ الشيطانَ يَنزغُ في يدَيه فيقع في حُفرَة منَ النار
( صحیح البخاری حدیث نمبر 6918 )
'' تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے۔ اسے کیا معلوم کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ سے اسے (ہتھیارکو) گرا دے (یا چلا دے) تو (مسلمان کو قتل کرنے کی وجہ سے) وہ جہنم کے ایک گڑھے میں جا گرے۔''

دورِ نبوی میں کوئی شخص اگر تیر لے کر مسجد یا بازار میں جاتا تو اسے حکم دیا جاتا تھا کہ وہ اس کی نوک کو پکڑے رہے ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کو خراش آ جائے۔
صحیح بخاری
اللہ اکبر۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی امت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

''لا ترجِعوا بَعدي كفّاراً يَضرِبُ بعضُكم رِقابَ بعضٍ
(صحیح البخاری کتاب الفتن۔ باب لا ترجعوا بعدی کفارا)
میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا کہ آپس میں ایکدوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔''

اور فرمایا:

سِبابُ المسلم فُسوقٌ وقِتالُهُ كفرٌ
(صحیح البخاری۔ حدیث نمبر6922)
''مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔''


قتل مسلم کا ارادہ کرنے سے بھی منع فرما دیا۔ فرمایا:

إذا تَواجَهَ المسلمان بسيفَيهما فكلاهما من أهل النار. قيل: فهذا القاتل، فما بالُ المقتول؟ قال: إنه أرادَ قتلَ صاحبه
(بخاری حدیث نمبر6929)
'' جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔'' صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا '' اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔''


اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپس کی لڑائیوں سے سختی سے منع کیا ہے اور بتایا ہے کہ آپس کی لڑائیاں مسلمانوں کی ہلاکت کا سبب بنیں گی۔ جو لوگ جہاد کے نام پر یہ کاروائیاں کر رہے ہیں انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اُس فرمان کی روشنی میں ہوش کے ناخن لینے چاہییں جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا کہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قحط کے ذریعے تباہ نہ کی جائے گی، اور نہ کوئی ایسا دشمن باہر سے ان پر مسلط کیا جائے گا جو انہیں بالکل ختم کر دے۔ امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر تباہ ہو گی تو ایک دوسرے کو قتل کرنے کی وجہ سے ہو گی۔ اصل الفاظ یہ ہیں

حَتَّىٰ يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضاً،
(صحیح المسلم حدیث نمبر7207)
''یہاں تک امت کا ایک گروہ دوسرے گروہ کو ہلاک کرنے لگے۔''

مذکورہ بالا آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:


مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
(المائدۃ ۔ 32)
'' جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔''

مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کلمہ گو کی جان لے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر بھیجا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے صبحدم اپنے دشمنوں کو جا لیا اور انہیں شکست دی۔ ان میں سے ایک شخص میرے اور ایک انصاری صحابی کے قابو میں آگیا۔ جب ہم نے اس پر قابو پایا تو اس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا۔ اس پر انصاری صحابی نے اسے چھوڑ دیا لیکن ( میں نے سمجھا کہ وہ جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے اس لیے ) میں نےاسے نیزہ مارا اورختم کر دیا۔ پھر ہم واپس ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے فرمایا '' اے اسامہ! تو نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی قتل کر دیا ؟'' میں نے عرض کیا ''وہ جان بچانا چاہتا تھا۔'' لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بار بار اس جملے کو دہراتے رہے کہ '' اے اسامہ! تو نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی قتل کر دیا ؟
'' حتٰی کہ میں نے تمنا کی کاش میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا تو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے میرا یہ گناہ ختم ہو جاتا
۔
(بخاری حدیث نمبر4170)


أفَلاَ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ؟
(مسلم، الصحيح، کتاب الايمان، باب تحريم قتل الکافر بعد أن قال لا إله إلا اﷲ، 1 : 96، رقم : 96)
ترجمہ : کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اس مقتول کے ورثاء کو پوری دیت ادا کرنے کا حکم فرمایا

{إِنَّمَا جَزَاء الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُواْ أَوْ يُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ يُنفَوْاْ مِنَ الأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ }
(33) سورة المائدة
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں، ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دئیے جائیں یا سولی چڑھا دئیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور ایک طرف کے پاﺅں کاٹ دئیے جائیں یا ملک سے نکال دئیے جائیں۔ یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لےے بڑا (بھاری) عذاب ہے۔

-----------------------------------
-----------------------------------

جناب یہ میں نے نقل کیا ھے جواب کہیں اور جگہ سے مگر آپ نے اسے پہلے ہی یہاں لگایا ہوا ھے تو پھر آپ کا سوال پوچھنے کا کیا مقصد تھا یہ تو اللہ ہی جانتا ھے پھر بھی میں‌ آپ کا لنک بھی لگا دیتا ہوں کہاں پر

پاکستان میں خود کش حملے اور خونِ مسلم کی حرمت
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
sahj (16-01-10), فیصل ناصر (24-04-10), میاں شاہد (18-08-10), منتظمین (16-01-10), محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), آبی ٹوکول (14-07-10), احمد نذیر (23-11-11), بلال اویسی (14-07-10), سحر (16-01-10), طاھر (16-01-10)
پرانا 16-01-10, 01:30 AM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا اسلام میں اس بات کی اجازت ہے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا اٹھے اور جہاد کا اعلان کر دے؟ اور معصوم لوگوں کی جان لینا شروع کردیے۔ امید ہے کہ اس پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ اس سوال کے جواب کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ مسلمانوں کو کس کا ساتھ دینا چاہیے۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
کنعان (16-01-10), محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), آبی ٹوکول (14-07-10), حیدر Rehan (16-01-10), رضی (16-01-10)
پرانا 16-01-10, 01:36 AM   #5
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,108
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کنان بھائی اللہ آپکو جزائے خیر دے
مندرجہ بالا ارشادات کی روشنی میں آج پاکستان، افغانستان ،عراق اور فلسطین کے حالات میں ہماری کیا ذمہ داریاں ہونی چاہئیں ؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
کیا اسلام میں اس بات کی اجازت ہے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا اٹھے اور جہاد کا اعلان کر دے؟ اور معصوم لوگوں کی جان لینا شروع کردیے۔ امید ہے کہ اس پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ اس سوال کے جواب کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ مسلمانوں کو کس کا ساتھ دینا چاہیے۔

والسلام

السلام علیکم بھائی

آپ کے سوال کا جواب میں بخوبی دے سکتا ہوں اس سے پہلے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

فارمز ایک ایسی پلیٹ فارم ھے جہاں پر ہر گروپ کا بندہ موجود ہوتا ھے، میں جتنے بھی دھاگے بناتا ہوں تو اس میں ایسا کوئی بھی میٹیریل نہیں لگاتا کہ جس پر کسی گروپ کو کوئی اعتراض ہو اور دوسرں کی پوسٹ جو میں جانتا ہوں اس پر اپنے ویوز دیتا ہوں۔

آپ جو سوال کا جواب مانگ رہے ہیں مجھے اس کو جواب دینے میں کوئی اعتراض نہیں ھے مگر اس پر کچھ لوگ سمجھیں گے جن کے پاس تعلیم کا خزانہ ھے اور جن کی تعلیم رٹا لگا کر کی ہوئی ھے وہ بنا سوچے سمجھے حرکت میں آ جائیں گے۔

اگر آپکی اجازت ہو تو میں اس پر لکھوں گا اور اس کے لئے تھوڑا وقت لگے گا اگر جواب ٹھیک نہ ہوا تو سزا آپ تجویز کر لینا۔
بتائیں

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (16-01-10), میاں شاہد (18-08-10), منتظمین (16-01-10), محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), آبی ٹوکول (14-07-10), احمد بلال (14-07-10), عبدالقدوس (28-08-10)
پرانا 16-01-10, 01:41 AM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نعرے لگانے والوں نے صرف نعرے ہی لگانے ہوتے ہیں مرتے تو غریبوں کے بچے ہیں۔ دونوں طرف سے۔ اپ نے بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی منافقت والا موضوع تو پڑھا ہی ہوگا۔ کسی کا بیٹا امریکہ سے پڑھ رہا ہے تو کسی کا برطانیہ سے۔ کوئی ایم بی اے کر رہا ہے اور کوئی آئی ٹی چلا رہا ہے۔
اوردوسروں کے لیے یہ سب شجر ممنوعہ قرارد دیتے ہیں۔ گو امریکہ گو، بینکاری حرام، انٹرنیٹ کاروبار حرام کہ لوگ کیا کیا دیکھتےہیں۔ لیکن جب ہن کی بارش اپنے گھر میں ہوتی ہے تو پھر کیا کیا باب حیل نہیں کھولے جاتے۔

اپ تسلی سے لکھیں۔۔۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
کنعان (16-01-10), محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), عبدالقدوس (28-08-10)
پرانا 16-01-10, 02:36 AM   #7
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,970
کمائي: 276,803
شکریہ: 33,218
12,658 مراسلہ میں 37,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ جو چاہیں لکھیں بس یہ خیال رہے ہم مسلمان ہیں اور اللہ کے احکامات میں پس و پیش یا تاویلیں نکالنے کے بجائے ان پر آمنا صدقنا عمل کرنا ہی ایک مسلمان کا فرض عین ہے ۔
کوئی مسلک اور کوئی تعلیم اللہ کے احکامات سے آگے نہیں بڑھ سکتی
"لبیک الھم لبیک "بس یہ وہ جملہ ہے جو مالک ہمارے دہن و ذہن سے سننے کا متمنی ہے یہی مالک کا تقاضہ ہے اور یہی ہماری کامیابی ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-01-10), میاں شاہد (18-08-10), محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), احمد بلال (14-07-10), سحر (16-01-10), عبدالقدوس (28-08-10), عبداللہ آدم (14-07-10)
پرانا 16-01-10, 11:18 AM   #8
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں


پاکستان میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی موجودہ لہر نے ہر حساس دل کو تڑپا کر رکھ دیا ہے۔ مسلمان مسلمان کا خون بہانے میں مصروف ہے۔ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ یہ اللہ کے عذاب کی ایک شکل ہے۔

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ
(سورۃ الانعام - 65)
فرما دیجئے: وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے (خواہ) تمہارے اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر کے آپس میں بھڑائے اور تم میں سے بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ دیکھئے! ہم کس کس طرح آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ یہ (لوگ) سمجھ سکیں


جو لوگ جہاد کے نام پر ملک میں دہشت گردی کر رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمان کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا
(سورۃ النساء ۔ 93)
اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے


رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا :

فإِنَّ دِماءَكم وأموالكم وأعراضكم وأبشارَكم عليكم حَرام كحرْمةِ يومكم هذا، في شهركم هذا، في بَلدِكم هذا. ألا هل بَلغتُ؟ قلنا: نعم۔
(صحیح البخاری 6924)
''تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ''جی ہاں۔''

جو شخص امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ہتھیار اٹھاتا ہے، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے:

''من حملَ علينا السلاحَ فليسَ منا''
(صحیح البخاری حدیث نمبر6916)
''جس نے ہم (مسلمانوں) پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔''


مسلمان کو قتل کرنا تو بہت دور کی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو اس سے بھی منع فرمایا کہ ہتھیار کے ساتھ مسلمان کی طر ف اشارہ کیا جائے:

لا يُشيرُ أحدُكم على أخيهِ بالسلاح، فإِنه لا يدري لعلَّ الشيطانَ يَنزغُ في يدَيه فيقع في حُفرَة منَ النار
( صحیح البخاری حدیث نمبر 6918 )
'' تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے۔ اسے کیا معلوم کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ سے اسے (ہتھیارکو) گرا دے (یا چلا دے) تو (مسلمان کو قتل کرنے کی وجہ سے) وہ جہنم کے ایک گڑھے میں جا گرے۔''

دورِ نبوی میں کوئی شخص اگر تیر لے کر مسجد یا بازار میں جاتا تو اسے حکم دیا جاتا تھا کہ وہ اس کی نوک کو پکڑے رہے ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کو خراش آ جائے۔
صحیح بخاری
اللہ اکبر۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی امت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

''لا ترجِعوا بَعدي كفّاراً يَضرِبُ بعضُكم رِقابَ بعضٍ
(صحیح البخاری کتاب الفتن۔ باب لا ترجعوا بعدی کفارا)
میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا کہ آپس میں ایکدوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔''

اور فرمایا:

سِبابُ المسلم فُسوقٌ وقِتالُهُ كفرٌ
(صحیح البخاری۔ حدیث نمبر6922)
''مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔''


قتل مسلم کا ارادہ کرنے سے بھی منع فرما دیا۔ فرمایا:

إذا تَواجَهَ المسلمان بسيفَيهما فكلاهما من أهل النار. قيل: فهذا القاتل، فما بالُ المقتول؟ قال: إنه أرادَ قتلَ صاحبه
(بخاری حدیث نمبر6929)
'' جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔'' صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا '' اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔''


اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپس کی لڑائیوں سے سختی سے منع کیا ہے اور بتایا ہے کہ آپس کی لڑائیاں مسلمانوں کی ہلاکت کا سبب بنیں گی۔ جو لوگ جہاد کے نام پر یہ کاروائیاں کر رہے ہیں انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اُس فرمان کی روشنی میں ہوش کے ناخن لینے چاہییں جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا کہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قحط کے ذریعے تباہ نہ کی جائے گی، اور نہ کوئی ایسا دشمن باہر سے ان پر مسلط کیا جائے گا جو انہیں بالکل ختم کر دے۔ امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر تباہ ہو گی تو ایک دوسرے کو قتل کرنے کی وجہ سے ہو گی۔ اصل الفاظ یہ ہیں

حَتَّىٰ يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضاً،
(صحیح المسلم حدیث نمبر7207)
''یہاں تک امت کا ایک گروہ دوسرے گروہ کو ہلاک کرنے لگے۔''

مذکورہ بالا آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:


مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
(المائدۃ ۔ 32)
'' جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔''

مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کلمہ گو کی جان لے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر بھیجا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے صبحدم اپنے دشمنوں کو جا لیا اور انہیں شکست دی۔ ان میں سے ایک شخص میرے اور ایک انصاری صحابی کے قابو میں آگیا۔ جب ہم نے اس پر قابو پایا تو اس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا۔ اس پر انصاری صحابی نے اسے چھوڑ دیا لیکن ( میں نے سمجھا کہ وہ جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے اس لیے ) میں نےاسے نیزہ مارا اورختم کر دیا۔ پھر ہم واپس ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے فرمایا '' اے اسامہ! تو نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی قتل کر دیا ؟'' میں نے عرض کیا ''وہ جان بچانا چاہتا تھا۔'' لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بار بار اس جملے کو دہراتے رہے کہ '' اے اسامہ! تو نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی قتل کر دیا ؟
'' حتٰی کہ میں نے تمنا کی کاش میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا تو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے میرا یہ گناہ ختم ہو جاتا
۔
(بخاری حدیث نمبر4170)


أفَلاَ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ؟
(مسلم، الصحيح، کتاب الايمان، باب تحريم قتل الکافر بعد أن قال لا إله إلا اﷲ، 1 : 96، رقم : 96)
ترجمہ : کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اس مقتول کے ورثاء کو پوری دیت ادا کرنے کا حکم فرمایا

{إِنَّمَا جَزَاء الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُواْ أَوْ يُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ يُنفَوْاْ مِنَ الأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ }
(33) سورة المائدة
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں، ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دئیے جائیں یا سولی چڑھا دئیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور ایک طرف کے پاﺅں کاٹ دئیے جائیں یا ملک سے نکال دئیے جائیں۔ یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لےے بڑا (بھاری) عذاب ہے۔

-----------------------------------
-----------------------------------

جناب یہ میں نے نقل کیا ھے جواب کہیں اور جگہ سے مگر آپ نے اسے پہلے ہی یہاں لگایا ہوا ھے تو پھر آپ کا سوال پوچھنے کا کیا مقصد تھا یہ تو اللہ ہی جانتا ھے پھر بھی میں‌ آپ کا لنک بھی لگا دیتا ہوں کہاں پر

پاکستان میں خود کش حملے اور خونِ مسلم کی حرمت

جزاک اللہ بھائی کنعان

بہترین تحریر کو نکل کیا ھے آپ نے اس تحریر میں موجود اللہ کے کلام سے ثابت ھوتا ھے کہ مسلمان کی حرمت سب سے مقدم ھے
تو پھر آپ کی نظر میں ان لوگوں کا کیا مقام ھے جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو پس پشت ڈال کر امریکی اور تمام کفار کے آگے سر نگوں ہوئے ھوے ہیں
افغانستان میں مسلمان مومنین طالبان کی اسلامی حکومت کے خلاف کافروں کو افغانستان پر حملے کرنے کے لئے راستہ دینے والے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

ھزاروں بلکہ لاکھوں بے گناہ افغان مسلمانوں پر ڈیزے کیٹر اور بموں کی بارش کرنے والے تیاروں کو فضائی اڈے دینے والوں کو آپ کیا مانتے ھو؟

خود پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے زریعے ھزاروں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کروانے والوں کو آپ کیا کہنا پسند کریں گے؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مساجد اور مدارس پر میزائیل پڑتا دیکھ کر بھی اور بے گناہ حفاظ و علماء کے قتل عام پر بانچھیں پھاڑنے والے درندوں کو کیا سمجھتے ھو آپ؟

کیا کافروں کو اپنے کندھے فراھم کرنے والوں کو اللہ کا حکم پورا کرنے والا مانتے ھو؟
کیا مسلمانوں کو قتل کرنے والے کافروں کو دوست بنانے پر فخر کرنے والے اللہ کے مقرب ہیں ؟

شکریہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (16-01-10), میاں شاہد (18-08-10), محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), عبداللہ آدم (14-07-10)
پرانا 16-01-10, 05:58 PM   #9
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,108
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ بھائی کنعان

بہترین تحریر کو نکل کیا ھے آپ نے اس تحریر میں موجود اللہ کے کلام سے ثابت ھوتا ھے کہ مسلمان کی حرمت سب سے مقدم ھے
تو پھر آپ کی نظر میں ان لوگوں کا کیا مقام ھے جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو پس پشت ڈال کر امریکی اور تمام کفار کے آگے سر نگوں ہوئے ھوے ہیں
افغانستان میں مسلمان مومنین طالبان کی اسلامی حکومت کے خلاف کافروں کو افغانستان پر حملے کرنے کے لئے راستہ دینے والے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
شکریہ

السلام علیکم شاھج بھائی

اس دھاگہ میں تھوڑا صبر کریں اگلے مراسلہ مکمل ہونے تک،

شکریہ

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
sahj (17-01-10), فیصل ناصر (17-01-10), محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), عبداللہ آدم (14-07-10)
پرانا 18-01-10, 02:19 AM   #10
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,108
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کنان بھائی اللہ آپکو جزائے خیر دے
مندرجہ بالا ارشادات کی روشنی میں آج پاکستان، افغانستان ،عراق اور فلسطین کے حالات میں ہماری کیا ذمہ داریاں ہونی چاہئیں ؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
کیا اسلام میں اس بات کی اجازت ہے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا اٹھے اور جہاد کا اعلان کر دے؟ اور معصوم لوگوں کی جان لینا شروع کردیے۔ امید ہے کہ اس پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ اس سوال کے جواب کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ مسلمانوں کو کس کا ساتھ دینا چاہیے۔
والسلام
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کچھ باتیں بتانا ضروری سمجھتا ہوں میں نے اردو ادب نہیں پڑھی ہوئی اسی لئے اردو میں لفظوں کو کیسے جوڑنا ھے وہ میں نہیں جانتا مگر میری یہ ہمیشہ کوشش ہوتی ھے کہ کوئی بھی بات/لفظ/جملہ اردو میں ایسا نہ لکھوں جو سکشتہ حال/بدتمیزی اور بدتہزیبی ہو اور کسی کو ناگوار گزرے۔
مطالعہ اور سٹڈیز ہر شعبہ میں کی ہوئی ھے مگر اب یہاں پر کتابیں نہیں اسی لئے انٹرنٹ میں ہی سب کچھ پڑھ کر جو اس میں سے اچھا لگتا ھے اسے نقل کر لیا جاتا ھے اور جو برا لگتا ھے اسے چھوڑ دیا جاتا ھے۔

عریبین گلف، یورپ، انگلینڈ، کینیڈا اور امریکہ جہاں جہاں سے بھی پاکستانی لوگ ان ہوتے ہیں وہ خود تو بیروں ملک میں سکون کی زندگی گزار رہے ہیں اور دوسرں کی جہاد کی دعوتیں انٹرنٹ میں دیتے پھرتے ہیں یوں کہہ لیں کہ دوسرں کو جہاد پر اکساتے ہیں۔ جہاد کی دعوت ایسے نہیں دی جاتی بلکہ جسے جہاد پر جانا ہوتا ھے وہ اپنے قریبی ساتھیوں میں دعوت دیتا ھے اور کوئی جائے یا نہ جائے وہ ضرور جاتا ھے جہاد کرنے کے لئے۔اور جہاد پر باتیں کرنے والوں کی عمر بھی اسی طرح گزر جاتی ھے۔ بھائیو میں کسی کو جہاد کرنے سے منع نہیں کر رہا اور نہ ہی میں جہاد پر کوئی حکم صادر کر رہا ہوں، میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو لوگ کم عمری اور ناعقلی کا شکار ہو کر ایجنسیوں کی پیدا کئے ہوئے بڑی شیو والے نقلی علماء جن کے پاس دینی تعلیم بھی نہیں ہوتی ان کے ہتھکنڈوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنی جان گنوا دیتے ہیں اسے جہاد نہیں کہتے، وہ دہشت گرد ہوتے ہیں اور دھشت گردی کی تعلیم دیتے ہیں اگر کسی کو میری بات پر یقین نہ ہو تو اس کا مسئلہ بھی میں یہیں حل کر دیتا ہوں، آپ اپنے قریبی جس بھی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرتے ہیں وہ نماز جمعہ کروانے والا بندہ عالم فاضل ہوتا ھے، آپ کو اس پر یقین ھے تو آپ اسے کے پیچھے نماز جمہ ادا کر رہے ہیں، اس جمعہ کو جب آپ جمعہ پڑھنے جائیں گے تو اسی امام مسجد جو جمعہ کی نماز پڑھاتا ھے اسے یہ پوچھنا کہ آپ جہاد پر جانا چاہتے ہیں اگر تو وہ سرٹیفائیڈ عالم ہو گا تو وہ آپ کو کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دے گا، کیونکہ وہ جانتا ھے کہ جہاد کیا ھے کس طرح کیا جاتا ھے اور اس کی کیا شرائط ہیں اور آپ جو ارادا رکھتے ہو وہ جہاد نہیں ھے بلکہ کچھ اور ہی ھے۔ میری باتوں پر یقین نہ ہو تو آزما کر دیکھ لیں پھر جب وہ اجازت نہ دے تو اسی سے اس پر ساری تفصیل بھی پوچھ لیں تاکہ آپکی تسلی ہو جائے۔


جہاد کی حکم سے انکار کسی کافر کو ہی ہو سکتا ہے اور ملعون ہے وہ شخص جو دین کے کسی حکم کا مذاق اڑاتا ہے یا تمسخر کرتا ہے میں ایسے کسی بھی شخص کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں جو شعائر اسلامی کا مذاق اڑائے یا تمسخر کرے، بات جہاد کی نہیں بات جہاد کرنے والوں کی ہے اور ہر گروہ اور ہر فرقے نے اپنے اپنے زعم کے مطابق جہاد کے احکام وضع کر رکھے ہیں، اللہ اور اللہ کے رسول نے جہاد کے کیا احکام دیے ہیں اور ہمارے مختلف فرقوں کے اکابرین ان کی کیا تشریح و توضیح کرتے ہیں، کوئی جہاد بالنفس پر زور دیتا ہے، کوئی جہاد بالسیف کی بات کرتا ہے، کوئی فرقہ دوسرے فرقے کو کافر قرار دے کر اس کے خلاف جہاد میں مصروف ہے، کوئی جہاد بالقلم کی اہمیت کا قائل ہے، کوئی خود کش حملوں کو بھی جہاد سمجھتا ہے، کوئی انہیں حرام بتاتا ہے، الغرض "جتنے منہ اتنی باتیں" محاورہ کو دور حاضر کے پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ محاورہ اپنی صورت بدل چکا ہے اور اب "جتنے فرقے اتنے اسلام" بن چکا ہے، لیکن اعتدال کی راہ ایک بھی نہیں اپنا رہا ہے اور افراط و تفریط کا شکار ہے، اللہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے


اوپر میں نے دو مراسلے لگائے ہیں ایک مراسلہ میں قرآن اور حدیث سے " جہاد " پر مفصل بیانات ہیں
اور دوسرے مراسلہ میں قرآن اور حدیث کے مطابق ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو قتل کرنا " دہشت گردی " پر مفصل بیانات ھے
لیکن میں کسی کو یہ دعوت نہیں دیتا کہ وہ جہاد کرے کیونکہ میں میرے بیوی بچوں، والدین، رشتہ دار کے کچھ فرد اور کچھ محلے کے سفید پوش فیملیوں کی کفالت کر رہا ہوں میرے لئے یہی سب سے بڑا جہاد ھے۔ اس پر بہت سی وجوہات میں آگے بیان کروں گا ابھی یہاں پر ایک مسئلہ پیش کرتا ہوں میرے پاس ابھی اتنا وقت نہیں کہ میں کچھ مسئلوں پر حوالے پیش کروں اگر کسی نے اس کی تصدیق کرنی ہو تو اپنے امام مسجد سے جا کر پوچھ سکتا ھے۔

قرآن مجید میں ہر بات قیامت تک کے لئے اللہ سبحان تعالی نے بیان کر دی ھے اور ان سب باتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سبحان تعالی کے حکم سے اپنی حدیثوں سے تفصیلی مکمل کیا ھے
اللہ سبحان تعالی نے عقل پر قرآن میں کئی جگہ پر فرمایا ھے کہ
"سمجھتے وہی ہیں جو عقل والے ہیں"
"سمجھتے تو وہی ہیں جو عقل و شعور کے مالک ہیں"
"وہ ایسے لوگ ہیں جو (بالکل) عقل ہی نہیں رکھتے"
" اور ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے"
"بیشک اس میں عقل مندوں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیں"
"بیشک اس میں عقل رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں"
"بیشک اس میں اہلِ عقل کے لئے نشانی ہے"
"بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں"
"اسی طرح ہم عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں"
"وہ ایسے لوگ ہیں جو (بالکل) عقل ہی نہیں رکھتے"
عقل پر قرآن مجید سے یہ کچھ آیت کا ترجمہ نقل کیا ھے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق گزاری، کسی بھی کام کے لئے اس وقت تک قدم نہیں اٹھاتے تھے جب تک اللہ تعالی کی طرف سے اسے کرنے کا فیصلہ نہ آ جاتا۔

إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُواْ السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اگر تم ان کی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلبۂ اسلام کی جد و جہد میں) مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوا) سو بیشک اللہ نے ان کو (اس وقت بھی) مدد سے نوازا تھا جب کافروں نے انہیں (وطنِ مکہ سے) نکال دیا تھا درآنحالیکہ وہ دو (ہجرت کرنے والوں) میں سے دوسرے تھے جبکہ دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) غارِ (ثور) میں تھے جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے فرما رہے تھے: غمزدہ نہ ہو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی اور انہیں (فرشتوں کے) ایسے لشکروں کے ذریعہ قوت بخشی جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اس نے کافروں کی بات کو پست و فروتر کر دیا، اور اللہ کا فرمان تو (ہمیشہ) بلند و بالا ہی ہے، اور اللہ غالب، حکمت والا ہے
09:40

مکہ میں زندگی گزاری اسلام کے دشمنوں نے جب مشکلات پیدا کر دیں تو اللہ سبحان تعالی کے فرمان کے مطابق مکہ چھوڑ کر مدینہ میں‌ ہجرت اختیار کر لی۔
قرآن مجید کا ہر لفظ ہر آیت سے روزمرہ زندگی کے کسئ قسم کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ھے۔ عقل والوں کے لئے یہاں سے ایک نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ھے کہ یہاں پر اللہ سبحان تعالی نے جہاد کا حکم کیوں نہیں دیا؟
اس کی بہت وجوہات تھیں اللہ کی اللہ جانے لیکن اس پر ایک وجہ جو میں اپنی ناقص عقل سے اخذ کر رہا ہوں وہ یہ ھے کہ مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کریں وہاں پر دین اسلام کی دعوت دیں، لوگوں کو دائرہ اسلام میں لائیں جس سے ایک منظم عسکری/فوجی ٹیم بنائیں عسکری یونٹ کے ساتھ جنگ کا سازو سامان اکٹھا کریں، جب یہ تیاری مکمل ہو جائے تو پھر پوری پلاننگ کے ساتھ جہاد کریں اور مکہ سے کفار مکہ کو نکال باہر پھینکیں اور جو مشرف بہ اسلام ہو جائیں انہیں بھی صحابیت کا درجہ عطا ہو۔
کفار کے مقابلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عسکری یونٹ میں کمی کے باعث اللہ سبحان تعالی وقت بوقت فرشتوں کو عسکری ٹیمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لئے جیش/جنگوں میں بھیجتے رہے، اب یہاں پر ایک نقطہ پھر قابل غور ھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ سبحان تعالی نے مکہ سے مدینہ کے لئے ہجرت کے لئے کہا تھا تو اس وقت بھی اللہ سبحان تعالی قرآن کی اس آیت کے مطابق اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق صحابہ دو کے ساتھ جہاد کی اجازت دے کر فرشتوں سے مدد کروا سکتا تھا جیسے ان کافروں کے بیچ سے نکال کر باہر لے گئے، مگر ایسا نہیں کیا،
تو اس سے یہ سبق ملتا ھے کہ اتنی بڑی طاقتوں کے ساتھ جہاد 100،10،2 بندوں سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لئے عقل استعمال کی جاتی ھے، اس عقل سے پلاننگ کی جاتی ھے، اس کے لئے کن چیزوں کا ہونا ضروری ھے ، اس کے لئے ایک منظم ٹیم کی ضرورت ہوتی ھے، پوری پلاننگ کے ساتھ کیا جاتا ھے۔مال و دولت کی ضرورت ھے جس سے تمام ضروریات جہاد خریدی جا سکیں، اتنی بڑی طاقتوں کے ساتھ 10، 20، 100، یا اس سے زیادہ بندوں سے خالی ہاتھ جہاد نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں سے عقل والے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جہاد کس طرح کیا جاتا ھے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے بلاگنگ کرنے والے بھائی انٹرنٹ پر باتوں سے افغانستان، کشمیر، عراق میں جہاد نہیں کروا سکتے، بلکہ دوسرں کو اکسا سکتے ہیں، جہاد اس نماز، روزہ، زکٰوۃ جیسا فریضہ نہیں جسے آپ انٹرنٹ پر تبلیغ کر کے لوگوں میں پھیلا سکیں، اس کے لئے بہت چیزوں برئے کار لائی جاتی ہیں۔


صفحہ نمبر 4/1
جاری ھے
براہ مہربانی جب تک "ختم شد" کا ٹائٹل نہ آ جائے اس وقت تک اپنے کمنٹس دینے سے پرہیز کریں شکریہ

Last edited by کنعان; 18-01-10 at 02:23 PM. وجہ: ZOOM
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (18-08-10), محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), احمد نذیر (23-11-11), بلال اویسی (14-07-10)
پرانا 18-01-10, 02:20 AM   #11
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,108
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے جن کے بارے میں امام بخاری و مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیھما حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
(1) اس امر کی شھادت دینا کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں ۔
(2) نماز قائم کرنا
(3) زکوۃ دینا
(4) روزہ رکھنا
(5) حج کرنا

( صحیح بخاری و مسلم )

توحید کا اقرار ہر مسلمان پر فرض ہے۔( کلمہ طیبہ)
نماز ہر حال میں عاقل و بالغ پر فرض ہے۔
زکوٰۃ ہر صاحب نصاب پر فرض ہے۔ اسی طرح ہر آدمی زکوٰۃ لے بھی نہیں سکتا۔ زکوٰۃ کی رقم 8 مختلف مد میں خرچ کی جا سکتی ہے۔
روزہ ہر عاقل و بالغ پر فرض ہے۔ بوڑھے، لاغر، مسافر اور مریض پر فرض نہیں۔ اسی طرح خواتین کو مخصوص ایام میں چھوٹ ہے لیکن ان کی قضا واجب ہے۔
حج ہر اس مسلمان پر اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ یعنی کہ مالی طور پر خرچ برداشت کر سکتا ہو اور جسمانی طور پر ارکان حج ادا کر سکتا ہو۔

ایمان کے چھ ارکان
علاوہ ازیں متفق علیہ حدیث میں جو ’’حدیث جبریل‘‘ کے نام سے مشہور ہے، سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درج ذیل امور پر ایمان لانے کو ضروری قرار دیا ہے :
1. اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا
2. فرشتوں پر ایمان لانا
3. کتابوں پر ایمان لانا
4. رسولوں پر ایمان لانا
5. یومِ آخرت پر ایمان لانا
6. تقدیر کے اچھا یا برا ہونے پر ایمان لانا۔

بخاري، الصحيح، کتاب الايمان، باب سوال جبرئيل، 1 : 27، رقم : 50

-------------


جہاد سے مراد کسی نیک کام میں انتہائی طاقت و کوشش صرف کرنا اور ہر قسم کی تکلیف اور مشقت برداشت کرنا ہے۔

فہرست:

1.
جہاد کا لفظی معنی


2.
جہاد کا اصطلاحی معنی

3.
جہاد کی اقسام

4.
نزول حکم جہاد

5.
جہاد کے دوران احتیاطیں


1.
جہاد کا لفظی معنی

امام راغب اصفہانی جہاد کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اَلْجِهَادُ والْمُجَاهَدَةُ : اِسْتِرَاغُ الْوُسْعِ فِيْ مُدَافَعَةِ العُدُوِّ.
(راغب الصفهانی، المفردات : 101)

ترجمہ: دشمن کے مقابلہ و مدافعت میں فوراً اپنی پوری قوت و طاقت صرف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔


2.
جہاد کا اصطلاحی معنی

شریعت اسلامی کی اصطلاح میں ’’دین اسلام کی اشاعت و ترویج، سربلندی و اعلاء اور حصول رضائے الٰہی کے لئے اپنی تمام تر جانی، مالی، جسمانی، لسانی اور ذہنی صلاحیتوں اور استعدادوں کو وقف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔‘‘

3.
جہاد کی اقسام


جہاد کو مسلسل عمل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کی رو سے اس کی درج ذیل اقسام ہیں:

1
.جہاد بالعلم

2
.جہاد بالمال

3
.جہاد بالعمل

4
.جہادبالنفس

5
.جہاد بالقتال



3/ 1
جہاد بالعلم

یہ وہ جہاد ہے جس کے ذریعے قرآن و سنت پر مبنی احکامات کا علم پھیلایا جاتا ہے تاکہ کفر وجہالت کے اندھیرے ختم ہوں اور دنیا رشد و ہدایت کے نور سے معمور ہو جائے۔

3/ 2
جہاد بالعمل

جہاد بالعمل کا تعلق ہماری زندگی سے ہے۔ اس جہاد میں قول کے بجائے عمل اور گفتار کی بجائے کردار کی قوت سے معاشرے میں انقلاب برپا کرنا مقصود ہے۔ جہاد بالعمل ایک مسلمان کیلئے احکامِ الٰہیہ پر عمل پیرا ہونے اور اپنی زندگی کو ان احکام کے مطابق بسرکرنے کا نام ہے۔


3/ 3
جہاد بالمال

اپنے مال کو دین کی سر بلندی کی خاطر ﷲ کی راہ میں خرچ کرنے کو جہاد بالمال کہتے ہیں۔


3/ 4
جہاد بالنفس

جہاد بالنفس بندۂ مومن کیلئے نفسانی خواہشات سے مسلسل اور صبر آزما جنگ کا نام ہے۔ یہ وہ مسلسل عمل ہے جو انسان کی پوری زندگی کے ایک ایک لمحے پر محیط ہے۔ شیطان براہ راست انسان پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اگر نفس کو مطیع کر لیا جائے اور اس کا تزکیہ ہو جائے تو انسان شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔


3/ 5
جہاد بالقتال

یہ جہاد میدان جنگ میں کافروں اور دین کے دشمنوں کے خلاف اس وقت صف آراء ہونے کا نام ہے جب دشمن سے آپ کی جان مال یا آپ کے ملک کی سرحدیں خطرے میں ہوں۔ اگر کوئی کفر کے خلاف جنگ کرتا ہوا شہید ہو جائے تو قرآن کے فرمان کے مطابق اسے مردہ نہ کہا جائے بلکہ حقیقت میں وہ زندہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ
(البقره، 2 : 154)
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مردہ ہیں، (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔


4.
نزول حکم جہاد

جہاد بالقتال کا حکم نبوت کے مدنی دور میں نازل ہوا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے قریش اور مسلمانوں میں بدر کے مقام پر غزوہ ہوا، جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔

جہاد بالقتال کے لئے کچھ بنیادی شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے، جن کے بغیر جہاد انسانیت کے لیے محض فتنہ و فساد کا باعث بنتا ہے، جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ جہاد کی بنیادی شرائط میں درج ذیل شامل ہیں

جہاد اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عوام الناس کو فرداً فرداً، جتھوں، یا تنظیمیوں کی صورت میں جہاد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔

اللہ تعالی نے مدد کا وعدہ صرف اسی صورت میں کیا ہے جب مسلمان ریاست کی حربی قوت مخالف سے کم از کم نصف ہو، یا دوسرے لفظوں میں، دو۔ ایک کی نسبت ہو۔

5.
جہاد کے دوران احتیاطیں


عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر وار نہیں کیا جائے گا۔


غیرمسلح لوگوں پر وار نہیں کیا جائے گا۔


درختوں کو کاٹا نہیں جائے گا۔


شک کی بناء پر کسی کو قتل نہیں کیا جائے گا۔

اگر کوئی کافر جنگ کے دوران موت کے خوف کی وجہ سے کلمہ پڑھ لے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اسے قتل نہ کیا جائے کیونکہ اسلام جنگ و جدل کا نہیں بلکہ امن و اصلاح کا دین ہے۔ احادیث میں تو یہاں تک تاکید ملتی ہے کہ اگر کوئی کافر سر پر لٹکتی تلوار دیکھ کر اسلام قبول کر لے تو اس کے قتل سے ہاتھ روک لینا ضروری ہے۔

ایک مرتبہ ایک صحابی ایک کافر کو قتل کرنے ہی والے تھے کہ اس نے کلمہ طیبہ پڑھ لیا، مگر صحابی نے اس کے کلمے کی پرواہ نہ کی اور اسے قتل کر دیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سخت الفاظ میں اس قتل کی مذمت کی اور صحابی کے اس قول پر کہ اس کافر نے محض جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھا تھا، ارشاد فرمایا:

أفَلاَ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ؟
(مسلم، الصحيح، کتاب الايمان، باب تحريم قتل الکافر بعد أن قال لا إله إلا اﷲ، 1 : 96، رقم : 96)
ترجمہ : کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اس مقتول کے ورثاء کو پوری دیت ادا کرنے کا حکم فرمایا۔

صفحہ نمبر 4/2
جاری ھے

Last edited by کنعان; 18-01-10 at 02:20 PM. وجہ: ZOOM
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (18-08-10), محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10)
پرانا 18-01-10, 02:22 AM   #12
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,108
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے اس لئے ہمارے بہت بھائی جو سعودی عرب میں قیام پذیر ہیں ان کی نظر میں شخصیت علام ناصر البانی ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جہاد پر ان کا بیان بھی نقل کر رہا ہوں بمہ لنک۔



جہاد کے حوالے سے اے میرے بھائی !(میر ی یہ رائے ہے کہ) اس وقت اور اس سے پہلے بھی یہ فرض تھا، کیونکہ مسئلہ صرف بوسنیا اور چیچنیا کا نہیں ہے جس نے ایک بار پھر مسلمانوں کے جذبات کو ابھارا ہے بلکہ ہمارے قریب یہاں یہودی بستے ہیں جنہوں نے فلسطین پر قبضہ کیا ہوا ہے اور ایک بھی اسلامی ملک جہاد کے فریضے کو ادا کرنے کے لئے آگے نہیں بڑھا ہے اور نہ ہی کسی نے انہیں باہر نکال کر سمندر میں پھینکا ہے جیسا کہ اکثر ممالک کے سربراہان دعویٰ کرتے ہیں۔ اور بات یہ ہے کہ جہاد اس وقت فرضِ عین بن چکا ہے کیونکہ مسلمانوں کے بہت سے علاقے ماضی میں بھی اور حال میں بھی ایسے ہیں جن پر کفار قابض ہو چکے ہیں۔ اور (مسلمانوں کی مملکتوں پر ) یہ قبضے ان افراد سے چھپے ہوئے نہیں ہیں جن کا تعلق مسلمانوں کے معاملات سے ہے، (اگر مسلمانوں کے سربراہان تک ان معاملات سے واقف ہیں) تو اسلامی گروہوں، اسلامی فرقوں اور اسلامی ملکوں کا ذکر کیا معنی رکھتا ہے۔ لیکن جہاد کے کچھ اصول اور شرائط ہیں اور ہم (مسلمان علماءکا گروہ) اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ فرضِ عین جہاد صر ف ان مسلمانوں پر فرض ہے جو اللہ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ کفار کے خلاف جہاد کرتے ہوئے ان کو ان جگہوں سے نکال باہر کریں جن پر انہوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اور(میں نہیں سمجھتا کہ) ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم قرآن اور سنت سے ثبوت مہیا کریں ،کیونکہ یہ معاملہ علماء کے درمیان متفقہ ہے کہ جب اسلامی مملکت کا کچھ حصہ کفار کے قبضہ میں چلا جاتا ہے تو جہا د (مسلمانوں پر) ایک فرضِ عین بن جاتاہے۔ جبکہ یہا ں تو معاملہ کئی اسلامی ملکوں کا ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ،’جہاد‘ جو کہ اس وقت (محض ) ایک فرض نہیں رہا بلکہ فرضِ عین بن چکا ہے اس (فرض ) کو ادا کرنا اکیلے افراد کے بس کی بات نہیں جیسا کہ سوال میں پوچھا گیا ہے۔ بلکہ (حقیقت تو یہ ہے) کہ چند گروہ (مل کر) بھی اس فریضہ کو ادا نہیں کر سکتے ، کیونکہ جہاد (جنگ) آج ہمارے وقتوں میں کچھ اس قسم کی ہو چکی ہے جس میں (فتح پانے کے لئے) لڑائی کے کئی ذرائع درکار ہوتے ہیں تو اب یہ ممکن نہیں رہا کہ اکیلے افراد اس قدم کو اٹھائیں تو یہ ذمہ داری ان ممالک پر، خاص طور پر ، ان ممالک پر عائد ہوتی ہے جو اس جنگ کو لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور موجودہ دور کی جنگ کے ذرائع رکھتے ہیں تو اگر وہ خلوصِ نیت کے ساتھ اکٹھے ہو جائیں تو موجودہ جہاد کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔

لیکن افسوس صد افسوس! ان ممالک نے اس سمت میں ایک قدم بھی نہیں اٹھایا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ( یہ اسلامی ممالک) جہاد کا معاملہ چند گروہوں یا فرقوں کو سونپ دیں جبکہ (حقیقتاً) وہ کفار کے حملہ کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ اور موجودہ حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان میں سے جب کوئی اسلامی گروہ حملہ آور سے لڑنے کی کوشش کرتا ہے جیسا کہ افغانستا ن میں ہوا، یا پھر الجیریا میں ہوا (کہ وہ ایسے حکمران کے خلاف لڑے) جس کا کفر واضح ہو چکا ہو، تو یہ افسوسناک واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اکیلے افراد (کا جہاد) یا اک گروہ کا جہاد ثمر آور نہیں ہوتا کہ ” اللہ کا کلمہ بلند ہو جائے“ تو اس لئے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ فرضِ عین جہاد ایک اسلامی اتھارٹی کی سرپرستی کے بغیر (کامیاب ) ہونا ممکن نہیں (بلکہ جہاد کے لئے ایک) ایسی جماعت ہونا چاہئے جس میں تمام (اسلامی )سر زمینوں کے افراد ہوں نہ کہ صرف ایک (مخصوص) خطے یا سرزمین کے افراد۔

نیز اس امر کا پورا ہونا بھی لازم ہے کہ مجاہدین کے درمیان اللہ کا تقویٰ (خوف) پایا جائے اور وہ ان چیزوں سے بچیں جن سے دور رہنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے، (وہ معاملے) جو مسلمانوں میں بہت اچھی طرح نہیں جانے جاتے مگر بدقسمتی سے ان پر عمل نہیں کیا جاتا (یعنی ان سے بچا نہیں جاتا)۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے اور میں اپنے الفاظ کو زیادہ سے زیادہ جامع صورت میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مسلمان آج جس ذلت اور پستی میں مبتلا ہیں اس کا ثبوت پوری تاریخ اسلام میں کہیں نہیں ملتا نیز مسلمانوں نے ایک آیت قرآنی کا بہت غلط استعمال کیا ہے اور وہ اللہ کا یہ حکم ہے کہ ” اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا“ اور اس میں کوئی شک نہ ہے کہا للہ کی طرف سے یہ مدد (درحقیقت) مسلمانوں کا شریعت کے قوانین کو ایک نافذ کرنے میں ہے۔ اور بہت سے مسلمان اور اسلامی ممالک میں اس بات کا احساس تک نہیں ہے ، نہ ہی ان ممالک میں جن میں ا للہ کے قوانین کے کچھ حصہ نا فذ ہے یہا ں تک کہ وہ اب جہاد کے لئے دعوت دے رہے ہیں۔

اور یہی وجہ ہے کہ مسلما ن افراد اور اقوام تب تک کمزور رہیں گے یہاں تک کہ کوئی اسلامی ملک جہاد کا جھنڈا اٹھا نہیں لیتا، اس جہاد کا مطلب یہ ہے کہ ان (دشمنان اسلام ) سے لڑا جائے جو ان سے قریب ہوں نہ کہ ان(کفار) سے جو ان سے دور ہوں۔ اگر مسلمان اپنی مملکتوں ، گروہوں ،فرقوں اور افراد کے ساتھ مل کر ان (دشمنان اسلام ) سے جہاد نہیں کر سکتے جو ان سے قریب ہیں تو وہ ان سے کیسے جہاد کر سکتے ہیں جو کہ ان سے دور ہیں مثال کے طور پر اریٹیریا، سومالیا، بوسنیا، چییچنیا)۔ اسی وجہ سے ہم اس بات کا یہاں تذکرہ کر رہے ہیں کہ مسلم نوجوانوں اور افراد پر لازم ہے کہ وہ اسلامی سرزمین پر درست اسلامی (شریعت سے) آگاہی پھیلائیں(یعنی عوام میں ) اور اس کے بعد حکمرانوں میں۔ اور وہ اسلامی احکام سے آگاہی یہ ہے کہ لوگ اس چیز پر عمل پیرا ہوں جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ حکمرآن اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات پر عمل پیرا ہوں اور عوام اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام پر عمل پیرا ہو۔ میں یہ جانتا ہوں کہ آج اکثریت ایسے افراد اور گروہو ں کی ہے جو کہ (ریاست کے معاملات ) کو حکمرانوں پر ہی ڈال دیتے ہیں جبکہ میری نظر میں یہ ذمہ داری افراد، مختلف گروہوں اور فرقوں پر بھی اسی طرح عائد ہوتی ہے جس طرح کہ یہ حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ ایسا اس لئے ہے کہ مسلمان حکومتیں ان افراد میں سے ہی منتخب ہوتی ہیں، یہ مسلمان جن کو آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی ان دو احادیث میں مخاطب کیا تھا۔

” جب تم سود کا کاروبار کرو گے، اور بیلوں کی دموں کو مظبوطی سے پکڑ لو گے اور زراعت پر مطمئن رہو گے اور اللہ کے راستے میں جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ذلت کو مسلط کر دے گا اور اسے تم سے اس وقت تک نہ اٹھائے گا تاوقتیکہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آو“
(سنن ابو داود 3462)

اور ایک حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے
” عنقریب (کافر ) قومیں تمہارے خلاف اس طرح جمع ہو جائیں گی جس طرح بھوکے کھانے کے برتن پر جمع ہو جاتے ہیں ۔ ہم نے دریافت کیا: کیا اس وقت ہم تعداد میں بہت تھوڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ( نہیں) بلکہ ان دنوں تمہاری تعداد بہت زیادہ ہو گی لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی طرح ہو جاؤ گے اور اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارے رعب اور دبدبے کو نکال کر تمہارے دلوں میں (کمزوری) وھن ڈال دے گا۔ ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! یہ وہن کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : دنیا سے محبت اور موت سے نفرت“
(احمد 350/5، ابوداود: کتاب الفتن والملاحم (4297)

جن واقعات کی طرف ان احادیث میں اشارہ کیا گیا ہے وہ کئی مسلم معاشروں میں رونما ہو چکے ہیں ؛ اور وہ ان واضح اثرات میں سے ہیں جو مسلمانوں کو ذلت کی گہرائیوں میں لے جا رہے ہیں یہاں تک کہ افراد اور حکمرانوں کے دل مکمل طور پر سیاہی میں ڈھک جائیں( گناہوں کے سبب)۔ مسلمانوں کے ممالک میں آج ان احکام پر عملدرآمد نہیں ہو رہا جن کا اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اور اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ وہ جہاد کی دعوت نہیں دیتے ہیں۔ (میرا ان سے سوال ہے) کہ اگر یہ وقت وہ نہیں ہے کہ جب جہاد لازم نہیں کہ مسلمانوں کے کافی ممالک کفار کے قبضے میں ہیں تو وہ وقت کب آئے گا جب جہاد لازم ہو گا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے اور (یہ اس معاملے کا نچوڑ ہے ) کہ ہم میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں کہ وہ اس جہاد کے فریضے کو ادا کر سکے ۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا اس لئے ہے کہ ہم مسلمان گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور مسلکی(فروہی) اختلافات اور قومی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں ؟ اور ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی کمزوری کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے آپس میں اختلاف ہیں۔

اور ہم نے ابھی ابھی ایک افسوسناک تجربہ کیا ہے اور وہ ہے افغان جہاد کا ، ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ افغان جہاد کا نتیجہ مسلمانوں کی فتح کی صورت میں نکلے گا ، نیز وہاں اس بات کے قوی امکانات تھے کہ ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جائے گی ۔ لیکن نتیجہ اس (نتیجے ) کے بالکل برعکس نکلا، فتح کے امکانات معدوم ہو گئے جب قبائل کے درمیان اختلافات نے انہیں سات حصوں میں تقسیم کر دیا اور اسلام جسے وہ اپنا دین تسلیم کرتے تھے اس نے انہیں ایسا کرنے سے نہیں روکا۔

ارشاد ربانی ہے

” اور ان مشرکین کی طرح سے نہ ہو جاو ، جنہوں نے اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اورفرقوں میں بٹ گئے اور ہر فرقے کے پاس جو کچھ ہے وہ اس پر مطمئن ہے“
(سورہ روم آیات 30،31،32)

اس لئے وہ لوگ جو کہ جہاد پر جانا چاہتے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ جہاد کرنے کے ذرائع حاصل کریں نیز فتح حاصل کرنے کے ذرائع اور اس بات کو بدقسمتی سے ہمارے وقتوں میں سمجھا نہیں جاتا۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ

” بیشک اللہ لوگوں کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ آپ اپنی حالت کو نہیں بدلتے“

اس لئے ہم مسلم افراد ، گروہوں اور فرقوں سے یہ کہتے ہیں (مسلمان حکومتوں) کو چھوڑتے ہوئے کہ وہ اپنے آپ کو خالص اور صحیح اسلام پھیلانے میں مشغول کر لیں، (میر ی مراد) اس اسلام سے ہے جو کہ ہر قسم کے ناخالص امر (بدعتوں ) سے پاک ہو، وہ امور جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ جس دن یہ علامات نمودار ہونا شروع ہو گئیں اور ایک وسیع و عریض خطے میں (خالص اسلام) پر عمل ہونا شروع ہو گیا اسی دن سے اس فرضِ عین جہاد کو شروع کرنے کے لئے درکار علاما ت بھی پوری ہو جائیں گی۔ یہ بے تاب افراد(نوجوان) جو کہ ان اسلامی سرزمینوں میں جہاد کرنے کے لئے جاتے ہیں جن پر کفار قابض ہو چکے ہیں جیسا کہ چیچنیا یا بوسنیا (تو وہ نوجوان یہ بتائیں ) کہ ان کے پاس وہ کون سے ہتھیار ہیں جن سے وہ جنگ کریں اور ان کے وہ کونسے رہنما ہیں جو انہیں منظم کریں اور انہیں ایک اتھارٹی اور ایک جھنڈے کے تحت جہاد کے لئے اکٹھا کریں۔ اگر ایک اتھارٹی پائی جاتی تو ہم جہادکے ثمرات پاتے جیسا کہ افغانستان میں ہوا (کہ غاصب روس کے خلاف مجاہدین کے گروہوں نے فتح حاصل کی)۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کا قرآن پاک میں ارشاد ہے

” اور ان کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق طاقت حاصل کرو اور ہتھیار حاصل کرو تاکہ اللہ کے اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہاری دھاک بیٹھ جائے“

تو تیاری کہاں ہے ، اور اس تیاری کو سر انجام دینے کے قابل کون ہے ؟ کیا اکیلے افراد؟ نہیں ۔۔۔۔۔بلکہ حکومتیں؟ ضرور با لضرور (مسلم ممالک کی حکومتیں) اور ہمارے لئے ایسا کہنا بجا ہے کہ انہوں نے اس (لازم) تیاری کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ ہی پایہ تکمیل کو پہنچایا ہے۔ لیکن یہ (جنگ کے لئے ) تیاری اور جنگ (جہاد) کا سامان سب (اسلام کے) دشمنوں سے لیا گیا ہے تو اگر کفار اور مسلمانوں کے درمیان جہاد ہوتا ہے تو جلد ہی ایسا ہو گا کہ مسلمان اپنی فوجوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے قابل نہ رہیں گے۔ ان کے پاس ہتھیار (اپنی فوجوں کو ہتھیار فراہم ) کرنے کا ایک ہی رستہ ہو گا کہ وہ یہ ہتھیار (مسلمانوں کے ) دشمنوں سے لیں۔ (تو مجھے یہ بتائیے) کہ مسلمان اپنے ہی دشمنوں سے ہتھیار خرید کر کیسے ان پر غالب آ سکتے ہیں؟ یہ ناممکن ہے۔ یہ ناممکن ہے (اس لیے کہ) جس تیاری کا ہمیں (قرآن پاک ) میں حکم دیا گیا ہے اس کو پایہء تکمیل تک پہنچانا اسلامی ممالک کے بس کی بات بھی نہیں کیونکہ وہ (مسلمان ممالک) تباہی پھیلانے والے ہتھیار بھی ان ہی ممالک سے خریدتے ہیں جو ان کے دشمن ہیں اور ان پر زیادتی کرنے والے ہیں۔ (اور یہ جو ہتھیار مسلمان کفار سے خریدتے ہیں ) تو انہیں ناکارہ بھی بنایا جا
سکتا ( یعنی کہ جو ممالک یہ ہتھیار بیچتے ہیں وہ لازماًیہ خیال رکھتے ہوں گے کہ وقت پڑنے پر انہیں بیکار بنایا جا سکے) ہے جب ان ہتھیاروں کو مسلمان کفار کے خلاف استعمال کرنا چاہیں۔ اور اسی وجہ سے میں یہ کہتا ہوں اور اپنی گفتگو ان الفاظ میں ختم کرتا ہوں اور اس سوال کا جواب اللہ کے اس حکم کی صورت میں ہے

” اور ان کے لئے تیار ی کرو جہاں تک تم کر سکتے ہو۔۔۔۔“

یہ خطاب آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیا گیا تھا جب کہ ان کی تربیت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کی تھی یہاں تک کہ وہ اس (بیان کردہ ) آیت مبارکہ کے مصداق اپنے آپ میں روحانی قابلیت پیدا کرنے کے بعد دنیاوی قابلیت پیدا کرنے کے قابل ہو چکے تھے کیونکہ ان کی (صیح اسلامی نہج ) پر تربیت نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ اور تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔۔۔ تو (آج) ایسا ہونا چاہیے کہ ایک اسلامی قوم کی (صیح اسلامی نہج ) پر تربیت ہو یہاں تک کہ وہ اس دنیاوی تیاری کے فریضہ کو انجام دینے کے قابل ہو سکے۔ او ر آج ہم ایک بھی ایسی قوم نہ پاتے ہیں جس نے اس فریضہ کو پورا کیا ہو یعنی کہ تصفیہ (اصلاح ) اور تربیة (اسلامی تعلیم) ۔

(دوسری طرف) ہمیں یہ صورتحال نظر آتی ہے کہ بکھرے ہوئے افراد یہاں اور وہا ں موجود ہیں۔ اور اگر مسلمانوں کی ایک گروہ ہوتا اور اس گروہ کے اوپر ایک رہنما موجود ہوتا جس کو مسلمانوں کی بیعت (اطاعت) حاصل ہوتی اور وہ جہاد کے جھنڈے کو دشمنوں کے خلاف اٹھاتا۔ لیکن ایسا ابھی تک نہیں ہوا ہے۔ اس لیے ہم اس جہاد کے قبل ان شرائط کے پورا کرنے کو لازم قرار دیتے ہیں۔اور یہ جو معاملہ ہے نوجوانوں کا جو (کفار کے مسلمانوں کی سرزمینوں پر قبضے کی وجہ سے)جذبات میں بھرے ہوئے ہیں لیکن روحانی جہاد ( تصفیہ اور تربیتہ) کا ان میں احساس نہیں ہے کہ وہ اسلام کی صیح سمجھ بوجھ اپنے اندر پید ا کر لیں اور اس فریضہ کو متحد ہو کر انجام دیں اور ان کے اوپر ایک امیر بھی موجود ہو جو انہیں (جہاد کے لئے ) قوت مہیا کرے اور انہیں (ضروری ) ہتھیار فراہم کرے ۔ تو جس دن ہم ان علامات کا ظہور دیکھ لیں گے اسی دن سے مسلمانوں کو اللہ کی فتح حاصل ہونا شروع ہو جائے گی (ان شاءاللہ) اور اللہ جس کی چاہے اس کی مددکرتا ہے۔

(اردو ترجمہ و مراسلہ سلفی)


صفحہ نمبر 4/3
جاری ھے

Last edited by کنعان; 18-01-10 at 02:16 PM. وجہ: ZOOM
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10)
پرانا 18-01-10, 02:24 AM   #13
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,108
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جہاد اور ناصر الدین البانی

ایک اور بحث ''مناظرہ ماتنہیم الجہاد الاسلامی'' جو کہ علامہ ناصر الدین البانی کی ایک تقریر ہے ، سے لی گئی ہے۔

اسلامک جہاد آرگنائیزیشن کے ایک حامی
اور
علامہ ناصر الدین البانی

کے درمیان جہاد کے موضوع پر ہونے والے ایک مکا لمے کی یہ روداد ہے۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ہمیں اس میں کوئی شک نہ ہے کہ آپ اس صدی کے چند علماء میں سے ہیں جو کہ سلف کے منہج (طریقہء کار ) کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ جہاد کے مسئلے پر سلف الصالحین کے مسلک کی پیروی کرنے والوں کے درمیان اختلاف ہے۔ جہاد کے لئے ہم لوگوں کو دو شرائط کے تحت دعوت دے رہے ہیں۔
1) یہ جہاد خالصتاً اللہ کی رضا کے لئے ہونا چاہیے
2) یہ جہاد اسلام کے جھنڈے کے تحت ہونا چاہیے۔
البتہ ہم دیندار مسلمانوں سے دوسری شرائط کا بھی سنتے جو وہ آپ سے منسوب کرتے ہیں لیکن ان شرائط کو ہم نے احادیث میں نہیں پایا ہے۔ جیسا کہ تصفیہ اور تربیۃ اور خلیفہ یا اسلامی ریاست۔ یہ وہ شرائط ہیں جو کہ ہم سلف کے منہج کی پیروی کرنے والوں سے سنتے ہیں اور میں بھی اسی مسلک کی پیروی کرنے والوں میں سے ہوں ان شاء اللہ۔
میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ آیا ان شرائط کا حوالہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ملتا ہے یا یہ محض موجودہ صورتحال کے متعلق ایک اجتہاد ہیں ؟
اور ان سب سے پہلے (میر ا ایک اور سوال یہ ہے ) کہ کیا واقعی میں آپ (جہاد کے لئے دعوت دینے سے پہلے) ان شرائط کے پورا کرنے کو کہتے ہیں۔؟؟

علامہ ناصر الدین البانی
سب سے پہلے تو ہم آپ سے اس معاملے پر بحث کے لئے راضی ہوئے ہیں تا کہ آپ کی دعوت کے بارے میں پتہ چل سکے۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
میں آپ کو اس بارے میں بتا چکا ہوں۔

علامہ ناصر الدین البانی
تو پھر آپ اپنی دعوت کے بارے میں وضاحت کریں کیونکہ آپ کے سوالات ابھی غیر واضح ہیں میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کی دعوت کس لئے ہے؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
میر ی دعوت واضح ہے کہ ان شرائط کے تحت جہا د کیا جائے جن کا میں پہلے ذکرکر چکا ہوں : (جہاد صرف اللہ کے لئے کرنے کی نیت)
کیونکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : ''جس نے اللہ کے ذکر کو بلند کرنے کے لئے جہادکیا''
او ر جہاد ایک اسلامی جھنڈے کے تحت ہونا چاہیے (یہی ہمارے نزدیک درست جہاد ہے)
اور نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ : جو عصبیت ('' ایک گروہ کی حمایت کرتے ہوئے دوسرے سے لڑنا'' ) کی لڑائی لڑتے ہوئے مرا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔

علامہ ناصر الدین البانی
کیا ہمیں جہاد کے لئے امیر کی ضرورت ہے۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
نہیں

علامہ ناصر الدین البانی
تو اس کا مطلب ہے کہ ہم جہاد بڑے غیر منظم طریقے سے کریں گے؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن

علامہ ناصر الدین البانی
اس کے علاوہ آپ کی جو پہلی شرط جو کہ نیت کے بارے میں ہے تو وہ تو ہر عبادت پر لاگو ہوتی ہے اور اس کے بارے میں ہم متفق ہیں۔
آپ کی دوسری شرط جو کہ اسلامی جھنڈے کے تحت جہاد کرنا ہے تو (مجھے بتاؤ) کہ ہمارے پاس اسلامی علم کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اس جھنڈے کا کوئی امیر ہی نہ ہو۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ہم جہاد ایسے کر سکتے ہیں کہ ایک مسلما ن کسی کافر رہنما کے پاس جاتا ہے اور اسے ماردیتا ہے۔

علامہ ناصر الدین البانی
لیکن ہم تو ایک گروہ کے جہاد کی بات کر رہے ہیں۔
اسلامی شریعت کی رو سے آیا یہ فردِ واحد کا جہاد ہے یا ایک گروہ کا جہاد ہے؟
اس کے علاوہ جب مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کے لئے نکلتا ہے تو کیا انہیں جہاد کے لئے ایک امیر کی ضرورت نہیں ہوتی؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
یقیناً یقیناً کیوں نہیں۔ مسلمانوں کا ایک گروہ جو سفر کرتا ہے یا جہاد کے لئے نکلتا ہے اسے امیر کی ضرورت ہوتی ہے نیز اگر مسلمانوں کا گروہ تین سے زیاد ہ ہو تب بھی انہیں امیر کی ضرورت ہوتی ہے۔

علامہ ناصر الدین البانی
تو پھر آپ اسے (یعنی امیرکو) ایک (جہاد کرنے سے پہلے کی شرطوں میں سے) ایک شرط کے طور پر کیوں ذکر نہیں کرتے۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ٹھیک ہے ہم اسے ایک شرط کے طور پر مان لیتے ہیں۔

علامہ ناصر الدین البانی
کیا فرضِ عین جہاد کے فرض کو ادا کرنے کے لئے ( فرضِ عین وہ جہاد ہوتا ہے جو کہ تمام مسلمانوں پر واجب ہوتا ہے) ہمیں ایک جماعت کی ضرورت نہیں یا اسے اکیلے اکیلے افراد ادا کرسکتے ہیں۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
دونوں صورتوں میں

علامہ ناصر الدین البانی
یہ کوئی جواب نہیں ہے۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ایسا کیوں ہے۔

علامہ ناصر الدین البانی
ہم کہتے ہیں کہ جہاد دو قسم کا ہوتا ہے فرضِ کفایہ اور فرضِ عین۔ فرضِ کفایہ وہ جہاد ہوتا ہے جسے مسلمانوں کا ایک گروہ کر لے تو باقی مسلمانوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔ اس قسم کے جہاد کو اکیلے افراد انجام دے سکتے ہیں۔ فرضِ عین وہ جہاد ہوتا ہے جو کہ کسی خطے کہ تما م مسلمانوں پر واجب ہوتا ہے؟ کیا اسے کرنے کے لئے ہمیں ایک امیر کی ضرورت نہیں ہے؟؟؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
جی ہاں! اس قسم کے جہاد کو کرنے کے لئے ہمیں ایک امیر کی ضرورت ہو چاہے یہ لڑے یا نہ لڑے۔

علامہ ناصر الدین البانی
بہت خوب، بہت خوب! تو ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ امیر کا مطلب ہے مسلمانوں کا خلیفہ

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
نہیں خلیفہ نہیں

علامہ ناصر الدین البانی
کیوں؟ کیا خلیفہ کہنا خطرناک ہے؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
جی با لضرور کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ '' ہم درخت کا بیج بونے سے پہلے اس کا پھل لینا چاہتے ہیں''

علامہ ناصر الدین البانی
یہی ہے جو میں آپ کو کرتے دیکھتا ہوں کہ آپ مسلمانوں کے تمام گروہ کے لئے ایک امیر چاہتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ خلیفہ نہ ہو۔ کیا یہی آپ کا مطمعِ نظر ہے۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
جی ہاں

علامہ ناصر الدین البانی
پھر وہ امیر کہاں ہے؟ اور وہ امیر کون ہے؟ اور کیا ہمارے ایک سے زیاد ہ امیر ہو سکتے ہیںِ ؟ اس سے پہلے اہم اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ ہمیں ایک امیر کی ضرورت ہے۔
نیز آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ جہاد کے لئے ایک امیر کی ضرورت ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ خلیفہ نہ ہو۔ ہمیں پہلے کیا ملتا ہے ، امیر یا جہاد؟
یہ پوچھنا ایسا ہی ہے کہ '' آیا ہم آذان سے پہلے نماز پڑھتے ہیں یا بعد میں'' کون سی چیز پہلے آتی ہے؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ٹھیک ہے ہمیں اس فرضِ عین جہاد کو شروع کرنے سے پہلے ایک امیر کی ضرورت ہے۔

علامہ ناصر الدین البانی
بہت خوب! تو پہلے ہمیں امیر کی دعوت دینا چاہیے یا جہاد کی؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
جی ، دونوں بیک وقت

علامہ ناصر الدین البانی
لاحول ولا قوۃ الا باللہ ! (کوئی بڑائی کوئی طاقت نہیں ماسوائے اللہ کے)۔
ہم پہلے ہی اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ ہمیں اس فرضِ عین جہاد کے لئے ایک امیر کی ضرورت ہے قبل اس کے کہ ہم جہاد شروع کریں ۔ اگلا سوال یہ ہے کہ کیا ہم پہلے امیر کی دعوت دیں یا پہلے جہاد کی دعوت؟
گروہ ، بلکہ تمام گروہوں کے لئے ایک امیر کی ضرورت ہے ۔ اس (فرضِ عین) جہاد کو کرنے کے لئے ہمیں ایک امیر کے لئے دعوت دینے کی ضرورت ہے. ( جب امیر منتخب ہو جائے گا) اس کے بعد امیر ، جہاد کے لئے مجاہدین کو ادھر یا ادھر بھیجے گا۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
اچھا ! فرض کیا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ قرآن پاک میں جہاد کے بارے میں پڑھتا ہے اور جہاد کرنا چاہتا ہے اور وہ لوگ جہاد کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اپنے اوپر ایک امیر مقرر کرلیتے ہیں (تو اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے)

علامہ ناصر الدین البانی
اے میرے بھائی! آپ جو صورتحال بیان کر رہے ہو یہ فرضِ کفایہ جہاد کی ہے۔ فرضِ کفایہ کی حد تک تو یہ بات صحیح ہے کہ مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا گروہ اکٹھا ہو جائے اور جہا د کے لئے چلا جائے۔
(اس صورتحال میں) ہمارے پاس تمام مسلمان کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں جب کہ ان کا کوئی متفقہ لیڈر (امام ) ہی نہ ہو۔ میں آپ میں سے کسی بھی گروہ کو اس طرف دعوت دیتے ہوئے نہیں دیکھ رہا۔ آپ امیر کے لئے دعوت کیوں نہیں دیتے؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ٹھیک ہے ہم اس امیر کے لئے دعوت دیتے ہیں۔

علامہ ناصر الدین البانی
ٹھیک ہے تو آپ کی نظر میں اس امیر کی کیا خصوصیات ہے؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
(جی ہاں!) چند خوبیاں (ہیں)۔

علامہ ناصر الدین البانی
اور کیا آپ کو ایسا امیر نظر آتا ہے جس میں یہ خوبیا ں موجود ہوں۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
جی ہاں ! بہت !!

علامہ ناصر الدین البانی
کہاں؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ہر جگہ۔

علامہ ناصر الدین البانی
ہم کہتے ہیں کہ ہمیں تما م گروہ کے لئے ایک امیر کی ضرورت ہے یعنی کہ تما م مسلمانوں کے لئے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں کا ایک سے زیادہ امیر ہو؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
سوال سنسر ھے

علامہ ناصر الدین البانی
کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت حذيفة بن اليمان رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث
فإن لم يكن لهم جماعة ولا إمام؟
(اگر تمہاری کوئی جماعت اور کوئی اما م نہ ہو)۔
صحيح بخاری ، كتاب الفتن ، باب : كيف الامر اذا لم تكن جماعة ، حدیث : 7173
(کیا تم جانتے ہو) کہ یہ حدیث اس بارے میں کیا کہتی ہے کیا یہ نہیں کہتی ہے کہ جہاد کے لئے خلیفہ کی ضرورت ہے ۔ یا اس کا مطلب کچھ اور ہے؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
اس حدیث کا ہماری گفتگو سے کیا تعلق ہے

علامہ ناصر الدین البانی
کیا حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں پوچھا تھا کہ : ہم اس صورت میں کیا کریں جب جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے موجود ہوں؟ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ : '' تمہیں جماعت کے ساتھ مظبوطی سے جڑ جانا چاہیے"۔

کیا آج ایسے لوگ موجود نہیں جو کہ مسلمانی کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ درحقیقت وہ جہنم کے دروازوں کی طرف بلارہے ہیں۔ کیا خلیفہ کی کمی نہیں ہے؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
میں پسند کرتا ہوں کہ اس کی بجائے دوسری احادیث کے بارے میں گفتگو کروں (جیسا کہ) '' میری امت کا ایک گروہ ایسا ہوگا جو کہ حق کے لئے ہمیشہ لڑتا رہے گا، وہ اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ کون ان سے اختلاف کرتا ہے اور کون ان کو چھوڑ دیتا ہے؟"

علامہ ناصر الدین البانی
اس کا ہماری گفتگو سے کیا تعلق ہے جبکہ ہم پہلے ہی اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ جہاد کے لئے دعوت دینا ضروری ہے۔
ہم اس بات پر متفق ہیں کہ جہاد آج ایک فرضِ عین ہے۔
ہمارے درمیان جو فرق ہے وہ اس بات کا ہے کہ ہمیں پہلے خلیفہ کی ضرورت ہے یا نہیں؟
آپ نے جو حوالہ دیا ہے وہ ہماری گفتگو سے کوئی تعلق نہیں رکھتا کیونکہ ہم دونوں ہی اس بات پر متفق ہیں کہ جہاد فرض ہے۔
کیا آپ میری بات سمجھ رہے ہیں؟ ہمارے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ ہمیں جہاد کے لئے ایک خلیفہ کی ضرورت ہے جو کہ جہاد کے لئے دعوت دے۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ٹھیک ہے

علامہ ناصر الدین البانی
ملاحظہ کریں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ کو مسلمانوں کے امام اور ان کے بنیادی گروہ (جماعت) کے ساتھ جڑے رہنے کا حکم دیا تھا اور اس حدیث میں جو باتیں بتائی گئی تھیں کیا وہ سچ نہیں ہیں؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
سچ ہیں۔

علامہ ناصر الدین البانی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ اگر مسلمانوں کا امام یا جماعت نہ ہو تو وہ تمام جماعتوں کو چھوڑ دیں۔ اب ایسی صورتحال میں آپ کیا کریں گے؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ہم مسلمانوں کا گروہ ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے اور بعد میں ان کے لئے امام

علامہ ناصر الدین البانی
یہی ہے جس کی طرف ہم دعوت دے رہے ہیں۔ جہاد فرض ہے مگر ابھی اس کا وقت نہیں ہے۔ ہمیں پہلے امام کی ضرورت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گروہ کے ساتھ جڑے رہنے کا حکم دیا ہے۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ہمیں یہ کیسے معلوم ہو کہ ہم تب تک جہاد نہیں کر سکتے جب تک ہم خلیفہ کا حصول نہ کرلیں جو کہ لازم ہے۔

علامہ ناصر الدین البانی
حدیث کی رو سے اگر مسلمانوں کا کوئی امام نہ ہو تو تما م گروہوں کو چھوڑ دیا جائے۔ اور میں پہلے ہی یہ کہ چکا ہوں کہ ، مسلمانوں کی جماعت ایک امیر(امام) کے تحت یہ فرضِ عین جہاد کرے گی۔ اگر کوئی امام نہ ہوگا تو مسلمان تمام گروہوں سے پرے رہیں گے۔
تو مسلمان متحد ہو کر جہاد کیسے کر سکتے ہیں جبکہ (بیک وقت) وہ تما م گروہوں سے علیحدہ ہوجاتے ہیں؟
آپ اسی بات سے اختلاف کر رہے ہیں جس پر آپ پہلے رضامند ہو چکے تھے۔ اسلام کی رو سے ہمارا صرف ایک ہی جھنڈا، ایک گروہ اور ایک امیر ہے۔ ہمیں اس ایک گروہ کی ضرورت ہے تا کہ ہم جہاد شروع کر سکیں۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
سوال سینسر ھے

علامہ ناصر الدین البانی
اب میں آپ پر یہ بات واضح کروں گا کہ فرضِ عین جہاد کا امیر صرف امیر ہی نہیں بلکہ اسکا خلیفہ ہونا بھی ضروری ہے۔
(میری) دلیل ایک بار پھر حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہی ہے۔
(حدیث سے استدلال کی صورت میں) بعض دفعہ دلیل قطعی ہوتی ہے اور بعض دفعہ غیر واضح۔
ہم ایک مثال لیتے ہیں کہ ایک شیخ (عالم) اپنے شاگرد کو اس حدیث کی بنا پر نصحیحت کرتا ہے۔ شاگرد اپنے شیخ سے پوچھتا ہے کہ برائی سے اجتناب کا کیا طریقہ ہے۔ شیخ کہتا ہے کہ مسلمانوں کے امام کے ساتھ جڑے رہو، شاگرد جواب دیتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی خلیفہ نہیں ہے تو شیخ نصیحت کرتا ہے کہ تما م گروہوں سے دور رہو۔ شاگرد اپنے شیخ کا تابع فرمان ہے اور شیخ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار ہے۔ یہ شیخ کیا کرے گا کہ وہ ایک وادی میں نکل جائے گااور اپنی زندگی ایسے گزارے گا کہ غلہ بانی کرے گا یا اللہ کی عبادت کرے گا۔ تو جہاد کہا ں ہے؟ اگر جہاد کرنا مسلمانوں پر واجب ہوتا تو شیخ نے اسے جہاد کرنے کا کہا ہوتا اور تمام گروہوں سے دور رہنے کا کہا ہوتا۔ جب تک کوئی امام نہیں تب تک کوئی جہاد نہیں۔ جہاد بالضرور ایک امام کے تحت ہونا چاہیے، یا ایک خلیفہ کے۔

لیکن میں تمہیں ایک چیز بتاتا چلوں جو کہ طالب علموں کو بہت مشکل میں ڈال دیتی ہے کہ بہت سے گروہ جیسا کہ افغانستان یا شام میں ایک دہائی پہلے لڑ رہے تھے، اگر وہ لڑنا چاہتے ہیں تو انہیں ایک امام کے تحت ہونا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ شام کے لوگ افغانستان میں لڑیں اور افغانستا ن کے لوگ شام میں لڑیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں لڑنے والے گروہ ایک ہی امام کے تحت ہونا چاہئے۔ اگر کوئی امام یا جماعت نہ ہو گی تو دونوں گروہ اپنی صوابدید پر لڑ رہے ہوں گے۔
فرضِ عین جہاد کو کرنے کے لیے مسلمانوں کا متحد ہونا واجب ہے اور متحد ہونے کے لیے خلیفہ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اور اس چیز کو قائم کرنے کے لئے ہمیں تعلیم اور تزکیہ (تصفیہ اور تربیۃ) کی ضرورت ہے ہم ابھی سے جہاد شروع نہیں کر سکتے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ جہاد کے لئے بہت سے گروہ ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ گروہ آپس میں اختلاف میں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے:

وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
( سورة الانفال : 8 ، آیت : 46 )
''آپس میں جھگڑا نہ کرو ایسا کروگے تو بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو کہ ا ﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔''
ہم آج دریا کے بہتے ہوئے دھارے کی طرح ہیں اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ ان (آپس میں اختلاف رکھنے والے گروہوں کو) شرعی حییثیت حاصل ہو جائے۔


اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ٹھیک ہے اس تعلیم اور تزکیہ سے خلیفہ کیسے حاصل ہوگا۔

علامہ ناصر الدین البانی
تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔
ہر شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے نمونۂ اتباع ہیں۔
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کا پہلا حصہ دعوت دینے میں گزارااور اسے جہاد کے بغیر شروع کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو یہ اسلامی تعلیم دی کہ سچ بات کرنی ہے اور (سچ بات کرتے ہوئے) خوفزدہ نہیں ہونا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلامی تعلیمات بھی سکھائیں۔
ہم جانتے ہیں کہ اسلام آج اس حالت میں نہیں ہے جس حالت میں کہ نازل کیا گیا تھا :
'' آج میں نے تم پر تمہارا دین مکمل کردیا ''
بہت ساری چیزیں (بدعات) اسلام میں شامل کر دی گئی ہیں۔ کیا آپ اس سے متفق نہیں ہیں۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ہاں میں اس بات سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں مگر بہت سے قرآنی شواہد موجود ہیں جن کی رو سے جہاد (مسلمانوں پر) ایک اہم فریضہ ہے۔

علامہ ناصر الدین البانی
میں اس (حقیقت) کو جھٹلاتا نہیں ، مگر میرے بھائی ، سوال یہ ہے کہ اس جہاد کو (شروع) کرنے کے لئے ہمیں ایک امیر کی ضرورت ہے اور اس امیر کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں تصفیة اور تربیة کی ضرورت ہے۔ اپنے طور پر سوچو، حذیفہ بن یمان کی حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے ، ہمیں پہلے جہاد کی ضرورت ہے یا پہلے امیر کی؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
کیا (آپ سے) پہلے بھی کسی نے جہاد سے پہلے تصفیة اور تربیة کی دعوت دی ہے؟

علامہ ناصر الدین البانی
اللہ تم پر رحم کرے ۔ مجھے یہ بتاؤ کہ مسلمانوں کا ایک مشترکہ خلیفہ کب نہ تھا؟

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
حضرت علی (رضی اللہ عنہ) اور حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

علامہ ناصر الدین البانی
تمہارا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اس میں شک ہے کہ علی (رضی اللہ عنہ) صحیح تھے اور معاویہ (رضی اللہ عنہ) غلطی پر تھے۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی:
نہیں مگر

علامہ ناصر الدین البانی
نہیں مگر ؟؟ اُس وقت کتنے خلیفہ تھے ؟

[ کچھ دیر بحث کے بعد]

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
ٹھیک ہے ٹھیک ہے ، (اُس وقت) ایک (خلیفہ تھا) !!

ایک سامع:
میر ے محترم شیخ ! حقیقتاً اس گفتگو کا کوئی فائدہ نہیں ، اگر کوئی اپنی نیت اور ذہن کو صاف نہیں کرتا تو وہ کبھی سمجھ نہیں پائے گا۔

علامہ ناصر الدین البانی
یقینا یہ ایک اچھی تجویز ہے۔
ہم آج ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں کہ تقدیر کا لکھا غالب آچکا ہے اور ہر شخص اپنی رائے (پر ڈٹے رہنے) کو پسند کرتا ہے۔ آج جو شخص تھوڑا سا قرآن یا کچھ احکام پڑھ لیتا ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ اسے علم میں کچھ مقام حاصل ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ احادیث کو بغیر غلطی کئے پڑھ نہیں سکتا ہے اور (ساتھ ہی ساتھ) وہ ہر معاملے پربحث بھی کرنا چاہتا ہے۔

اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا حامی
[گفتگو میں مداخلت کرنے کی کوشش]

------------------
------------------

علامہ ناصر الدین البانی

گفتگو کا وقت ختم ہوچکا ہے میں اس بھائی کی نصیحت پر عمل کروں گا۔
علم کے متلاشیوں کو میری نصیحت ہے کہ وہ لوگوں کو ایسی نصیحت نہ کریں جو ان کے لئے بڑی گمراہی کا باعث بن جائے۔
یہ آج کل کے نوجوانوں کا المیہ ہے کہ وہ (کسی معاملے میں) سلف اور خلف کی رائے جانے بغیر (اس معاملے پر) اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں۔
میں مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جہادسے متعلقہ گروہوں کے متعلق مکمل تحقیق کر لیں۔ جہاد کے متعلق اس بات میں (کسی کو) کوئی شک نہ ہونا چاہیے کہ جہاد اسلام کی آن بان ہے نیز جہاد اسلام کی بنیاد ہے اور جہاد کے متعلق آیات اور احادیث ہر (کس و ناکس) کو معلوم ہیں ان شاءاللہ۔


لیکن جہاد کی چند بنیادی شرائط ہیں۔
اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ جو گروہ جہاد کی طرف دعوت دے رہا ہو وہ قرآن اور سنت کے احکامات کی طرف لوٹنے پر رضامند بھی ہو۔
(اور اس شرط کو پورا کرنے کے لئے) تعلیم کے لئے بہت سا وقت درکار ہے، نیز عالموں اور مبلغین کا تزکیہ بھی درکا ر ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں رضوان اللہ عنہم اجمعین کو تعلیم دی۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مجاہد جہاد کے لئے دعوت دیتے ہیں مگر جب وہ جہاد کے لئے جاتے ہیں تو وہ عقائد اور اسلام کی بنیادی باتوں (کے علم) میں آپس میں اختلاف پاتے ہیں۔
یہ لوگ جہاد کرنے کے لئے کیسے جا سکتے ہیں جب کہ ابھی ان کے لئے یہ سمجھنا باقی ہے کہ عقیدے کی رو سے ان پر کیا لازم ہے۔
اس سے میرے بھائی یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جہاد پر بحث کرنے سے پہلے ہمیں اس کی pre-requisites (بنیادی شرائط ) پر بحث کرنا ہے۔

پہلی بنیادی شرط تو یہ ہے کہ خلیفہ ہو اور اس کا ہم اللہ کے سامنے اقرار کرتے ہوں۔ کیونکہ آج اگر مسلمانوں کا امیر موجود ہو مگر (دوسری طرف) مسلمانوں کے درمیان وہ رشتہ (اسلام کی عام سمجھ بوجھ) موجود نہ ہو تو وہ ایک دوسرے کے خلاف ہو جائیں گے اور ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے۔ ان سب (مجاہدین) کا ایک ہی طریقۂ کار اور ایک ہی سمجھ بوجھ ہونی چاہیے (سلف الصالحین کا اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے کا طریقہ)۔

اس لئے میں ہر مسلمان کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی (بیان کردہ) حدیث کی رو سے ہر گروہ سے علیحدہ ہو جائیں۔ یعنی stay by yourself ۔
اس کا مطلب الگ تھلگ رہنا (دنیا سے کٹ کر رہنا) ہر گز نہیں ہے
بلکہ ۔۔۔
اس کا مطلب کس بھی گروہ میں شمولیت اختیار نہ کرنا ہے!
آپ اپنے طور پر کوشش کر سکتے ہیں اور (دوسرے مسلمان اپنی طور پر) اپنے علم سے دوسرے مسلمانوں کو درست کر سکتے ہیں۔
یہ(مسلمانوں کے لئے) ایک یاد دہانی ہے اور یقیناً یاد دہانی ایمان والوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔
صفحہ 4/4
ختم شد


(اردو ترجمہ سلفی و مراسلہ باذوق)


میری طرف سے جتنی بھی معلومات فراہم کی گئی ھے وہ حروف آخر نہیں‌ ھے جس کو سمجھ آئے اس کے لئے بھی جزاک اللہ خیر اور جس کو سمجھ نہ آئے اس کے لئے بھی جزاک اللہ خیر۔

Last edited by کنعان; 18-01-10 at 02:14 PM. وجہ: ZOOM
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), آبی ٹوکول (14-07-10), عبداللہ آدم (14-07-10)
پرانا 18-01-10, 11:59 AM   #14
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم کنعان صاحب

بہت کمبی چوڑی تحریر اکٹھی کردی ھے آپ نے پڑھوں گا ضرور لیکن بعد میں ابھی وقت کی کمی کے باعث مجبور ہوں ، آپ سے چند سوال پوچھنا ضروری ھے اور اس کو جواب بھی ضروری ھے سوال یہ ہیں جناب کہ ،

کیا آپ علامہ ناصر الدین البانی کی شخصیت سے واقف ھو؟
کیا آپ علامہ ناصر الدین البانی کو مستند اور جید محدث مانتے ھو؟
کیا آپ علامہ ناصر الدین البانی کی اس تحریر پر خود بھی یقین رکھتے ھو کہ یہ اک ایمان والے مومن کی تحریر ھے ؟

جواب جب آپ دے دیں گے تو اس کی روشنی میں انشاء اللہ مطالعہ کروں گا،
شکریہ
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
محمدمبشرعلی (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), عبداللہ آدم (14-07-10)
پرانا 18-01-10, 01:12 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
کنعان بھائی
آپ کی تحریر کا فونٹ سائز بہت چھوٹا ہے، مجھ سے تو پڑھا ہی نہیں جا رہا
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (14-07-10)
جواب

Tags
ہونی, فلسطین, ہماری, پاکستان, پاکستان،, چاہئیں, مکہ, موجودہ, مسجد, آپکو, آج, افغانستان, اللہ, ارشادات, بھائی, بالا, حالات, حدیث, خیر, خودکش, دے, داریاں, دریافت, ذمہ, روشنی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:06 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger