|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
مشاعرے کا ذکر جب بھی آتا ہے تو جگر مراد آبادی کا نام آنا ضروری ہے۔ کیونکہ آج تک کسی شاعر کو مشاعروں میں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی جو جگر کو حاصل تھی۔ مرتضیٰ برلاس کا یہ لکھنا درست ہے کہ ’جگر جس شہر میں وارد ہوئے اس بستی کی راتیں جاگنے لگیں، اور لوگوں کے نظام الاوقات تبدیل ہو گئے۔‘
یہ ان کی شاعری کو بہت بڑا خراج عقیدت ہے اور اس میں کسی قسم کا شبہ بھی نہیں ہے کیونکہ جگر جس مشاعرے میں جاتے تھے چھا جاتے تھے لیکن ان کی شاعری کو صرف مشاعرے کی شاعری کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اسی لیے ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے۔ ![]() جگر کاپیدائشی نام علی سکندر تھا اور وہ چھ اپریل 1890ء کو مراد آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں ہوئی تھی جہاں انہوں نے اردو اور فارسی کے علاوہ عربی کی بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ شاعری کا چسکا انہیں 12، 13سال کی عمر سے ہی لگ گیا تھا۔ لیکن ان کے اس جذبے کو سب سے زیادہ اصغر گونڈوی نے مہمیز دی تھی اور اس کا اعتراف وہ خود بھی کرتے ہیں: ”میں مختلف مذہبی عقائد سے گزرتا رہا ہوں۔ ایک زمانے میں دہریت مجھ پر حاوی رہی۔ میں شیعیت کی جانب بھی رحجان رکھتا تھا۔ ان دنوں میں لاہور میں چشمے کی ایک فرم میں ملازم تھا جس کے ڈائرکٹروں میں شیخ عبد القادر بھی تھے۔ یہ زمانہ میرا دکھ اور روحانی اذیتوں کا تھا۔ آخر ایک روز میں حضرت اصغر گونڈوی کے پاس ان سے ملنے کے لیے گیا جو ایک صاحب سے بحث کر رہے تھے۔ میری دلچسپی نے دور ہی سے مجھے اس بحث کو سننے کے لیے روک دیا۔ میں قریب کھڑا اس طرح، کہ وہ مجھے نہ دیکھ سکیں، تمام بحث سنتا رہا۔ عجیب بات یہ تھی کہ حضرت اصغر سمجھا رہے تھے اسے، اور میرے دل میں کانوں کے ذریعہ ہر ایک بات اترتی جا رہی تھی ایسا بھی وقت آیا کہ جوشبہات میرے دل میں تھے میں نے سوچے اور تھوڑی دیرکے بعد ہی وہاں سے جواب ملا۔ وہ وقت مجھے یاد ہے جب میں تھوڑی دیر میں راسخ العقیدہ حنفی ہو گیا۔“ ہمایوں لاہور، مارچ سنہ 1991صفحہ۔ 258 حالانکہ جگر 15،16 سال کی عمر میں ہی مے نوش ہو گئے تھے۔لیکن اصغر کی باتوں کا ان پر اتنا اچھا اثر ہوا کہ انہوں نے شراب ترک کر دی اور حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ جگر کی زندگی میں بہت سے انقلابات آئے۔ ان کی زندگی بہت سے نشیب و فراز سے گزری۔ لیکن اپنی شاعری کے لیے انہوں نے جو روش طے کر لی تھی یعنی محبت۔ اس سے وہ کبھی الگ نہیں ہوئے۔ دنیا کی جفا یادنہ اپنی ہی وفا یاد اب کچھ بھی نہیں مجھ محبت کے سوا یاد جگر کی پوری شاعری غزل سے عبارت ہے۔ اگرانہوں نے کچھ نظمیں کہی بھی ہیں تو ان پر بھی تغزل کا رنگ حاوی ہے۔ لیکن ان کا اصل رنگ غزل ہی ہے جس کے بارے میں وہ خود ہی کہتے ہیں: ” میری شاعری غزل تک ہی محدود ہے۔ اب چونکہ حسن و عشق ہی میری زندگی ہے اس لیے بعض مستزاد کو چھوڑ کر کبھی دوسرے میدان میں قدم رکھنے کی جرات نہ کر سکا۔“ جگر کے تین شعری مجموعے ان کی زندگی میں ہی شائع ہوئے۔ پہلا شعری مجموعہ سنہ 1922 میں ”داغِ جگر“ کے نام سے شائع ہوا جسے اعظم گڑھ کے احسان احمد وکیل نے مرتب کر کے شائع کیا تھا۔ اس پر مولانا عبد السلام ندوی نے تعارفی نوٹ لکھا تھا۔ دوسرا شعری مجموعہ ”شعلہٴ طور“ کے عنوان سے 1932ء میں علی گڑھ سے شائع ہوا۔ اس کے نام کی شانِ نزول یہ تھی کہ مین پوری میں ایک طوائف شیرازن تھیں، جو بہت ہی مہذب اور باذوق خاتون تھیں۔ جگر کا قیام ان دنوں مین پوری میں تھا ان کی ملاقات شیزان سے ہوئی اور جلد ہی گہرے تعلقات ہو گئے۔ وہ جگر کی شاعری کی دلدادہ تھیں اور اپنی مخصوص محفلوں میں زیادہ تر جگر کا ہی کلام سناتی تھیں۔ جگر اکثر ان کے گھر پر ہی پڑے رہتے تھے۔ ان کے لیے بالائی حصے پر ایک کمرہ مخصوص کر دیا تھا، جسے جگر صاحب”طور“ کہا کرتے تھے۔ اسی لیے جب اس زمانے میں ان کا مجموعہ شائع ہونے لگا تو انہوں نے اس کا نام ”شعلہٴ طور“ رکھ دیااور سر ورق پر یہ شعر لکھا: ہجومِ تجلی سے معمور ہو کر نظر رہ گئی شعلہٴ طور ہو کر ان کا تیسرا شعری مجموعہ ”آتشِ گل“ 1954ء میں ڈھاکہ سے شائع ہوا تھا۔ اس میں پروفیسر رشید احمد صدیقی کا طویل مضمون ”جگر میری نظر میں“اور پروفیسر آل احمد سرور کا دیباچہ بھی شامل ہے۔ 1958ء میں دوبارہ اسے انجمن ترقی اردو ہند نے شائع کیا اور اس پر انہیں ساہتیہ اکاڈمی انعام بھی ملا۔ جگر کی شاعری عشق سے عبارت ہے۔ وہ عشق سے شروع ہو کر عشق پر ختم ہو تی ہے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں: یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجے اک آگ کا دریا ہے اورڈوب کے جانا ہے کتابِ عشق کا مشکل ترین باب ہوا وہ ایک دردِ محبت جو صرفِ خواب ہوا کس قدر جامع ہے میرا عالمِ تصویر بھی حسن کی تشریح بھی ہے عشق کی تفسیر بھی تفسیرِ حسن و عشق جگر مصلحت نہیں افشائے رازِ قطرہ و دریا نہ کیجیئے اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں فیضانِ محبت عام سہی عرفانِ محبت عام نہیں وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتحِ زمانہ یہ ہے عشق کی کرامات یہ کمال شاعرانہ ابھی منہ سے بات نکلی ابھی ہو گئی فسانہ کیا کشش حسنِ بے پناہ میں ہے جو قدم ہے اسی کی راہ میں ہے نگاہوں سے بچ کر کہاں جائیے گا جہاں جائیے گا ہمیں پائیے گا جگر مراد آبادی کسی کی تقلید کے قائل نہیں تھے، اسی لیے انہوں نے آغاز میں ہی اپنی روش طے کر لی تھی جو دوسرے شعرا سے الگ ہے۔ وہ خود ہی لکھتے ہیں: ”ہو سکتا ہے میرے کلام میں کہیں کہیں مومن کا اثر غیر شعوری طور پر موجود ہے۔ لیکن واضح رہے کہ میں تقلید کا قائل نہیں۔ البتہ اس کا اعتراف ہے کہ میرے ابتدائی کلام پر داغ کا نمایاں اثر موجود ہے۔ غالب کی عظمت اور محبت میرے دل میں ہے لیکن مقلد ان کا بھی نہیں۔“ سہ ماہی اردو، کراچی، جولائی۔ سنہ 1959صفحہ۔145 جگرمراد آبادی کا انتقال نو ستمبر 1960ء کو گونڈا میں ہوا تھا اور وہیں انہیں محمد علی پارک میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ لیکن جگر کی موت کی خبر دو دو بار اخبارات میں شائع ہوئی اور ریڈیو سے بھی نشر ہوئی۔ اس کے بعد ان کے عقیدت مندوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ پہلی بار چارمئی سنہ 1938ء کو جب ان کے موت کی خبر شائع ہوئی تو بعض اخبارات نے خاص نمبر تک شائع کر دیے۔ ہر جگہ تعزیتی جلسے ہوئے۔ دہلی کی جامع مسجد میں تو تعزیتی جلسے کے ساتھ ساتھ نمازِ غائبانہ بھی ادا کی گئی۔ لیکن چند دنوں بعد لوگوں کو یہ جان کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ جگر بقید حیات ہیں۔ سنہ 1958ء میں جب جگر کو دل کا شدید دور پڑا تواس وقت بھی ان کے انتقال کی خبر ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ کے اخبارات میں شائع ہوئی۔ لاہور اور کراچی میں متعدد تعزیتی جلسے ہوئے۔ لاہور کے ایک جلسے کی صدارت احسان دانش نے کی تھی۔ اس خبر کی تردید ہونے کے بعد مشہور مزاح نگار شوکت تھانوی نے روزنامہ ”جنگ“ میں لکھا تھا کہ پہلی خبرکے بعد جگر صاحب کی عمر بیس سال بڑھ گئی تھی اوراب اس خبر کے بعد پھر کم از کم بیس برس کے اضافے کی توقع ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا نو ستمبر 1960ءکو ان کو دل کا دورہ پڑا اور روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ جان کر من جملہٴ خاصانِ مے خانہ مجھے مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے انڈین فلم " پیاسا " کا ایک منظر جو مجاز لکھنوی پر فلمایا گیا ۔اس کے ایک منظر میں جگر مراد آبادی اور مجاز لکھنوی کا کردار ادا کرنے والے دو آرٹسٹ ![]() یونی کوڈ بہ شکریہ رضوان احمد از پٹنہ" News | English "
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ Last edited by نورالدین; 08-09-10 at 11:12 AM. وجہ: تصاویر |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
ان کے آخری ایام کے دنوں کی یادگار غزل جو انہوں نے آل انڈیا ریڈیو پر پیش کی ۔
جسے پیش کرتے ہوئے سننے والے بے اختیار آنسوؤں سے بھیگ گئے ۔ ۔ غزل کیا تھی ۔ گویا کسی نے دل مسل کر رکھ دیا ۔ ذاتی طور پر مجھے بھی سب سے زیادہ پسند ہے - ![]() |
|
|
|
| نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (08-09-10) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
جگر مراد آباد ی کا اصل نام علی سکندر تھا اور وہ چھ اپریل 1890ءکو بنار س میں پیدا ہوئے
تھے۔ عربی وفارسی ارد و کی تعلیم انہوں نے مراد آباد کے ایک مدرسے میں حاصل کی تھی۔ ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کے لیے وہ چشمے کی ایک دکان سے وابستہ ہوگئے تھے اور اس کے لیے ادھر ادھر کے سفر کیاکرتے تھے۔اسی زمانے میں انہیں شاعری کاچسکا لگا یوں توانہوں نے کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا لیکن خط وکتابت کے ذریعہ وہ اس زمانے کے عظیم استاد مرزا داغ دہلوی سے خط وکتابت کے ذریعہ اصلاح لیاکرتے تھے۔ جگر کی شاعری نے عوام کے دلوں میں اس طرح گھر کرلیاتھا کہ پھر انہوں نے شاعری کو ہی اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ ان کے تین شعر ی مجموعے ‘داغ جگر’،‘شعلہٴ طور’ اور ‘آتش گل’ شائع ہوئے۔ ان تینوں شعری مجموعوں نے ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ حالانکہ ناقدین عام طور پر مشاعروں کے شعرا کو منہ نہیں لگاتے تھے لیکن جگر کی شاعری صرف مشاعرے کی شاعری نہیں تھی ان کے یہاں جو خیالات ملتے ہیں اور اس میں جو بلندی ہے اسے ناقدین نظرانداز نہیں کرسکتے تھے۔ بھارت کا سب سے اہم ادبی انعام بھی آتش گل پر ہی دیاگیاتھا جو کہ اس ادارے کے قیام کے بعد پہلا انعام تھا۔ کسی ادارے کا انعام ملنا تو اور بات ہے انہیں سب سے بڑایہ انعام ملاتھا کہ عوام ان کی شاعری کو سننے کے لیے جوق درجوق آتے تھے اورکلام سن کر سرد ھنتے تھے۔ ان کے اشعار گلی گلی میں پڑھے جاتے تھے۔ کچھ غزلیں تو بے حد مشہور تھیں۔ان ہی میں یہ غزل ہے: اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے یہ عشق نہیں آساں اتناہی سمجھ لیجے اک آگ کا دریا ہے اورڈوب کے جانا ہے آنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگر لیکن بندھ جائے سوموتی ہے رہ جائے سو دانا ہے جگر مرادآبادی خالص تغزل کے شاعر ہیں اور ان کے یہاں جوشیفتگی اور وارفتگی ہے اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔اسی لیے انہیں کبھی شہنشاہِ تغزل اور کبھی رئیس المتغز لین کہاگیا اور بلا شبہ وہ اس کے مستحق تھے۔ جگرنے صاف ستھری اور سلیس زبان کا استعمال تو کیا ہی ہے ساتھ ساتھ اپنی غزل میں کلاسکیا محاورات اوراستعارات کابھی استعمال کیا ہے۔ محبت کے موضوع کو انہوں نے مختلف زاو یو ں سے دیکھا اور پرکھا ہے اور اس موضوع پر تازہ کار اشعار کہے ہیں اور یہی جگر کا مخصوص انداز ہے: دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد اب مجھ کونہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد جز عشق معتبر یہ کسی کو خبر نہیں ایسا بھی حسن ہے جوبقید نظر نہیں آج نہ جانے راز یہ کیا ہے ہجر کی رات اور اتنی روشن تجھ سا حسیں اورخون محبت وہم ہے شاید سرخی دامن ان کاجو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں میراپیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے جگر کے یہاں اشعار میں غنایت ہے کیونکہ وہ خود بہت مترنم شاعر تھے اور انہوں نے اپنی تمام غزلوں میں اسے برتا ہے۔ لیکن گرد وپیش کے حالات سے بھی کبھی بے خبر نہیں رہے۔ انہوں نے حالات حاضرہ کواپنے اشعار میں سمیٹا ہے: آدمی آدمی سے ملتا ہے دل مگر کم کسی سے ملتا ہے جہلِ خرد نے دن یہ دکھائے گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نباہ کیے جارہا ہوں میں کانٹوں کابھی حق ہے کچھ آخر کون چھڑائے اپنادامن جگر مراد آبادی نے قحطِ بنگال پر جو نظم کہی تھی۔ وہ ا س دور کی بہت ہی موثر نظم مانی جاتی ہے: انسان کے ہوتے ہوئے انسان کا یہ حشر دیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہا ہوں جگر مراد آبادی کوفلمی دنیا سے کئی بار پیش کش ہوئی لیکن انہوں نے اس چمک دمک والی دنیا میں جانے سے انکار کردیا۔ البتہ انہوں نے اپنے دو شاگردوں شکیل بدایونی اور مجروح سلطان پوری کو ضرور فلمی دنیا میں بھیج دیاتھا اوران دونوں نے نہ صرف وہاں کافی دولت کمائی بلکہ نا مو ری بھی حاصل کی۔ ان کا انتقال نوستمبر 1960 ء میں ہوا۔ جان ہی دے دی جگر نے آج پائے یار پر عمر بھرکی بے قراری کو قرار آہی گیا گذشتہ صدی میں جن شعرا نے مشاعروں کے حوالے سے بہت نام کمایا ان میں سب سے اہم نام جگر مراد آبادی کا ہے۔ مشاعروں کے افق پر وہ نصف صدی تک چھائے رہے اور برصغیر میں بے شمار مشاعرے پڑھے ان کی شرکت مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت ہوا کرتی تھی۔ جگر کے بعد مشاعروں میں ان کی کمی بے حد محسوس کی جاتی رہی کیونکہ وہ خود ہی کہہ گئے تھے: جان کر منجملہٴ خاصان میخانہ مجھے مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے YouTube - 100_4513.MOV Dr.Ahmad Ali Barqi Azmi Reciting His Ghazal At Aanandam Mushaira ,New Delhi
__________________
میںتمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوںگا! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (08-09-10), عارف اقبال (14-10-10) |
| کمائي نے shafresha کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 08-09-10 | نورالدین | مزید معلومات فراہم کرنے پر |
150 |
![]() |
| Tags |
| فراز, کمال, پاکستان, وفا, قدم, نظر, موت, مزاح, مسجد, آبادی, آج, اللہ, انسان, اردو, تعلیم, جگر مراد آبادی, جواب, حسن, خوش, خبر, شاعری, علی, عشق, غزل, صدارت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 05:22 AM |
| بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ | حیدر | خبریں | 6 | 13-08-09 11:01 PM |