|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ہر خراشِِ نفس ، لکھے جاؤں
جون ایلیاء ہر خراشِِ نفس ، لکھے جاؤں بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں ہجر کی تیرگی میں روک کے سانس روشنی کے برس لکھے جاؤں اُن بسی بستیوں کا سارا لکھا ڈھول کے پیش و نظر پس لکھے جاؤں مجھ ہوس ناک سے ہے شرط کہ میں بے حسی کی ہوس لکھے جاؤں ہے جہاں تک خیال کی پرواز میں وہاں تک قفس لکھے جاؤں ہیں خس و خارِدید ، رنگ کے رنگ رنگ پر خارو خس لکھے جاؤں
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, نظر, جون ایلیاء |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|