|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
کیا یقین اور کیا گماں چُپ رہ
جون ایلیاء کیا یقین اور کیا گماں چُپ رہ شام کا وقت ہے میاں۔۔چپ رہ ہو گیا قصہء وجود تمام ہے اب آغازِ داستاں۔۔چُپ رہ میں تو پہلے ہی جا چکا ہوں کہیں تُو بھی جاناں نہیں یہاں۔۔چُپ رہ تُو جہاں تھا جہاں جہاں تھا کبھی تُو بھی اب تو نہیں وہاں۔۔چپ رہ ذکر چھیڑا خدا کا پھر تو نے یاں ہے انساں بھی رائگاں۔۔چُپ رہ سارا سودا نکال دے سر سے اب نہیں کوئی آستاں۔۔چُپ رہ اہرمن ہو۔۔خدا ہو۔۔یا آدم ہو چکا سب کا امتحاں۔۔چُپ رہ درمیانی ہی اب سبھی کچھ ہے تُو نہیں اپنے درمیاں۔۔چُپ رہ اب کوئی بات تیری بات نہیں نہیں تیری۔۔تری زباں۔۔چُپ رہ ہے یہاں ذکر حالِ موجوداں تُو ہے اب از گزشتگاں۔۔چُپ رہ ہجر کی جاں کنی تمام ہوئی دل ہوا جون بے اماں چُپ رہ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, جون ایلیاء, خدا, سودا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|