|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
متفرق قطعات
جون ایلیاء تم ہو جاناں شباب و حسن کی آگ آگ کی طرح اپنی انچ میں گم پھر مرے بازوں پہ جُھک آئیں لو مجھے اب جلا ہی ڈالو تم ~~ آپ کی تلخ نوائی کی ضرورت ہی نہیں میں تو ہر وقت ہی مایوسِ کرم رہتا ہوں آپ سے مجھ کو ہے اک نسبتِ احساسِ لطیف لوگ کہتے ہیں ، مگر میں تو نہیں کہتا ہوں ~~ چڑھ گیا سانس جھک گئیں نطریں رنگ رخسار میں سمٹ آیا زکر سن کر مری محبت کا اتنے بیٹھے تھے ، کون شرمایا ؟ ~~ تم زمانے سے لڑ نہیں سکتیں خیر یہ راز آج کھول دیا وہ اجازت کہ جا رہو ہوں میں تم نے باتوں میں زہر کھول دیا ~~ دور نظروں سے خلوتِ دل میں اس طرح آج اُن کی یاد آئی ایک بستی کے پار شام کا وقت جیسے بجتی ہو شہنائی ~~ ہیں بے طور یہ لوگ تمام ان کے سانچہ میں نہ ڈھلو میں بھی یہاں سے بھاگ چلوں تم بھی یہاں سے بھاگ چلو
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
پیارے دوست شکریہ!
میں بھی جون ایلیاء کے عشق کا مارا ہوں بھائی! |
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (10-03-09) |