![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے
جون ایلیاء حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے کہ دار پر گئے ہم اور پھر اُتر آئے عجیب حال کے مجنوں تھے جو بہ عشوہ و ناز بہ سوئے بادیہ محمل میں بیٹھ کر آئے کبھی گئے تھے میاں جو خبر کو صحرا کی وہ آئے بھی تو بگولوں کے ساتھ گھر آئے کوئی جنوں نہیں سودائیانِ صحرا کو کہ جو عزاب بھی آئے وہ شہر پر آئے بتاؤ دام گرو چاہیے تمہیں اب کیا پرندگانِ ہوا خاک پر اُتر آئے عجب خلوص سے رخصت کیا گیا ہم کو خیالِ خام کا ناوان تھا سو بھر آئے
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, جون ایلیاء, حال, خبر, شہر, صحرا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| لاکھ ناکام سہی میں تو ہوں نازاں پھر بھی(محمد زکی کیفی) | ابوسعد | شعر و شاعری | 0 | 06-02-11 07:26 PM |
| میں نے تو بس خواب بیچے تھے | زارا | شعر و شاعری | 4 | 26-01-11 11:51 AM |
| منصب تو ہمیں بھی مل سکتے تھےلیکن شرط حضوری تھی | عبدالقدوس | اقبال عظیم | 2 | 01-12-10 06:39 PM |
| ہنساتا تھا مجھ کو، تو پھر رُلا بھی دیتا تھا | محمدعمر | شعر و شاعری | 2 | 14-11-09 10:35 AM |
| آٰے تری محفل میں تو بے تاب بہت تھے | The Great | شعر و شاعری | 0 | 14-08-09 07:18 PM |