|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں
جون ایلیاء تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں تجھ کو تڑپانے کی ہیں تیاریاں کر رہے ہیں یاد اسے ہم روزوشب ہیں بُھلانے کی اسے تیاریاں تھا کبھی میں اک ہنسی اُن کے لیے رو رہی ہیں اب مجھے مت ماریاں جھوٹ سچ کے کھیل میں ہلکان ہیں خوب ہیں یہ لڑکیاں بےچاریاں شعر تو کیا بات کہہ سکتے نہیں جو بھی نوکر *جون* ہیں سرکاریاں جو میاں جاتے ہیں دفتر وقت پر اُن سے ہیں اپنی جُدا دشواریاں ہم بھلا آئین اور قانون کی کب تلک سہتے رہیں غداریاں سُن رکھو اے شہر دارو ! خون کی ہونے ہی والی ہیں ندیاں جاریاں
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, جون ایلیاء, خون, شہر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|