|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ایک ہی بار بار ہے ، اماں ہاں
جون ایلیاء ایک ہی بار بار ہے ، اماں ہاں اک عبث یہ شمار ہے ، اماں ہاں ذرّہ ذرّہ ہے خود گریزانی نظم ایک انتشار ہے ، اماں ہاں ہو وہ یزداں کہ آدم و ابلیس جو بھے خود شکار ہے ، اماں ہاں وہ جو ہے جو *کہیں* نہیں اس کا سب کے سینوں پہ بار ہے ، اماں ہاں اپنی بے روزگارئ جاوید اک عجب روزگار ہے ، اماں ہاں شب خرابات میں تھا حشر بپا کہ سخن ہرزہ کار ہے ، اماں ہاں کیا کہوں فاصلے کے بارے میں رہگزر ، رہگزر ہے ، اماں ہاں بُھولے بُھولے سے ہیں وہ عارض و لب یاد اب یادگار ہے ، اماں ہاں
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, جون ایلیاء |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|