![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے
جون ایلیاء کتاب گمان اک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے کس نے عذابِ جاں سہا ، کون عذابِ جاں میں ہے لمحہ با لمحہ ، دم با دم ، آن با آن ، رم با رم میں بھی گزشتہ میں ہوں تو بھی گزشتہ میں ہے آدم و ذاتِ کبریا کرب میں ہیں جدا جدا کیا کہوں اُن کو معجرہ ، جو بھی ہے امتحاں میں ہے کیسا حساب کیا حساب ، حالتِ حال ہے عذاب زخم نفس نفس میں ہے ، زہر زماں زماں میں ہے اس کا فراق بھی ضائع ، اس کا وصل بھی ضائع اک عجیب کشمکش حلقہِ بےدلاں میں ہے بود و باد کا حساب میں نہیں جانتا مگر سارے وجود کی نہیں میرے آدم کی ہاں میں ہے
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 8,547
کمائي: 934,144
شکریہ: 4,411
5,329 مراسلہ میں 13,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
Assalam -o-Allykom Wrt Wbrkt
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 1,338
کمائي: 12,979
شکریہ: 2,296
779 مراسلہ میں 1,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خوب ہے جناب
![]()
|
|
|
|